Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 07

برستی بارش کو دیکھتی، وہ بالکونی میں بیٹھی اپنے ہی سوچوں میں گم تھی کہ اسے اپنے پیچھے آتے ارتسام کی بھی خبر نہ ہوئی، وہ آہستگی سے، میرب کے قریب بیٹھ کے، اس کا چہرہ دیکھنے لگا جہاں سوچوں کا جال بچھا ہوا تھا لیکن وہ شاید کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی، ارتسام نے ہاتھ بڑھا کے، اس کے چہرے پہ آئے بال، اس کے کان کے پیچھے اڑسائے تھے اور وہ چونک کے ارتسام کو دیکھنے لگی جو مسکرا رہا تھا۔
” میری بیوی کن سوچوں میں گم ہے کہ میرے آنے کی بھی خبر نہیں جناب کو؟”
اسکے شرارتی انداز پہ میرب نے سر جھٹکا تھا۔
” وہ دیکھ رہے ہو ؟”
اپنے بنگلے کے لان کی طرف اشارہ کرتی، وہ اب دلکشی سے مسکرا رہی تھی لیکن اس مسکراہٹ میں اداسی سی محسوس ہو رہی تھی ارتسام کو۔
” وہیں پہ میران بھائی نے سماہر کے کندھے پہ، اپنی شال اوڑھ کے، اپنی محبت کا اعتراف کیا تھا اور تب میں بےحد خوش تھی کہ سماہر میری بھابی بنے گی ۔ “
وہ خاموش ہو کے، ہاتھ ریلنگ پہ رکھ چکی تھی لیکن نظریں اب بھی اسی طرف تھی ۔
” وہاں بہت یادیں بکھری پڑی ہے میری ، میں، سماہر، مائزہ اور آبگینے کی یادیں، ہم بہت شرارت کیا کرتے تھے۔”
” تو اب بھی کر لیا کرو “
ارتسام نے اس کے چہرے پہ چھائی اداسی کو محویت سے دیکھا تھا۔ میرب منہ بنا کے ارتسام کو دیکھنے لگی ۔
” ابھی کوئی نہیں ہے یہاں، سب جیسے بھول گئے ہیں خود کو، سب جیسے گم ہو گئے ہیں زندگی کے اس میلے میں۔۔۔ سماہر کی یادداشت جا چکی ہے، مائزہ کو ازمائر سے فرصت نہیں اور آبگینے کو بھی فرصت نہیں “
” اور میرب کو ارتسام سے فرصت نہیں “
مسکرا کے کہتا وہ میرب کو کھینچ کے اپنی گود میں بٹھا چکا تھا جبکہ میرب بوکھلا کے ادھر ادھر دیکھنے لگی۔
” کیا کر رہے ہو،کوئی دیکھ لے گا “
” کوئی نہیں دیکھتا، اس آدھی رات کو سب سو رہے ہیں “
اس کے انداز پہ میرب مسکرانے لگی ۔
” بس میری بیوی کو اپنی یادیں ستا رہی ہے اور ادھر اپنے شوہر کی کوئی پرواہ ہی نہیں میری مسز کو “
ارتسام کو مزید شہ ملی تھی شاید اس کی مسکراہٹ سے لیکن اب کے میرب اسے گھورنے لگی۔
” تم سے کچھ شئیر ہی نہیں کرنا اب مجھے “
” ارے ۔۔۔ میں نے کیا کیا ہے اب ؟؟ ایک ہی تو بیوی ہو میری، وہ ہی میرا دکھ سکھ نہ سمجھے تو ساتھ والے گھر کی سمیرا میرا خیال کرے گی “
ارتسام کا لہجہ افسوس بھرا تھا۔
” یہ سمیرا کون ہے ؟؟”
میرب کے سوال پہ، ارتسام مصنوعی حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔
” پورے جملے میں، تمہیں بس یہی نظر آیا “
” سمیرا کون ہے ؟؟ “
اب کے دانت پیستے پوچھا گیا تھا جبکہ ارتسام کندھے اچکا کے، اسے پھر سے سیٹ پہ بیٹھنے میں مدد دی تھی جبکہ میرب لب بھینچے اس کی کاروائی دیکھ رہی تھی ۔
” مجھے سو جانا چاہئے اب “
آرام سے اپنی بات کہہ کے، وہ بنا کوئی آہٹ کیے، آہستگی سے اٹھ کے، ایسے جانے کے لئے پر تولنے لگا کہ جیسے ہوا ہی نہیں ہو لیکن میرب نے اس کی ٹانگ سے اپنی ٹانگ الجھا کے اسے روکا تھا، اور وہ لڑکھڑا کے میرب پہ گرا تھا یا پھر ایکٹنگ کی تھی گرنے کی، میرب کراہ کے رہ گئی ۔
” بدتمیز ۔۔۔ ہائے میرا منہ توڑ دیا، پاگل پٹھان “
” پاگل پٹھان مت کہو، بارش میں بھگو دوں گا “
ارتسام کا واویلا اس سے بھی زیادہ تھا۔
” اٹھو ارتسام ۔۔۔ “
اس کا بھاری جسم میرب دھکا دیتی، خودپر سے اٹھانے کی کوشش کرنے لگی جبکہ وہ اٹھ کے پھر سے جھکا تھا اور میرب کو بازوؤں میں بھر کے کھڑا ہو چکا تھا
” اے پاگل پٹھان اتارو مجھے “
” بلکل نہیں “
اسے لیے وہ اندر کمرے کی طرف بڑھا تھا جبکہ میرب نے اس کی شرٹ کو مضبوطی سے تھاما ہوا تھا کہ کہیں ارتسام اسے گرا نہ دے اور اس کی ہڈیاں چٹخ جائے ۔ کمرے میں آ کے، اسے بیڈ پہ لٹا کے، ارتسام بھی اس کے قریب ہی لیٹ چکا تھا۔ میرب کا سر اپنے بازو پہ رکھتے وہ مسکرانے لگا
” میرے قریب رہا کرو میرب،یہ بندہ ہاتھ سے نکل گیا پھر شکایت مت کرنا “
” کیا مطلب ؟”
میرب جو ابھی اس کے قریب ہونے پہ سکون پا رہی تھی جب اچانک چونکی تھی جبکہ ارتسام زیر لب مسکرانے لگا۔
” مرد ہوں یار، کھبی بھی بہک سکتا ہوں “
مئرب نے زور سے، اسے دھپ رسید کی تھی، وہ پھر سے کراہ کے رہ گیا ۔
” پاگلیٹ یہ کیا بدتمیزی ہے “
” ابھی صرف بدتمیزی کی ہے، زیادہ فضول بکواس کی تو اٹھا کے بیڈ سے نیچے گرا دوں گی “
میرب کا غصے سے بڑا حال تھا جبکہ ارتسام کی ہنسی بےساختہ تھی۔
” میں کھینچ کے تمہیں خود پہ گرا دوں گا “
میرب خاموش ہی رہی ۔ ارتسام بےخودی میں اسے دیکھے گیا،
” بارش مجھ پہ بہت ستم ڈھا رہی ہے آج “
بوجھل آواز پہ، میرب چونک کے اسے دیکھنے لگی ۔
” ایک تو یہ مستانی کالی رات، اوپر سے یہ بارش اور پھر تم جیسی حسن آتش میرے بےحد قریب، خود کو روک نہ پاؤں اور نہ قریب آ پاؤں، عجیب دوراہے پہ آ کھڑا ہوا ہوں آج میں۔ “
میرب اسے دیکھنے لگی ۔
” جانتا ہوں، مجھے اپنا پرامس یاد ہے، تم ٹینشن نہیں لو، چلو سوتے ہیں “
وہ اہنی بات کہہ کے، سیدھا ہو کے آنکھیں بند کر گیا ایسے ہی وہ اپنے بےلگام ہوتے جذبات پہ لگام لگا سکتا تھا جبکہ میرب خاموشی سے اسے دیکھے گئی، کتنا خیال تھا اسے میرب کا اور اپنے وعدے کا پاس بھی تھا،
وہ خوش نصیب تھی یقینا جو ارتسام اس کا نصیب بنا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

اسے انتظار کرنے کا کہہ کے، نہ جانے سماہر ڈریسنگ روم میں کیا کر رہی تھی، ایک دو بار وہ دروازے پہ دستک دے کے پوچھ بھی چکا تھا لیکن سماہر نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا اور تبھی وہ خاموشی سے بیٹھا اس کے باہر آنے کا منتظر تھا۔ کچھ دیر بعد ڈریسنگ روم کا دروازہ کلک کی آواز سے کھل چکا تھا اور سماہر ہلکا سا کمرے میں جھانک کے، اندر آ چکی تھی اور پل بھر کے لئے، میران ارتضی ملک مبہوت سا رہ گیا تھا سماہر کو دیکھ کے، سفید رنگ کی سلک ساڑھی میں،اس کی رنگت کھل رہی تھی، کھلی زلفوں کے ہالے میں، اس کی دودھیا رنگت دمک رہی تھی، نازک مخملی بدن پہ ہاف بلاؤز سے، اس کی نظر آتی دودھیا نازک کمر، میران کا ایمان ڈگمگانے پہ تلی ہوئی تھی۔
” میران “
اس کے یوں متواتر دیکھنے سے، سماہر کنفیوز ہوتی اسے پکار بیٹھی جبکہ میران اب بھی مبہوت سا، اسکی طرف قدم بڑھا رہا تھا اور سماہر کی دھڑکنیں منتشر ہوتی، اسے بوکھلائے دے رہی تھی۔ خود کو میران کے لئے سنوارتے، اس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ یوں اس کا سامنا کرنا، سماہر کے لئے مشکل ہو جائے گا، سانس رکتی محسوس ہوگی، جاں نکلتی محسوس ہوگی۔ وہ جوں جوں قدم اس کی طرف بڑھا رہا تھا، سماہر کو پل پل اپنا وجود بھاری ہوتا محسوس ہونے لگا تھا۔ اسے آج کیا ہوا ہے ؟؟ وہ پاگل کیوں ہو رہی ہے میران کی قربت کے لئے، یہ وہ نہیں جانتی تھی۔ میران اس کے مقابل کھڑا، اسے بوجھل آنکھوں سے دیکھ رہا تھا جبکہ سماہر نے بےاختیار اپنے لب دانتوں تلے دبا کے کاٹے تھے اور میران کو لگا وہ اپنا اختیار کھو چکا ہے خود پہ ۔
” ڈیم اٹ یار “
اس کی نازک کمر پہ اپنے ہاتھ رکھ کے، اسے خود میں بھینچ کے، میران ان لبوں کی نرماہٹ کو محسوس کرتا، ان سانسوں کی مہک کو گھونٹ گھونٹ پینے لگا، سماہر جسے آسان سمجھ رہی تھی، اب بھاری ہوتی سانسوں کو خود کے لئے سنبھالنا مشکل لگا تھا اسے، نازک گردن پہ، ان سلگتے لبوں کے سفر کو سہتی، وہ میران کی شرٹ کو مٹھیوں میں بھینچ گئی تھی، بیک لیس بلاؤز ہونے کی وجہ سے، میران کے بےباک انگلیوں کا لمس، اسے اپنی پیٹھ پہ رینگتی محسوس ہو رہی تھی، تبھی سسکی بھرتی، وہ میران کے سینے سے جا لگی تھی،
” تمہاری سانسوں کا شور کس قدر خوبصورت ہے سماہر، جیسے کوئی مدھم گنگناہٹ سی ہو”
بوجھل سرگوشی پہ پگھلتی، وہ رخ موڑ کے ، اس سے دور ہوئی تھی، مدہوش آنکھوں میں التجا سی تھی، لیکن وہ خود اس آگ کو بھڑکا کے، اب پیچھے ہٹ رہی تھی جو ناممکن سا امر تھا میران ارتضی ملک کے لئے ۔ قدم قدم پیچھے جاتی وہ دیوار سے جا لگی تھی، جبکہ میران زیر لب مسکراتا، اس کے مقابل آ کھڑا ہوا تھا۔ اپنے ہاتھ کی پشت اس کی گردن سے، اس کے دل کے مقام تک کو چھوتا، وہ سماہر پہ سحر سا طاری کر رہا تھا۔ آنکھیں موندے، وہ میران کے ہر لمس پہ پگھل رہی تھی۔ اسے بانہوں میں بھر کے، میران بیڈ پہ لایا تھا ، اس کی کمر پہ اپنے سلگتے لمس بکھیرتا، وہ سماہر کے حواس سلب کر رہا تھا۔ ان لمحوں کا سحر تب ٹوٹا جب میران کے موبائل پہ کال آنے لگی جسے وہ اگنور کرنے کا ارادہ رکھتا تھا لیکن کال پھر سے آنے لگی تو اسے اٹھ کے کال ریسیو کرنی پڑی۔
” اوکے میں آتا ہوں “
سماہر نے بےاختیار اٹھ کے، اس کا ہاتھ تھاما تھا جیسے اسے روکنا چاہ رہی ہو، میران نے رک کے، اس کے بال سنوارے تھے اور پھر اس کے لبوں پہ، اپنے لب رکھ کے، اس کے لمس کو خود میں حفظ کیا تھا ۔
” انتظار کرو، میں اتا ہوں “
کہہ کے، وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکلا تھا۔ سماہر بےبسی سے لب کاٹتی بند دروازے کو دیکھتی رہی، گہرا سانس لے کے خود کو، اس حصار کے سحر سے باہر نکالنےکی کوشش کی تھی کہ اچانک گولیاں چلنے کی آواز آئی تھی اور بےاختیار سماہر کی چیخیں اس کمرے میں گونجنے لگی تھی، کچھ دھندلے لمحے آنکھوں کے سامنے گھومنے لگے ، کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ کے گرے تھے، اور پھر وہ گری تھی، میران بھی اس کے قریب ہی تھا، اور ابھی ۔۔۔
” میران ۔۔۔ “
وہ چلائی تھی اور بیڈ سے اتر کے وہ دروازے کی طرف بڑھی تھی کوئی شاید ختم کر گیا تھا اس کے میران کی سانسوں کو۔ دروازہ کھول کے اپنی ناہموار ہوتی سانسوں کو بحال کرنے کی کوشش کرتی وہ آگے بڑھی تھی لیکن اندھیرا ہونے کی وجہ سے، وہ کسی سے ٹکرائی تھی اور بند ہوتی آنکھوں کے ساتھ اسی کے بازوؤں میں جھول کے گری تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤
مائزہ نے آج بہت عرصے بعد اس گھر کی دہلیز پہ قدم رکھا تھا، جہاں سے وہ منہ موڑ گئی تھی اور جہاں کے مکینوں کے لئے وہ مر چکی تھی۔ آنسو خود بخود آنکھوں میں جمع ہونے لگے تھے، پورے لاؤنج پہ اس نے ایک دھندلائی سی نظر ڈالی تھی، یہ وہی جگہ تھی جہاں اکثر وہ سماہر کے ساتھ بیٹھ کے، تابعہ کو تنگ کیا کرتی تھی اور آج وہاں کس قدر خاموشی کا عالم تھا، چھوٹے لڑکھڑاتے قدم رکھتی وہ آگے بڑھ رہی تھی جب اس کی نظر ڈائیننگ ٹیبل کے پاس کھڑی تابعہ پہ نظر پڑی تو وہیں رک گئی، تابعہ وہاں برتن سمیٹ رہی تھی، صبح کا ناشتہ شاید ہو چکا تھا، عیشل بیگ سنبھالتی وہیں آئی تھی۔
” خدا حافظ بڑی مما “
تابعہ نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔ وہ بدل گئی تھی عیشل کے مقابلے میں، اس چھوٹی بچی سے ضد کرنا چھوڑ دیا تھا، شاید عارفین کی باتوں کا اثر تھا، اس سب میں اس معصوم بچی کا کیا قصور تھا، قصوروار تو اس خاندان کے مرد تھے، جو اپنی عیاشی میں، اپنا دین، ایمان، گھر سب بھول چکے تھے۔
” مائزہ اپی “
عیشل کی آواز پہ، تابعہ کے ہاتھ رکے تھے اور وہ مڑ کے پیچھے دیکھنے لگی جہاں ٹوٹی، بکھری سی مائزہ کھڑی تھی، جس میں ان کے اپنے مائزہ کی کوئی جھلک ہی نہ تھی، تابعہ کے یوں دیکھنے پہ، مائزہ کی آنکھیں برسنے لگی، ہچکیاں سی بندھ گئی، شاید ماں ہستی ہی ایسی ہے کہ بنا کچھ کہے بھی، اولاد سب کہہ جاتی ہے اور وہ ماں سمجھ بھی جاتی ہے، چاہے وہ جتنی بھی سخت مزاج عورت ہی کیوں نہ ہو۔
” عیشل جاؤ، اسکول کو لیٹ ہو رہی ہو “
تابعہ نے عیشل کی طرف رخ کر کے کہا تو وہ تیزی سے باہر کی طرف بھاگی تھی جبکہ تابعہ پھر سے مائزہ کو دیکھنے لگی، بیٹی کی یہ حالت دیکھ کے، دل جیسے گہری کھائی میں گرا تھا لیکن وہ خاموش کھڑی رہی، مائزہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ان کے قریب آئی تھی اور ان کے مقابل وہ بکھری بکھری سی نیچے گر کے بیٹھی تھی، ان کے پاؤں پہ اپنے دونوں ہاتھ رکھ کے وہ بلک پڑی تھی۔
” مجھے بچا لیں مما ۔۔۔ مجھے بچا لیں “
وہ ماں تھی، وقاص ملک کی کوتاہیوں اور بیوفائی سے وہ جتنی سخت طبیعت کی بنی تھی، لیکن پھر بھی وہ وقاص ملک کی ہی نہیں بلکہ اس کی بھی تو اولاد تھی، اس کی کوکھ سے جنم لینے والی بچی۔ تابعہ تڑپ کے نیچے بیٹھی تھی اور اپنی بیٹی کو گلے سے لگایا تھا جبکہ مائزہ کے رونے میں شدت آئی تھی کہ اس نے رو رو کے پورا گھر جیسے سر پہ اٹھا لیا تھا، کتنی فریاد تھی اس کی آواز میں، کتنا درد پنہاں تھا اس کے رونے میں، تابعہ سمجھ رہی تھی، پڑھ رہی تھی اس کی فریاد کو، سن رہی تھی اس کی آہ کو۔
” مما ۔۔۔۔۔ مما ۔۔۔۔ “
روتے ہوئے وہ بار بار یہی کہہ رہی تھی جبکہ تابعہ خود پہ ضبط کرتی، اسے خود سے الگ کر کے، اس کے دونوں ہاتھ تھام کے، اسے دیکھنے لگی ۔ وہ کس قدر بدل گئی تھی، اس کی متورم آنکھیں ویران پڑ چکی تھی، اس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑ چکے تھے اور اس کی رنگت زرد پڑ چکی تھی، تابعہ تڑپ ہی گئی۔
” کس نے یہ حالت کی ہے تمہاری میری بچی ؟”
” اس خاندان کے سارے مرد ایک جیسے ہیں مما، میں ہی دھوکا کھا گئی، ازمائر کی باتوں میں آ کے، میں نے سب برباد کر دیا، وہ درندہ ہے مما، مجھے ڈر لگتا ہے اس سے، مجھے بچا لیں اس سے مما، میری عزت بچا لیں مما، اپنی اس نافرمان بیٹی کو بچا لیں مما پلیز “
تابعہ نے اسے خود سے لگایا تھا، کس قدر آنکھیں بند تھی اس ماں کی، کہ اپنی بیٹی کی حالت سے باخبر نہ ہو سکی اور کتنے سنگدل اور پتھر انسان تھے اس گھر کے، کہ اس خاندان کی بیٹی کے لئے ڈھال نہ بن سکے لیکن اب انہیں خود ماں بننا تھا، خود کو مضبوط کرنا تھا، اپنی بیٹی کے لئے ڈھال بننا تھا۔ ڈاکٹر صدف نے یہی کہا تھا ان سے کہ خود سے شروع کرنا چاہیئے ایک عورت کو، اپنی عزت نفس کے لئے احترام کی قائل ہونی چاہئے ایک عورت کو، ایک ناکام مرد کھبی عورت کو اس کا مقام نہیں دلاتا، نہ وہ عورت کو اپنا حق لینے کی اجازت دیتا یے، عورت خود اپنا حق چھینے، اسے خود اپنے حقوق کے لئے مضبوط بننا چاہیے اگر ماں ہے تو اپنی بیٹیوں کے لئے ایک ڈھال بننا چاہئے، عورت کو مضبوط بننے سے کوئی نہیں روک سکتا، جب تک کہ وہ خود اپنے لئے مانع نہ ہو۔ وہ مضبوط نظروں سے اپنی بیٹی کو دیکھ رہی تھی، وہ کھبی اپنی بیٹی کو دوسری تابعہ نہیں بننے دے گی، وہ کھبی مائزہ کو کمزور نہیں ہونے دے گی وہ مائزہ کو مضبوط بنائے گی لیکن انہیں ابھی اس خاندان کے ہر فرد سے حساب بھی لینا تھا۔ مائزہ اس خاندان کی سگی بیٹی تھی اور اس سگی بیٹی سے، خاندان کے بزرگوں نے کیا سلوک کیا تو پھر چھوٹوں سے کیا گلہ۔
” تم میری بیٹی ہو، تمہیں میں کھبی دوسری تابعہ نہیں بننے دوں گی۔۔۔ “
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤