54.6K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Aankh Bhar Aansu) Episode 4

ٹانگیں سامنے پڑی ٹیبل پر رکھے،صوفے کی پشت سے سر ٹکاۓ آنکھیں موندے وہ کسی گہرے حیال میں گم تھی جب اس کے موبائل کی رنگ ٹون بجی۔اس نے چونک کر آنکھیں کھولیں اور بنا دیکھے کال ریسیو کر کے کان سے موبائل لگایا۔۔
”ہیلو“۔۔
وہ دھیمے لہجے میں نرمی سے بولی۔۔
”اسلام علیکم بیٹا“۔۔
فون پر اساور کی آواز گونجی تو زارا نے موبائل کان سے ہٹا کر دیکھا اور خود پر ضبط کرتے موبائل دوبارہ کان سے لگایا۔۔
”جی فرمائیے“۔۔
لہجہ اب بھی دھیما ہی تھی مگر اب کے بار آواز میں سختی در آئی تھی۔۔
”میں نے سلام کیا ہے آپ کو بیٹا“۔۔
اساور نے کہا۔۔
”اور میں نے جواب نہیں دیا“۔۔
اس کا انداذ نپا تلا تھا۔۔
”کیوں؟؟“۔۔
اساور نے پوچھا۔۔
”آپ کو سلامت رہنے کی دعا دے دوں،اس سے بہتر نہیں ہے میں ڈوب کر مر جاؤں“۔۔
اس کے لہجے میں واضح ناگواری اور نفرت تھی۔اساور کی آنکھ کا گوشہ بےساختہ نم ہوا تھا۔۔
”میں آپ کا بابا ہوں بیٹے“۔۔
اساور کی آواز میں نمی گھل گئ تھی۔۔
”اوہ رئیلی،ایم شاکڈ“۔۔
زارا طنزیہ انداذ میں مسکرائی تھی۔۔
”کیوں کرتی ہو اتنی نفرت مجھ سے،کیوں مجھے تکلیف دیتی ہو؟؟“۔۔
اساور نے کہا۔۔
”کیونکہ آپ ایسے شخص ہو جس سے صرف نفرت ہی کی جانی چاہیئے،آپ درد ڈیزرو کرتے ہو،آپ کرب اور تکلیف کو محسوس کر کے ہر پل اور پل پل مر جانے کے قابل ہو“۔۔
زارا کا لہجہ بدلخاظ ہوا تو اساور کی آنکھوں میں وہ کرچیاں چبیں جو برسوں پہلے اس نے دانین کی آنکھوں میں بوئیں تھیں۔۔
”مجھ سے مل لو بیٹا،ساری غلط فہمیاں دور کر دیں گے ہم دونوں بیٹھ کر“۔۔
اساور نے جیسے التجا کی تھی۔۔
”غلط فہمیاں۔آہ ہا“۔۔زارا نے ایک گہری سانس لیتے چہرے کو دائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر ٹکایا۔۔”کون سی غلط فہمیوں کی بات کر رہے ہیں آپ،ہمارے درمیان کبھی ایسا کوئی بونڈ نہیں تھا کہ غلط فہمیاں جنم لیتیں مگر ہمارے درمیان چند لفظوں کے مطلبوں کا اتنا گہرا تعلق ہے کہ آپ سے گھن آتی ہے مجھے“۔۔
لفظ”ناجائز“ اس کے دماغ پر کوڑے برساتا تھا تو اساور اس کے دل اور زندگی سے اتر جاتا تھا۔۔
”تم لوٹ آؤ ناں،تم آؤ گی تو دانین بھی آ جاۓ گی،آپ ،سارہ،دانین اور میں ہماری فیملی مکمل ہو جاۓ گی“۔۔
اس نے پھر سے التجا کی تھی کیونکہ وہ جانتا تھا زارا آ جاۓ تو دانین اس کے پیچھے پیچھے چلی آۓ گی۔۔
”آپ کی فیملی تو کمپلیٹ ہے ناں،ادھورے تو ہم ماں بیٹی رہ گۓ“۔۔وہ بس سوچ کر رہ گئ بولی تو یہ کہ ”مت بلاؤ مجھے اساور کاظمی،جس دن میرا سامنا ہو گیا آپ سے،میں اپنے اور اپنی ماں کے ہر درد کا انتقام لوں گی اور وہ انتقام ایسا ہو گا کہ آپ زندہ تو رہو گے مگر موت سے بدتر زندگی ہو گی“۔۔کال ڈسکنیکٹ کرتے اس نے موبائل سائیڈ پر رکھا اور سر دونوں ہاتھوں میں گرا کر بیٹھ گئ۔۔
اس کے لہجے کی تلوار نے اساور کو کاٹ کاٹ کر لہو لہان کر دیا تھا۔۔زارا کے لہجے کے زہریلے پن نے اس کا دل دہلا دیا تھا۔۔وہ زارا کا لہجہ تو نہیں تھا وہ تو اساور کا لہجہ تھا۔
اس کی بیٹی نے اس سے انتقام،غصہ اور زہریلا لہجہ وراثت میں لے لیا تھا،وہ جو اسے دیکھ کر برسوں پہلے ڈر گیا تھا وہ ڈر صیح تھا۔وہ واقعی اساور کی کاپی تھی اور جانے وہ کس کو تباہ کرنے والی تھی۔۔


چھوڑو۔۔چھوڑو۔۔
سارہ بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی جب اذان نے اس کے ہاتھ سے ریمورت چھپٹ کر چینل بدل دیا۔۔سارہ نے اس سے ریمورٹ چھیننے کو اس کی طرف ہاتھ بڑھایا مگر اذان نے ریمورٹ والا ہاتھ ہوا میں بلند کر لیا۔۔
”چلو چڑیل ہر وقت ٹی وی کا سر کھاتی اب آرام دو ٹی وی کو کچھ“۔۔
اذان ریمورٹ لئیے صوفے پر بیٹھ گیا۔۔
”مسٹر اذان کاظمی ریموٹ دو ورنہ……“۔۔
سارہ نے کمر پر لڑاکا عورتوں کی طرح ہاتھ رکھ کر کہا تو اذان کے چہرے پر چھائی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی۔۔
”ورنہ“۔۔
اذان نے اسے بھڑکانا چاہا۔۔
”ورنہ۔۔“سارہ نے زیرِلب دہراتے ہوۓ نگاہیں گھما کر کچھ تلاشنا چاہا اور پھر ٹیبل پر پڑا پانی کا گلاس اٹھا کر اس کی طرف بڑھایا۔۔
”نو نو سارہ،یار آگے ہی ٹھنڈ ہو رہی ہے نمونیہ ہو جاۓ گا مجھے“۔۔
اذان بدک کر صوفے پر چڑھا اور پیچھے کو چھلانگ لگا دی۔۔اب کہ سارہ نے ہونٹوں پر مسکراہٹ سجاۓ اسے ٹھنڈے پانی کا گلاس دکھایا۔۔
”کیوں لڑ رہے ہو دونوں“۔۔
حسام کی آواز پر دونوں نے دروازے کی سمت دیکھا جہاں حسام کھڑا مسکراتا ہوا انہیں دیکھ رہا تھا۔۔
”حسام بھائی“۔۔
حسام کو دیکھتے ہی زارا نے گلاس ٹیبل پر واپس رکھا اور دوڑ کر اس کے پاس آئی۔۔
”آپ آگۓ،پورے چھ ماہ بعد آئیں ہیں آپ،،گھر تو مل گیا تھا ناں۔ڈھونڈنے میں دشواری تو نہیں ہوئی“۔۔
سارہ کا طنز محسوس کرتے حسام نے اس کے سر پر چپت لگائی۔۔
”بہت باتونی ہوتی جا رہی ہو“۔۔
حسام نے کہا۔۔
”توبہ کرو حسام،مجھ سے پوچھو جلد گنجا ہونے والا ہوں اسے برداشت کرتے کرتے“۔۔
حسام سے ملتے ہوۓ اذان نے کہا تو سارہ کا منہ خفگی کے انداذ میں پھول گیا۔۔
”اور گڑیا کیسی ہو“۔۔
حسام نے اس کے گال پر چٹکی کاٹتے ہوۓ کہا۔۔
”یہ دیکھیں بھائی،آپ کے قد کی ہونے والی ہوں میں اور آپ ابھی تک مجھے گڑیا کہہ رہے ہیں،بھلے گڑیا کوئی اتنی لمبی ترنگی ہوتی ہے“۔۔
حسام کے ساتھ کھڑے ہو کر سارہ نے ہاتھ کے اشارے سے اپنا اور اس کے قد کا انداذہ لگایا۔۔
”بھائیوں کے لییۓ تو لمبی ترنگی بہنیں بھی چھوٹی سی گڑیا ہی ہوتی ہیں“۔۔
سارہ کو اپنے ساتھ لگاتے ہوۓ حسام نے کہا تو وہ مسکرا دی تھی۔۔
”حسام میرا بچہ“۔۔
سائرہ کمرے سے نکلیں تو سامنے ہی حسام کو کھڑے پا کر آبدیدہ سی ہو کر اس کی طرف بڑھیں۔۔
”اسلام علیکم ماں“۔۔سارہ کے گلے لگ کر حسام نے کہا۔۔
”ماں کی یاد نہیں آتی ناں تمہیں،مہینوں غائب رہتے ہو“۔۔
سائرہ نے گلہ کیا۔۔
”ماں بھی بھول جانے والی ہستی ہے کیا؟؟“
سائرہ کے آنسو صاف کرتے ہوۓ حسام نے ان کے ماتھے پر بھوسہ دیا۔۔
”صیح کہہ رہی ہیں آپ پھپھو۔۔!! یہ جب سے ڈاکٹر بنا ہے خود کو افلاطون سمجھتا ہے“۔۔
اذان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ اسے چھیڑا تو حسام نے برا سا منہ بنایا اور پھر یکدم وہ مسکرا دیئے۔۔
”کتنے دنوں کے لیئے آۓ ہو“۔۔
سائرغ نے حسام سے پوچھا۔۔
”دو ماہ کی چھٹی ہے اب“۔۔
سائرہ کو صوفے پر بٹھاتا وہ خود بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔۔
”واؤ دو ماہ آپ ہمارے ساتھ رہیں گے،بہت مزہ آنے والا ہے“۔۔
سارہ نے جوش سے کہا۔۔
”ہاں ناں میں بھی بےچین ہی رہی چھ ماہ سے اپنے بیٹے کو ملنے کو“۔۔
سائرہ کے چہرے پر بھی خوشی چھا گئ۔۔
”ہاں دو ماہ کے لیئے چھٹی ہے مگر کل مجھے ترکی جانا ہو گا،ایک ہفتے کے لیئے ۔سیمینار ہے اس کے بعد چھٹی ہی چھٹی“۔۔
حسام نے کہہ کر ان تینوں کی طرف دیکھا۔ان چہروں سے تھوڑی دیر پہلے کی مسکراہٹ یکدم غائب ہو گئ تھی۔۔
”میں نہیں کر رہی آپ سے بات،آپ ہمیشہ یہی کرتے ہیں“۔۔
سارہ پیر پٹختی غصے سے کہہ کر فوراً وہاں سے چلی گئ۔۔
”ماں“۔۔اس نے سائرہ کی طرف دیکھا۔۔
”تھوڑی دیر میں ٹھیک ہو جاۓ گی۔تم سے ذیادہ دیر ناراض نہیں رہ سکتی“۔۔
سائرہ نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا۔۔
”بول بزنس مین تم تو نہیں ناراض نہیں ہو اب“۔۔
حسام نے اذان کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔۔
”نہیں انسانیت کے خادم سے بھلا یہ ادنیٰ سا بندہ کہاں ناراض ہو سکتا ہے“۔۔
اذان نے ذرا سا جھک کر کہا تو حسام نے بےساختہ مسکراتے ہوۓ سائرہ کے گرد بازو حمائل کرتے اپنا سر ان کے کندھے پر ٹکا دیا۔۔


کب سے کال کر رہا تھا تمہیں کہاں تھی۔؟؟
زینی نے کمرے میں آکر موبائل دیکھا تو سالار کی پچیس مس کالز تھیں۔زینی نے جلدی سے اسے کال بیک کی تو اس کا شکایتی لہجہ خاضر تھا۔۔
”میری بہن نے روک رکھا تھا مجھے،اٹھ کر آ جاتی تو اس نے ناراض ہو جانا تھا“۔۔
زینی نے معصومیت سے کہا۔۔
ان دونوں کی دوستی انٹرنیٹ سے بڑھتی ہوئی نمبرز تک پہنچ گئ تھی۔۔
”تمہاری بہن کوئی بہت کھڑوس انسان ہے یار“۔۔
سالار نے کہا۔۔
”اوہ مسٹر سالار جہاں۔۔!! اپنی بہن کے متعلق کچھ نہیں سنوں گی ہاں“۔۔
زینی کا لہجہ ایک دم سے سخت ہوتا دیکھ کر سالار حیران ہوا کہ لاابالی سی زینی اپنی بہن کے لیئے کتنی پوزیسو ہے۔۔
”یار تم تو ناراض ہی ہو گئ،میں تو مذاق کر رہا تھا“۔۔
اس کا موڈ آف ہوتے دیکھ کر سالار نے بات کو بدلنا چاہا۔۔
”مذاق یا سیرئیس کسی بھی سچوئیشن میں زارا کے خلاف کچھ نہیں سن سکتی میں“۔۔
زینی کا غصہ ہنوز قائم تھا۔۔
”اچھا ناں بابا سوری۔۔آئیندہ حیال رکھوں گا“۔۔
سالار نے کہا۔۔
”باۓ“۔۔
زینی نے بنا کچھ کہے کال کاٹ کر موبائل بیڈ پر پھینکا اور کمرے سے نکل کر زارا کے کمرے میں چلی آئی۔زارا کارپٹ پر بیٹھی لیپ ٹاپ پر مصروف تھی۔۔زینی نے ایک نظر اسے مسکرا کر دیکھا اور پھر آ کر اس سے لپٹ گئ۔زارا نے حیرانی سے اسے دیکھا۔۔
”بڑا پیار آ رہا ہے مِس رانا کو مجھ پر حیریت تو ہے“۔۔
زارا مسکرائی۔۔
”میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں زارا،اور ادراک مجھے آج ہوا کہ میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں“۔۔
زینی نے اس سے الگ ہوتے ہوۓ کہا۔۔
”ہممم معجزہ ہو گیا یہ تو“۔۔
زارا نے محبت بھرے لہجے میں کہا مگر زینی نے بات کو ان سنا کرتے لیپ ٹاپ اپنے سامنے کھینچا۔۔
”یہ کیا ہے زارا“۔۔
اسکرین پر کھلی ای میل پڑھتے زینی نے پوچھا۔۔
”بیسٹ رائیٹر آف دا ائیر کے لیئے نومنیٹ ہوں میں اور تقریب لاہور میں ہے“۔۔
زارا نے کہا۔۔
”تم نہیں جاؤ گی ناں ویسے بھی نومنیٹ ہوئی تقریب میں تم نہیں جاتی“۔۔
زینی نے لیپ ٹاپ بند کرتے مطمئن ہو کر کہا۔۔
”میں وہاں نہیں جاتی جہاں مجھے لگتا ھے میں وہ ایوارڈ ڈیزرو نہیں کرتی مگر یہ ایوارڈ میرا ہے اور میں ڈیزرو کرتی ہوں اس لیئے میں اسے لینے ضرور جاؤں گی“۔۔
زارا نے کہا۔۔
”پاکستان جاؤ گی تم“۔۔
زینی نے حیرانی سے اسے دیکھا۔۔
”ہاں میرا کرئیر ہے یہ کبھی پاکستان جانا ہو گا تو کبھی ہندوستان۔اب ہر جگہ سے کترا کر تھوڑی پھر سکتی ہوں“۔۔
زارا کے لہجہ میں اطمینان تھا۔۔
”میں کیسے رہوں گی تمہارے بغیر“۔۔
زینی پھر سے اس سے لپٹ گئ۔۔
”ابھی تھوڑی جا رہی ہوں،اگلے ہفتے جانا ہے“۔۔
زینی کو بازؤں کے گھیرے میں لیئے زارا نے اس کی پیٹھ تھپکی۔۔زینی نے اپنی گرفت اس کے گرد مظبوط کر دی تو زارا نے ہلکا سا مسکراتے ہوۓ اپنا چہرہ اس کے سر پر ٹکا دیا۔۔


ماما میں نے بابا کی فائل آپ کو دی تھی وہ مانگ رہے ہیں انہیں دے دیں پلیز۔۔
زارا نے کچن کے دروازے پر کھڑے ہو کر کہا اور واپس مڑ گئ۔۔
دانین نے گیس بند کی اور کمرے میں آ کر الماری کھولی۔۔
”یہیں تو رکھی تھی،مل کیوں نہیں رہی“۔۔
دانین کو بہت ڈھونڈنے پر بھی فائل نہ ملی تو زیرِلب بڑبڑائی۔۔
”افف کیا ہوتا جا رہا ہے،یاداشت کمزور ہو رہی ہے میری،بڈھی ہو گئ ہوں“۔۔
اپنے سر پر چپت لگاتے دانین نے دیوار میں نصب دراز کو کھول کر فائل نکالی تو ساتھ ایک ڈائری نیچے کو گری اور اس میں موجود تصاویر کارپٹ پر بکھر کر رہ گئیں۔۔
دانین نے جھک کر تصویر اٹھائی۔یہ اس کے کالج کی تصویر تھی جب اسے سکالرشپ ملی تھی۔۔
سیاہ بالوں اور معصوم مسکراہٹ والی دانین اس دن کالج سے ایک بڑی وکیل بننے کا حواب لے کر نکلی تھی۔۔
دانین نے کارپٹ پر بیٹھتے ایک اور تصویر سیدھی کی۔۔
یہ اس کی سالگرہ کی تصویر تھی جس میں اساور اسے کیک کھلا رہا تھا۔۔اساور کا چہرہ ذہن میں ابھرتے ہی اس کے دل میں درد کی ایک شدید لہر اٹھی۔۔
”ماما دے دیں ناں بابا……“۔۔
زارا بغیر ناک کیئے کمرے میں داخل ہوئی تو سامنے بیٹھی اپنی ماں اور بکھری تصاویر کو دیکھ کر ساری داستاں کو محسوس کر لیا۔۔
”جانے کیا ہے اس شخص میں جو دانین جمشید علی اس کی یاد کے نشے سے کسی طور نکلنا ہی نہیں چاہتی“۔۔
زارا نے ایک تصویر اٹھا کر اساور کے نقوش کو جیسے خفظ کیا تھا۔۔
”یہ لو فائل سعدی کو دے دو“۔۔
فائل اسے پکڑاتے دانین جلدی سے تصاویر سمیٹنے لگی۔۔
”حسد نفرت تک لے جاتا ہے ماں مگر میری نفرت مجھے حسد تک لے آئی ہے“۔۔۔
اس کے سامنے دو زانو ہو کر بیٹھی زارا نے کہا تو دانین نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔۔
”اتنی محبت تو مجھ سے بھی نہیں کی آپ نے پھر اس شخص سے کیسے کر لی کہ ابھی بھی اس کو یوں یادوں میں سنبھال کر رکھتی ہیں“۔۔
زارا کا لہجہ تکلیف بنا تھا۔۔
”تمہارے بابا لیٹ ہو رہے ہیں،فائل دو انہیں“۔۔
دانین نے تصاویر اٹھا کر دراز میں ڈالیں اور زرا سخت لہجے میں بولی تو زارا سر جھٹکتے کمرے سے باہر چلی گئ۔۔
”محبت،محبت اب کے رہی کہاں ہے دانین کے سینے میں۔اس شخص نے ایسا پتھر کیا ہے کہ اب کچھ محوس نہیں ہوتا مگر کبھی کبھار……“۔۔
اور یہ سوچ کبھی کبھار پر آ کر ٹھہر جاتی تھی۔۔اس کبھی کبھار سے آگے وہ سوچ ہی نہیں پائی کہ وہ اسے کبھی کبھار بےانتہا یاد کیوں آتا ہے کہ وہ آنسو روک نہیں پاتی۔۔
اس کی سوچوں کے بھنور میں انتشار کمرے میں گونجی موبائل کی رنگ ٹون نے ڈالا۔۔سائیڈ ٹیبل پر پڑے موبائل کو اٹھا کر دیکھا۔۔اساور کی کال آ رہی تھی۔۔
”دل نے کہا کال پک کر لے مگر ذہن نے دل کے فیصلے کی شدت سے نفی کی۔دماغ کے فیصلے تکلیف دہ مگر اکثر ہوش مندانہ ہوتے ہیں“۔۔
کچھ دیر موبائل کو دیکھتی رہی اور پھر کال کاٹ کر موبائل آف کر کے سائیڈ ٹیبل کی دراز میں ڈالا اور کمرے سے باہر چلی گئ۔۔
دل کے فیصلے پر دماغ نے سبقت لے لی کیونکہ دماغ کا ایک غلط فیصلہ بھی دل کے سو صیح فیصلوں سے بہتر ہوتا ہے۔۔


جاری ہے۔۔