Aankh Bhar Aansu (Inteqam Lal Ishq Season 2) By Pareeshay Mahnoor Readelle50255 (Aankh Bhar Aansu) Episode 21
Rate this Novel
(Aankh Bhar Aansu) Episode 21
حیا کی تدفین کے بعد وہ دیر تک اس کی قبر پر بیٹھا رہا تھا۔سالار نے اسے بمشکل شام کو قبر کے پاس سے اٹھایا اور لا کر گاڑی میں بیٹھ گیا۔۔
”خوصلہ کرو یار“۔۔
اسے فرنٹ سیٹ پر بٹھاتے سالار ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کرنے لگا۔۔
”گاڑی ہسپتال کی طرف موڑ دو“۔۔
وہ کھڑکھی سے باہر دیکھنے لگا تھا۔۔
”کیوں؟؟“۔۔
جانتے بوجھتے اس کا دھیان بٹانے کو سوال کیا تھا۔۔
”رباب سے نہیں مِل پایا“۔۔
وہ ہر روز اس سے ملنے جاتا تھا۔ذیادہ نہیں ٹھہرتا تھا کہ کوئی دیکھ لے گا مگر پھر بھی جاتا تھا۔وہ بہن تھی اس کی۔اس کی تکلیف پر کلیجہ منہ کو آتا تھا۔۔
”کل مِل لینا یار! آج تیری طبیت ٹھیک نہیں ہے“۔۔
سالار نے ٹالنا چاہا۔۔
”نہیں ہسپتال چلو“۔۔
اٹل لہجہ تھا۔سالار نے ایک گہری سانس لے کر گاڑی ہسپتال کی طرف موڑ دی۔۔۔
ہسپتال پہنچ کر سالار نے گاڑی پارک کی اور سر سیٹ کی پشت سے ٹِکا دیا۔۔رضا اتر کر ہسپتال کے اندر چلا گیا۔۔
کوڑیڈو سے گزرتا ہوا وہ زارا کے کمرے میں پہنچا۔۔زارا سو رہی تھی۔۔وہ نہیں جانتا تھا کہ زارا کوما سے باہر آ چکی ہے۔۔
اس وقت باقی سب بھی زارا کو آرام کرنے کی تلقین کر کے کھانا کھانے جا چکے تھے۔۔
وہ قدم قدم چلتا اس کے بیڈ کے پاس آیا تھا۔ہاتھ بڑھا کر اس کے بالوں پر پھیرا تو زارا کی نیند ٹوٹی تھی مگر اس نے آنکھیں نہیں کھولیں۔اسے لگا حسام ہے مگر اگلے ہی پل اسے یہ لِمس کچھ جانا پہچانا لگا تھا۔۔پچھلے ڈیڑھ سال سے وہ اس لمس کو محسوس کر رہی تھی۔۔
”آپ کو پتہ ہے رباب!! آج میری ماما مر گئیں“۔۔
اس کا ہاتھ پکڑ کر وہ اس کے پاس ہی بیٹھ گیا۔”میں اکیلا تھا اور آج پھر اکیلا رہ گیا رباب!! بس آپ جلدی سے ٹھیک ہو جائیں“۔۔اپنی آنکھیں صاف کرتا وہ پھیکا سا ہنسا تھا۔۔زارا نے پہچان لیا یہ آواز میر کی تھی۔۔وہ کیسے بھول سکتی تھی اس آواز کو۔۔مگر وہ اس سے ملنے اتنے عرصے سے کیوں آ رہا تھا؟؟ وہ اسے اپنے دکھ کیوں سنا رہا تھا؟؟
”ماما نے کہا آپ سے اور سارہ سے ان کی طرف سے معافی مانگوں۔آپ ٹھیک ہو جائیں تو میں آپ کے پیروں میں بیٹھ کر اپنی ماں کے لیئے معافی طلب کروں گا۔۔“۔۔
زارا کو حیرت ہو رہی تھی۔۔
”پتہ ہے جب ماں جاتی ہے تو دنیا اندھیر ہو جاتی ہے,میری دنیا اندھیر ہو گئی ہے،اچھا آپ بھی کہہ رہی ہوں گی کیا اپنے دکھ لے کر بیٹھ گیا ہوں۔چلتا ہوں آپ آرام کریں“۔۔
وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔۔جھک کر زارا کے ماتھے پر بھوسہ دیا اور واپس نکل گیا۔۔
اس کے جاتے ہی زارا اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔ہاتھ سے ماتھے کو چھوا۔۔یہ کیوں آیا تھا؟؟اور اس کا لمح ناگوار کیوں نہیں لگا تھا۔۔
وہ سکتے میں تھی۔وہ مسلسل رضا کے بارے میں سوچے جا رہی تھی کہ وہ کیوں ہمدردی جتا رہا تھا؟؟ اور وہ ہمددری سے ذیادہ محبت معلوم ہوتی تھی۔۔
زارا کو آج ڈسچارج کر کے گھر لایا جا چکا تھا۔اس کی بیماری کے متعلق ڈاکٹر رؤف نے اساور اور حسام کو بتا دیا تھا اور وہ دونوں سن کر کتنے ہی پلوں تک ہِل نہیں پائے تھے۔۔
اور باقی سب سے وہ اس بات کو چھپا چکے تھے۔۔
”ویلکم بیک ہوم زارا کاظمی“۔۔
زارا حویلی آئی تھی۔۔اذان اور سارہ نے اس کا استقبال بہت شاندار کیا تھا۔۔حویلی آنے کی خواہش زارا کی تھی اور وہ ایک طویل عرصے کے بعد زندگی کی طرف لوٹی تھی۔دانین اسے کوئی غم مزید نہیں دینا چاہتی تھی۔اس لیئے اسے چپ چاپ جانے دیا۔۔
”اذان صاحب!! باقی کا استقبال اپنے بےبی کے لیئے رکھ لو“۔۔
زارا نے ہلکا سا مسکرا کر کہا۔۔
”کیوں بچاؤں؟؟ میں تمہارا ویلکم کر رہا ہوں،تم میرے بےبی کا کرنا۔ادلے کا بدلہ“۔۔
اذان نے کہا۔۔
”اوں ہوں!! اس سے بھی شاندار ویلکم کروں گی۔اگر زندگی نے موقع دیا تو“۔۔
آخری بات اس نے دھیرے سے کی تھی کہ کوئی سن نہ لے۔۔
سب بہت خوش تھے اور کتنے ہی عرصے بعد آج وہ بھی خوش تھی۔یہ خوشیاں سب اس کی تھیں جنہیں وہ اپنے ہاتھوں سے گنوا رہی تھی۔۔
کچن سے مزیدار کھانوں کی مہک اٹھ رہی تھی۔۔زارا کے لیئے اساور آج خود کھانا بنا رہا تھا۔۔سارہ پاس کھڑی ہنس ہنس کر اپنے باپ کو دیکھ رہی تھی۔۔
”میں ہسپتال جا رہا ہوں،کوئی مسئلہ ہوا تو مجھے فون کر لینا“۔۔
لاؤنج سے گزرتے حسام نے کہا۔۔
”کیوں جا رہے ہو،آج موسم دیکھو کتنا سہانا ہو رہا ہے اور بابا جان اپنے ہاتھوں سے زارا کے لیئے کھانا بنا رہے ہیں،سرسبز لان میں بیٹھ کر ہم بھی کھانے کے ساتھ دو دو ہاتھ کر لیں گے“۔۔
اذان نے کہا۔۔
”تم کیوں دو دو ہاتھ کرو گے،میرے بابا صرف میرے لیئے بنا رہے ہیں،پھر بھی تم رک جاؤ حسام۔تمہیں دے دوں گی اِتو سا“۔۔
زارا نے شرارت سے کہا تو اذان ہنس پڑا جبکہ حسام نے اثبات میں سر ہلایا جیسے اسی انتظار میں ہو کہ زارا کہے اور وہ رک جائے۔۔
”دیکھا دیکھا۔۔کہیں نہیں جا رہا تھا یہ۔۔صرف چاہتا تھا کہ تم اسے روکو“۔۔
اذان نے کہا۔۔
”شٹ اپ!!“۔۔
مسکراہٹ دباتا حسام واپس اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔پیچھے سے اذان کا قہقہہ بےساختہ تھا۔۔زارا نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا تو وہ سیدھا ہو کر آگے کو جھک کر بیٹھتے ہوئے بولا۔۔
”ویسے تمہارے دل میں بھی اس نکمے ڈاکٹر کو دیکھ کر کچھ کچھ ہوتا ہے ناں“۔۔۔
انداذ رازدارانہ تھا۔۔
”جوتی مارنی ہے میں نے تمہیں“۔۔
زارا جھینپ گئی۔۔
”اوہ!!! واؤ!!! آپ نے دیکھا بابا جان!! لڑکی شرما گئی“۔۔
اذان بلند آواز سے بولا تو کچن سے اساور اور سارہ ایک ساتھ باہر نکلے۔۔زارا نے اذان کی طرف آنکھین نکالیں کہ زبان کو کنٹرول میں رکھے۔۔
”کیا ہوا؟؟“۔۔
سارہ نے ناسمجھی سے اذان اور زارا کو دیکھا۔۔
”کچھ نہیں!! سیونٹیز کی مووی کا سین مِس کر لیا آپ نے۔ابھی جائیں کھانا پکائیں“۔۔
اذان نے لہجہ سرسری بنایا مگر شوخی جھلک رہی تھی۔۔زارا نے شکر کیا کہ اساور اور سارہ نے نہیں سنا۔۔
سارہ کندھے اچکاتے واپس کچن میں گھس گئی۔۔
”صرف سیونٹیز کی ہی نہیں آج کل موویز میں بھی لڑکیاں شرماتی ہیں“۔۔
اساور کی بات پر زارا کی آنکھیں پوری طرح کھل گئیں تھیں۔۔اساور ہنستے ہوئے دوبارہ کچن میں چلا گیا۔۔اذان نے منہ پر ہاتھ رکھ کر بےساختہ نکل جانے والے قہقہے کو روکا اور زارا کا ہاتھ جوتے کی طرف بڑھتا دیکھ کر وہ الٹے پیروں وہاں سے بھاگا تھا۔۔
”ماما!!“۔۔
دانین حویلی نہیں گئی تھی۔وہ اپنے گھر لوٹ آئی تھی۔اور ابھی اپنے کمرے میں بیٹھی اپنے حالی رہ جانے والے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی کہ زارا کا فون آ گیا۔۔
”جی ماما کی جان!“۔۔
دانین کو لگا وہ دونوں صدیوں کی بچھڑی ہوئی ہیں۔آواز بھرا گئی تھی۔۔
”آپ حویلی آ جائیں ناں“۔۔
معصوم لہجے میں التجا کی گئی تھی۔یہ وہ التجا تھی جسے اس نے بیس برسوں میں جوتی کی نوک پر رکھا تھا۔یہ وہ لہجہ تھا جو زارا نے اساور سے چرا لیا تھا۔دانین ہونٹ بھینچ کر رہ گئی کہ محبوب کی التجا ٹھکرائی جا سکتی ہے مگر اولاد کی کیسے۔۔
”تم چاہتی ہو تمہاری ماں پتھر ہو جائے؟“۔۔
”اساور کاظمی کی سنگت آپ کو پتھر کبھی نہیں کر سکتی ماں“۔۔
وہ آج باپ کی وکیل بن گئی تھی۔۔
”اساور کاظمی کی سنگت نے ہی تو پتھر کر دیا مجھے زارا !!“۔۔
وہ بیٹی سے باپ کے شکوے نہیں کرنا چاہتی تھی مگر سامنے آج بیٹی نہیں اساور کی وکیل تھی۔۔
”ماما کچھ دیر کو آ جائیں“۔۔
پھر سے اساور کے لہجے میں التجا پیش کی گئی تھی۔۔دانین کا دل کٹ گیا تھا۔۔
”تم اپنے باپ کے پاس رہنا چاہو تو رہ سکتی ہو ، دانین کو بھلا کیا اعتراض ہو گا“۔۔
حوصلے کو پہاڑ بنانا تھا اگرچہ وہ ریت کی بھربھری دیوار تھا۔۔
”میں اپنی ماں اور باپ دونوں کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں“لہجہ ہی نہیں الفاظ بھی اساور کی مرضی کے تھے”ماما معاف کر دیں بابا کو ، مرد دوسری شادی کرے تو وہ بےوفائی نہیں اس کا خق ہوتا ہے جو اسے مذہب کی رو سے حاصل ہوتا ہے“۔۔
بات سو ٹکہ ٹھیک تھی مگر بہت تیز تھی۔۔کٹ کٹ کٹ دانین کا دل کئیں چھیتڑوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔۔
”پہلے تم بولتی تھی تو لگتا تھا اساور کا خون بول رہا ہے مگر اب تمہارے الفاظ نے مجھے کاٹا ہے تو جانا تم میں تو ہمیشہ سے اساور بولتا ہے“۔۔
آنسو ٹپ ٹپ ٹپ گالوں پر بہہ نکلے تھے۔ زارا کا اپنا دل کٹ کر رہ گیا تھا۔۔
”ماما آج آ جائیں ، پھر ہم واپس چلے جائیں گے“۔۔
وہ باپ کی محبت پر ماں کی سالوں کی قربانی کو نہیں بھول سکتی تھی۔۔ وہ حودغرض تھی نہ ہی احسان فراموش۔۔
”نہیں اب کہ مجھے اکیلے رہ لینے دو“۔۔
درد لہجے سے ٹپک رہا تھا ، قطرو قطرہ ، بوند بوند۔۔
”دانین جب جب اکیلی رہنا چاہے گی زارا کو اپنے پاس پائے گی“۔۔
زارا نے لہجہ ہلکا پھلکا کیا تو دانین بھی آنسؤوں کے درمیان مسکرا دی۔۔
”میں آتی ہوں زارا!!“۔۔
دانین نے خامی بھر لی تھی۔ وہ زارا کو خوش رکھنے والا ہر لمحہ اسے دینا چاہتی تھی۔۔
”اچھا سنیں پاپا اور مامی کو بھی بلایا میں نے۔بولے آپ نہیں آئیں گی اس لیئے وہ بھی نہیں آئیں گے تو اب انہیں کہیئے کہ جا رہی ہوں میں“۔۔
زارا نے کہا اور پھر کچھ باتوں کے بعد فون بند ہو گیا تو دانین تیار ہونے لگی۔ شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے اپنا جائزہ لیا۔۔سفید گھٹنوں تک آتی شرٹ کے ساتھ سفید ٹراؤزر پہن رکھا تھا۔ ہلکے گلابی رنگ کی شال اس نے اپنے گرد لپیٹ لی تھی۔۔ ہمیشہ کی طرح بالوں کی فرنچ چوٹی بنی ہوئی تھی جس کے اطراف سے دو چار لٹیں کسی آوارہ محبوب کی طرح بکھری ہوئی تھیں۔۔
وہ اس عمر میں بھی خاصی جاذبِ نظر تھی۔ایک آخری بار زارا کے لیئے حویلی جانے کا وعدہ خود سے کر کے وہ کمرے سے نکل آئی تھی۔ سامنے ہی لاؤنج میں سومو ، زینی ، اور سعدی تیار کھڑے تھے۔۔ انہیں زارا فون کر کے دانین کی رضامندی کا بتا چکی تھی۔۔
”واؤ پھپھو!!! یو لکنگ سو گورجیس“۔۔
اسے دیکھتے ہی فوراً زینی نے کہا تھا۔۔زینی ہمیشہ اسے ایسے کمنٹس دیتی رہتی تھی۔۔دانین نے ذرا سا مسکرا کر اسے دیکھا اور پھر سب حویلی کے لیئے نکل گئے۔۔
”کاظمی حویلی“ میں آج جیسے زندگی لوٹ کر آ گئی تھی۔ کچن سے خوشبوئیں اٹھ رہی تھیں۔دانین بھی آ گئی تھی۔۔
اساور نے آج سب کے لیئے خود کھانا بنایا تھا اور سارہ نے اس کی ہیلپ کی تھی۔۔
کاظمی حویلی کے سرسبز لان میں بچھی کرسیوں پر سب نے بیٹھ کر پرتکلف کھانے کا لطف اٹھایا تھا۔۔
”بابا!!“۔۔
کھانے سے فارغ ہو کر اساور فریش ہونے اپنے کمرے میں چلا آیا تھا کہ زارا بھی تھوڑی دیر بعد کمرے میں داخل ہوئی۔۔
”جی بچے!!“۔۔
اساور نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔۔
”میں اور ماما واپس ترکی جا رہے ہیں“۔۔
صبح دانین سے کیئے وعدے کو پورا کرنا تھا۔اور وہ وعدہ پورا کرنے کا فیصلہ کر چکی تھی۔۔
”زارا۔۔۔!!“۔۔
بےبسی سے کہا گیا تھا۔۔ اساور نے کہاں سوچا تھا اس کے پاس اب بھی اس کی بیٹی نہیں رہ پائے گی۔۔
”بابا ماما نہیں رہنا چاہتیں یہاں اور میں ماما کے بغیر پاکستان میں نہیں رہ سکتی“۔۔
لہجہ بتا رہا تھا وہ خود بھی نہیں جانا چاہتی مگر وہ جا رہی ہے۔۔
”آپ جانا چاہتی ہیں؟“۔۔
اساور نے اس سے پوچھا۔۔
”میں جانا نہیں چاہتی مگر پھر بھی جا رہی ہوں بابا!!“۔۔
”تم دانین کو سمجھا سکتی ہو زارا ، اسے کہو اب کے مت جائے“۔۔
التجا کی گئی تھی۔۔
”میں نے سمجھایا تھا انہیں ، کہا تھا رک جاتے ہیں مگر انہوں نے دکھ بھرے لہجے میں کہا کہ”زارا تو چاہتی ہے میں پتھر ہو جاؤں“ پھر میں نے کہا اساور کاظمی کا ساتھ آپ کو پگھلا سکتا ہے تو وہ پھیکا سا ہنس کر بولیں کہ ”جس شخص کے ساتھ نے مجھے پتھر کر دیا بھلا اس کا ساتھ اب میرے لیئے محبت کیسے ہو سکتا ہے“۔۔“۔۔۔
اساور کا چہرہ شرمندگی کے احساس سے جھکتا دیکھ کر زارا کا دل بھی تاریک ہوا تھا۔۔
”حسام سے شادی کر لو زارا“۔۔
اساور کے غیرمتوقع جملے پر زارا نے خیرانگی سے اساور کی طرف دیکھا۔۔
”بابا میں نہیں کر سکتی“۔۔
انکار فوراً آیا تھا۔۔ اساور کو بھلانے آتے حسام نے اس کے الفاظ سنے تو ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا پایا تھا۔۔
”زارا وہ آپ سے محبت کرتا ہے ، آپ کے پاس اس کو ٹھکرانے کی اب کون سی وجہ ہے“۔۔
حسام کا پورا جسم کان بن گیا تھا۔۔ حسام وہ الفاظ زارا کے منہ سے سننا چاہتا تھا جو اسے ایک بار پھر ٹھکرانے کے لییئے وہ استعمال کرے گی۔۔
”حسام اچھے سے جانتا ہو گا میں کیوں انکار کر رہی ہوں“۔۔
اِدھراُدھر دیکھتے ہوئے وہ بولی تھی۔۔ حسام کو حیرت ہوئی کہ وہ کون سی وجہ ہے جو زارا کے ساتھ وہ جانتا ہے۔۔
”ایسی کون سی وجہ ہے زارا ، کیا آپ کو حسام پسند نہیں؟“۔۔
اساور نے کہا۔۔
”ایسا نہیں ہے بابا کہ وہ مجھے پسند نہیں ھے ، بس اتنا ہے کہ حسام کی قسمت میں زارا اور زارا کی قسمت میں حسام نہیں ہے“۔۔
”ایسا کیوں؟؟“۔۔
اساور کا لہجہ تھوڑا تیز ہوا تھا۔۔
”کیونکہ جینے کے لیئے ذیادہ وقت نہیں ھے میرے پاس ، کچھ دن یا کچھ مہینے میرا دل کان کرے گا اور پھر بند ہو جائے گا ، وہ جو مجھے پا کر کھو دینے کا دکھ ہو گا وہ کھو کر کھو دینے سے کم ہو گا“۔۔
وہ رو پڑی تھی۔۔ اساور نے ڈبڈباتی آنکھوں سے اپنی بیٹی کو دیکھا جس کے اندر جینے کی خواہش تھی مگر وقت نہیں تھا۔۔ حسام نے بےاختیار اپنے ماتھے کو چھوا تھا کہ جو بات صرف وہ اور اساور جانتے تھے اور انہیں لگتا تھا کہ صرف وہی جانتے ہیں ۔ اس بات سے تو خود زارا بھی واقف تھی۔۔ حسام آہستگی سے دروازہ دھکیلتا اندر داخل ہوا۔ اسے دیکھ کر زارا نے فوراً سے اپنے آنسو روکے تھے۔۔
”کچھ نہیں ہو گا تمہیں ، ہارٹ ٹرانسپلانٹ کروانا ہو گا تمہارا اور مجھے یقین ہے بہت جلد ٹرانسپلانٹ کے لیئے ہارٹ مِل جائے گا“۔۔
وہ امید دینا چاہتا تھا۔زارا کو ، اساور کو اور خود کو۔۔
”اور اگر نہیں مِلا تو زبردستی زندہ رکھ سکتے ہو مجھے“۔۔
زارا نے کہا۔۔
”زارا یقین رکھیں بیٹا ، آپ کا ٹرانسپلانٹ ضرور ہو گا اور آپ بلکل ٹھیک ہو جائیں گی“۔۔
اساور کا لہجہ ایک دم سے بہت ذیادہ ٹھوس اور پرامید ہو گیا تھا۔۔
”جی بابا جان بلکل ، زارا ٹھیک ہو جائے گی“۔۔
حسام جیسے زبردستی زارا کا خوصلہ بڑھانے کو مسکرایا تھا۔۔
“تم کیوں اپنی زندگی برباد کر دینا چاہ رہے ہو؟“۔۔
زارا نے اس کی زبردستی کی مسکراہٹ پر آنکھیں نکالتے ہوئے کہا۔۔
”میری زندگی ہے جو چاہے کروں“۔۔
وہ شرارت سے بولا کہ زارا کا موڈ ٹھیک ہو جائے۔۔اساور نے آگے بڑھ کر زارا اور حسام کو گلے لگا لیا۔۔
”زارا تم ٹھیک ہو جاؤ گی اور حسام کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزارو گی“۔۔۔
یقین کی آنچ دیتا وہ لہجہ زارا کے دل کی ڈھارس بندھا رہا تھا۔۔
جاری ہے۔۔
