Rate this Novel
Episode 14
آج بہت مہینوں بعد وہ چاروں اکھٹا ہوئی تھی، وہ بھی تابعہ کی کوشش سے ممکن ہوا تھا، لان میں سماہر، مائزہ، میرب اور آبگینے کسی بات پہ ہنس رہی تھی، ان کے ہنسی کی کھلکھلاہٹ بہت عرصے بعد، اس لان کے درودیوار میں گونج رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ان دو بنگلوں اور ان سے منسلک لان کے درودیوار جی اٹھے ہو، ان میں زندگی جاگی ہو۔
” کتنا ٹائم ہو گیا ہے یوں ایک ساتھ بیٹھ کے ہنسے ہوئے “
میرب مسکرا کے ان تینوں کو دیکھتی کہہ رہی تھی۔
” ہاں تم تینوں کو ایک ایک عدد شوہر جو ملا ہے، بس مجھ کنواری کا خیال نہیں کسی کو”
آبگینے افسوس بھرے انداز میں کہنے لگی ۔
” ویسے ایم سرپرائز، مائزہ کو زیادہ جلدی تھی بےبی لانے کی “
آبگینے کی چھیڑ خوانی پہ، وہ دونوں ہنسنے لگی جبکہ مائزہ جھینپی تھی جب نظریں اوپر اٹھی تھی، اپنے کمرے کی بالکونی میں کھڑا ازمائر اسے ہی دیکھ رہا تھا،اس نے اچھنبے سے ازمائر کو دیکھا تھا جیسے سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے یا سماہر کو، لیکن وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا، اس کے کان کی لویں تک سرخ ہوئی تھی، دل پہ گھبراہٹ سی طاری ہوئی تھی لیکن لمحہ بھر لگا تھا اسے پھر سے سنبھلنے میں، کیونکہ وہ اکیلی نہیں تھی کہ اسے خوف محسوس ہوتا ازمائر سے، اس کے پاس سماہر اور تابعہ تھیں، اور وہ اب مضبوط تھی، کیونکہ وہ ماں بن رہی تھی، اسے اب ازمائر کچھ نہیں کر سکتا، وہ نہیں ڈرتی اب ازمائر سے ۔ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتی وہ ، نظریں پھیر کے، پھر سے ان تینوں کو دیکھنے لگی جو کسی بات کو لے کے بحث میں مصروف تھی، وہ بھی سننے کی کوشش کرنے لگی انہیں، لیکن حسیات ابھی تک وہیں تھی، جہاں ازمائر کھڑا تھا۔
” میں مما کے پاس جا رہی ہوں”
اچانک میرب اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی اور قدم اپنے گھر کی طرف بڑھائے تھے۔ مائزہ کی نظریں پھر سے بالکونی پہ گئی تو وہاں ازمائر نہیں تھا اب ۔ گہرا سانس لیتی وہ اب اپنے ہاتھوں کی ناخنوں کو دیکھنے لگی۔ میرب گھر کے اندر داخل ہو کے آگے بڑھنے لگی جب اس کا سامنا ازمائر سے ہوا تھا، وہ شاید باہر کی طرف جا رہا تھا، میرب رک گئی تھی اور اسے مضطرب نگاہوں سے دیکھنے لگی، ازمائر جتنا بدل گیا تھا، میرب اس سے اتنا ہی دور ہو گئی تھی کیونکہ وہ ڈرنے لگی تھی اب ازمائر سے۔ لیکن ازمائر ہلکا سا مسکرایا تھا۔
” کیسی ہو میرب ؟”
بےحد نرم لہجہ تھا، پہلے ازمائر کے جیسا۔ جوابا میرب بھی مسکرانے لگی۔
” میں ٹھیک ہوں ازمائر بھائی، آپ کیسے ہیں؟”
بہنیں بھی کتنی نرم دل ہوتی ہیں، ذرا سی توجہ اور محبت بھائی کی طرف سے ملے تو کھل اٹھتی ہے۔
” ٹھیک ہوں میں بھی ۔۔ “
میرب اثبات میں سر ہلاتی ادھر ادھر دیکھنے لگی جیسے کچھ کہنے کو ہو ہی نہیں اس کے پاس اور پھر اچانک کھل کے مسکرانے لگی۔
” مبارک ہو آپ کو ازمائر بھائی، آپ بابا بننے والے ہیں اور میں ایک عدد پھوپھو، “
ازمائر حیرت سے اسے دیکھنے لگا جبکہ خوشی میرب کے چہرے پہ پھوٹ رہی تھی جیسے۔
” جب سے مجھے پتہ چلا ہے میں بےحد خوش ہوں، مائزہ تو آپ کی دوست تھی، پھر بیوی اور اب آپ دونوں کی فیملی کمپلیٹ ہو رہی ہے ۔۔ ایم سو ایکسائیٹیڈ “
وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہی تھی جبکہ ازمائر حیرت زدہ سا کچھ کہنے کے قابل بھی نہیں رہا تھا۔
” میں مما کے پاس جا رہی ہوں “
میرب کہہ کے آگے بڑھ گئی جبکہ ازمائر میں ہلنے کی بھی سکت نہ تھی، وہ تو بہت گنہگار تھا، اس نے تو بہت سے گناہ کیے ہیں، ابھی تو اس نے اپنے گناہوں کی بخشش بھی نہیں مانگی اور اللہ تعالٰی اسے نواز گیا، اس کی آنکھوں میں نمکین پانی جمع ہونے لگا تھا اور وہ تیزی سے اپنے کمرے میں جا کے بند ہو گیا، اپنا سر تھامے وہ بیڈ پہ بیٹھا، شاید رو رہا تھا۔ کسی کی آنکھیں کھولنے کے لئے، بس ایک ہی بار کہنا کافی ہوتا ہے، وہ مائزہ کا گنہگار تھا، وہ اپنے رب کا گنہگار تھا، وہ کیا تھا اور کیا بن گیا تھا۔ وہ خود کو ڈریسنگ ٹیبل کے مرر میں دیکھنے لگا۔ اس میں پہلے والے ازمائر کی کوئی شباہت نہیں تھی، اس کے چہرے کا رنگ زرد پڑ چکا تھا، اس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے بن چکے تھے، اس کے بال بکھرے ہوئے تھے اور اس کی شرٹ جو وہ تین دن سے پہنے ہوئے تھا، وہ ازمائر تو کہیں تھا ہی نہیں، جس کے بال ہمیشہ سلیقے سے بنے ہوتے، جو آفس سے آتے ہی چینج کرتا، کیونکہ اسے عادت نہیں تھی کہ وہ ایک ہی شرٹ پینٹ سارا دن پہنے رکھے، اس کی رنگت صاف اور کھلی ہوئی تھی، ہلکی ہلکی شیو بڑھ گئی تھی اب، اسے خود سے گھن آئی تھی، خود سے نفرت محسوس ہوئی تھی اور وہ جلدی سے اٹھ کے واشروم میں جا کے بند ہو گیا تھا، شاور کے نیچے وہ دیر تک کھڑا رہا، شاور سے آتا گرم پانی اسے سکون بخش رہا تھا اور بلکل اچانک سے وہ اپنے ہاتھوں سے، اپنے جسم کو رگڑنے لگا، جیسے اپنے وجود کی میل اتار رہا ہو، خود کو صاف کرنے کی کوشش کر رہا ہو لیکن دل مطمئن نہیں ہو پا رہا اور اچانک سے وہ چلایا تھا، اتنی شدت سے چلایا تھا کہ اس کے گردن کی رگیں لمحہ بھر کو تن گئی تھی، وہ رو رہا تھا، ازمائر ارتضی ملک آج اپنے گناہوں کو یاد کر کے رو رہا تھا، اپنے رب سے بخشش مانگ رہا تھا۔
وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ(25)
ترجمہ:
اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا اور گناہوں سے درگزر فرماتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” میں تمہیں نہیں جانتا”
کال ڈسکنیکٹ کر کے، وہ لب بھینچے مڑا تھا جب اپنے پیچھے کھڑی سماہر پہ اس کی نظر پڑی جو نہ جانے کب سے وہاں کھڑی تھی، کال پہ جب بات کر رہا تھا وہ، شاید تب سے؟ سماہر کے چہرے سے وہ کچھ اخذ نہیں کر پایا تھا تبھی نظریں پھیر کے وہ صوفے کی طرف بڑھا تھا، اپنا کوٹ اٹھا کے وہ پہننے لگا جبکہ سماہر سر جھٹک کے، اپنے گیلے بالوں میں برش پھیرنے لگی۔ میران نے ایک نظر اس پہ ڈالی تھی، اور پھر سر جھٹک کے، وہ بنا کوئی تاثر دیے کمرے سے باہر نکلا تھا۔ سماہر برش رکھ کے، خود کو آئینے میں دیکھنے لگی۔ ذہن خالی تھا لیکن کچھ لمحوں کے لئے اس کا دل ہر چیز سے اچاٹ ہو چکا تھا۔
گہرا سانس لیتا وہ گاڑی تک پہنچ کے رکا تھا، ڈرائیور اس کے لئے گاڑی کا دروازہ کھولے کھڑا تھا، لب بھینچے اس نے مڑ کے، اپنے کمرے کی بالکونی کی طرف دیکھا تھا، جہاں سماہر کو وہ چھوڑ آیا تھا بنا کچھ کہے۔ بنا اسے دیکھے۔ وہ مڑ کے لمبے ڈگ بھرتا گھر کی طرف بڑھنے لگا، سیڑھیاں چڑھتا وہ جلد سے جلد سماہر کے پاس پہنچنا چاہتا تھا، دل بےچین سا ہوا پڑا تھا اور بےسکونی پھیل رہی تھی اس کے وجود میں، تبھی کمرے کا دروازہ کھول کے، اندر آتا وہ تیزی سے سماہر کے قریب گیا تھا، وہ ابھی تک ڈریسنگ ٹیبل کے سام ئے کھڑی تھی، اسے کمر سے تھام کے، ٹرن دیتا، اسے دیوار سے لگا کے، خود اس کے لبوں پہ جھکا تھا، سماہر اس نئی افتاد پہ بوکھلائی سی، اپنی سانس روک گئی جبکہ میران اس کی پیشانی پہ اپنی پیشانی ٹکا کے، کچھ دیر کھڑا رہا۔
” میران ؟؟”
سماہر پریشان نظروں سے دیکھنے لگی جبکہ وہ سماہر کو بانہوں میں بھر چکا تھا، اس کے گیلے بالوں سے آتی شیمپو کی مبہم خوشبو کو محسوس کرتا، وہ سماہر کے گیلے بالوں میں، اپنا چہرہ چھپا گیا۔
” کچھ کہو سماہر، “
مدھم بوجھل سرگوشی کی تھی اس نے ۔ جبکہ سماہر حیران تھی کہ کیا کہے ۔ کیا ہوگیا ہے اچانک سے میران کو ۔
” کیا کہوں؟؟”
” کچھ بھی ؟؟ سماہر کچھ بھی کہہ دو، کوئی لفظ، کچھ بھی، مجھے سننا ہے تمہیں “
بےچین آواز تھی اس کی، جبکہ سماہر پریشان سی کھڑی سوچنے لگی کہ کیا کہے وہ ۔ میران خود اس سے الگ ہو کے، اس کی حیران آنکھوں میں دیکھنے لگا۔ اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں کے پیالے بھر کے، وہ بےچین آنکھوں میں محبت لیے اسے دیکھ رہا تھا۔
” کیا ہوا ہے میران ؟؟”
سماہر کی سوئی اب بھی وہی اٹکی ہوئی تھی۔
“تم سے عشق ۔ “
میران نے بوجھل سرگوشی کی تھی۔ سماہر اسے دیکھے گئی۔ عجیب شخص ہے یہ بھی۔
” افس جا رہا تھا تم سے ملے بنا، ایسے لگا جیسے جسم بےجان ہو گئی ہے میری، روح یہیں کہیں رہ گئی ہو میری ۔”
سماہر کی آنکھیں حیران ہوئی تھی، ایسی باتیں بھی کر لیتا ہے یہ شخص۔
” کچھ کہنا چاہتا ہوں سماہر، بتانا چاہتا ہوں لیکن ۔۔۔ “
وہ خاموش ہو کے لب بھینچ گیا تھا ۔
” لیکن یہ سب کہنے کے لئے، ہمت نہیں ہے مجھ میں، کیا ایسا ممکن ہے کہ میرے سب کہہ دینے تک، اس وقت تک میرا انتظار کرو، کسی سے کچھ مت سنو ؟”
سماہر اثبات میں سر ہلانے لگی۔ میران نے جھک کے، اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے تھے۔
” مجھ پہ یقین تو ہے ناں تمہیں؟؟”
وہ پھر سے پوچھ رہا تھا۔
سماہر بنا کچھ کہے، پلکیں جھپکتی، سر اثبات میں ہلا گئی تھی۔ میران نے ان آنکھوں پہ اپنے لب رکھے تھے۔
” ٹوٹنے نہیں دوں گا کھبی اس یقین کو ۔۔ آئی پرامس “
سماہر اب بھی خاموش تھی، میران نے جھک کے اس کے لبوں کے کنارے پہ، اپنے لب رکھے تھے اور پھر دو قدم پیچھے ہو کے، اس نے نظر بھر کے سماہر کو دیکھا تھا اور پھر سر جھٹک کے، وہ دروازے کی طرف بڑھا تھا، کس قدر ٹوٹا ہوا سا لگا تھا آج یہ شخص اسے، آنکھیں کس قدر بےچین تھی اس شخص کی اج، چلتے ہوئے بھی کس قدر بوجھل لگے تھے اس شخص کے قدم آج سماہر کو، لمحہ بھر کی تاخیر کیے بنا، وہ آگے بڑھی تھی اور میران کی پشت سے لگی، اس کے سینے کے گرد اپنے دونوں بازو لپیٹے تھے، میران کا ہاتھ دروازے کے ہینڈل پہ رہ گیا تھا، وہ رکا تھا، وہ گداز نرم بانہیں، کس قدر سکون بخش تھی۔ اس نے نرمی سے دونوں ہاتھ ، اس کے بازوؤں پہ رکھے تھے۔ نرمی سے اسے ٹرن دیتا، اپنے سامنے لایا تھا جبکہ سماہر دھڑکتے دل کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی۔ یہ شخص اسے اتنا عزیز کیوں تھا، اس قدر عشق کیوں تھا اس شخص سے اسے، محبت کیوں تھی اس شخص سے، یہ شخص سراپا عشق کیوں تھا اس کے لئے، وہ سوچے گئی۔ ہاتھ کی پشت سے، میران کا چہرہ چھوا تھا اس نے۔
” میران، یقین کامل ہو تم میرے لئے ۔ “
کس قدر نرم لہجہ، محبت سے بھری سرگوشی، اور یہ آنکھیں کس قدر پاک تھی جو میران کا عکس لیے، اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ اپنی شہادت کی انگلی نرمی سے، اس کے لبوں پہ پھیرتی، وہ اس کے قریب ہوئی تھی کہ اس کے لب، میران کے لبوں کے بےحد قریب تھے۔
” اگر بتانا ہے تو اپنے دل کی باتیں بتاؤ، دھڑکنوں کی تال پہ مدھم رقص کرتی دل کی باتیں، بوجھل سانسوں تلے مبہم عشق کی داستان سننی ہے مجھے تم سے ، میران ارتضی ملک۔۔۔ بس اور کچھ نہیں “
وہ میران کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی، جہاں بےچینیوں کا بسیرا تھا اور اب سکون سا پھیل رہا تھا،
سماہر دو قدم پیچھے ہوئی تھی۔
” شام کو جلدی آنا “
میران پہلے حیران ہوا تھا اور پھر ہنسنے لگا۔ کتنی دلکش تھی وہ۔
” میری ناراضگی ابھی بھی برقرار ہے مسٹر میران ارتضی ملک ۔۔ یاد رہے “
اپنی بات کہہ کے، وہ پیچھے ہوئی تھی اور دروازے کھول کے جانے کا اشارہ کیا تھا اسے، جبکہ میران کچھ دیر پہلے والی سماہر اور ابھی کی سماہر میں الجھ گیا تھا، تبھی زیر لب مسکرانے لگا۔
” آپ کہے تو میں ابھی ناراضگی دور کر دیتا ہوں “
وہ سماہر کے قریب آ کے، اس کی کمر پہ ہاتھ رکھ کے، اسے خود سے قریب کرتا کہنے لگا جبکہ سماہر نے اپنی شہادت کی انگلی اس کے لبوں پہ رکھ کے، اسے روکا تھا۔
” میری ناراضگی آپ کی جلد بازی سے تو کھبی بھی دور نہیں ہونگی “
میران نظر بھر کے، اسے دیکھتا، اس کے نم بالوں کو ہاتھ کی انگلیوں سے سنوارنے لگا۔
” میں جلد بازی کا قائل بھی نہیں ہوں “
سماہر کی دھڑکنیں منتشر ہوئی تھی۔
” مجھے روح میں اتر کے، ناراضگی دور کرنی ہے اپنے بیگم کی “
اس سرگوشی پہ، سماہر کی پلکیں لرز کے جھکی تھی جبکہ میران گہری نگاہوں سے، اس کے دہکتے گلابی ہوتے گالوں کو دیکھنے لگا۔
” شام کو جلدی آؤں گا “
اس کے کان کی لو پہ اپنے لب رکھ کے اس نے سرگوشی کی تھی، سماہر ہلکا سا جھینپی تھی، اس کے کندھے پہ اپنے دہکتے لب رکھ کے، اس کے لبوں نے گردن تک اپنا سفر کیا تھا،
” منتظر رہنا ۔ “
وہ سرگوشی کرتا پیچھے ہوا تھا، ایک گہری نظر اس پہ ڈال کے، وہ کمرے سے باہر نکلا تھا جبکہ سماہر اپنی بکھرتی سانسوں کو بحال کرنے کی کوشش کرتی، لمحہ بھر میں سرخ پڑ گئی تھی۔ اسے لمحے بھر میں بکھیر کے رکھ دیتا ہمیشہ، میران اپنے دہکتے لمس سے۔ اس کے لب ہلکا سا مسکرائے تھے، لب دانتوں تلے دبائے، اس نے بالکونی کی طرف دیکھا تھا، تیزی سے آگے بڑھ کے وہ بالکونی میں آئی تھی، جہاں میران ارتضی ملک اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا اور سماہر بس یہی سوچے گئی۔ اس شخص سے کیونکر اتنا عشق کر بیٹھی ہے وہ۔
میران نظر اٹھا کے اسے دیکھا تھا اور زیر لب مسکراتا گاڑی میں بیٹھ چکا تھا جبکہ سماہر مسکان لبوں پہ سجائے، اس کی گاڑی پورچ سے ہو کے، گیٹ سے باہر نکلتا دیکھتی رہی، جب تک کہ وہ گاڑی نظروں سے اوجھل نہ ہوئی ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” ہیلو مسٹر میران ارتضی ملک ۔۔ “
وہ جیسے ہی اپنے آفس میں داخل ہوا تھا، سامنے ہی اسے ماریہ کھڑی نظر آئی تھی جو بانہیں پھیلائے اسے خوش آمدید کہہ رہی تھی، ماڈرن کٹ ساڑھی میں ملبوس، جس سے اس کا جسم عریاں ہو رہا تھا، ڈیپ ریڈ لپ اسٹک لگے لب مسکرا رہے تھے جبکہ اسموکی آنکھوں میں، پسندیدگی لیے کھڑی تھی۔ میران پل بھر کو رکا تھا، اس کے لب بھینچ گئے تھے، اعصاب تن گئے تھے، اج بہت عرصے بعد وہ اس عورت کے یوں روبرو ہوا تھا۔ ابرو اچکا کے، وہ ماریہ کے قریب سے ہو کے گزرتا، اپنی سیٹ کی طرف بڑھا تھا، وہ اب کئی سال پہلے کا میران نہیں تھا جو اپنے غصے کا اظہار کرتا یا اس سے نفرت کرتا، وہ ایک بزنس مین تھا اب، کامیاب پولیٹیشن تھا، پرسکون انداز میں اپنی سیٹ پہ بیٹھ کے، وہ اب ماریہ کو دیکھ رہا تھا جبکہ ماریہ لب بھینچے اسے دیکھ رہی تھی۔
” برسوں بعد مل رہے ہیں ہم ، مجھے لگا کہ میرے گلے لگو گیں یا مجھے اپنی بانہوں میں بھر لو گیں “
میران اب بھی خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا جبکہ وہ کندھے اچکا کے ہنسنے لگی ۔
” صبح کال پہ تم نے کہا کہ تم مجھے نہیں جانتے، تو سوچا آفس آ کے تمہیں سرپرائز کر دوں “
” میں سرپرائز ہو گیا ہوں، اب تم جا سکتی ہو “
پرسکون انداز میں جواب آیا تھا ماریہ نے ناگواری سے اسے دیکھا تھا۔
” مجھ سے کب ملو گیں میران ؟؟ میں انتظار کر رہی ہوں پل پل، کتنے ڈیشنگ ہو گئے ہو تم مزید، کس قدر چینجز آ گئی ہے تم میں، بہت اٹریکٹو ہو گئے ہو، میں خود کو روک نہیں پائی تم سے ملنے سے ،”
وہ ٹیبل پہ دونوں ہاتھ رکھ کے، اس کی طرف جھکی ہوئی تھی کہ اس کی رعنائیاں عریاں ہو رہی تھی، میران سپاٹ نظروں سے، اسے دیکھ رہا تھا، وہی بےتاثر ، بےنیاز چہرہ۔
” ہم کب مل رہے ہیں میران ؟”
ہاتھ بڑھا کے اس نے انٹرکام پہ اپنی سیکریٹری کو اندر بلایا تھا۔
” آفس میں آئیے آپ میرے “
” یس سر”
دو سیکنڈ بھی نہیں لگے تھے وہ آفس میں تھی جبکہ میران اب سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا ۔
” میرے آفس میں کیا کر رہی ہے یہ خاتون ؟؟”
سعدیہ نے بےحد حیرت سے ماریہ کو دیکھا تھا اور پھر میران کو دیکھنے لگی۔
” سر میں نے ان کو منع کیا تھا، مجھے نہیں معلوم یہ کیسے آئی ہے “
وہ گھبرا گئی تھی کہ کہیں اس کا باس اسے جاب سے نہ نکال دے۔
” عرفان سے کہے کہ فوٹیج چیک کریں یہاں کی “
لہجہ اب بھی سنجیدہ اور سرد تھا ۔۔
” اوکے سر ۔۔ “
سعدیہ نے جلدی سے جواب دیا تھا جبکہ ماریہ جو کب سے میران کو دیکھ رہی تھی لیکن میران نے ایک بار بھی اسے مزید نہیں دیکھا تھا ۔
” ڈسگسٹنگ “
اس نے دانت پیسے تھے اور کھٹ کھٹ کرتی آفس سے باہر گئی تھی۔
” ایم سوری سر ۔۔ مجھے بلکل بھی ۔۔۔ “
سعدیہ نے پھر سے کہنا چاہا جبکہ میران نے ہاتھ اٹھا کے اسے روکا تھا۔
” عرفان سے کہے کہ میرا آفس چیک کریں۔”
” اوکے سر “
سعدیہ بھی آفس سے باہر گئی تھی جبکہ میران نے گہرا سانس لیا تھا۔
‘میران ، تمہیں کیسا محسوس ہو رہا ہے؟؟ میرا قریب آنا۔۔ یہاں کوئی نہیں ہیں ہمارے سوا، مجھے بانہوں بھر لو، میں سلگنا چاہتی ہوں ‘
میران نے لب بھینچ لیے تھے کہ وہ منظر آنکھوں کے سامنے گھوما تھا اور اس کے اعصاب تن گئے تھے۔
‘ تم میرا یقین کامل ہو میران ‘
سماہر کی آواز گونجی تھی جو بےحد پرسکون کر گئی تھی اسے ۔۔
” اور اگر؟؟ وہ چھوڑ گئی مجھے ؟؟ اگر یقین ٹوٹ گیا اس کا تو ؟؟”
دل رکنے لگا تھا اس لمحے۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
اس کی نظر اپنے رائٹنگ ٹیبل پہ رکھے کتابوں پہ گئی، تو دل کی دنیا پہ یاسیت سی چھا گئی تھی۔ وہ کتابیں، وہ نوٹ بکس، اس کے پین، لیپ ٹاپ، سب وہیں موجود تھے اور وہ اتنے مہینے کس قدر ادھوری اور نامکمل رہی تھی ان سب کے بنا۔ وہ آگے بڑھ کے ان کتابوں پہ ہاتھ پھیرنے لگی، نظر کھڑکی سے باہر گئی، ہلکے ہلکے بادلوں نے بسیرا کر رکھا تھا اس نیلے آسمان کو، کچھ سوچتی وہ اہمی کتابیں اور نوٹ بکس سنبھالتی کمرے سے باہر نکلی تھی، اس کا ارادہ لان کے ایک کونے میں بیٹھ کے پڑھنے کا تھا۔ ان کتابوں میں اس کی یادیں بکھری پڑی تھی، اس نے اپنی نوٹ بک کھولی تھی لیکن اس کے پہلے صفحے پہ اس کی آنکھیں ساکت ہو گئی تھی ۔
” میں مائزہ کا ہینڈسم کزن اور دوست ہوں، پلیز میری مائزہ کو تنگ مت کیا کریں “
Note to all classmates of Maiza ..
یہ ایک بار ازمائر نے لکھا تھا اور مائزہ ہنس رہی تھی اور ابھی ؟؟ اس لکھائی پہ اپنا ہاتھ آہستگی سے پھیرتی، اس نے اپنے آنسوؤں کو روکنے کی کوشش کی تھی۔ کس قدر بدل گیا تھا سب، وہ اب دوست نہیں رہا تھا، وہ اب کچھ نہیں رہا تھا، سوائے ایک خوف کے، ایک دھوکے کے، تاریک ماضی میں لیے گئے غلط فیصلے کے سوا وہ کچھ نہ تھا۔
کیا واقع ؟؟ وہ کچھ نہیں تھا اب ؟؟ اس نے لب بھینچ لیے تھے۔ اپنے آنسو روکنے کے لئے، اس نے سر اٹھایا تھا لیکن اپنے بلکل سامنے ازمائر کو دیکھ کے، اس کا رنگ لمحہ بھر کے لئے سفید پڑ گیا تھا، سانس روکے وہ ازمائر کو دیکھنے لگی جو گرے ٹی شرٹ اور وائٹ ٹراؤزر میں ملبوس، ہلکی شیو کے ساتھ، پہلے جیسا ازمائر لگ رہا تھا ۔ نظریں چرا کے وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی، وہ مڑ کے گھر کی طرف جانے لگی تھی، نہ جانے کیوں اتنا سماہر کے سمجھانے کے بعد بھی، وہ ازمائر سے خوفزدہ تھی اب بھی۔ اس سے پہلے وہ آگے بڑھتی، ازمائر نے وہ چار قدم کا فاصلہ طے کر کے، اس کی کلائی کو تھاما تھا۔
” مائزہ ۔۔۔ “
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
