54.6K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Aankh Bhar Aansu) Episode 6

”تم ابھی تک جاگ رہی ہو،خیریت ہے“۔
سعدی پانی پینے کچن کی طرف جا رہا تھا کہ لاؤنج میں پریشانی سے ٹہلتے دانین کو دیکھ کر اس کے پاس چلا آیا۔۔
”ہاں حیریت ہے،وہ اتنی رات ہو گئ زارا نہیں آئی ابھی تک”۔۔
دانین بہت پریشان تھی۔۔
”آ جاۓ گی دانی،وہ بچی تھوڑی ہے۔کسی کام میں مصروف ہو گی“۔۔
سعدی نے کہا۔۔
”نہیں سعدی اس کا فون بھی نہیں لگ رہا۔میرے دل میں کئیں خدشات سر اٹھا رہے ہیں۔اللہ میری بچی کو اپنی خفظ و امان میں رکھنا”۔۔
تڑپتی مامتا ڈر گئ تھی۔۔
”آمین کچھ نہیں ہو گا۔میں فون کرتا ہوں”۔۔تم پریشان مت ہو“۔۔
اسے خوصلہ دیتا وہ اپنا فون اٹھاۓ باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔


اس کا فیور اترتے اترتے دن سے رات ہو گئ تھی۔دس بجے کے قریب اس نے دھیرے سے اپنی آنکھیں کھولیں۔اردگرد نظر دوڑائی تو وہ اسے صوفے پر بیٹھا کسی میگزین کی ورق گردانی کرتا ہوا دکھائی دیا۔۔اسی وقت ایک ڈاکٹر روم میں داخل ہوا اور اسے آنکھیں کھولے دیکھ کر مسکرایا۔۔
”خدا آپ کو سلامت رکھے،مِس زارا“۔۔
ڈاکٹر خالص انگریزی میں بولا تو زارا نے مسکرا کر اسے شکریہ ادا کیا۔۔اس کی آواز پر حسام سکون کا ایک گہرا سانس بھرتے اٹھ کر اس کے پاس آیا۔۔
”آپ ٹھیک ہیں مِس زارا”۔۔
حسام نے رسمی لہجہ اختیار کیا کہ وہ سامنے نقاہت زدہ سی لیٹی لڑکی کے الفاظ کی سختی سے واقف تھا۔۔
”میں ٹھیک ہوں مسٹر……“۔۔
زارا نے جواب دیتے ہوۓ آخر میں اس کی طرف دیکھا کہ وہ اسے کس نام سے بلاۓ ۔
”میرا نام حسام ہے،ڈاکٹر حسام“۔۔
حسام نے نرم مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔۔
”آپ کا بہت شکریہ“۔۔
زارا نے کہا۔۔
”کس لیئے“؟؟
حسام نے پوچھا۔۔
”میری یاداشت اچھی ہے ڈاکٹر حسام،حواس چھوڑتے دماغ کے ساتھ بھی میں نے جان لیا کہ وہ آپ تھے جس نے مجھے سنبھالا“۔۔
”its a part of my duty,miss zara!!!“۔۔
حسام کا لہجہ وہی حالص پروفیشنل تھا۔۔
”پھر بھی شکریہ،باۓ دا وے ٹائم کیا ہو رہا ہے؟؟۔۔
زارا نے وقت دیکھنے کے لئیے ادھر ادھر نظر گھمائی کہ کوئی گھڑی دکھ جاۓ۔۔
”رات کے ساڑھے دس ہو رہے ہیں“۔۔
حسام نے اپنی ریسٹ واچ پر وقت دیکھ کر بتایا۔۔
”اوہ گاڈ۔۔ماما پریشان ہو رہی ہوں گی“۔۔
زارا جلدی سے اٹھی اور ڈرپ کھینچ کر نکالی۔۔
”مس زارا”۔۔
ترکش ڈاکٹر پریشانی سے بولا۔۔
”مجھے جانا ہو گا میرا فون کہاں ہے؟؟“۔۔
زارا نے اپنا بیگ اٹھا کر فون نکالا۔۔دانین کی مس کالز کی بھرمار تھی۔۔
”مس زارا آپ کی طبیعت……”۔۔
حسام کے الفاظ منہ میں ہی رہ گۓ اور وہ بیگ کندھوں پر ڈالتی”میں ٹھیک ہوں آپ کا شکریہ کہتی یہ جا وہ جا ہو گئ“۔۔


”میری بچی مجھے بتا دیتی تم ہسپتال میں تھیں۔۔”
زارا جب سے آئی تھی دانین صدقے واری جا رہی تھی اور باقی سب بھی اس کی خدمتوں میں لگے ہوۓ تھے۔۔
”ماں فیور ہو گیا تھا مسئلہ تو نہیں ہے کوئی بڑا“۔۔
زارا نے انہیں دلاسہ دیا۔۔
”بےہوش ہو کر تین گھنٹے وارڈ میں پڑی رہی ہو اور کہتی ہو کوئی مسئلہ نہیں“۔۔
دانین کی گھبراہٹ بڑھ رہی تھی۔۔
”میں ٹھیک ہوں ماما۔!!!“۔۔
اس کے گلے لگتی زارا مسکرا کر بولی تو دونوں ماں بیٹی کے آنسؤوں مسکراتے ہونٹوں پر گرنے لگے۔۔وہ دونوں الگ الگ مزاج رکھتی تھیں مگر پھر بھی وہ دونوں ایک دوسرے کے لیئے کافی تھیں۔


سنو۔۔!! اپنے بابا اور بہن سے مل لینا”۔۔
زارا اپنا سامان پیک کر رہی تھی جب دانین اس کے کمرے میں داخل ہو کر بولی۔۔
”اچھا”۔۔
اس پر ایک نظر ڈال کر مختصر سا جواب دیتی وہ پھر سے پیکنک میں مصروف ہو گئ۔۔
”مل لینا زارا پلیز میری خاطر،صرف ایک بار پچے“۔۔
زارا کے مختصر جوابوں کے مطلب انکار میں نکلتے تھے۔۔
”ماما میں نہیں ملنا چاہتی یار ان سے کیوں آپ مجھے ہر روز بار بار یہی کہتی ہیں“۔۔
سوٹ کیس بند کر کے اس نے سائیڈ پر رکھا۔۔
”وہ دونوں تم سے بہت محبت کرتے ہیں“۔۔
دانین نے کہا۔۔
”مگر میں نہیں کرتی ان دونوں سے محبت”۔۔
”اساور تمہارا باپ اور سارہ تمہاری بہن ہے“۔۔
دانین نے اسے سمجھانا چاہا۔۔
”دیکھیں ماما میں سب جانتی ہوں مجھے بار بار مت بتایا کریں“۔۔
زارا نے کہا۔۔
”جب جانتی ہو تو کیوں دکھ دیتی ہو انہیں”۔۔
دانین نے کہا۔۔
”میری دور ان کو اتنا دکھ نہیں دے گی ماں جتنا میرا قرب ان کو تکلیف میں مبتلا رکھے گا۔میں خود کو جانتی ہوں میں ایک بار بھی ان سے مل لی تو اپنی ہر محرومی کا بدلہ لوں گی اور میں بدلہ لینے والی نہیں بننا چاہتی۔اور پلیز آپ کی ضد مجھے بنا دے گی انتقام لینے والی جو میں نہیں بننا چاہتی“۔۔
زارا نے کہا۔۔
”کون سی محرومی۔تمہیں ہر سکھ مہیا کیا ہے میں نے۔زینی نے تمہیں بہن کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔سعدی نے تمہارا باپ بن کر دکھایا ہے”۔۔
دانین نے کہا۔۔
”سب باپ کی محبت دے دیں ماں مگر باپ وہ شے ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا۔کزن بہن جیسی ہوتی ہے مگر بہن کا اسی فیصد بھی نہیں ہوتی“۔۔
زارا نے دکھ سے کہا تو ایک آنسو ٹوٹ کر اس کی آنکھوں سے نکلا تھا جسے وہ فوراً صاف کر گئ تھی۔۔دانین نے جانا وہ جو نفرت کا دعویٰ کرتی ہے درخقیقت وہ تو محبت کے حمیر کے گندھی ہوئی ہے۔اس کے آنسو دانین کے دل پر گرے تھے کہ دانین نے اسے عرصے بعد روتے دیکھا تھا اور عرصہ ہوا تھا وہ دانین تو کیا کسی کے بھی سامنے رونے سے گریز کرتی تھی۔۔


”اوہ ہو میری یاد نے اتنا ستایا کہ مجھے ائیر پورٹ لینے آ رہی ہو“۔۔
فون کان سے لگاۓ سامان کی ٹرالی گھسیٹتا وہ آ رہا تھا۔۔دوسری جانب سے نہ جانے کیا کہا گیا کہ وہ کھلکھلا کر ہنس پڑا۔۔
”اچھا چلو پہنچو“۔۔
فون بند کر کے پاکٹ میں رکھتا وہ ادھر ادھر دیکھنے لگا تبھی اذان کی نظر اس پر پڑی جو سامان کی ٹرالی تھامے کھڑی تھی۔اس کے پاس سامان اور پھر اس کا حلیہ دیکھ کر وہ ششدرہ رہ گیا۔۔کچھ دیر اس کا جائزہ لینے کے بعد وہ اس کی طرف بڑھا۔۔
”کیسی ہو سارہ۔۔اور یہ کیا حلیہ بنا لیا ہے تم نے اپنا۔۔میں ایک ہفتے کے بعد آیا ہوں یا ایک صدی کے بعد۔۔مجھے یقین کر لینے دو کہ یہ سامنے کھڑی لڑکی تم ہی ہو“۔۔
اس نے سامنے کھڑی لڑکی کے سر پر چپت لگاتے ہوۓ کہا اور سر تا پیر اس کا جائزہ لیا۔۔وہ ہاف وائٹ لانگ فراک اور چوری دار پاجامہ پہنے ہوۓ تھی۔دوپٹے کو گلے میں ڈالے کندھوں تک آتے بالوں کو ایک طرف سے سٹائل دیئے سنجیدگی اور حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
”اکسکیوزمی“۔۔لڑکی نے ناسمجھی سے اس کی طرف دیکھا۔۔
”واہ آواز بھی کتنی باادب اور میٹھی ہو گئ ہے تمہاری۔واہ۔آج تو معجزات کی بارش ہو رہی ہے،ڈرائیور کہاں ہے سامان میرا تم لے کر باہر تک جاؤ گی کیا۔ویسے جتنی باادب آج لگ رہی ہو کہیں سر پر ہی اٹھا کر لے ہی نہ جاؤ میرا سامان“۔۔
ایک ہاتھ سے سوٹ کیس کا ہینڈل تھامے دوسرا ہاتھ اس نے سارہ کے کندھے پر رکھا تو اس کی آنکھوں میں مزید حیرانیت اور غصہ ایک ساتھ اترا تھا۔۔اردگرد دیکھتے اس نے اپنے غصے کو آنکھیں بند کر کے پیا تھا۔۔یہ لاہور انٹرنیشنل ائیر پورٹ تھا۔۔آس پاس لوگوں کا جمِ غفیر اپنے رشتہ داروں کو ریسیو کرنے کے لیئے موجود تھا۔۔
”ویسے تمہارے ساتھ یہ ہیئر اسٹائل سوٹ کرتا ہے مگر تمہیں تو لمبے بال پسند تھے ناں پھر کٹوا کیوں دیئے؟؟۔۔اور ڈریسنگ سینس بڑا اچھا ہو گیا ہے۔ٹریڈشنل ڈریس میں لڑکیاں مجھے بہت اچھی لگتی ہیں بنسبت ان تنگ عجیب سی پینٹس اور شرٹس میں“۔۔
اس کو بالوں کو چھیڑتا ہوا وہ روانی سے بولا جا رہا تھا۔۔
”چٹاخ“۔۔اس کی چلتی زبان کو بریک سامنے کھڑی لڑکی کے ہاتھ سے پڑے زوردار تھپڑ نے لگایا۔۔
”یہ کیا تھا“۔۔گال پر ہاتھ رکھے اس نے معصومیت سے لڑکی کو کہا۔۔
”تم جیسوں کی زبان اور افیئرز کے آگے لگا فل سٹاپ۔لڑکی کا تھپڑ“۔۔
لڑکی نے لال انگارہ آنکھوں کے ساتھ غصے سے کہا۔غصے سے اس کی سر کی رگیں تن گئیں تھیں،بولتے ہوۓ وہ دو انگلیوں سے بار بار کنپٹی کو چھو رہی تھی۔اذان کی چھٹی حس نے اب تیزی سے کام کرنا شروع کیا کہ سامنے کھڑی لڑکی تو کہیں سے بھی اب سارہ نہیں لگ رہی تھی۔۔سارہ تو نٹ کھٹ سی تھی اور سامنے کھڑی لڑکی پوری جلاد لگی اسے۔۔
”تم سارہ نہیں ہو؟؟”۔۔
وہ جھجھکتے جھجھکتے بولا۔۔
”میں……”۔۔
انگلی اٹھا کر وہ غصے سے کچھ کہنے ہی والی تھی کہ اس کی نظر سامنے سے آتی لڑکی پر پڑی۔سفید پینٹ کے ساتھ بےبی پنک ٹی شرٹ پہنے،لمبے سلکی بالوں کو کھلا چھوڑے،کانوں میں ہینڈ فری لگاۓ،نظریں موبائل پر گاڑھے وہ مسکراتی ہوئی چلی آ رہی تھی۔۔
”ہاۓ کہاں تھے؟؟کب سے ڈھونڈ رہی ہوں تمہیں،تھکا دیا مجھے ایک جگہ ٹک کر نہیں کھڑے ہو سکتے پورا ائیرپورٹ چھان مارا،ابھی جہاز چیک کرنے جا رہی تھی کہ کہیں اندر سوۓ نہ پڑے ہو”۔۔
اذان کی کمر پر ایک زوردار گھونسا مارتی وہ نان سٹاپ بولے چلی جا رہی تھی کہ اس کی نظر زارا پر پڑی۔۔
”زز زارا۔۔“۔۔
اس کی زبان لڑکھڑائی تھی۔مسکراتی آنکھوں سے یکدم برسات ہونے لگی تھی۔اذان نے اب جا کر پہچانا کہ جس سے وہ تھپڑ کھا بیٹھا ہے وہ سارہ نہیں زارا ہے۔۔
”کیس ہو؟؟ میں تمہیں کتنا یاد کرتی تھی،شکر ہے تم آ گئ“۔۔
سارہ ایک دم اس کے گلے لگ گئ۔اس اچانک افتاد پر زارا چند پل کو ساکت ہوئی پھر اس کا دل چاہا کہ اپنی بہن کو خود میں بھینچ لے مگر بیس سال کے شکوے بیس منٹ میں وہ ختم نہیں کر سکتی تھی۔کچھ اس کی انا بھی اجازت نہیں دیتی تھی۔۔اس نے کھینچ کر سارہ کو خود سے الگ کر کے پرے دھکیلا۔سارہ لڑکھڑائی تو اذان نے اسے فوراً تھاما۔۔
”واٹ دا ہیل۔کیا بدتمیزی ہے یہ“۔۔
زارا کے اکھڑ لہجے پر سارہ کے آنکھوں سے مزید آنسوؤں نکلے تھے۔سارہ کو لگا وہ اسے پہچانتی نہیں ہو گی مگر وہ غلط تھی بھلا اپنے عکس کو بھی کوئی پہچاننے سے انکاری ہو سکتا ہے۔۔
”میں سارہ کاظمی ہوں مجھے پہچانا نہیں“۔۔
سارہ نے اس کے دونوں ہاتھ تھام کر جذباتی انداذ میں کہا۔۔
”پہچان کر بھی میں پہچان کے کوئی رنگ نہیں بھرنا چاہتی بہتر ہے مجھ سے دور رہو“۔۔
تیز لہجے میں کہتی وہ آگے بڑھ گئ جبکہ پیچھے رہ جانے والی سارہ کے چہرے پر درد آ ٹکا تھا۔۔
”اذان اس نے کیسے بات کی مجھ کے تم۔نے دیکھا وہ میری بہکن ہے وہ ایسا کیسے کہہ سکتی ہے کہ میں اس سے دور رہوں“۔۔
سارہ نے روتے ہوۓ کہا۔۔
”وہ غصے میں ہے۔اس کا غصہ جائز ہے سارہ۔اسے وقت دو وہ ٹھیک ہو جاۓ گی“۔۔
اذان نے اس کے آنسؤوں صاف کرتے ہوۓ کہا اور اس کا ہاتھ پکڑتا ائیرپورٹ کے نکلتا چلا گیا۔


زارا نے اپنی رفتار تیز کر دی۔اس کی آنکھوں سے آنسو گرتے اس کے گردن کے گرد لپٹے دوپٹے کو بگھو رہے تھے۔۔ایک پل کو اس کا دل چاہا وہ بھاگ کر سارہ کے پاس واپس پلٹے اور اس کے گلے لگ جاۓ۔۔
وہ اس کی بہن تھی۔اسے دیکھ کر دل الگ تال پر دھڑکا تھا۔مگر انا ہر تال پر غالب آ گئ تھی۔۔
”وہ بلکل میرے جیسی ہے،اس کی آنکھیں اس کا ناک اس کے ہونٹ“۔۔
وہ گاڑی میں بیٹھی بھربھرا رہی تھی کہ ڈرائیور نے ترحم بھری نظروں سے اسے یوں دیکھا جیسے وہ پاگل ہو۔۔
”وہ میری بہن ہے زارا ربا کی بہن“۔۔
آنسؤوں کے درمیان وہ ہلکا سا مسکرائی تھی۔۔
”ماما میں واقعی نہیں کر سکتی اس سے نفرت۔مجھے لگا میں ان سے ملوں گی تو انہیں برباد کر دوں گی مگر یہاں آ کر تو دل کر رہا ہے میں ان کے پاس چلی جاؤں۔۔۔
وہ ہولے ہولے منہ ہی منہ میں بھربھراۓ چلی جا رہی تھی۔۔


موسم کی رعنائی اپنے عروج پر تھی،سرما کی پہلی بارش برسنے کو بےتاب تھی،گہرے بادلوں نے سورج کو اپنی دھندلی چادر تلے چھپا دیا تو موسم ابرآلود ہو گیا۔موسم نے زرا سی انگرائی لی تو بارش سے ہلکی ہلکی بوندیں برسنے لگیں۔ٹھیلے والوں نے گھر کی راہ لی۔آتے جاتے لوگ بارش سے بچنے کے لیئے دکانوں کے ستونوں تلے جا کھڑے ہوۓ،لوگوں سے بھرا بازار حالی ہونے لگا تھا۔۔
بلیک تھری پیس سوٹ میں ملبوس آنکھوں پر نظر کا چشمہ ٹکاۓ اساور آفس میں بیٹھا گلاس ونڈو سے نظر آتی افراتفری دیکھنے میں میں مگن تھا۔۔گزرے بیس سالوں نے اس پر صرف اتنا اثر کیا تھا کہ اس کی کنپٹی کے کچھ بال سفید ہو گۓ تھے اور آنکھوں پر موٹے موٹے شیشوں والا چشمہ چڑھا لیا تھا باقی وہ پہلے سا خوبرو اور جاذبِ نظر تھا۔۔
موبائل کی گھنٹی چنگھاڑی تو اس کی نظر کا ارتکاز ٹوٹا۔۔ٹیبل کے پاس آ کر اس نے فون اٹھا کر دیکھا۔۔
”ماۓ وائف،ماۓ لائف“ کالنگ لکھا آ رہا تھا۔۔اس کے سنجیدہ چہرے پر زندگی سے بھرپور مسکراہٹ دور گئ۔کال پک کر کے موبائل کان کے ساتھ لگاتا وہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔۔
”اسلام علیکم“۔۔
موبائل سے ابھرتی آواز سن کر اساور کی رگ و جان میں سکون اترا تھا۔۔
”وعلیکم اسلام“۔۔
اس کا لہجہ مسکرا رہا تھا۔۔
”فری ہو تم سے بات کرنی ہے“۔۔
دانین سپاٹ سے لہجے میں بولی تھی۔۔
”تم کہو تو کمپنی بیچ کر تمہارے لیئے آل ٹائم ویلا بن جاؤں“۔۔
اس کا لہجہ ٹین ایجر لڑکوں سا ہو گیا تھا۔۔محبت جتاتا فلرٹ کرتا ہوا۔۔
”تمہاری عمر کو فلرٹ زیب نہیں دیتا اور نہ یہ جھچھوڑی باتیں“۔۔
دانین کا لہجہ تلخ ہوا۔۔
”محبت کبھی بوڑھی نہیں ہوتی دانی“۔۔
اساور بولا۔۔
”تمہارا محبت نامہ سننے کے لیئے فون نہیں کیا،اور نہ میں اس بکواس کو سننے میں انٹرسٹڈ ہوں جسے لوگ محبت کہتے ہیں“۔۔
دانین کے لہجے میں نہ غصہ تھا نہ نفرت وہ کوئی اور تاثر تھا نہیں بلکہ وہ تو لہجہ ہی بےتاثر تھا۔اساور کرسی پر آگے کو ہو کر بیٹھا۔
”جانتا ہوں تمہارے انٹرسٹ کی حِس کو مار چکا ہوں میں۔بتاؤ کیسے کال کی“۔۔
اس نے چشمے اتار کر ٹیبل پر رکھے اور انگلیوں سے آنکھوں کو زور سے دباتے ہوۓ نمی کو اندر اتارا۔۔
”لاہور میں ”بیسٹ رائٹر آف دا ائیر“ کا ایوارڈ شو منعقد ہے،زارا لاہور آئی ہے۔تم اس کے باپ ہو اس کا خیال رکھنا“۔۔
دانین نے کہا۔۔
”وہ میرے پاس نہیں آتی جانتی ہو تم“۔اساور نے تھکے تھکے لہجے میں کہتے گلاس ونڈو سے باہر دیکھا جہاں بوندیں موسلادھار بارش کا روپ دھار چکی تھیں۔۔
”وہ آۓ یا نہ آۓ اس کا ہر طرح سے حیال رکھنا تمہارا فرض ہے“۔۔
”ہمم میں تو باخوشی اس فرض کو نبھاتا ہوں آخر میرا خون ہے وہ مگر……“۔
اس نے بات ادھوری چھوڑ دی اور اٹھ کر ونڈو کے سامنے کھڑا ہو گیا۔
”مگر……؟؟“۔۔
دانین نے اس کی ادھوری بات پر سوالیہ انداذ میں کہا۔
”تم نے اس کے دل میں میرے لیئے اتنی نفرت کیوں بھر دی ہے“دانین کی آنکھ سے بےساختہ ہی ایک بوند اس کی بات پر نکلی تھی۔۔
”سارہ کو دیکھو وہ کرتی ہے تم سے نفرت کیا؟؟نہیں کیونکہ میں نے اسے کبھی نہیں کہا کہ اپنی ماں سے نفرت کرو“۔۔
اس کا لہجہ تیر بن کر سیدھا دانین کے دل پر لگا تھا۔۔
”پتہ ہے میں نے صیح فیصلہ کیا تھا تم سے الگ ہونے کا۔۔کیونکہ تم تو وہی انسان ہو جو بدگمان رہتا ہے اور خود ہی مفروضے قائم کر لیتا کہ فلاں نے یہ کیا ہو گا فلاں نے یہ کیا ہو گا۔۔درخقیقت تم ایک نہایت انسکیور انسان ہو تم کچھ بھی ڈیزرو نہیں کرتے اس کے باوجود بھی تمہیں خدا نے ہر رشتے سے نواز دیا“۔۔
دانین کے لہجے میں نمی گھل گئ تھی۔ہاتھ کی پشت سے اس نے رگڑ کر آنکھیں صاف کیں۔۔
”دانین ایم سوری“۔۔اساور کو فوراً احساس ہوا کہ وہ کچھ غلط بول گیا ہے مگر تب تک دانین کال ڈسکنیکٹ کر چکی تھی۔۔
”آآآآ سب خراب کر دیتا ہوں میں،سب“۔۔موبائل کو دیوار پر زور سے مارتے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر وہ چلایا تھا۔۔”کیوں دیتا ہوں میں اسے ہر بار اپنے الفاظ سے نئ چوٹ کہ وہ پھر تمام رابطے ختم کر دیتی ہے“۔۔
اس کی آواز پر ورکرز پریشانی سے اندر داخل ہوۓ۔۔
”دفعہ ہو جاؤ یہاں سے سب“۔۔
ان سب کی طرف دیکھتا وہ دہاڑا تو سب فوراً باہر نکل گۓ۔۔


جاری ہے۔۔