Rate this Novel
Episode 08
” میران ۔۔۔”
ہوش آنے پہ، اس کی زبان سے ادا ہونے والا پہلا لفظ یہی تھا جبکہ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا میران چونک کے اسے دیکھنے لگا۔ وہ نیند سے چیخ کے اٹھ بیٹھی تھی میران پریشانی سے اس کے قریب ہو کے، اس کے دونوں کندھے تھام چکا تھا۔
” سماہر ۔۔۔ “
اپنے نام کی سرگوشی پہ وہ پلٹی تھی اور میران کے سینے سے لگی تھی۔
” میران آپ ٹھیک ہے ناں؟؟ کیا ہوا تھا ؟؟ ک ۔۔۔ کون تھے وہ لوگ ؟؟ وہ میران وہ کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ کے گرے تھے آپ پہ، اپ ٹھیک تو ہے ناں؟؟”
روہانسی انداز میں کہتی وہ اپنی بھیگی آنکھوں سے میران کو دیکھنے لگی جبکہ میران حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔
” سماہر ہشششششش ریلیکس ۔۔۔ سب ٹھیک ہے کچھ نہیں ہوا “
” آپ ٹھیک ہے ناں میران “
وہ میران کے چہرے کو چھوتے ہوئے پوچھنے لگی جبکہ وہ کچھ بول نہیں پا رہا تھا بس دھڑکتے دل کے ساتھ، وہ سماہر کو دیکھ رہا تھا، جو بےحد مختلف لگ رہی تھی ابھی، وہ ابھی اس رات کا حوالہ دے رہی تھی جس کے بعد اس کی یادداشت چلی گئی تھی ، اس کا مطلب جو بھی تھا، میران کی دھڑکنیں رکنے کے لئے کافی تھی۔
‘ سماہر کے ہوش میں آتے ہی، میں تمہارے حقیقت بتا دوں گا اسے اور پھر سماہر میری ہوگی ۔’
ازمائر کے الفاظ اس کے کان میں گونجے تھے۔
” مجھے ابھی گھر جانا ہے، ایسے لگ رہا ہے جیسے عرصے سے میں نے کسی کو نہیں دیکھا، مجھے کیا ہوا تھا میران ؟؟ مجھے کچھ یاد کیوں نہیں آ رہا ؟”
وہ کہہ رہی تھی لیکن میران سن کہاں رہا تھا، وہ گنگ ہو گیا تھا مکمل، سماہر ٹھیک ہو گئی ہے، اسے خوش ہونا چاہیے تھا لیکن خوف نے اس کے پورے وجود کو اپنی جکڑ میں لے لیا تھا۔ وہ کچھ بولنے کے قابل بلکل بھی نہیں تھا۔
” میران مجھے کیا ہوا تھا ؟؟ مجھے کچھ یاد کیوں نہیں آ رہا “
وہ پھر بھی خاموش رہا تھا اور پھر اچانک جھٹکے سے اپنا ہاتھ، اس کے ہاتھ گرفت سے چھڑا کے وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکلا تھا کہ گھٹن بڑھتی جا رہی تھی اور وہ سانس لینے کے قابل بھی نہیں رہا تھا۔ وہ کوریڈور سے ہوتا، تیزی سے سیڑھیاں اترنے لگا اور پھر لاؤنج کے پیچھے سے ہوتا وہ ایک کمرے میں جا کے، دروازہ لاک کر گیا ، اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، جنہیں وہ دھندلائی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا، اپنا سینہ مسلتے، اس نے کمرے کے چاروں اطراف میں نظر دوڑائی تھی۔ اسے اپنے سینے پہ ، نرم ہاتھوں کا لمس محسوس ہوا، اور پھر ان سرخ لبوں کا لمس اسے اپنی گردن اور سینے پہ محسوس ہونے لگا۔ تبھی چلا کے وہ پیچھے ہوا تھا اور دیوار سے جالگا تھا۔
” وہ میں نہیں تھا، میں نہیں تھا وہ “
وہ چیخا تھا اچانک سے۔
” سماہر کو تمہاری حقیقت بتاؤں گا ۔۔۔۔ سماہر میری ہوجائے گی ۔۔۔ چھین لوں گا اسے تم سے “۔
اواز پھر سے آ رہی تھی ازمائر کی اور وہ پھر سے چلایا تھا۔
” وہ میں نہیں تھا۔ “
” مجھے بچا لو میران، مجھے تھام لو میران “
وہ بدک کے پھر سے، اس جگہ سے دور ہوا تھا۔
” وہ میں نہیں تھا، سماہر پلیز سنو وہ میں نہیں تھا ، مجھے چھوڑ کے مت جاؤ پلیز سماہر “
عجیب کیفیت ہو رہی تھی اس وقت اس کی، ڈر اور خوف نے اسے وحشت زدہ بنا دیا تھا۔ وہ خود میں تھا ہی نہیں اس وقت جبکہ لاؤنج میں کھڑی سماہر، پریشان نظروں سے چاروں طرف دیکھ رہی تھی، سب کچھ اپنی جگہ پہ تھا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو، میران بھی کہیں نہیں تھا تو ؟؟ اسے کیا ہوا تھا ؟؟ یہ سوچ اسے پریشان کیے جا رہی تھی۔ اسے اپنے بدن پہ موجود ساڑھی کا احساس ہوا تو مزید پریشانی اور شرمندگی محسوس ہوئی تھی اسے، وہ اس شدید سلک کی ساڑھی نیم عریاں تھی، وہ ایسے کپڑے کھبی نہیں پہنتی تو یہ کب اور کیسے ؟؟
” میران کہاں چلے گئے آپ؟”
پریشان نظریں اب بھی لاؤنج کے گرد گھوم رہی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
وہ جو ابھی ابھی کمرے سے نکلا تھا، زیادہ دیر تک سوتے رہنے کی وجہ سے، دماغ ابھی بھی بھاری بھاری سا تھا، جب اچانک اسے کھینچ کے، زور کا تھپڑ پڑا تھا، لب بھینچ کے وہ کڑے تیوروں کے ساتھ سیدھا ہوا تھا لیکن سامنے تابعہ کو دیکھ وہ بس لب بھینچ کے رہ گیا، ماتھے پہ ابھی بھی بل پڑے ہوئے تھے، جبکہ تابعہ نے اس کا کالر سختی سے جکڑ کے، اسے پیچھے دھکا دیا تھا کہ وہ دیوار سے جا لگا تھا۔
” کیا کر رہی ہے آپ چچی جان، دماغ تو ٹھیک ہے آپ کا ؟”
وہ بےحد بدلحاظ اور بدتمیز ہو گیا تھا، اس کا اندازہ تابعہ کو اچھی طرح سے ہو رہا تھا۔
” مائزہ اس خاندان کی بیٹی ہے، یہ یاد دلانا تھا تمہیں “
تابعہ کی سرد آواز پہ اس نے لب بھینچ کے سر جھٹکا تھا۔
” اوہ ۔۔۔ اسے تو آپ مار چکی تھی اپنے لئے “
” میں نے تو بس لفظوں کی مار ماری تھی لیکن تم نے تو اسے زندہ درگور کر دیا”
تابعہ کی بات پہ وہ نظریں چرا گیا۔
” بن ماں باپ کا سمجھ کے، اسے زندہ لاش بنا دیا تم نے تو ازمائر، کس بات کا بدلہ لے رہے ہو تم میری معصوم بچی سے ؟؟ میں ماں ہوں اس کی ازمائر، اولاد ہے وہ میری، تڑپ سمجھ سکتے ہو ایک ماں کی ؟؟ اپنی اولاد کے لئے؟؟ میری اولاد کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کر کے، اس کی عزت نفس کو کچلنے سے پہلے یہ تو سوچ لیا ہوتا کہ وہ تمہاری چچازاد ہے، اس گھر کی عزت، اس خاندان کی بیٹی، جس کے ساتھ اس گھر میں تم اکھٹا بڑے ہوئے ہو، ایٹ لیسٹ ایک بار تو سوچ لیتے کہ وہ تم سب کی چہیتی مائزہ ہی تھی جسے تم سب نے مل کے زندہ لاش بنا دیا، جس کی عزت کو تم نے روند دیا، میرے پاس سے تو وہ ایسے نہیں آئی تھی تمہارے پاس ، اہسے تھوڑی سونپا گیا تھا تمہیں، وہ تو بہت زندہ دل لڑکی تھی، کیا بنا دیا تم نے میری مائزہ کو، اپنی ہی کزن، اپنی ہی دوست کو تم نے کیا بنا دیا “
کہتے کہتے آخر میں وہ چیخ پڑی تھی کہ عظمی بھی وہیں پینچ گئی اور سیڑھیاں اترتے دشاب بھی وہیں آئے تھے ۔
” تابعہ کیا ہوا ہے ؟؟ سب ٹھیک تو ہے “
وہ پوچھنے لگے لیکن تابعہ نے جن نظروں سے انہیں دیکھا تھا وہ نظریں چرا گئے۔
” کیا ہوا ہے ؟؟ یہ آپ پوچھ رہے ہیں مجھ سے کہ کیا ہوا ہے ؟؟ کچھ نہیں ہوا، سب ٹھیک ہے ، بلکل ٹھیک، بس اس خاندان میں ایک اور تابعہ بننے جا رہی ہے، وہ بھی اپنوں کی مار کھا کے، اپنوں کے ہی ستم سہہ کے۔ “
دشاب نے ایک ملامت بھری نظر ازمائر پہ ڈالی تھی لیکن تابعہ نے سر جھٹکا تھا۔
” اسے کیا دیکھ رہے ہیں آپ دشاب؟؟ یہ بھی تو آپ کا ہی بیٹا ہے، اسی خاندان کا بیٹا اور مرد، جہاں کے بزرگ مرد حضرات ایک ایک عدد بیویوں کے ہوتے ہوئے بھی، باہر کی عورتوں کو منہ لگاتے پھرتے ہیں، بیٹا بھی تو اسی راہ چلے گا۔ لیکن مردانگی اس میں دکھاتے آپ لوگ ، کہ اپنی بیٹی کو بیٹی بنا کے رکھتے، اپنی بیٹی کو سمیٹ لیتے، مائزہ آپ کی ہی بیٹی تھی نا دشاب ؟؟ کیا کہا تھا آپ نے مجھ سے ؟؟ کہ مائزہ اور سماہر آپ کی ہی بچیاں ہیں۔۔۔ “
وہ کہتے کہتے رو پڑی تھی لیکن جلدی سے خود کو سنبھال بھی لیا کہ وہ ماں تھی اسے کمزور نہیں پڑنا تھا۔
” یہ سلوک کرتے ہیں اپنی بچیوں سے؟؟ اس کا زرد چہرہ یہاں کوئی نہ دیکھ پایا ؟؟؟ وہ درندہ کہتی ہے اپنے ہی شوہر کو، کوئی ایسی درندگی دکھاتا ہے اپنی بیوی کو ازمائر ؟؟ چلو بیوی نہ سہی، وہ دوست تھی تمہاری ازمائر، مائزہ دوست تھی تمہاری، لاج ہی رکھ لیتے اس رشتے کا”
ازمائر لب بھینچ کے نظریں چرا گیا۔
” تم۔سب کو حساب دینا ہوگا، ایک ایک کو حساب دینا ہوگا ، میری بیٹی کے آنسوؤں کا حساب، اس کے ساتھ درندوں جیسا برتاؤ کرنے کا حساب، اس کی عزت نفس کو روندنے کا حساب۔۔۔ تم سب کو دینا ہے اب، مائزہ خی صورت دیکھنے کو ترسو گے تم ازمائر، اللہ کی ذات ہے اوپر، ایسا حساب لے گی تم سے کہ ترسو گے تم، پچھتاؤں میں گر کے، گڑگڑاو گیں لیکن اب سے مائزہ کی صورت دیکھنے کو ترسو گے۔ “
ازمائر خاموش رہا تھا لیکن دشاب تڑپ کے آگے بڑھے تھے ۔
” تابعہ پلیز ۔۔۔ “
” بس ۔۔”
تابعہ ہاتھ اٹھا کے انہیں کچھ بھی بولنے سے روک گئی تھی۔
” مائزہ سے تم سب کا تعلق ختم ہو چکا ہے ہمیشہ کے لئے ۔ “
یہ کہہ کے تابعہ وہاں سے جا رہی تھی جبکہ دشاب نے ایک ملامت بھری نظر دونوں ماں بیٹا پہ ڈالی تھی۔
” عاق کر چکا ہوں تمہیں میں ازمائر، خود سے، اپنی زندگی سے، اپنے ہر تعلق سے۔۔۔ عاق ہو تم میرے لئے “
ان کا لہجہ بےحد سخت تھا جبکہ عظمی جزبز ہو کے آگے بڑھی تھی۔
” دشاب یہ آپ۔۔۔۔ “
” شٹ اپ ۔۔۔ “
پرطیش انداز میں اسے دیکھتے وہ باہر کی طرف بڑھ گئے تھے۔ عظمی نے آگے بڑھ کے ازمائر کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تھا ۔
“تم پریشان مت ہو بیٹا، تمہارے لئے لڑکیوں کی کمی تھوڑی ہے “
ازمائر نے بیزاری سے اس کا ہاتھ اپنے کندھے سے جھٹکا تھا اور بنا کچھ کہے اپنے کمرے میں جا کے بند ہو گیا تھا جبکہ اوپر کھڑی عارفین کا دل جیسے کوئی اپنی مٹھی میں دبوچ چکا تھا۔ یہ گھر اور اس گھر کے مکین ، سب ایکدوسرے کے دشمن بن رہے تھے۔ سب ٹوٹ رہا تھا، رشتے ناطے، سب ۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” میرے ٹھیک ہو جانے کی خوشی نہیں ہے تمہیں میران ؟؟”
شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے جب میران کمرے سے باہر آیا تھا، لاؤنج میں بیٹھی سماہر نے نظریں اٹھا کے اسے دیکھا تھا، وہ چونکا تھا اسے شاید سماہر کے لاؤنج میں ہونے کی خبر نہیں تھی۔ وہ کچھ دیر خاموشی سے سماہر کو دیکھنے لگا اور پھر گہرا سانس لیتا وہ بھی وہیں صوفے پہ آ کے بیٹھ گیا تھا۔
” مجھے بھی خوشی نہیں ہوئی، میں ویسے ہی ٹھیک تھی ایٹ لیسٹ تم مجھ سے بات کر لیا کرتے تھے اور ابھی تو میں چھ گھنٹوں سے یہاں بیٹھی اپنے قصور کے بارے میں سوچ رہی ہوں ۔”
میران کو بےحد شرمندگی ہوئی تھی، وہ نطر اٹھا کے سماہر کو دیکھنے لگا۔
” تم نے کچھ نہیں کھایا صبح سے ، میں کھانے کا کہہ کے آتا ہوں “
وہ اٹھنے لگا ۔
” مجھے بھوک نہیں ہے “
وہ رک کے سماہر کو دیکھنے لگا ۔
” مجھ سے بھاگنے کی ضرورت بھی نہیں ہے، میں کچھ نہیں پوچھوں گی تم سے۔ بس مجھے گھر جانا ہے، ڈرائیور سے کہو کہ مجھے ڈراپ کر دیں “
سماہر کے ان الفاظ نے اسے مزید شرمندہ کر دیا تھا تبھی وہ سماہر کے قریب آ بیٹھا تھا لیکن جیسے ہی اس نے سماہر کو اپنی بانہوں میں لینے کے لئے، آگے ہوا تو اسی لمحے سماہر صوفے سے اٹھ کے، دو قدم پیچھے جا کھڑی ہوئی تھی ۔
” ڈرائیور سے کہے کہ مجھے گھر ڈراپ کردیں”
آواز اور لہجہ بےتاثر اور روکھا سا تھا۔
” سماہر پلیز ایم سوری ۔۔۔۔ “
وہ اٹھ کے سماہر کے قریب ہوا تھا لیکن وہ ہاتھ اٹھا کے اسے روک گئی۔
” پلیز ۔۔۔۔ “
” سماہر دیکھو ۔۔۔ “
وہ بےبسی سے اسے پکار بیٹھا لیکن وہ لب بھینچ کے منہ موڑ گئی ۔۔
” میں خود ہی چلی جاتی ہوں “
” سماہر رکو ۔۔۔”
میران نے اسے پیچھے سے ہگ کرنا چاہا لیکن سماہر بدک کے، اس سے الگ ہو کے پیچھے ہوئی تھی اور ساتھ ہی اس کے منہ تھپڑ بھی مار دیا لیکن میران کی حیران آنکھوں سے نظریں چرا گئی وہ ۔
” شوق سے اس گھر کے ہر کمرے میں خود کو لاک لگا کے بند کر لیں اب، کیونکہ اب کوئی سماہر نہیں ہے”
تیز آواز میں کہتی، وہ رخ موڑ کے، تیز تیز قدم اٹھاتی دروازے کی طرف بڑھ گئی کہ اسے جلد سے جلد یہاں سے جانا تھا، میران نے موبائل پہ نمبر ڈائل کر کے کان سے لگایا تھا۔
” منان کاکا، سماہر کو گھر ڈراپ کر دیں “
یہ کہہ کے وہ کال ڈسکنیکٹ کر چکا تھا، صوفے پہ گرنے والے انداز میں بیٹھتا، وہ اپنا سر صوفے کی پشت پہ رکھتا انکھیں موند چکا تھا اور انے والے کل کے بارے میں سوچنے لگا ۔ انے والا کل اس کی زندگی میں کیا نیا موڑ لانے والا تھا یہ تو وقت بتائے گا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
