54.6K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Aankh Bhar Aansu) Episode 25

”زینی میری بات سنو!!“۔۔
زینی پچھلے لان سے گزرتی زارا کے کمرے کی طرف جا رہی تھی کہ میر کی آواز پر اس کے قدم رکے مگر اس نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔۔ وہ ہی دھیرے دھیرے چلتا اس کے مقابل آ کر کھڑا ہوا۔۔ ایک ہاتھ سے آئی برو کھجاتے ، ہونٹوں پر زبان پھیرتے وہ اسے دیکھے جا رہا تھا۔۔زینی نے اکتائی ہوئی نظروں سے اسے دیکھا جیسے کہہ رہی ہو بولو کیا تکلیف ہے۔۔
”بابا سے اپنے اور تمہارے متعلق بات کرنا چاہتا ہوں میں“۔۔
اپنی خواہش کا اظہار کیا تھا اس نے۔۔
”کیا بات؟؟“۔۔
وہ کچھ بھی سمجھنا نہیں چاہتی تھی۔۔
”یہی کہ ہم دونوں ایک—“۔۔
”شٹ اپ مِسٹر میر کاظمی !! جسٹ شٹ اپ !!! تم اور میں اب ایک ساتھ ہوں یہ پوسیبل ہی نہیں ہے اور ابھی پھپھو نے کیا کہا کہ میں ان کی بیٹی ہوں تو خود سوچو دانین جمشید علی نے اتنے برسوں اساور کو معاف نہیں کیا تو ان کی بیٹی کے دل میں اتنی گنجائش کہاں سے آ سکتی ہے“۔۔
اس کے آنکھوں سے شرارے نکل رہے تھے جن سے سامنے کھڑا نوجوان جل کر راکھ ہو گیا تھا۔۔وہ اپنے راکھ راکھ وجود کو سنبھالتا اس کے قدموں میں ہاتھ جوڑ کر بیٹھ گیا۔۔
”مجھے معاف کر دو زینی !! میں جانتا ہوں میں نے تمہیں دھوکہ دیا مگر میں اپنی زندگی اپنی ماں کی طرح دیواروں کو تکتے کچھ بھول کر کچھ یاد کرتے ہوئے ، اپنے گناہوں کو کوس کر نویں گزارنا چاہتا ، میں تم سے معافی لے کر تمہارے ساتھ تاعمر جینا چاہتا ہوں“دو زانوں ہو کر بیٹھتے اس نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھ کر سر جھکا لیا تھا۔۔ آنسو ایک رفتار سے آنکھوں سے نکل کر زمین پر گر رہے تھے”تا حیات تمہارے چہرے کی جُھریوں سے لیکر تمہارے نحیفُ البدن ہونے تک سانسیں کم ہوں یا زیادہ مگر سچ یہی ہے میں اپنی آخری سانس تک تم سےفقط محبت کروں گا“۔۔
اس کے الفاظ پر زینی کا دل بےاختیار دھڑکا تھا مگر ہونٹوں پر تمسخرانہ مسکراہٹ اور آنکھوں میں ناگواری ابھی تھی۔۔
”دانین کی بیٹی وعدوں پر یقین رکھتی ہے نہ محبت سے اس کی بنتی ہے“۔۔
زینی کے تمسخر پر سامنے کسی فقیر کی طرح بیٹھے خوبرو مرد کی آنکھوں میں درد پھیلنے لگا تھا کہ وہ اب سب محبت کرنے والوں کو تڑپاتی تھی۔۔
”زینی میں مر جاؤں گا یار“۔۔
اس نے سر اٹھا کر اس پتھر کو دیکھا۔۔
”تو مم مر جاؤ!“۔۔
لہجہ کانپا تھا۔۔ میر نے جانا کہ سامنے کھڑے پتھر میں دڑاریں پڑ رہی ہیں۔۔
”میں سچ مچ نہیں جی پاؤں گا“۔۔
وہ یونہی دو زانوں بیٹھا رہا۔۔
”پلیز میر!!“۔۔
پتھر پگھل چکا تھا۔۔ میر نے نم آنکھوں سے پھیکا سا مسکرا کر اس لڑکی کو دیکھا جو اسے دنیا میں سب سے پیاری تھی۔۔ اپنے آنسو صاف کرتی وہ سر جھٹک کر تیز تیز قدموں سے زارا کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔ میر اسے جاتا دیکھتا رہا اور پھر دھیرے سے اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔


مہندی کا فنکشن شروع ہو چکا تھا۔۔ مہمانوں کی آمد ہو چکی تھی ، کچھ آ رہے تھے۔۔ ہر طرف روشنیاں بکھری ہوئی تھیں۔۔
اسٹیج پر خوصورت پیلے لہنگے میں پرپل دوپٹہ سر پر ڈاگے ، گجرے پہنے ہنستی مسکراتی زارا سفید شلوار قمیض کے ساتھ پیلا واسکٹ پہنے ، پیلی اور سبز رنگ کے امتزاج کی چنری گلے میں ڈالے ایک دوسرے کے پہلو میں بیٹھے بہت خوش لگ رہے تھے۔۔
سارہ نے بھی پیلے رنگ کی لانگ فراک پہن رکھی تھی۔۔ اس کا جسم ان دنوں بےہنگم ہو گیا تھا اس لیئے وہ جہاں بیٹھتی اٹھتی ہی نہیں تھی۔۔ ابھی بھی اسٹیج پر دلہا دلہن کے ساتھ مہمانوں کے لیئے رکھے صوفے پر وہ براجمان تھی۔۔
زینی نے پیلی شارٹ شارٹ اور پرپل شرارہ پہنا ہوا تھا ، پیلے رنگ کے کامدار دوپٹے کو بازوؤں پر ڈالے ہلکے پھلکے میکپ میں وہ بہت اچھی لگ رہی تھی۔۔ میر کی نظریں مسلسل اس پر ٹکی ہوئی تھیں جسے وہ بہت اچھے سے محسوس کر رہی تھی مگر نظرانداذ کر رہی تھی۔۔۔
رات گئے مہندی کا فنکشن اپنے اختتام کو پہنچا۔۔ مہمان رخصت لے کر اپنے اپنے گھروں کو نکل گئے۔۔کل بارات کا فنکشن تھا اس لیئے باقی سب بھی تھکے ہارے اپنے کمروں میں آرام کی نیت سے گھس گئے۔۔


آج بارات کا فنکشن تھا جس میں حسام اور زارا کا نکاح کرا کے انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے ایک کر دینا تھا۔۔
فنکشن میرج ہال میں تھا۔۔ اسی لیئے سائرہ اور عینا نے ملازموں کے ساتھ مِل کر مہندی کے فنکشن سے بکھرا گھر سمیٹا۔۔ حسام کے کمرے کو سرخ اور سفید گلابوں سے سجایا گیا۔۔ لان س لائیٹنگ ہٹا کر حویلی کے اطراف میں چاروں طرف لگا دی گئی تھی۔۔ جس سے رات کی روشنی میں حویلی جھگمگانے لگتی۔۔
سارہ اور زینی زارا کو لے کر پارلر نکل چکی تھیں۔۔ انہیں پارلر سے میرج ہال پہنچانے کی ذمہ داری میر کی تھی اگرچہ زینی نے پہلے تیار ہو کر ہال نکل جانے کا پروگرام بنایا تھا کہ وہ بارات کو اٹینڈ کرے گی۔۔
اذان اور عینا حسام اور سائرہ کی طرف تھے اس لیئے بارات انہوں نے لانی تھی۔۔
اساور دانین کو لے کر پہلے ہی ہال پہنچ چکا تھا۔۔سومو اور سعدی بھی ہال میں مہمانوں کو مسکرا مسکرا کر ریسیو کر رہے تھے۔۔
ایک گھنٹے بعد زینی تیار ہو چکی تھی اس لیئے اس نے میرج ہاگ نکلنے کا پروگرام بنایا۔۔ زارا اور سارہ کو بتا کر وہ پارلر سے باہر آئی جہاں میر گاڑی سے ٹیک لگا کر کھڑا اس کا انتظار کر رہا تھا۔۔ زینی نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا۔۔ زینی نے اسے نہیں بلایا تھا بلکہ اس نے تو اذان کو کہا تھا کہ ڈرائیور کو بھیج دے مگر اذان نے میر کو بھیج دیا تھا۔۔اگرچہ میر نے تین گھنٹے بعد زارا کو لینے آنا تھا مگر زینی کا سن کر وہ اڑتا ہوا پہنچا تھا۔۔
”تم !! میں نے اذان بھیا کو کہا تھا کہ—“۔۔
”ہاں تم نے اذان بھائی کو کہا تھا کہ ڈرائیور بھیج دیں مگر انہوں نے مجھے بھیج دیا کہ رات کے وقت اکیلی لڑکی کو ڈرائیور کے ساتھ جانا صیح نہیں“۔۔
زینی کو اپنی نظروں کے حصار میں لییئے اس نے وضاحت پیش کی۔۔۔
گوگڈن کلر کے لہنگے کے ساتھ ہم رنگ چولی پہنے بالوں کو سٹائیل دے کر چہرے اور کمر پر ڈالا ہوا تھا۔۔ ماتھے پر بڑا سا گول ٹکا ، ساتھ کے جھمکے اور نیکلس پہنے ہونٹوں پر ریڈ لپ اسٹک لگائے ، نفیس میکپ کے ساتھ وہ بہت اچھی لگ رہی تھی۔۔۔زینی اس کی نظروں سے خائف ہو کر فوراً گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھ گئی تو وہ میر نے بھی آ کر ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی۔۔
”بہت اچھی لگ رہی ہو تم“۔۔
گاڑی سٹارٹ کرتے میر نے گہری نظروں سے اسے دیکھا۔۔
”میں اتر جاؤں گاڑی سے“۔۔
زینی نے دروازے کی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔
”اچھا سوری !!“۔۔
وہ سنجیدگی سے گاڑی ڈرائیو کرنے لگا۔۔ باقی کا سارا راستہ دونوں کے درمیان خاموشی چھائی رہی۔۔ ہال پہنچ کر گاڑی کا دروازہ کھولتی وہ خاموشی سے چلی گئی۔۔
دو گھنٹے بعد زارا کی تیاری مکمل ہوئی تو میر ان دونوں کو لے کر ہال پہنچا۔۔ بارات ابھی تک نہیں آئی تھی اس لیئے زارا کو برائیڈل روم میں لا کر بٹھایا گیا۔۔ سارہ بھی اس کے ساتھ ہی موجود تھی۔۔
تھوڑی دیر بعد بارات کا شور اٹھا۔۔
”سارہ اپیا بارات آ گئی“۔۔
زینی نے آ کر بتایا تو سارہ اٹھ کر بارات دیکھنے چلی گئی۔۔
زارا نے اپنا سرخ ایمبرائیڈر لہنگا ہاتھوں سے اٹھایا اور اٹھ کر کھڑکی کے پاس چلی آئی جہاں سے میرج ہال کے باہر کا منظر صاف دکھائی دے رہا تھا۔۔
سامنے ہی پھولوں سے سجی گاڑی سے اس کا دلہا یعنی کہ حسام بلیک شیروانی پہنے نکلا تھا اور اس کے آگے میر اور اذان بھنگڑے ڈال رہے تھے۔۔پھر انہوں نے اساور اور سعدی کو بھی اپنے ساتھ کھینچ لیا۔۔ اب وہ چاروں مل کر ناچ رہے تھے۔۔
زارا کی آنکھیں نم ہوئی تھیں ، سب کتنا خوش تھے۔اس کے دل میں درد کی شدید لہر اٹھی تھی ، ایک ہاتھ کو سینے پر رکھ کر اس نے اپنے درد کو آنکھوں سے بہہ جانے سے روکا اور خود کو سنبھالتی دوبارہ سے باہر دیکھنے لگی۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے دو چار لوگ اور آگی بڑھے اور ناچنے لگے۔۔ اذان نے حسام کو بھی کھینچ لیا۔۔ اب حسام بھی ناچ رہا تھا۔۔ زارا کا ہنس ہنس کر برا حال ہو رہا تھا۔ہاتھ ہنوز سینے پر رکھا ہوا تھا۔وہ بتا نہیں پا رہی تھی کہ کتنا درد ہو رہا ہے اسے۔
زینی اور سارہ باراتیوں پر پھول پھینک رہی تھیں۔۔۔ دانین نے مسرور سا ہو کر مسکراتی سارہ اور کھڑکی سے جھانکتی ہنستی ہوئی زارا کو دیکھا۔۔
اذان کی نظر سارہ پر پڑی۔۔ سارہ نے گلابی کلر کا شرارہ زیب تن کر رکھا تھا ، سراخی دار گردن میں حوبصورت نیکلس ڈالے ، بالوں کو ایک طرف کندھے پر ڈالے ، نفیس سا میکپ کیئے ، ہاتھوں میں سفید گجرے پہنے بہت اچھی لگ رہی تھی ۔۔ اس نے رک کر سارہ کو آنکھ ماری اور پھر ہاتھ سے اشارہ کیا کہ ”بہت اچھی لگ رہی ہو“سارہ جھینپ کر رہ گئی تھی۔۔
سب ہنستے مسکراتے ناچ گا رہے تھے۔۔ سارہ اور زینی زارا کو لے آئیں۔۔ ان دونوں کے درمیان می؟ سر جھکا کر چلتی وہ سیدھا حسام کے دل میں اتری تھی۔۔۔
حسام نے اٹھ کر اس کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اسے اپنے پہلو میں بٹھایا۔۔
تھوڑی دیر میں نکاح کی رسم شروع کی گئی۔۔
زارا کاظمی بنتِ اساور کاظمی کو دس لاکھ روپے خق مہر سکہ رائج الوقت حسام باذل آپ کے نکاح میں دیا جاتا ہے ، کیا آپ کو قبول ہے“۔۔
مولوی نے نکاح شروع کیا۔۔۔
”جی قبول ہے“۔۔
حسام نے مسکرا کر اسے قبول کیا۔۔زارا نے درد کی شدت سے آنکھیں زور سے بند کیں۔۔
”کیا آپ کو قبول ہے؟“۔۔
”جی قبول ہے ، قبول ہے“۔۔
”زارا کاظمی بنتِ اساور کاظمی آپ کو دس لاکھ روپے خق مہر سکہ رائج الوقت حسام باذل کے نکاح میں دیا جاتا ہے ۔۔ کیا آپ کو قبول ہے؟؟“۔۔
مولوی نے زارا سے پوچھا۔۔
”جی قبول ہے“۔۔
وہ خوش تھی بہت۔۔ مگر درد ، تکلیف بڑھتی جا رہی تھی۔۔
”قبول ہے؟؟“۔۔
”قبول ہے , قبول ہے“۔۔
آنے والی زندگی کے لیئے وہ خوش تھی اور وہ خوشی اس کی آواز سے ظاہر تھی۔۔ نکاح نامے پر دونوں کے دستخط ہوئے۔۔ مبارک باد کی آوازیں اٹھی تھی۔۔
سب گلے مل کر ایک دوسرے کو مبارک باد دے رہے تھے۔۔
”حسام !!“۔۔
زارا نے کھڑے ہو کر حسام کو پکارا۔۔ حسام مسکراتا ہوا پلٹا مگر اس کے چہرے پر چھائے تکلیف کے تاثرات دیکھ کر وہ جم گیا تھا۔۔ حسام کی طرف دیکھتے اس کی ہونٹ پھرپھراۓ اور وہ بےدھم سی صوفے پر گِر گئی۔۔ایک قیامت تھی جو کاظمیوں پر ٹوٹ پڑی تھی۔۔
سب زارا کے پاس پہنچے تھے۔۔


جاری ہے۔۔۔۔