54.6K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Aankh Bhar Aansu)Episode 7

لاہور میں رات اتری تھی مگر لاہور کے ایک فائیوسٹار ہوٹل میں منعقد اس تقریب میں دن کا گماں ہوتا تھا۔۔
روشنیوں اور رنگوں کو سیلاب وہاں امڈ آیا تھا۔روشنیوں میں نہایا سٹیج دھیمی موسیقی کے سروں سے پررونق تھا۔
وہ رات خواب تھا بہت سے لوگوں کا جس کی تعبیر بن کر وہ آئی تھی۔وہ صرف وہاں جاتی تھی جہاں اس کی جیت یقینی ہوتی تھی اور آج برسوں بعد اپنا عہد توڑتے وہ لاہور اسی لیئے آئی تھی کہ اس کی جیت اس کی منتظر تھی۔
سٹیج پہ اینکر بیسٹ رائٹر کی نومینیس بتانے لگا تھا۔چھ بہترین رائٹرز کے ساتھ اس کا نام بھی لیا گیا۔سب ساکن ہو کر بیٹھے نومنیشن میں سے جیت جانے والے رائیٹر کا نام سننا چاہتے تھے مگر ٹانگ پر ٹانگ جماۓ مسکراتی آنکھوں سے اسٹیج کی طرف دیکھ رہی تھی کہ وہ جانتی تھی کچھ دیر میں ہر نظر سب بھول کر اسی پر آ ٹھہرے گی کیونکہ وہ جانتی تھی جیت صرف اس کی ہی ہے۔۔
” بیسٹ رائیٹر آف دا ائیر کا ایوارڈ دینے آئیں گے ہمارے پچھلے کئیں سالوں سے بیسٹ رائیٹر کا ایوارڈ اپنے نام کرنے والے ڈاکٹر شجاع حیدر صاحب……“۔
تالیوں کے شور میں وہ پچاس پچپن سالہ پروقار شخص سٹیج پر آیا تھا۔
” یہ اس سال کا بہترین ادیب کا ایوارڈ جاتا ہے نوجوان نسل کی مقبول اور ابھرتی ہوئی ادیبہ زارا رباب صاحبہ کے۔جو اس تقریب میں شرکت کرنے کے لئیے ترکی سے آئی ہیں“۔۔
تالیوں کا شور ایک بار پھر سے اٹھا۔بہت سے چہروں نے پلٹ کر اسے دیکھا تھا۔کئیں آنکھوں میں حیرت،مسکراہٹ اور نفرت اس کے چہرے سے ٹکرائی مگر وہ وقار سے چلتی سٹیج پہ آئی اور ایوارڈ تھاما۔۔
” آپ سے مل کر مجھے خوشی ہوئی ؟ “
انہوں نے اسے دیکھا۔
وہ جواباً دھیمے سے مسکرایا۔
وہ ایوارڈ لیکر سیدھی ہوئی۔ سارا ہال اسکے اعزاز میں کھڑا تھا۔ وہ اسکے لئیے تالیاں بجا رہے تھے۔ آنکھوں میں رشک لئیے، اس پہ نازاں تھے۔۔ایوارڈ دے کر ڈاکٹر شجاع واپس اپنی سیٹ پر چلے گۓ تو میزبان نے مائیک سنبھالتے ہوۓ مسکرا کر سب کو دیکھا۔۔
نوجوان نسل میں مقبول اور ہر دلعزیز ادیبہ زارا رباب اس تقریب میں شرکت کے لیئے ترکی سے آئی ہیں۔۔آپ سب میں سے جو ان سے سوالات کرنا چاہتا ہے کر سکتا ہے۔۔
اسٹیج پر کھڑا میزبان ہاتھ میں مائیک پکڑے ہوۓ سامنے بیٹھے لوگوں سے مخاظب تھا۔۔اس سے کچھ فاصلے پر پنک چوری دار پاجامے کے ساتھ پنک لانگ فراک پہنے،کندھے تک آتے بالوں کو ایک طرف سے سٹائل دیئے،دوپٹہ گردن کے گرد لپیٹے وہ بہت اعتماد سے کھڑی تھی۔۔
”اسلام علیکم۔۔!! پہلا سوال میرا ہے رباب میم سے کہ وہ اپنی کہانیوں کا اختتام ٹڑیجڈی پر کیوں کرتی ہیں،کیوں آپ کی ہر کہانی ایک سیڈ ایوڈنگ لیئے ہوتی ہے آپ کبھی ہیپی اینڈنگ نہیں دیں گی کیا۔؟؟
جینز میں ملبوس ایک ٹین ایج لڑکی کھڑی مائیک پکڑے اس سے سوال کر رہی تھی۔۔
”وعلیکم اسلام۔۔!! مجھے یہی تو سمجھ نہیں آیا آج تک کہ ہیپی اینڈنگ اور سیڈ اینڈنگ میں فرق کیا ہے مجھے تو دونوں ایک سی لگتی ہیں۔نہ ملے تو دکھ مل جاۓ تو ایکسٹرا کوالیٹی کے دکھ تو بہتر نہیں ہے ہم کچھ بھرم محبت کے رکھ لیں۔۔چپ چاپ الگ ہو جائیں“۔۔
”میم آپ دو محبت کرنے والوں کو ہمیشہ جدا کیوں کر دیتی ہیں“۔۔
ایک لڑکا بولا۔۔
”محبت کے بچھڑنے سے نہیں محبت کے مل جانے سے خوفزدہ ہو“۔۔”بچھڑ جانے سے محبت کا پردہ رہ جاتا ہے“۔۔
اس لہجہ بہت نرم اور پرکشش تھا۔۔
”مس رباب اگر زندگی میں کبھی آپ پر ایسا وقت آیا کہ بچھڑ جانا مر جانے کے مترادف لگ رہا ہو تو آپ کون سا بھرم رکھیں گی۔۔؟؟“۔۔
ایک خوبرو سا لڑکا کھڑا ہو کر بولا تو کتنی ہی آنکھوں نے مڑ کر اسے دیکھا تھا کہ وہ دیکھنے لائق تھا۔۔
باقیوں کی طرح اس نے میم نہیں کہا تھا ۔۔اس نے نام سے پکارا تھا۔۔رباب کی آنکھوں میں ناگواری ابھری تھی۔۔
”میں مر کر بھرم رکھ لوں گی“۔۔
زارا نے اپنی ناگواری چھپاتے ہوۓ کہا۔۔
”آپ کی کہانی نے لاکھوں لوگوں کا دل جیتا،آپ کی کہانی کس لفظ سے شروع ہوئی کہ درد بن کر ہر دل میں بس گئ“۔۔
وہ لڑکا مسکراہٹ کے ساتھ بولا تو دانین نے سر جھٹکتے ہوۓ دھیمے سے مسکرا کر اسے دیکھا۔۔
”میرے ذہن جب لفظ ”ناجائز“ کی بازگشت ہوتی ہے نہ جانے کیوں تب تب ہی لفظ درد بن کر کاغذ پر بکھرتے چلے جاتے ہیں“۔۔
”کہیں یہ لفظ ”ناجائز“ آپ کی زندگی کی کہانی تو نہیں ہے“۔۔
لڑکے کے الفاظ زارا کی آنکھوں میں چبھے تھے۔۔
”اکسکیوزمی……”۔۔
زارا نے ناگواری سے اسے دیکھا۔۔میزبان نے اشارے سے اسے بیٹھ جانے کو کہا مگر وہ اسی طرح کھڑا چہرے پر دل جلا دینے والی مسکراہٹ سجاۓ ہوۓ تھا۔۔
”لفظ ”ناجائز“ سے آپ کا جذباتی تعلق ہے،کیوں؟؟“۔۔
وہ پھر سے بولا۔۔
”میں اپنی پرسنل لائف ڈسکس نہیں کرتی اور دوسری بات مسٹر لکھاری اپنی زندگی کی کہانی نہیں معاشرے کو لکھتا ہے۔یہ آپ جیسے لوگوں کی غلطی ہے کہ لکھاری کی لکھی داستاں کو آپ لکھاری کی زندگی کی روداد سمجھ لیتے ہیں“۔۔
زارا تحمل سے بولی۔۔
”آپ کا پورا نام کیا ہے؟؟“۔۔
لڑکے کا سوال بدلا تو زارا نے سکھ کا سانس لیا کہ وہ اتنے لوگوں کی موجودگی میں اڑتی ہوئی چپل بھی اسے نہ مار سکتی تھی۔۔
”زارا رباب رانا“۔۔
زارا نے کہا۔۔
”رانا“۔۔
لڑے نے سوالیہ انداذ میں اسے دیکھا۔۔
”زارا رباب سعدی رانا“۔۔
زارا نے کہا۔۔
ٹی وی دیکھتا اساور پہلو بدل کر رہ گیا۔سارہ نے دکھ سے اپنے باپ کو دیکھا جس کی آنکھوں سے امید کی آخری کرن آج بجھی تھی۔۔
”میرے مطابق تو سعدی آپ کے ماموں کا نام ہے“۔۔
لڑکے نے کہا۔۔
”میں انٹرویو میں نہیں آئی ہوئی۔یہ ایوارڈ شو ہے اور میں آپ کے سوالوں کے جواب دینے کی پابند نہیں ہوں“۔۔
زارا نے نپے تلے لہجے میں کہا۔۔
”مگر آپ کے فینز آپ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں“۔۔
لڑکا پھر بولا۔۔اب کہ میزبان بھی آرام سے اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔شو کی ٹی آر پی ذیادہ ہو رہی تھی اسے اور کیا چاہیئے تھا۔۔
”وہ میرے گارجین ہیں“۔۔
زارا نے اکتا کر کہا۔
”میری ایک اور ریسرچ کے مطابق سعدی رانا آپ کے سگے ماموں نہیں ہیں۔تو کیا یہ ”لفظ،ناجائز“ آپ کی زندگی کو آپ کی ماں اور سوتیلے ماموں سے جوڑتا ہے“۔۔
اس کے الفاظ تھے کہ پگھلا ہوا سیسہ۔اس کی سماعتیں جل بھن کر رہ گئیں۔اسے سامنے کھڑا شخص اساور اور سائرہ کا نیا روپ لگا تھا۔۔اس نے غور سے اس لڑکے کو دیکھنا چاہا مگر وہ جہاں کھڑا تھا وہاں لائیٹس بہت دھیمی تھیں کہ بمشکل پاس جانے پر چہرہ نظر آتا۔۔
”کک کون ہے یہ۔۔کیسی باتیں کر رہا ہے“۔۔
سارہ کے دل کو کچھ ہوا تھا۔۔اساور نے اپنی کنپٹی رگڑی کہ برسوں پہلے یہی بات اس نے بھی کی تھی۔۔ٹی وی پر نظر آتا زارا کا چہرہ یوں سفید ہو گیا تھا جیسے خون کی ایک ایک بوند کسی نے اس کے جسم سے نچوڑ لی ہو۔۔
”میزبان کتنے آرام سے بیٹھا ہوا ہے۔شو کی ٹی آر پی کے لیئے کسی کی بھی عزت داؤ پر لگا دیتے ہیں۔مجھے لگتا ہے یہ سب چینل والوں کا کیا ہوا ہے۔میں پتہ کرتا ہوں“۔۔
اذان فون لیئے اٹھ کر باہر نکل آیا۔۔سائرہ کی آنکھوں سے نکلتے آنسوؤں میں شرمندگی تھی۔۔
”آپ کی مینٹیلیٹی بہت ہی چھچھوری ہے مسٹر،میں آپ جیسی گھٹیا ہوتی تو ضرور اس کا جواب دیتی مگر میں نہیں دوں گی“۔۔
زارا کا لہجہ اس کے چہرے کے تاثرات سے بہت مختلف تھا۔مطمئن اور ٹھہرا ہوا۔۔وہ اپنا ایوارڈ تھامے باہر کی جانب بڑھی کہ وہ مزید وہاں نہیں رکنا چاہتی تھی۔۔
”آپ گھٹیا نہیں ہیں مگر ناجائز تو ہیں“۔۔
اس کی آواز پر زارا رکی۔۔چہرے پر ڈھیڑوں درد امڈ آنے کو بےقرار تھا مگر وہ خود کو ریلیکس کرتے واپس پلٹی۔۔
”بات مینٹیلیٹی اور تربیت کی ہوتی ہے ورنہ آپ جیسا گھٹیا شخص جائز اور مجھ جیسی رائٹر ہی تو ناجائز ٹھہرتی ہے اور آخری بات آپ یا پبلک جو بھی سمجھتی ہے سمجھتی رہے یہ میرا مسئلہ نہیں ہے اور جو میرے لیئے مسئلہ نہیں ہے میں اس کا جواب دینا پسند نہیں کرتی اور ٹکے ٹکے کے لوگوں سے تو میں بات بھی نہیں کرتی“۔۔
ایک دل جلا دینے والی مسکراہٹ اس کے چہرے پر اچھالتی وہ وہاں سے باہر نکل آئی۔۔


لاہور کی سیاہ رات میں وہ سنسان سڑک پر بھاگے جا رہی تھی۔اس کے آنکھوں سے آج وہ رِم جھم ہوئی تھی کہ رکنے کا نام نہ لیتی تھی۔شو سے نکل کر وہ مسلسل بھاگ رہی تھی۔بنا تھکے بنا رکے۔مسلسل رونے کی وجہ سے اس کے گال اور ناک سرخ ہو رہی تھی۔۔
”ناجائز…بدبخت تو ناجائز ہے…“
کہیں دور اس کے کانوں میں سائرہ کی آواز گونجی تھی۔۔
”زارا میری جان میرے پاس آؤ……دفعہ ہو جاؤ اپنی ماں کے پاس،میرے سامنے مت آیا کرو“۔۔
اس کے باپ کا میٹھا لہجہ رخشندہ بھابھی کو دیکھ کر زہر بنا تو وہ سہم کر وہاں سے بھاگ گئ۔۔
”کیا آپ ناجائز ہیں؟“۔۔
اس منچلے کا سوال اسے کچوکے لگانے لگا تھا۔۔وہ گھٹنوں کے بل بیٹھی دھاڑیں مار مار کر رونے لگی تھی۔اس سے اگر کوئی پوچھتا کہ تکلیف کیا ہے تو فوراً جواب دیتی۔”ناجائز کہلانے میں“۔۔
پاس سے گزرتی گاڑی اسے دیکھ کر ریورس لے کر مڑی۔اس میں وہ بیٹھا تھا۔حسام کاظمی۔وہ اس کا شو دیکھ کر آیا تھا۔وہ سالوں سے اساور اور سارہ کو بھی دیکھ رہا تھا۔وہ اس تکلیف کو محسوس کر رہا تھا۔۔گاڑی سائیڈ پر کھڑی کرتا وہ اس کے پاس آیا۔
”زارا!!…“۔۔
اس کندھوں سے پکڑ کر اپنے مقابل کھڑا کیا۔۔
”بی بریو!! ایسے کئیں گھٹیا لوگ تمہاری کامیابی کی راہ میں رکاوٹ بننے آئیں گے مگر تم نے مظبوط رہنا ہے کیونکہ تم مظبوط ہو“۔۔
”سب مجھے ”ناجائز“ سمجھیں گے۔اس نے مجھے بےعزت کر دیا۔میری سالوں کی مخنت برباد ہو گئ حسام،سب تباہ ہو گیا حسام“۔۔
وہ اس کے سامنے بلک بلک کر رو دی تھی۔۔ان کی بس دو ملاقاتیں ہوئی تھیں مگر ان ملاقاتوں کے اثرات دیرپا تھے۔۔
”زارا۔یو آر سٹرونگ گرل“۔۔
حسام نے کہا۔۔
”نو ایم ناٹ سٹرونگ،ایم ناٹ سٹرونگ“۔۔
اس کے سینے سے لگتی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔اس کی تکلیف،اس کے آنسؤوں میں تیزی آ رہی تھی۔۔اور پھر اس کی سسکیاں بند ہو گئیں۔ایک خاموشی سی ماحول پر چھا گئ تھی۔۔
”زارا!!…زارا!!…“۔۔
اسے اپنے سے الگ کرتے ہوۓ زارا کا چہرہ تھپتھپایا مگر وہ بےہوش ہو چکی تھی۔اسے اٹھا کر گاڑی میں ڈالتے اس نے زن سے گاڑی آگے بڑھا دی۔۔


”وہ کیوں مجھے ہی غلط ٹھہراتا ہے،ہمیشہ؟؟“۔۔
دانین کے آنسؤوں روانی سے اس کے گالوں کو تر کر رہے تھے۔ان آنکھوں کا مکین درد کئیں برسوں سے بہہ کر تھک گیا تھا مگر ختم نہیں ہوتا تھا کہ درد دینے والا ایک نیا گھاؤ لگا دیتا تھا۔
آج پھر اساور نے فون کیا تھا اسے۔شو میں ہونے والے واقعے کے فوراً بعد۔وہ تو پہلے سعدی سے ہی نظریں نہیں ملا پا رہی تھی کہ اساور کے الفاظ نے مزید اسے چھلنی کر دیا تھا۔۔
”تم نے میری بیٹی کو میرا نام بھی نہیں دیا“۔۔
وہ غصے میں تھا۔۔
”یہ زارا کا فیصلہ تھا مگر اساور……”۔۔
”شٹ اپ”۔۔
وہ دھاڑا تھا۔۔کوئی اور وقت ہوتا تو وہ دانین کے منہ سے اپنا نام سن کر اپنے نام کو معتبر جانتا مگر وہ اساور تھا وہ معتبر ہونے کے وقت میں اپنے غصے کی وجہ سے خاک ہو جاتا تھا۔۔
”نفرت ہے مجھے تم سے،دانین جمشید علی!!…شدید نفرت،تم نے کھلواڑ کیا۔میری بیٹی کی زندگی سے،اسے غلط راہ پر لگا کر نفرت سکھائی اور وہ نفرت اسے لوگوں،معاشرے کی نظر میں گرا رہی ہے“۔۔
اس کے الفاظ پتھر تھے۔جو اسے بڑی زور سے لگے تھے۔بنا ایک لفظ کہے وہ فون کاٹ چکی تھی۔۔
”ہمیشہ کی طرح وہی غلط تھی۔اساور ہر قصور اس کے کھاتے میں ڈال چکا تھا“۔۔


جاری ہے۔