54.6K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Aankh Bhar Aansu) Episode 17

ہسپتال کے سفید کوریڈور پر تین گھنٹے سے وہ ایک ہی پوزیشن میں بیٹھا تھا۔بلکل ساکت جامد۔
چکنے فرش پر ٹہلتے ٹہلتے سارہ کی ٹانگیں شل ہو گئیں تھیں۔کوریڈو کے تیز تیز چکر کاٹتی زینی کئیں بار پھسلتے پھسلتے بچی تھی۔زینی سب سے نظریں چرائی چرائی پھر رہی تھی۔اس سب کا قصوروار وہ خود کو سمجھتی تھی۔سومو اور سعدی بھی پہنچ چکے تھے۔سومو نے آتے ساتھ ایک زوردار تھپڑ زینی کے منہ پر دے مارا تھا۔۔
”ہر مسئلے کا حل گفت و شنید سے ہوتا ہے،زور زبردستی سے نہیں۔اور تم نے کیا کیا،اپنی ہی بہن سے دھوکا“۔۔
سومو نے زارا کو اپنے بچوں کی طرح پالا تھا۔زارا کی حالت کا سن کر اس کا دل کٹ کر رہ گیا تھا۔زینی سر جھکائے کسی مجرم کی طرح کھڑی تھی۔۔
”ماما مجھے لگا وہ اپنا ہی نقصان کر رہی ہیں،ان کا فیصلہ ان کی ساری زندگی کے لیئے دیمک تھا ماما–!!“۔۔
اس نے سومو کا ہاتھ پکڑا جسے سومو نے فوراً جھٹکا اور دانین کے برابر میں ڈھے گئ تھی۔۔۔ آپریشن تھیٹر کے دروازے سے لگ کر کھڑا اساور پل پل مر رہا تھا۔۔۔۔۔
ساری زندگی اس نے اپنی بیٹی کو خود سے نفرت کرتے پایا تھا مگر وہ اس سے بہت محبت کرتا تھا۔
اساور نے بےبسی سے بچوں کی طرح بلکتی ہوئی دانین کو دیکھا ،اس کی فرنچ چوٹی ڈھیلی ہو کر بال چہرے کے اطراف میں بکھرے ہوئے تھے۔گالوں پر آنسوؤں کی لڑیاں بہہ رہی تھیں۔جسے بیس برسوں بعد اس نے دیکھا تھا،اسے بہت تکلیفیں دی تھیں،بہت درد دییئے تھی مگر اس نے ہمیشہ چاہا تھا کہ اسکے مقدر کی ہر تکلیف، ہر آزمائش خدا اساور کے کھاتے میں ڈال دی جاے وہ ہنستی رہے بھلے وہ روتا رہے۔۔۔۔ پر وہ سب نا ہو جو ہو رہا تھا۔۔۔۔جو ہو رہا تھا وہ ان دونوں کے لیئے مر جانے سے ذیادہ اذیت ناک تھا۔۔
” دانین حوصلہ کرو۔۔۔۔ ہماری زارا کو کچھ نہیں ہو گا”
سعدی اس کے گلے گیا تو وہ نئے سرے سے رونے لگی۔ وہ برسات اسکے دل کو بھگو رہی تھی۔ وہ نا روتی کہ اس وقت ساری کائنات دکھی تھی۔۔۔عینا اور سائرہ دعائیں مانگنے میں مصروف تھیں۔
اسی وقت آپریشن تھیٹر کا دروازہ کھلا اور ڈاکٹر باہر نکلا۔ڈاکٹر کو دیکھ کر سب بےقراری سے کھڑے ہو گۓ۔۔
”ابھی ہم کچھ کہہ نہیں سکتے،انہیں آئی-سی-یو میں شفٹ کر رہے ہیں،ایکسیڈنٹ میں ان کے برین آرگن ڈیمیج ہو گئے ہیں،اگلے چوبیس گھنٹے بہت اہم ہیں۔دعا کریں“۔
”خوش ہو گۓ آپ سب“۔۔
زارا چلا اٹھی تھی۔اذان نے آگے بڑھ کر اسے خوصلہ دینا چاہا مگر وہ اسے پیچھے دھکیلتی ہسٹریانی انداذ میں چیخنے لگی تھی۔اذان سے اسے سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا۔اساور بےیقینی سے پھٹی پھٹی آنکھوں سے آپریشن تھیٹر کو دیکھ رہا تھا جہاں اس کی بیٹی موت کی دہلیز پر کھڑی تھی۔۔
زینی منہ پر ہاتھ رکھے وہاں سے نکلتی چلی گئ۔اسے سالار کی بات نہیں ماننی چاہیئے تھی۔اس کی بات ماننے کی بہت بڑی قیمت چکائی تھی اس نے۔۔


چار گھنٹے گزر گۓ تھے۔
وہ ہنوز بے ہوش تھا۔ آکسیجن اور خوراک کی نالیاں مسلسل اپنا اپنا کام کر رہی تھیں۔۔
ڈاکٹر ابھی بھی اسکے ہوش میں آنے کے انتظار میں تھے۔۔حسام کسی صورت وہاں سے ہٹنے کو تیار نہیں تھا۔۔ اب بھی اسکے لاکھ سمجھانے اور منتیں کرنے پہ دیوار چھوڑ کہ بینچ تک آیا تھا۔۔
وہ چند گھنٹے اسے کئیں کرچیوں میں بانٹ چکے تھے۔۔
اپنے ارد گرد سے بے نیاز، حال سے بے حال بس وہ ساکت تھا۔ اذان نے بے بسی سے اسے دیکھتا رہا۔۔۔


آٹھ گھنٹے مزید گزر گۓ تھے۔۔
وہ ابھی تک بے ہوش تھی۔۔
“آئی ایم سوری“ڈاکٹر کے الفاظ پر سب کو لگا کہ کسی جلتی دوپہر میں وہ بےسائباں کھڑے ہیں”پیشنٹ کے سر کے پچھلے حصے میں کانچ کے کئ ٹکڑے پیوست ہو گۓ تھے،ہم نے وہ کانچ تو نکال دیئے مگر ان کا برین سسٹم بری طرح سے ڈیمیج ہو گیا ہے جس کی وجہ سے پیشنٹ کوما میں جا چکی ہیں،ان کو کوور کرنے میں کتنا عرصہ لگے گا ہم کچھ کہہ نہیں سکتے“۔۔ڈاکٹر افسوس سے گردن ہلاتا وہاں سے چلا گیا۔دانین گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھتی چلی گئ تھی۔حسام کے قدم لڑکھڑائے وہ دیوار کے ساتھ لگ کر بےبسی کے بیٹھتا چلا گیا۔۔
ڈاکٹروں کی باتیں زارا کے سر سے گز رہی تھیں۔وہ ہونقوں کی طرح سب کو دیکھے جا رہی تھی۔۔۔کافی دیر سب ساکت و جامد ایک دوسرے سے نظریں چرائے بیٹھے تھے۔دانین،زارا اور سومو کو عینا اور سائرہ نے بڑی مشکل سے آرام کے لیئے منایا تھا۔۔
حسام کو بھی اذان نے آرام کو کہا تھا۔۔
”میں ہوں یہاں حسام تم تھوڑی دیر ریسٹ کرلو“
”میں یہیں رہوں گا“۔۔
وہ قطعیت سے بولا تھا۔۔
وہ خاموش رہ گیا۔۔وہ کہتا بھی تو کیا کہتا کہ الفاظ اس وقت مردہ ہو کر کہیں دل کے ویران گوشے میں دفن ہو چکے تھے۔۔


”دور رہو مجھ سے،دور—بہت دور–قریب مت آنا میرے“۔۔
سارہ کے گالوں پر بہتے آنسوؤں کو اذان نے اپنی انگلیوں کی پوروں سے پونجا تو وہ چلا اٹھی تھی۔اذان کو زور کا دھکا دیتی وہ اس سے دور ہوئی تھی۔۔
”زارا!!!پلیز۔۔“۔۔
اذان نے بےبسی سے اسے دیکھا۔۔
”تم تم۔۔تم نے مار دیا میری بہن کو“۔۔
سارہ نفرت سے چنگھاڑی تھی۔۔
”سارہ نہیں یار۔!! ایسے مت کہو،کچھ نہیں ہو گا زارا کو۔۔“۔۔
وہ بھی رو دیا تھا۔زارا کی حالت دیکھی تھی اس نے۔اس کی حالت نے اسے ڈسٹرب کر دیا تھا۔۔
”کیوں نہ کہوں؟؟؟۔کیوں نہ کہوں؟؟؟وہ نہیں ہے زندہ۔یہ تو ڈاکٹرز اسے زبردستی زندہ رکھ رہے ہیں۔ہمیں جھوٹے دلاسے دے رہے ہیں وہ سب۔وہ مر چکی ہے اور اس کے ذمہ دار صرف اور صرف تم ہو۔بلکہ نہیں“بازو کی پشت سے آنکھیں رگڑتے کر وہ یوں مخاطب ہوئی جیسے کوئی نیم پاگل ہو”اس گھر میں رہنے والا ہر بندہ اس کی موت کا ذمہ دار ہے،میں اپنی بہن کا خون معاف نہیں کروں گی،کسی کو بھی نہیں“۔۔
”زارا ہم تو بس اسے روکنا چاہتے تھے کوئی غلط فیصلہ لینے سے اور وہ مجھ سے ہر گز بھی محبت نہیں کرتی تھی۔یہ تو جانتی ہو ناں تم تو پھر خود سوچو اس کا یہ قدم ایک بار پھر ماضی کو تھوڑے ردوبدل سے دہرا دیتا۔پھر کوئی دانین بیس سال تڑپتی،کوئی زارا بدلے کی آگ دل میں جلائے سارا جہاں راکھ کر دیتی،پھر کوئی سارہ قربانی دیتی مگر پھر کوئی اساور انتظار میں بیس سال نہیں گزارتا کیونکہ اب کے وہ جس کو اساور کا کردار ادا کرنے کا کہہ رہی تھی وہ اسے اس سب کے بعد دیکھتا بھی نہیں“اذان نے اسے شانوں سے پکڑ کر اپنے روبرو کیا۔وہ مسلسل روئے چلی جا رہی تھی۔۔”اور یہ ایکسیڈنٹ صرف اتفاق ہے۔زارا مرنا نہیں چاہتی تھی وہ جینا چاہتی تھی بس غصے میں گاڑی اس سے بےقابو ہو گئ۔وہ جینا چاہتی تھی ہم سب کے ساتھ،حسام کے ساتھ۔اور وہ جیئے گی۔ضرور جیئے گی“۔۔اذان نے اسے دھیرے سے اپنے خصار میں لے کر اس کا سر اپنے کندھے سے ٹکا دیا اور اس کے بال نرمی سے سہلانے لگا۔۔
”تمہیں یاد ہے ناں وہ جب پہلی بار یہاں آئی تھی اس کی آنکھوں میں صرف محبت تھی،امید تھی،خوشی تھی مگر جانے کیسے وہ آنکھیں پھر آگ بن کر دہکنے لگیں مگر وہ آگ نفرت کی بلکل نہیں تھی نہ بدلے کی تھی۔وہ ہماری زندگیوں میں اہم ہونا چاہتی تھی،وہ چاہتی تھی اسے سمجھایا جائے مگر ہم نے اسے مانا مگر سمجھا نہیں۔بس یہیں ہم سے غلطی ہو گئ“۔۔
اسے بازؤں کے حصار میں لیئے وہ بیڈ پر بیٹھ گیا۔اس کے اپنے بھی آنسؤں رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔۔
”اذان وہ میری بہن……میری زارا……“۔۔
اس کے لہجے کا درد ناسور بن رہا تھا۔۔
”ہم دعا اور دوا دونوں کریں گے،ہم اسے کچھ ہونے نہیں دے سکتے،ہم اسے کچھ ہونے ہی نہیں دیں گے“۔۔
وہ اسے دلاسہ دے رہا تھا۔وہ خود کو ہمت دے رہا تھا۔۔وہ خود کو کوس رہا تھا کہ زارا کی نفسیات کو اس نے بڑی دیر سے سمجھا تھا۔۔


وہ بوجھل قدموں سے چلتا ہوا دانین کے کمرے میں آیا۔وہ نماز پڑھ رہی تھی۔کچھ دیر وہ اسے دیکھتا رہا پھر تھکے تھکے قدموں سے چلتا ہوا صوفے کے پاس کارپٹ پر بیٹھ گیا۔۔اس کی چال میں لڑکھڑاہٹ تھی۔اس کے چہرے پر برسوں کی تھکان تھی۔اس کی آنکھوں میں موت کے مسافر کا سا کرب تھا۔۔دانین نے سلام پھیر کر اس شخص کو دیکھا جو آج بھی اتنا ہی ڈیشنگ تھا جتنا کہ بیس سال پہلے تھا مگر ان چند گھنٹوں نے اسے زندگی کے سب سے حساس درد سے روشناس کروایا تھا۔۔ایسا درد جو اندر سے کھوکھلا کرتا ہے تو چہرہ بھیانک ہونے لگتا ہے،اپنی رونق کھونے لگتا ہے اور وہ درد ہوتا ہے اولاد کا درد۔۔
دانین نے دعا کے لیئے ہاتھ اٹھائے تو آنکھوں کے راستے ایک سیلاب امڈ آیا تھا۔بےبسی کا سیلاب ،اپنے جگر گوشے کو درد میں دیکھ کر امڈ آنے والا سیلاب۔۔وہ کتنی ہی دیر دعا مانگتی رہی تھی کہ اس کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ہاتھوں کو چہرے پر پھیر کر اس نے جائے نماز تہہ کر کے صوفے پر رکھی اور اساور کے پاس کارپٹ پر ہی آ کر بیٹھ گئ۔۔سالوں کی ناراضگی تھی مگر دکھ ایک سا تھا۔۔
”میں نے سب گنوا دیا دانی-!!“۔۔
درد بولنے لگا تھا۔۔
”ماں باپ کا ہر فیصلہ چاہے غلط ہو یا صیح بچوں کو بھگتنا پڑتا ہے،ہم دونوں کے فیصلوں نے ہماری بچیوں کو بہت سفر کروایا“۔۔
اس کا بھی ضبط ٹوٹ رہا تھا۔۔
”دانی–!!دانی–!! زارا ٹھیک ہو جائے گی ناں“وہ دیوانوں کی طرح اس کے دونوں ہاتھ پکڑے روتے ہوئے ہوئے اسے جھنجھوڑ رہا تھا”پہلے تمہارا مجرم تھا،پھر زارا کا مجرم بنا اور اب میں اپنی ہی بیٹی کا قاتل ہوں“اس کے ہاتھوں پر اپنا چہرہ رکھتا وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیا تھا۔۔
”ایک فیصلہ تم نے کیا تھا مجھے چھوڑنے کا،اور ایک فیصلہ میں نے کیا تمہیں چھوڑ دیا۔دونوں نے ہی غلط کیا۔ہم دونوں نے بہت غلط کیا۔بروکن فیمیلیز کے بچے تو ایسے ہی ٹوٹے پھوٹے نکلتے ہیں ناں بلکل اپنی فیملی کی طرح“۔۔
چھت کو تکتی وہ ماضی کو کرید رہی تھی۔۔
”میں نے غلط کیا،صرف میں غلط تھا یار مگر اپنی ان غلطیوں کی سزا اپنی بچیوں کو نہیں بگھتنے دوں گا۔میں اپنے جسم کا ایک ایک حصہ بھی دے کر اپنی زارا کو بچا لوں گا“۔۔
تڑپ تمام حدیں توڑ رہی تھی۔۔
”زارا ٹھیک ہو جائے گی،ہاں ٹھیک ہو جائے گی“۔۔
دانین غائب دماغی سے بولی۔۔
”ہاں وہ ٹھیک ہو جائے گی،پھر ہم سب ساتھ رہیں گے۔ہمیشہ سے ہمیشہ تک“۔۔
اس نے اپنے آنسؤں صاف کیئے”سب ٹھیک ہو جائے گا پھر۔سب ٹھیک ہو جائے گا“۔دونوں کی بڑبڑاہٹیں جاری تھیں۔۔


زینی گاڑی بھگاتی ہوئی سالار کے دیئے ہوئے ایڈرس پر پہنچی تھی۔گاڑی بلڈنگ کی پارکنگ میں پارک کرتی وہ سیڑھیاں پھلانگتی ہوئی اس کے فلیٹ کی جانب بھاگتی چلی جا رہی تھی۔۔
سالار کے فلیٹ کے پاس پہنچ کر اس نے دروازہ زور سے بجانا شروع کر دیا اور ایک ہاتھ بیل پر رکھ لیا۔۔
”ابے دیکھ جا کر کہ کون پاگل ہے“۔۔
وہ سخت جھنجھلایا ہوا تھا۔۔اس کے دوست نے جیسے ہی دروازہ کھولا وہ بجلی کی سی تیزی سے اندر داخل ہوئی۔۔
”زینی تم؟؟“۔۔
وہ اسے دیکھ کر کھڑا ہو گیا مگر اس کی سوجھی آنکھیں دیکھ کر مسکرا بھی نہیں سکا تھا۔۔زینی نے آگے بڑھ کر ایک زوردار تھپڑ اس کے منہ پر دے مارا تھا۔اس کے دوست نے حیرت سے اس منظر کو دیکھا۔خود اسے بھی یقین نہ آیا کہ زینی اس پر ہاتھ اٹھا سکتی ہے۔۔
”تم،تم مسٹر سالار–!!تم نے سب برباد کر دیا۔مار دیا تم نے میری بہن کو،مر گئ وہ“۔۔
اس کو گریبان سے پکڑ کر وہ چلائی تھی۔سالار کد چہرہ یہ سن کر تاریک ہوا تھا۔آنکھیں جلنے لگیں تھیں۔۔
”کک کیا کک کہہ رر رہی ہو؟؟رباب کو کیا ہوا ہے“۔۔
وہ ہکلا رہا تھا۔اس کی آنکھوں میں بےیقینی تھی۔۔
”مر گئ رباب۔مر گئ۔سب ختم ہو گیا“۔۔
وہ بےبسی سے رو دی تھی۔۔اس کا دوست وہاں سے چلا گیا کہ وہ کھل کر اپنا دکھ شئیر کر سکیں۔۔
”اوہ!!!! یہ میں نے کیا کر دیا“۔۔
وہ صوفے پر ڈھے گیا تھا۔بالوں کو مٹھی میں دبوچتا وہ دبا دبا سا چیخا تھا”تم جھوٹ بول رہی ہو ناں۔مذاق کر رہی ہو۔کچھ نہیں ہوا ناں رباب کو“۔۔
”اس کا ایکسڈنٹ ہو گیا۔وہ کوما میں جا چکی ہے“۔۔
زینی بھی اس کے برابر میں بیٹھ گئ۔۔سالار نے کرب سے اپنی آنکھیں بھینچ لیں۔۔اس کی روح پر ایک بھاری بوجھ آن گرا تھا۔۔
”نن نہیں نہیں!!پریشان کیوں ہو رہی ہو؟؟؟وہ ٹھیک ہو جائے گی۔۔ہاں وہ ٹھیک ہو جائے گی“۔۔وہ مسکرایا تھا مگر یہ مسکراہٹ پھیکی تھی۔زینی نے خیرانی سے اسے دیکھد جو پاگلوں کی طرح ری-ایکٹ کر رہا تھا۔۔


جاری ہے۔۔