Rate this Novel
Episode 19
” یہ راستہ گھر کو نہیں جا رہا “
اس سوچ کے آتے ہی وہ اچھلی تھی اور ازمائر کو دیکھنے لگی۔
” یہ کون سا راستہ ہے؟”
” تو تم ابھی تک سو رہی تھی جو ابھی خیال آیا راستے کا “
ازمائر نے دوبدو جواب دیا تھا جبکہ مائزہ نے لب بھینچ لیے تھے۔
” میرا بلکل بھی موڈ نہیں تم سے بحث کا، مجھے گھر جانا ہے “
شام کے سائے بھی پھیل چکے تھے اور بارش بھی دھیرے دھیرے تیز ہو رہی تھی۔
” یہ گاڑی بلکل بھی گھر نہیں جا رہی اور نہ ہم گھر جا رہے ہیں “
ازمائر کا انداز پرسکون تھا جبکہ مائزہ چونکی تھی۔
” کیا مطلب ؟”
” مطلب یہ کہ ہم کہیں اور جا رہے ہیں “
ازمائر نے کندھے اچکا کے جواب دیا تھا۔
” تم پاگل ہو، دماغی مریض ہو، مجھے گھر جانا ہے “
وہ چلائی تھی، ایک تو آج کل اسے غصہ بھی بہت زیادہ آتا تھا آج کل، خود پہ، اپنے حالت پہ اور اس شخص پہ ۔
” چلاتی کیوں ہو تم اتنا ، گلا پھاڑنا ہے اپنا کیا تم نے “
ازمائر نے ایک نظر اسے دیکھ کے، پھر سے سامنے روڈ پہ کی تھی، جو بلکل سنسان سڑک سے جا رہی تھی، سڑک کے دونوں طرف گھنے جنگل تھے جبکہ گاڑیوں کی گزر وہاں سے کم ہی تھی۔
” انتہائی بدتمیز انسان ہو، اپنی بیوی کو کڈنیپ کر رہے ہو تم “
مائزہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ گاڑی سے نیچے کود جائے۔
” بیوی کو خوش ہونا چاہئے ویسے، کہ اس کا اتنا گڈ لکنگ ہزبینڈ اسے کڈنیپ کر رہا ہے “
ازمائر نے شرارت سے آنکھ ونک کی تھی۔
” مجھے تمہارے ساتھ کہیں نہیں جانا ازمائر، تمہارے ساتھ کہیں بھی جانے سے بہتر ہے کہ یہیں موت کو گلے لگا لوں، اس لئے گاڑی گھر کی طرف کر دو، مجھے گھر جانا ہے تمہارے ساتھ مجھے ۔۔۔۔۔ “
اس کی بات ادھوری رہ گئی تھی جب اچانک گاڑی کا انجن بند ہوا تھا اور گاڑی رک گئی تھی جو بار بار ازمائر کی کوشش کی باوجود بھی اسٹارٹ نہیں ہوا تھا۔ مائزہ نے صدمے سے گنگ، شکی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی، ازمائر نے اسے گھوری سے نوازا تھا۔
” تم یہ تو نہیں سوچ رہی کہ میں نے بند کیا ہے انجن؟”
” شیطان سے اچھی امید رکھی بھی تو نہیں جا سکتی “
مائزہ نے اسے سر سے پاؤں تک گھور کے جواب دیا تھا جبکہ وہ تاسف سے سر ہلانے لگا اور پھر سے گاڑی اسٹارٹ کرنے کی کوشش کرنے لگا لیکن بےسود ہی رہا ۔ گاڑی اسٹارٹ ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا، مائزہ جو اسے ہی دیکھ رہی تھی اچانک نفی میں سر ہلانے لگی ۔
” ن ۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ بلکل بھی نہیں۔۔۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے “
ازمائر نے رک کے اس کے سہمے ہوئے چہرے کو دیکھا تھا اور پھر تھوڑا نرم ہوا تھا۔
” مائزہ پلیز ریلیکس ۔۔ میں ہوں نا “
” اسی بات کا تو افسوس ہے کہ تم کیوں ہو ازمائر “
مائزہ سپاٹ آنکھوں سے اسے دیکھتی بولی تھی، ازمائر نے لمحہ بھر کے لئے لب بھینچ لیے تھے ۔
” اور پلیز مجھ سے دور رہو ۔ اس ویران جگہ کا فائدہ اٹھانے نہیں دوں گی میں تمہیں “
وہ کار ڈور سے لگ کے اسے دیکھنے لگی جبکہ ازمائر کے چہرے پہ سایہ سا لہرایا تھا۔
” میں اتنا گرا ہوا نظر آتا ہوں تمہیں مائزہ ؟؟”
اس کی آواز میں بےحد دکھ تھا ۔
” تم گرے ہوئے ہو ازمائر “
مائزہ سخت لہجے میں کہتی رخ موڑ گئی تھی جبکہ ازمائر کچھ دیر اسے دکھ بھرے انداز میں دیکھتا رہا، جب وہ سب ٹھیک کرنے جا رہا ہے تو پھر بھی وہ یہ باتیں سن رہا یے، پھر بھی اس پہ مائزہ کو یقین نہیں ہے ۔ وہ بری طرح ہرٹ ہوا تھا لیکن سچ بھی تو یہی تھا کوئی اچھا امیج تو بنایا نہیں تھا اس نے اپنا مائزہ کے سامنے، کہ اسے تمغہ امتیاز پہناتی مائزہ۔ سر جھٹک کے وہ گاڑی سے نیچے اترا اور گاڑی کو چیک کرنے لگا جبکہ مائزہ خاموشی سے گاڑی میں بیٹھی اسے دیکھ رہی تھی، جو بارش میں بھیگتا کھبی اپنی شرٹ جھاڑتا تو کھبی گاڑی کو چیک کرتا، نظر مائزہ پہ گئی تو وہی ٹھہر گئی اور مائزہ نے نظریں پھیر کے، لب بھینچے تھے کہ کچھ بھی ہو اسے اس شخص پہ بلکل یقین نہیں تھا۔ وہ واپس گاڑی میں آ کے بیٹھا تھا، مائزہ اس کے بیٹھتے ہی بےساختہ کار ڈور سے لگی تھی جسے ازمائر نے بھی نوٹ کیا تھا لیکن خاموش رہا اور موبائل پہ نمبر ملانے لگا لیکن سگنلز نہ ہونے کی وجہ سے کال نہیں مل رہی تھی۔
” شٹ “
موبائل پھر سے ڈیش بورڈ پہ رکھتا وہ نیچے اترنے لگا ۔
” مجھے گھر جانا ہے ابھی کے ابھی، “
ازمائر نے پلٹ کے اسے دیکھا جو منہ ہی پھیر گئی اور پھر خاموشی سے نیچے اتر کے وہ پھر سے گاڑی کا جائزہ لینے لگا لیکن اچانک اس کا ہاتھ جلا تھا اور ” سی” کر کے وہ اپنے ہاتھ، دوسرے ہاتھ سے پکڑتا پیچھے ہوا تھا، مائزہ جو اسے ہی دیکھ رہی تھی، اس کے چہرے پہ درد کے آثار دیکھ کے، وہ تیزی سے باہر نکل کے اس کے قریب آئی تھی۔
” کیا ہوا ؟”
اس کا جلا ہوا ہاتھ، دونوں ہاتھوں میں لے کے جائزہ لینے لگی، اس کے ہاتھ کی جلد سرخ پڑ گئی تھی۔
” کچھ ٹھیک کرنا بھی آتا ہے تمہیں یا بس خود کو نقصان ہی پہنچانا ہے “
اس کے تیز لہجے پہ، ازمائر کے چہرے پہ زخمی مسکراہٹ آ ٹھہری تھی۔
” ہمیشہ غلط ہی کرتا ہوں اور اپنا نقصان کر دیتا ہوں “
اس کے بوجھل آواز پہ، مائزہ نے چونک کے اسے دیکھا تھا، اس کی آنکھوں میں بےحد اداسی تھی، پچھتاوے کی پرچھائیاں تھی۔ وہ دونوں ہی ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے، بارش میں بھیگ رہے تھے، شام کے گہرے ہوتے سائے سے بےخبر، جب اچانک بجلی چمکی تھی اور مائزہ بوکھلا کے اس کے سینے سے جا لگی تھی، وہ ڈر گئی تھی شاید، تبھی ازمائر نے اس کے کانپتے وجود کے گرد، اپنے بازوؤں کا گھیرا بنایا تھا۔
” م ۔۔۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔ “
اس کی کانپتی آواز ابھری تھی اور ازمائر نے بےساختہ اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے تھے۔
” ہشششششش میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا، ریلیکس رہو”
وہ مائزہ کو لے کے گاڑی میں بٹھا چکا تھا جبکہ اچانک مائزہ نے اس کا ہاتھ تھام کے اسے روکا تھا۔
” کہیں مت جاؤ “
ازمائر نے نرم نگاہوں سے اسے دیکھا تھا، اسے افسوس ہوا تھا کہ وہ کیوں ایسے مائزہ کو یہاں لے آیا اگر اسے یا اس کے بچے کو کچھ ہو گیا، اگر اس کی حالت بگڑی اور ڈاکٹر بتا بھی چکا تھا اسے، کہ مائزہ کا خاص خیال رکھنا ہے کہ اس کی کنڈیشن کریٹیکل بھی ہو سکتی ہے اور یہ خیال رکھنا ہے اس کا، سر جھٹک کے اپنے ہاتھ پہ رکھے اس کے ہاتھ کو نرمی سے سہلایا تھا اس نے،
” میں بھی دوسری سائیڈ سے آ کے بیٹھ رہا ہوں” ۔
مائزہ کا ہاتھ، اس کی گود میں رکھ کے، وہ اس کی طرف کا دروازہ بند کر کے، دوسری طرف سے آ کے خود ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھا تھا۔ بےحد سنجیدگی سے اس نے مائزہ کے چہرے کو دیکھا تھا، وہ خوفزدہ تھی، وہ ڈر رہی تھی، ازمائر نے آگے بڑھ کے اسے بانہوں میں بھر لیا تھا۔
” ایم سوری مائزہ، ایم سو سوری فار ایوری تھنگ “
مائزہ اس کے سینے سے لگی آنکھیں موند گئی تھی۔
” پلیز معاف کر دو مائزہ، میں تمہیں کھبی نقصان نہیں پہنچایا چاہتا تھا، کھبی تمہیں ہرٹ نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن نہ جانے مجھے کیا ہو گیا تھا کہ میں اچھے برے کی پہچان بھول گیا تھا۔ سنبھلنے میں بہت وقت لگا مجھے مائزہ لیکن اب سنبھلا ہوں تو تمہیں کھونا نہیں چاہتا “
مائزہ کو اس کے الفاظ سکون بخش رہے تھے، اس کا مضبوط وجود مائزہ کو تحفظ کا احساس دلا رہا تھا اس وقت۔
” میں اپنے ہر کیے گناہ اور ہر کی ہوئی غلطی کی تلافی کرنے چاہتا ہوں، میں بہت گرا ہوا ہوں، بہت گری ہوئی حرکت کی ہے تم سے، ہمارے بیچ موجود اس پاک بندھن کو میں نے گندگی سے بھر دیا، ہمارے بیچ موجود دوستی کا بھی پاس نہ رکھ پایا میں، بہک گیا تھا، برا بن گیا تھا لیکن پلیز مائزہ معاف کر دو پلیز “
وہ خاموش ہوا تھا جبکہ مائزہ بھی خاموش ہی تھی، جب ازمائر کو اپنی گردن پہ، گرم سانسوں کا لمس محسوس ہوا تھا، وہ دیکھنے لگا، مائزہ کی آنکھیں بند تھی، وہ شاید سو چکی تھی، اس کے گرد اچھی طرح سے، اپنے بازو کا گھیرا بنا کے، وہ باہر دیکھنے لگا، رات ہو چکی تھی اور بارش بھی متواتر ہو رہی تھی، پیچھے سے اپنی جیکٹ لے کے، اس نے مائزہ کے کندھے پہ اوڑھائی تھی، کھانے کے لئے بھی کچھ نہیں تھا گاڑی میں، ازمائر کو ایک بار پھر سے افسوس ہونے لگا، کہ اس کی ایک غلطی کی وجہ سے، مائزہ بھوکی ہے، اور ان دونوں کو یہاں صبح تک رہنا ہے یونہی بھوکے پیٹ۔
‘ اگر مائزہ کو کچھ ہو گیا ؟’
یہ خیال اسے بےچین کر گیا اور وہ پھر سے مائزہ کے سوئے چہرے کو دیکھنے لگا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
ڈنر تیار تھا، پریشے اپنے سارے بال کیچر میں بند کر کے کمرے سے باہر نکلی تھی، سیڑھیاں اتر کے وہ لاؤنج سے ہوتی ڈائیننگ روم میں آئی تھی لیکن اس کے قدم وہیں جم گئے تھے، حیران آنکھوں سے وہ سامنے کا منظر دیکھ رہی تھی جہاں سب کے بیچ عاھل خان موجود تھا، جو ہلکا سا مسکرا کے اسے ہی دیکھ رہا تھا، اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا وہ ۔
” اسلام علیکم ۔۔ “
وہ چونکی تھی اور گڑبڑا کے نظریں چراتی ادھر ادھر دیکھنے لگی ۔
” وعلیکم السلام ۔ “
ان کے بیچ ارتسام نہیں تھا،
” آو بیٹا “
امامہ کی آواز پہ وہ چھوٹے قدم اٹھاتی ، آبگینے کے پاس ہی جا کے بیٹھ گئی تھی ۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یون سب کے بیچ وہ کس ردعمل کا اظہار کرے۔ تبھی نظریں جھکائے وہ تھوڑے سے چاول اپنے پلیٹ میں لے کے، ادھر ادھر دیکھنے سے گریز کر رہی تھی، آبگینے بھی سنجیدگی سے بیٹھی کھانا کھا رہی تھی جبکہ شاہ نواز خان ہی بات کر رہے تھے، عاھل سے سوال کر رہے تھے اور وہ جواب دے رہا تھا۔ امامہ بھی مسکرا رہی تھی۔ جب ارتسام اور میرب گھر میں داخل ہوئے تھے اور مسکراتے ہوئے وہیں آئے تھے، لیکن عاھل پہ نظر پڑتے ہی، ارتسام کی مسکراہٹ غائب ہو چکی تھی،لب بھینچے وہ عاھل پہ نظر ڈال کے، شاہ نواز خان کو دیکھنے لگا ۔
” یہ یہاں کیا کر رہا ہے ؟”
عاھل جو اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا ارتسام سے ملنے کے لئے، اس کی سخت آواز پہ وہ وہیں رک چکا تھا جبکہ شاہ نواز خان اپنے بیٹے کو دیکھنے لگے ۔
” بیٹا مہمان ہے عاھل خان ہمارے “
” نہیں ہے مہمان، دشمن ہیں ہمارے “
ارتسام کی گرج دار آواز پہ، پریشے بھی سہم کے ارتسام کو دیکھنے لگی۔ اس نے کھبی ارتسام کو اتنے غصے میں نہیں دیکھا تھا۔
” ارتسام بیٹا “
امامہ نے کہنے کی کوشش کی لیکن ہاتھ اٹھا وہ انہیں کچھ بھی کہنے سے روک چکا تھا ۔
” ماں آپ خاموش رہیئے ۔۔ “
میرب بھی خاموش کھڑی تھی ، ارتسام کا یہ غصہ وہ بھی پہلی بار ہی دیکھ رہی تھی
” نکلو تم یہاں سے “
ارتسام اب عاھل سے کہہ رہا تھا۔
” ارتسام میں۔۔۔۔۔ “
عاھل نے کہنے کی کوشش کی تھی لیکن ارتسام تقریبا غرایا تھا۔
” نکلو یہاں سے تم ۔۔۔ ابھی کے ابھی “
پریشے بھیگی آنکھوں سے عاھل کو دیکھنے لگی جو شرمندہ سا، نظریں چراتا وہاں سے جا رہا تھا، جبکہ ارتسام اپنے باپ کو دیکھ رہا تھا ۔
” کون سی ریاست دینے آیا تھا وہ یہاں ، جو اسے ڈائننگ ٹیبل کی زینت بنائے بیٹھے ہیں “
” ارتسام ۔۔۔ تم حد سے بڑھ رہے ہو “
شاہ نواز خان بھی غصے میں گرجے تھے جبکہ ارتسام کے چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ ابھری تھی۔
” پہلے اس گھر کی حدیں تعین کر لیں اپ، پھر مجھے میری حدیں بتائیے آپ “
غصے سے کہہ کے تن فن کرتا وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھا تھا، پریشے کی بھیگی آنکھوں نے اس کا پیچھا کیا جب تک کہ وہ سیڑھیاں چڑھ گیا ۔
” کیا ہو گیا ہے اسے “
امامہ بڑبڑائی تھی۔
” تمیز بھول گیا ہے برخوردار “
شاہنواز خان غصے سے کہہ کے، اپنی کرسی پہ بیٹھ چکا تھے، میرب، پریشے کو دیکھ رہی تھی جس کے چہرے پہ، اس کی اندرونی کیفیت لکھی نظر آ رہی تھی، پریشے نے ادھر ادھر دیکھا تھا اور پھر آہستگی سے وہ بھی سیڑھیوں کی طرف بڑھی تھی کپ اسے یقین ہو چکا تھا کپ اب اس کی زندگی میں ماسوائے رنجشوں کے کچھ بچا ہی نہیں ہے۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
صبح کی روشنی پھیلتے ہی، اس نے ڈرائیور کو کال کی تھی اور ساتھ لوکیشن سینڈ کی تھی اور تبھی وہ گاڑی اور کھانے پینے کی لوازمات کے ساتھ وہاں موجود تھا، ازمائر نے اسے گاڑی میں بیٹھنے میں مدد دی تھی، بھوک اور کمزوری سے وہ نڈھال ہو رہی تھی، ازمائر کو اپنی اس حرکت پہ بےحد افسوس ہوا تھا کہ اسے اس حالت میں بھی مائزہ کی صحت کا خیال نہیں رہا تھا۔
” مائزہ اب کیسا فیل کر رہی ہو ؟؟”
اسے جوس پلا کے، ازمائر فکرمندی سے پوچھ رہا تھا جبکہ وہ سر اثبات میں ہلا گئی ۔
” یہ کچھ کھا لو پلیز ۔ “
وہ مائزہ کے سامنے سینڈوچ رکھتا کہنے لگا جسے مائزہ نے اٹھا کے کھانا شروع کیا تھا اور ازمائر گاڑی اسٹارٹ کر چکا تھا کہ مائزہ کو رات سے یہاں بٹھا کے رکھا تھا اس نے اور وہ بےحد تھکن محسوس کر رہی تھی۔
” تم نہیں کھا رہے ؟؟”
مائزہ نے سینڈوچ اس کی طرف بڑھایا تھا اور ازمائر نے اس کے ہاتھ میں موجود سینڈوچ سے بائٹ لی تھی جبکہ مائزہ جھینپ سی گئی تھی لیکن خاموش ہی رہی ۔
” شہر پہنچ کے ڈاکٹر کے پاس چلیں “
” نہیں میں ٹھیک ہوں، “
آہستگی سے جواب دے کے وہ باہر دیکھنے لگی ۔ ازمائر نے ایک گہری نظر اس پہ ڈالی تھی۔
” ایم سوری مائزہ “
اس کے لہجے میں شرمندگی تھی، مائزہ خاموش ہی رہی، کس کس بات کے لئے وہ معافی مانگے گا، وہ بس سوچ کے رہ گئی۔ کچھ ہی دیر میں وہ اسلام آباد شہر میں داخل ہوئے تھے، وہ مطمئن سی اپنے شہر کو دیکھنے لگی، بارش ہلکی ہو چکی تھی لیکن موسم میں ہلکی ہلکی خنکی کا احساس موجود تھا جو اس وقت مائزہ کو بہت اچھا لگ رہا تھا، لیکن روح کی تھکن اتر رہی ہو اس ہلکی چلتی ہوا سے۔ وہ بےساختہ ہاتھ بڑھا کے بارش کی ان ننھی بوندوں کو اپنے ہتھیلی پہ محسوس کرنے لگی، اس کے چہرے پہ ہلکی مسکراہٹ تھی، ازمائر نے گاڑی چلاتے ہوئے اسے دیکھا تھا، اس کی آنکھیں کھوئی کھوئی سی تھی لیکن لب مسکرا رہے تھے۔دل میں اچانک سے انوکھے جذبوں نے سر اٹھایا تھا کہ اس کے مسکراتے لبوں کی مسکراہٹ وہ اپنے لبوں سے چن لیں، لیکن وہ لب بھینچے خاموش ہی رہا کہ وہ صرف مائزہ کی نفرت کا مرتکب ہے، اسے مائزہ کی محبت کھبی نہیں مل سکتی، وہ گنہگار ہے مائزہ کا۔ گاڑی گیٹ سے داخل ہو کے پورچ میں جا کے رکی تھی، وہاں موجود ڈرائیور نے تیزی سے آگے بڑھ کے گاڑی کا دروازہ ہے کھولا تھا مائزہ کے لئے، ازمائر بھی اتر کے اس کی طرف آیا تھا اور اس کا ہاتھ تھام کے، اسے اترنے میں مدد دینے لگا ۔
” گاڑی سے سامان اتار کے کچن میں لے کے جاؤ “
ڈرائیور کو حکم دے کے، وہ مائزہ کی کمر پہ ہاتھ رکھ کے، اسے چلنے میں مدد دینے لگا۔ جب مائزہ نے اپنا رخ، اپنے پورشن کی طرف کرنا چاہا لیکن ازمائر نے اسے روکا تھا۔ مائزہ اسے دیکھنے لگی ۔
” ہمارے روم میں جاتے ہیں پلیز “
مائزہ اسے دیکھے گئی، کس قدر منت تھی اس کے لہجے میں، اچانک اس رات کا لمحہ اس کی آنکھوں کے سامنے ابھرا تھا،جب وہ رو رہی تھی، درد سے سسک رہی تھی لیکن ازمائر کو اس پہ رحم نہ آیا تھا، اپنی من مانی کرتا گیا، رشتوں کی لاج بھی نہ رکھی تھی اس نے، وہ ہاتھ چھڑا گئی اس کے ہاتھ سے اور اس سے نظریں پھیر کے فاصلہ اختیار کر گئی۔
” مجھے وہاں نہیں جانا کھبی بھی “
” کیوں؟؟”
ازمائر کے لہجے میں تھکن تھی، مائزہ نے پھر سے اسے دیکھا تھا۔
” میں کوشش کر رہی ہوں لیکن میں کچھ بھول نہیں پا رہی ازمائر، رشتوں کا تقدس تم نے جس طرح سے، اس رات کے لمحے لمحے میں دفن کیا ہے، اسے بھولنا یا اس پہ فاتحہ پڑھ لینا میرے لئے ناممکن ہے ۔ “
اپنی بات کہہ کے وہ رخ موڑ گئی تھی اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ لان سے ہوتی اپنے پورشن کی طرف جانے لگی جبکہ ازمائر لب بھینچے وہیں کھڑا اسے پل پل خود سے دور ہوتا دیکھ رہا تھا۔ وہ گنہگار تھا مائزہ کا اور مائزہ اسے معاف کرنے کے لئے بلکل تیار نہ تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” کب تک شاپنگ ہوگی تمہاری ؟”
میران کے سوال پہ وہ مسکرائی تھی اور ساتھ ساتھ وہ زینی بوتیک میں موجود اپنے لیے ڈریسز دیکھ رہی تھی۔
” ابھی تو اسٹارٹ ہوئی ہے “
جبکہ آفس میں بیٹھا میران موبائل کان سے لگائے مسکرانے لگا۔
” آہہمم ۔۔۔ ایم مسنگ یو “
” افس آ جاؤں تمہارے ؟”
سماہر شرارتی انداز میں لب دانتوں تلے دبا گئی جبکہ وہ ہنسنے لگا ۔
” سوچ لو، جنگ کا میدان بن جائے گا یہ آفس “
سماہر بھی ہنس پڑی تھی۔
” شام کو جلدی آنا گھر ۔ “
” جو حکم آپ کا “
میران نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تھا۔ کال ڈسکنیکٹ کر کے، سماہر نے اپنی پسند کی ہوئی چیزیں سیلز گرل کو پکڑائی تھی اور وہ ریسیپشن پہ چیزیں رکھ کے، سماہر کو دیکھنے لگی۔
” آپ ویٹ کیجئے گا میم “
سماہر نے مسکراتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا تھا اور گلاس وال سے باہر دیکھنے لگی، اپنی خریدی ہوئی چیزوں کی پےمنٹ کر کے، وہ اپنے پیکٹس لیے وہاں سے باہر نکلی تھی، اس کے قریب گارڈ تیزی سے آیا تھا اور اس کے ہاتھ سے شاپنگ بیگز لے کے وہ گاڑی کی طرف بڑھا تھا جب اچانک سماہر کے سامنے ماریہ تھی، سماہت کو رکنا پڑا تھا جبکہ وہ مسکراتی آنکھوں سے سماہر کو دیکھنے لگی۔
” کیسی ہو سماہر ؟”
سر جھٹک کے سماہر نے اس کے سائیڈ سے ہو کے گزرنے کے لئے قدم رکھے تھے لیکن وہ پھر سے سماہر کے سامنے کھڑی ہوئی تھی۔
” کیا مسئلہ ہے ؟”
سماہر نے سپاٹ لہجے میں سوال کرتے اسے دیکھا تھا جبکہ اس نے ہاتھ میں موجود بوتل کو اس کی آنکھوں کے سامنے کیا تھا جو آدھا بھرا ہوا تھا۔
” تم میرا مسئلہ ہو سماہر “
اور ساتھ ہی ہاتھ میں موجود بوتل کو جھٹکے سے اس کے چہرے پہ چھڑکا وہ سماہر سے دو قدم پیچھے ہوئی تھی جبکہ سماہر کی چیخ ابھری تھی اور اس نے تیزی سے دونوں ہاتھ چہرے پہ رکھے تھے۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
