54.6K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Aankh Bhar Aansu) Episode 14

”زارا بچے دیکھو مت کرو یہ سب،کیوں اپنی ہی بہن کی خوشیوں کو نگلنا چاہتی ہو تم“۔۔
دانین ایک بار پھر اسے سمجھانے چلی آئی تھی۔۔
”بیس سال ان خوشیوں کو جی لیا اس نے۔اب میری باری ہے ماں“۔۔
زارا نے کہا۔۔
”تو ثابت ہوا بیس سال پہلے لیا گیا میرا فیصلہ غلط تھا اور آج بیس سال بعد یہ ثابت ہوا کہ میری تو تربیت بھی غلط نکلی تبھی تم اتنے غلط فیصلے لے کر سب کے ساتھ غلط کر رہی ہو“۔۔
دانین نے کہا۔۔
”آپ کا فیصلہ غلط تھا یا صیح آپ مجھ سے بہتر جانتی ہیں اور میرا فیصلہ بلکل صیح ہے اور یہ میں آپ سے بہتر جانتی ہوں“۔۔
زارا نے کہا۔۔
”تمہارے اس فیصلے سے میری تربیت اور برسوں پہلے کیئے گۓ میرے دعووٴں پر خرف آ رہا ہے“۔۔
دانین نے اسے ایموشنل کرنا چاہا تھا۔۔
”یہ ایموشنل بلیک میلنگ ہے مام اور زارا ایموشنل فول نہیں ہے سو پلیز مجھے یہ سب مت بتائیں“۔۔
زارا نے کہا۔۔
”تو تم اپنا فیصلہ نہیں بدلو گی؟“۔
زارا نے پوچھا۔۔
”نہیں بدلوں گی“۔۔
زارا نے دوبدو جواب دیا۔۔
”ٹھیک ھے تمہیں تمہارا فیصلہ مبارک ہو،تمہاری ماں تمہارے لیئے اور تم میرے لیئے آج سے ایک اجنبی ہیں“۔۔
دانین نے کہا تو زارا نے تڑپ کر اس کی طرف دیکھا مگر دانین ایک بھی مزید نگاہ ڈالے بغیر اس کے کمرے سے نکل گئ۔۔


”بابا بارات کے انوٹیشن کارڈذ نہیں بانٹے آپ نے،اتنی خاموشی کیوں ہے ابھی تک“۔
گھر میں غیر معمولی خاموشی محسوس کرتی وہ اساور کے کمرے میں چلی آئی۔سامنے ہی اساور راکنگ چیئر پر پست ٹکاۓ بیٹھا سگار کے کش لے رہا تھا۔سارہ نے جھنجھلا کر ٹیرس کا دروازہ کھول کر ماحول پر چھاۓ حبس کو دور کیا اور تیز نظروں سے اساور کو دیکھا۔۔
”کتنی بار کہا ہے سگار مت پیا کریں،مگر میری سنتے کہاں ہیں آپ“۔
سگار اساور کے ہاتھ سے چھین کر ایش ٹرے میں مسلا اور ان کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئ۔۔
”تمہیں زارا کو سمجھانا چاہیئے نہ کہ اس کی بےجا ضدوں کے آگے ہتھیار ڈال دو تم“۔
اساور نے ہوا کو گہرا سانس لے کر اپنے پھپھروں میں اتارا۔۔
”اوہ پلیز بابا!اب ہم اس ٹاپک کو ڈسکس کرنا چھوڑ نہیں سکتے کیا؟بھول جائیں سب“۔
سارہ نے جھنجھلا کر کہا۔۔
”تم بھول جاؤ گی؟“۔
سارہ کا چہرہ اساور نے اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لے کر کہا تو اس نے سٹپٹا کر نظریں چرا لیں۔۔
”مہمان نہیں آۓ ابھی تک کوئی بابا!! کیوں؟“۔
وہ بات بدلتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
”کسی کو نہیں بلایا۔گھر کی سادہ سی تقریب میں نکاح کر دیں گے“۔
اساور نے اس کا سٹپٹانا محسوس کر کے سر کو جھٹکا۔۔
”اچھا یہ بھی ٹھیک ہے،مم میں چلتی ہوں،زارا کو پارلر بھی لے کر جانا ہے“۔۔
اپنے اندر کی کیفیت پر قابو پاتی وہ فوراً سے باہر نکلی کہ کہیں اس کا باپ اس کا دل نہ پڑھ لے مگر باپ تو چہرہ پڑھ لیتا ہے وہ دل کہاں چھپا سکتی تھی۔۔
اساور کے کمرے سے نکلتی وہ تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھی کہ اذان کے کمرے میں اسے نامحسوس سی سسکی سنائی دی تھی۔نہ چاہتے ہوۓ بھی وہ اس کے کمرے میں کھنچی چلی گئ۔سامنے ہی وہ بیڈ کی پائینتی سے ٹیک لگاۓ اکڑوں بیٹھا تھا۔دروازے کھلنے کی آواز پر اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو اس کی آنکھوں کا سرح پن دیکھ کر وہ جی جان سے کانپ اٹھی تھی۔۔اس کی حالت دیکھ کر وہ بےقراری سے اس کی طرف بڑھی اور اسے کے پاس ہی بیٹھ گئ۔۔
”یہ کیا حالت بنائی ہوئی ہے تم نے اپنی“۔
سارہ کے الفاظ پر اذان نے جن نظروں سے اسے دیکھا وہ بس نظریں چرا کر رہ گئ تھی۔۔
”اٹھو تیار ہو جاؤ“۔۔
سارہ نے جیسے منت کی تھی۔زارا کا مطالبہ سب سے منوانے کے لیئے اس نے منتیں ہی تو کی تھیں۔۔
”کچھ اور مانگ لیتی ناں سارہ یہ اپنی محبت کے بدلے تم نے مجھ سے کیا طلب کر لیا“۔۔
وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولا تھا۔۔
”محبت خراج مانگتی ہے ناں اذان!“۔
سارہ بھی پائنتی سے سر ٹکاۓ اس کے ساتھ ہی بیٹھ گئ۔
”اور دیکھو میں نے اپنا آپ قربان کر دیا اس سے بڑا حراج کس نے دیا ہو گا محبت کو،اور دیکھو اس خراج کے بعد میں خالی ہاتھ رہ گیا“۔۔
اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتا وہ اس کے سامنے آ بیٹھا تھا۔۔
”مجھے نہیں پتہ جتنی محبت مجھے زارا سے ہے ہر بہن کو اپنی بہن سے ہوتی ہے یا ہر جڑواں کو اپنے جڑواں سے ہوتی ہے مگر میں اتنا جانتی ہوں کہ میں نے زارا کو بہت چاہا اتنا کہ اس کی ہر خواہش پر آمین کہنا مجھ پر فرض ہو گیا“۔
سارہ نے اذان کا ہاتھ تھاما جسے اس نے فوراً چھڑا لیا۔۔
”پتہ ہے جب ہم نے زندگی کے سات سال ایک بند کمرے میں روشنی کے بغیر گزار دییئے تھے تو میری زندگی میں روشنی صرف ماما کی سنائی کہانیوں سے ہوتی تھی“ اذان نے اپنا سر اس کی گود میں رکھتا ٹیڑھا میڑھا سا لیٹ گیا۔”ماما کی کہانیوں میں ہمیشہ ایک شہزادہ ہوتا تھا جسے شہزادی سے ملنا تھا اور ہر حال میں ملنا تھا مگر بیچ میں ایک پری آ جاتی تھی۔اس پری کو گمان گزرتا تھا کہ اس کے ہوتے ہوۓ دنیا کی کوئی شے کسی اور کی نہیں ہو سکتی۔اور اسی گمان کے ساۓ میں وہ سب تباہ کر ڈالتی تھی۔۔مجھے کبھی یہ کہانی صیح سمجھ نہیں آئی مگر اب کہ خود پر بیتی تو جانا کہ وہ تو میری ہی کہانی تھی،وہ تو میں تھا جسے شہزادی سارہ سے ملنا تھا مگر بیچ میں ایک پری آ گئ۔مگر کہنے سے کوئی پری نہیں ہو جاتی اور وہ بھی پری بلکل نہیں ہے،بلکل نہیں ہے،بھلا پریاں ایسی ہوتی ہیں“۔۔
”وہ پری ہی ہے اذان!بلاشبہ وہ پری ہے مگر وہ ھم سے بچھڑی تو اس نے زمانے کی بدصورتی کو دیکھا اور جھیلا ہے،اپنے اصل سے دور رہ کر انسان کٹھور ہو جاتا ہے اور وہ اپنے اصل سے دور ہی تو رہی ہے“۔۔
اذان نے آنکھ اٹھا کر اس عجیب لڑکی کو دیکھا۔”زارا نے ماما کی آنکھوں کے کرب میں زندگی کی خقیقت محسوس کی تو خود کو قصوں،کہانیوں اور اوراق کے پیچھے چھپا دیا،اس نے ایک پری دل لڑکی کو صفحات کے پیچھے چھپا دیا“سارہ اس کے بالوں میں دھیرے دھیرے اپنی انگلیاں پھیرنے لگی۔
”میں نے صرف تم سے محبت کی سارہ صرف تم سے۔میں اس کے ضد کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہتا“۔
اس کا ہاتھ تھام کر اس نے دل پر رکھا تھا۔باہر کھڑی زارا کے چہرے کا رنگ متخیر ہوا تھا۔زینی نے ابرو اٹھا کر اپنی بہن کے چہرے پر چھاۓ تاترات کو پڑھنا چاہا مگر ہمیشہ کی طرح نظر ناکام لوٹی تھی۔۔
”اب تو کچھ بھی پہلے سا نہیں تو محبت کو بھی پہلے سا نہ رہنے رو“۔۔
سارہ نے بھیگی آنکھوں کے ساتھ اسے بغور دیکھا کہ اب کہ جب دوبارہ نظر پڑتی تو کسی اور کا ہو چکا ہوتا۔۔
”جو مجھ کو جاں سے عزیز ہے
میں اس کو بھولوں تو مر نہ جاؤں“۔
اس کے الفاظ دل میں اترتے محسوس کر کے سارہ نے نظریں چرا لی تھیں۔زارا نے بےبسی سے سارہ کی گود میں سر رکھ کر اپنا حالِ دل بیان کرتے اذان کو ادھ کھلے دروازے کی اوٹ سے دیکھا مگر یہ کیا اس کے دل میں سواۓ غصے کے کوئی جذبہ نہیں ابھرا تھا کوئی حسد کوئی جلن نہیں”تو یہ طے رہا زارا رباب رانا کہ تمہیں اذان کاظمی سے محبت نہ ہے اور نہ ہو گی“اس کے دل نے اپنا پیغام دماغ کو پہنچایا تھا۔۔
”میرے پاس تمہیں کھونے کا خوصلہ ہی نہیں ہے،میرا دل اتنا مظبوط نہیں ہے یار“۔۔
زارا نے بھی محسوس کیا کہ واقعی کسی شے کا خوصلہ نہ ہونا کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے۔اس شخص کے لہجے میں درد کی باس تھی۔۔زارا سے مزید کھڑا رہنا محال ہوا تو وہ دروازہ دھرام سے دھکیلتی اندر داخل ہوئی۔۔
زارا کو سامنے پا کر سارہ سٹپٹائی اور اذان کو جھٹکتی فوراً اٹھ کھڑی ہوئی۔زارا کو دیکھ کر اذان کی آنکھوں میں ایک ہی رنگ چمکا تھا جسے زارا بہت اچھے سے پہچانتی تھی۔وہ رنگ ”نفرت“ کا رنگ تھا۔۔اذان پاؤں سمیٹ کر دوبارہ پائینتی سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔۔
”زز زارا وہ مم میں اسے بھلانے آئی تھی“۔۔
سارہ نے گھبرا کر وضاحت دی۔۔
”وہ تو دکھ رہا ہے مجھے“۔
اس کے لہجے کے ساتھ آنکھوں سے بھی شعلے پھوٹے تھے۔سارہ یوں کھڑی تھی جیسے زارا کی مجرم ہو۔۔
”کھونے سے پہلے یہی لگتا ہے کہ کھونے کا خوصلہ نہیں مگر کھونے کے بعد سمجھ آتا ہے کہ سارا خوصلہ تو ہمارے اندر پہلے سے ہی موجود تھا“۔۔
اس کے لہجے میں کوئی لچک نہیں تھی۔شعلہ بار نگاہوں سے دونوں کو دیکھتی وہ دروازے کو ٹھوکر مارتی باہر نکل گئ۔۔
اذان نے نظر اٹھا کر دروازے کے پاس کھڑی زینی کو دیکھا کہ”میں نے کہا تھا جذبات اور احساسات سے زارا کاظمی کا کوئی لینا دینا نہیں ہے“۔۔زینی نے جاتی ہوئی زارا کو دیکھ کر سر نفی میں ہلایا کہ وہ جان ہی نہیں پائی اس کے پاس رہنے والی اس کی بہن زارا اتنی کٹھور کب ہو گئ۔زینی کا پلان اے فیل ہو چکا تھا مگر اس کے پاس پلان بی بھی تھا۔سالار کا بتایا ہوا پلان۔جو اب ساری بازی پلٹ سکتا تھا۔۔


زینی زارا کے کمرے میں آئی تو وہ پارلر جانے کے لیئے سامان بیگ میں رکھ رہی تھی۔ایک سرسری سی نگاہ زینی پر ڈال کر وہ پھر سے اپنے کام میں مصروف ہو گئ۔۔
”تم ایسی تو نہیں تھی زارا“۔
زینی نے کہا۔۔
”کیسی نہیں تھی میں؟“۔۔
وہ اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔۔
”وہ آپ کی بہن ہے زارا،اس کی خوشیاں اس تک پہچانا آپ کا فرض ہے نہ کہ ان خوشیوں کو چھیننا“۔۔
زینی نے اسے سمجھانے کی اپنی سی سعی کی۔۔۔
”اور تم میری بہن ہو،میری خوشیوں پر خوش ہونا تمہارا فرض ہے نہ کہ کسی اور کے مقدمے لڑنا“۔۔
زارا نے دوبدو جواب دیا۔۔
”آپ کی خوشی،خدا کی قسم اگر آپ کی خوشی اذان ہوتا تو میں بہت خوش ہوتی مگر اذان آپ کی ضد ہے زارا اور ضدوں سے خوشیاں خاصل نہیں ہوتیں“۔۔
زینی نے کہا۔۔
”کیا چاہتی ہو تم پھر“۔۔
زارا نے اکتا کر کہا۔۔
”اذان سارہ کا ہے تو اسے سارہ کا ہی رہنے دو۔تم اذان سے بیٹر ڈیزرو کرتی ہو“۔۔
زینی نے پھر بھینس کے سامنے بین بجائی۔۔
”اور وہ بیٹر حسام ہو گا ناں یقیناً“۔
زارا نے نخوت سے کہا۔۔
”کیا برائی ہے ان میں؟“۔۔
زینی نے پوچھا۔
”میں پوچھتی ہوں کیا اچھائی ہے اس میں؟“۔
زارا نے کہا۔۔
”تو آپ اپنا فیصلہ نہیں بدلیں گی؟“۔۔
زینی نے اس کی طرف دیکھا۔۔
”نہیں“۔۔
زارا نے کہا۔۔
”ٹھیک ہے آپ تیار ہیں،میں بھی اپنا سامان لاتی ہو پھر چلتے ہیں“۔۔
زینی نے کہا تو زارا نے مسکرا کر سر جھٹکا کہ سبھی اس کے آگے یوں ہی ہتھیار ڈال دیتے تھے۔مگر وہ بھی ”زینب رانا“ تھی ”زائرہ رانا“ کی بیٹی۔وہ بھلا کب پیچھے ہٹ سکتی تھی۔زارا کے کمرے سے نکلتے ہوۓ اس نے ایک میسیج ٹائپ کیا اور ”سالار“ کو سینڈ کر دیا۔۔


وہ پچھلے لان میں بیٹھی تازہ ہوا سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔یہ وہ جگہ تھی جہاں اس کی زندگی کے چھ سال درد اور تکالیف میں گزرے تھے اور یہ وہ جگہ بھی تو تھی جہاں اس کی زندگی کے اٹھارہ سال ہنستے مسکراتے اور شرارتیں کرتے گزرے تھے۔۔ان تمام جگہوں کو دیکھتی وہ کبھی کھل کر مسکراتی اور کبھی ایک کرب سا اس کی آنکھوں اور دل میں چھانے لگتا تھا۔۔وہ ان سب یادوں میں ایسی کھوئی ہوئی تھی کہ اسے پتہ ہی نہ چلا کہ کب وہ اس کے سامنے آ بیٹھا تھا۔۔
اپنے چہرے پر کسی کی نظروں کی تپش محسوس کرتے اس نے نظروں کو زاویہ موڑا تو وہ سامنے ہی کرسی پر بیٹھا بغور اس کو گھورنے میں مصروف تھا۔۔
”تمہیں وہ محبت یاد ہے جو ہم دونوں میں تھی؟“۔۔
اساور نے بات کا آغاز کیا۔وہ محبت کا انجام تھا شاید۔۔
”ہوا کے جھونکے بھلا کہاں اتنے خاص ہوتے ہیں کہ انہیں یاد رکھا جاۓ“۔۔
وہ بڑابڑائی تھی مگر اس کی بڑبڑاہٹ سامنے بیٹھے پروقار شخص نے سن لی تو پھیکا سا مسکرا دیا کہ وہ مسکراہٹ کئیں غموں کا پتہ دیتی تھی۔۔
”تو پھر ان آنکھوں میں ان ماہ و سال کی تحریر کیوں رقم ہے جو ہم نے ساتھ گزارے تھے اور جو ہم نے ساتھ ہو کر بھی ساتھ نہیں گزارے تھے“۔۔
وہ کوئی بھید کھولنا چاہتا تھا۔دانین نے اچنبھے سے اسے دیکھا کہ ان آنکھوں تحریر کو پڑھنا وہ اب تک جانتا تھا تو بیج کے وہ چھ سال یہ بصارت کہاں چلی گئ تھی۔۔
”ایسے ہی اس گھر سے ملے دکھ یاد آ گۓ تھے“۔۔
دانین نے لہجے کو سرسری بنایا۔اساور کی ہتھیلیاں بھیگی کہ وہ ان دکھوں بھرے چھ سالوں کو یاد رکھے ہوۓ تھی اور وہ محبت بھرے اٹھارہ سال بھول گئ تھی۔۔
”تمہیں میں نے ہمیشہ یاد رکھا دانی“۔۔
وہ اپنے محبت کا ٹرنک کھول کر بیٹھ گیا۔۔محبت کے پتے وہ ایک ایک کر کے ٹرنک سے نکالنے کے لیئے جھکا۔
”زارا نے مجھے بہت مایوس کیا“۔۔
دانین نے سہولت سے اس ٹرنک کو بند کیا۔۔محبت کے پتے کہیں اندر ہی دب کر رہ گۓ۔
”کچھ پل کو ہماری بات کریں“۔
اس نے التجا کی تھی۔۔اس کی التجا میں بےبسی تھی۔۔
”میں اس قصے کو اب نہیں چھیڑنا چاہتی،یہ ایسا قصہ ھے جو میری اردگرد درد کا ہالہ بنا لیتا ہے,میں اس قصے سے بہت دور سفر کرنا چاہتی ہوں“۔۔
وہ سپاٹ لہجے میں بولی۔۔اساور نے آنکھوں میں نہ جانے کون کون سے رنگ سمو کر اسے دیکھا تھا۔وہ ان سب رنگوں کو نظرانداذ کرتی وہاں سے اٹھ آئی کہ اب وہ ان رنگوں سے لاتعلقی ہی برتنا چاہتی تھی۔ان رنگوں کی شناخت اس کے لیئے کھٹن نہیں مگر تکلیف دہ ضرور تھی۔۔اساور نے دکھ سے اس حالی کرسی کو دیکھا جہاں کچھ دیر پہلے وہ موجود تھی۔۔آنکھ کے کنارے کو چھوتی واحد بوند کو اس نے انگلی کی پور سے صاف کیئے۔۔
”اس احتیاط سے روۓ کہ آنکھ نم نہ ہوئی“۔


جاری ہے۔۔۔۔