Aankh Bhar Aansu (Inteqam Lal Ishq Season 2) By Pareeshay Mahnoor Readelle50255 (Aankh Bhar Aansu) Episode 10
Rate this Novel
(Aankh Bhar Aansu) Episode 10
”جی ماں میں دو دن بعد واپس آ رہی ہوں“۔۔
فون کان سے لگاۓ وہ اپنا سامان سمیٹ رہی تھی۔۔
”اساور آیا تھا تم سے ملنے؟؟“۔۔
دانین نے پوچھا تو اس کے ہاتھ چند پل ساکت ہوۓ اور پھر دوبارہ سے وہ مصروف ہو گئ۔۔
”آپ کیوں پوچھ رہی ہیں ماں؟؟“۔۔
اس نے ہلکے پھلکے لہجے میں پوچھا۔۔
”تم بتاؤ آیا تھا کہ نہیں وہ؟؟“۔۔
دانین نے پوچھا۔۔
”آۓ تھے،میں نے ریسیپشن پر کہلوا دیا کہ ”میں نہیں ہوں“۔۔
زارا نے کہا۔۔
”وہ تم سے ملنے آیا تھا۔وہ باپ ھے تمہارا“۔۔
دانین سخت لہجے میں بولی۔۔
”جانتی ہوں ماں“۔۔
وہ اکتا گئ تھی۔۔۔
”آنے سے پہلے اس سے مل لینا اور انفیکٹ آنے کی ضرورت بھی نہیں ھے سارہ کی شادی فکس کر رہے ہیں تمہارے ڈیڈ“۔۔۔
دانین نے کہا۔۔
”سارہ کی شادی؟؟“۔۔
زارا کے چہرہ کھل اٹھا تھا خوشی سے۔۔
”ہاں میں بھی آ رہی ہوں کچھ دن تک بلکہ ہم سب تمہارے بابا،ممانی،اور زینی آ رہے ہیں“۔۔
دانین نے کہا۔۔
”ٹھیک ہے ماں“۔۔
وہ دھیمے سے بولی تو اس بدلاؤ پر دانین جی جان سے خوش ہوئی۔تھوڑی دیر دانین سے باتیں کرنے کے بعد زارا نے فون رکھا اور ”کاظمی حویلی“ جانے کے لیئے تیار ہونے لگی۔ہر نفرت کو ہر بغض و کینہ کو اپنے دل سے نکال کر صرف اپنی بہن کو مبارکباد دینے وہ بیس سالوں بعد اس حویلی واپس جا رہی تھی۔۔
_________________________________
آج اتوار کا دن تھا۔سب حویلی میں موجود تھے۔سب کی موجودگی نے حویلی کو رونق بخشی ہوئی تھی۔وہ جس وقت حویلی کے گیٹ سے اندر داخل ہوئی سب لان کی کشادہ ٹیبل کے گرد جمع ناشتہ کر رہے تھے۔۔
”زارا!!تم“۔۔
اسے دیکھ کر حسام فوراً کھڑا ہوا تھا تو وہیں حسام کو وہاں دیکھ کر وہ ٹھٹھکی تھی۔۔حسام کے کہنے پر سب نے پلٹ کر اس سمت دیکھا۔اور یقین کرنا چاہا کہ وہ واقعی زارا ہے۔وہ حویلی آئی تھی۔۔
”زارا میرا بچہ“۔۔
اساور آبدیدہ سے اس کی طرف بڑھے تھے۔اسے گلے سے لگاتے اس کا ماتھا چوما تو وہ ان کا لمس پا کر مسکرا اٹھی تھی۔۔
”مجھے تھپڑ یاد ہے“۔۔
اذان نے معصوم سا منہ بنا کر کہا تھا۔۔
”زارا آئی ہے“۔۔
اندر سے آتی سارہ نے اسے دیکھ کر خوشی سے دوڑ لگائی ہی تھی کہ سیڑھی پر پڑے گملے سے ٹکرا کر منہ کے بل گری تھی۔۔
”سارہ!!“۔۔
زارا کو خود سے الگ کر کے پرے دھکیلتے اساور سارہ کی طرف بھاگا تھا۔زارا حیرت سے اپنے باپ کو دیکھا جس کو جیسے فرق ہی نہ پڑا ہو کہ بیٹی سات سمندر پار کر کے اس سے ملنے آئی ہے۔اسے آج بھی دو میں سے ایک کو ہی اہمیت دینی آتی تھی۔اسے آج بھی رشتوں میں توازن رکھنا نہیں آتا تھا۔۔زارا نے دیکھا ایک ایک کرتے سب سارہ کے پاس جمع ہو گۓ تھے۔اس کے شاید پاؤں پر لگی تھی۔وہ درد سے کراہ رہی تھی۔۔زارا نے دیکھا وہ وہاں اکیلی رہ گئ تھی۔سارہ کو اٹھاۓ سب حویلی کے اندر جا چکے تھے۔کسی کو ایک پل کو بھی یاد نہ آیا تھا کہ پیچھے وہ بھی کھڑی ہے۔وہ جو گرم جوش استقبال اور والہانہ محبت کی امید ماں کے الفاظوں سے لگا بیٹھی تھی وہ سب امیدیں تو مٹی کے گھروندے تھے۔۔بےساختہ آنکھ سے بہہ جانے والے آنسو کو صاف کرتے وہ واپس پلٹی تھی۔گیٹ کے پاس پہنچ کر اس نے ایک نظر مڑ کر حویلی کو دیکھا اور وہ فیصلہ کیا جو وہ کبھی نہ کرتی مگر اب کر رہی تھی۔۔ایک فیصلے پر پہنچ کر وہ نم آنکھوں سے مسکرائی۔بھسم کر دینے والی مسکراہٹ اور حویلی سے بہت دور نکلتی چلی گئ۔۔
_________________________________
”آپ ٹھیک ہیں سارہ بیٹا“۔۔
حسام نے اس کے پاؤں پر بینڈیج کر دی تو اساور فکرمندی سے سارہ کی طرف بڑھے۔۔
”میں ٹھیک ہوں بابا۔زارا کہاں ہے“۔۔
وہ اپنی تکلیف نظرانداذ کرتے بولی تو سب کو خیال آیا کہ وہاں زارا نہیں ہے۔۔
”ابھی تو یہیں تھی کہاں گئ؟؟“۔۔
اساور نے کہا۔۔
”وہ وہیں کھڑی تھی ہمارے ساتھ اندر نہیں آئی بابا“۔۔
اذان نے کہا۔۔
”میں دیکھتا ہوں شاید باہر ہی ہو“۔۔
حسام کہتا ہوا باہر کی جانب چلا گیا۔۔باہر آ کر اس نے دیکھا مگر وہ وہاں نہیں تھی۔۔
”صغیر صغیر!! حویلی سے کوئی باہر گیا ہے؟؟“۔۔
حسام نے چوکیدار کو آواز دے کر پوچھا۔۔
”جی چھوٹے صاحب ابھی ابھی سارہ بی بی جیسی کوئی بچی باہر گئ ہے،وہ بہت رو رہی تھیں“۔۔
صغیر نے بتایا تو حسام نے بےاختیار سر پکڑ لیا۔اتنا تو وہ جان گیا تھا وہ چلی گئ ہے تو مطلب چلی گئ ہے اب کہ واپس نہیں آۓ گی اور اگر وہ روتی ہوئی گئ ہے تو کچھ کر گزرے گی۔۔
”وہ چلی گئ ہے باہر نہیں ہے“۔۔
حسام نے اندر آ کر بتایا۔۔
”بابا وہ پھر سے ناراض ہو کر چلی گئ ہے۔آپ نے دیکھا بابا اس کی آنکھوں میں بس محبت تھی آج۔گزرے دنوں کی کوئی خلش لے کر نہیں آئی تھی وہ نہ جانے کون سی خلش لے کر گئ ہے“۔۔
سارہ رونے لگی تھی۔۔
”اسے کوئی کام ہو گا اسی لیئے چلی گئ آجاۓ گی“۔۔
حسام نے سارہ کو دلاسہ دینا چاہا۔۔
”میری بیٹی میرے پاس آئی اور چلی گئ۔انجانے میں ایسی کون سی غلطی ہو گئ مجھ سے“۔۔
اساور بھی صوفے پر ڈھے گۓ تھے۔۔
”بابا آپ پریشان نہ ہوں میں ابھی اسے لے کر آتا ہوں“۔۔
حسام نے کہا اور دروازے کی طرف بڑھ گیا۔۔
”میں بھی آتا ہوں تیرے ساتھ“۔۔
اذان نے کہا اور دونوں آگے پیچھے باہر نکلے۔حسام نے گاڑی سٹارٹ گی اور زن سے بھگاتا ہوا حویلی سے باہر لے گیا۔۔
________________________________
حویلی سے نکل کر وہ سیدھی ہوٹل آئی تھی۔اب وہ اپنے کمرے میں صوفے پر بیٹھی گھٹنوں میں سر دیئے بلک بلک کر رو رہی تھی کر دروازے پر دستک ہوئی۔پہلے وہ نظرانداذ کر کے بیٹھی رہی مگر جب دستک بار بار ہونے لگی تو اس نے اٹھ کر دروازہ کھولا۔۔
”تم،کیا ہے اب؟؟“۔
حسام کو سامنے کھڑے دیکھ کر اس نے دروازہ بند کرنا چاہا مگر حسام نے فوراً ہاتھ رکھ لیا۔۔
”بات تو سنو یار ہوا کیا ہے تمہیں“۔۔
اس کی لال ہوتیں آنکھیں دیکھ کر اس نے پوچھا۔۔
”پاگل ہو گئ ہوں میں سنا تم نے“۔۔
دروازے کو ٹھوکر مارتی وہ واپس پلٹی۔۔۔
”تم واقعی پاگل ہو چکی ہو۔کب کیا کرتی ہو کچھ سمجھ نہیں آتا“۔۔
حسام اندر داخل ہوا تو اس کے پیچھے پیچھے اذان بھی اندر داخل ہوا۔۔
”کیوں آۓ ہو یہاں؟؟“…
اس کی بات نظرانداذ کرتے وہ تیز لہجے میں بولی۔۔
”تمہیں لینے“۔۔
اب کے حسام کی جگہ اذان بولا تھا۔۔
”تمہارا تعارف“۔۔
اسے سر تا پیر غور سے دیکھتے ہوۓ وہ بولی۔۔
”میں اذان کاظمی ہوں،اذان امان اللہ کاظمی۔تمہارے تایازاد کا بیٹا اور بہت جلد تمہارا جیجا بھی بن جاؤں گی“۔۔
اذان مسکراتے ہوۓ بولا۔۔
”اوہ تو وہ نمونے تم ہو،اذان امان اللہ کاظمی“۔۔
ہونٹوں کو ٹیڑھا کرتی دلچسبی سے اس کی طرف دیکھتی وہ بولی۔۔
”ہاں میں ہی وہ نمونہ ہوں جس کے کان کے نیچے بجا دی تھی تم نے،یاد ہے مجھے“۔۔
گال پر ہاتھ رکھ کر اذان نے کہا۔۔
”تمہیں میں یاد ہوں،اور اب تم بھول نہیں پاؤ گے۔تھپڑ سے نکل کر سوچو آگے آگے ہوتا ہے کیا؟“۔۔
ایک مسکراہٹ اذان کی طرف اچھال کر وہ بولی۔ن
”کیا؟؟“۔۔
اذان نے اس کی بات نہ سمجھ کر اس کی طرف دیکھا۔۔جبکہ حسام کو جانے کیوں اس کے لہجے سے خوف آیا تھا۔۔
”تو مس زارا رباب صاحبہ!! چلیں اب“۔۔
حسام نے اس کے بالوں کی لٹ کھینچتے ہوۓ کہا تو اذان نے حیرانی سے دونوں کو دیکھا کہ وہ پہلے سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔۔
”زارا جہاں سے ایک بار پلٹ آۓ وہاں نہیں جاتی،ایک بار اس حویلی کو چھوڑا تو بیس برس بعد وہاں قدم رکھا تھا اب کہ چھوڑا ہے تو قدم نہیں رکھوں گی کبھی“۔۔
حسام کی طرف دیکھتی وہ بولی۔۔
”بابا اور سارہ تمہارے انتظار میں بیٹھے ہیں،آ جاؤ پلیز،انہیں امید دے کر آیا ہوں میں کہ تمہیں لے کر آؤں گا“۔۔
حسام نے کہا۔۔
”میں اپنی مرضی پر چلتی ہوں لوگوں کی امیدوں پر نہیں“۔۔
زارا نے کہا۔۔
”زارا……!!“۔۔
حسام نے کہا۔۔
”تم دونوں جا سکتے ہو“۔۔
حسام کی بات کاٹتی وہ سخت لہجے میں بولی تھی۔۔
”زارا تم ایک بار آؤ تو سہی یار۔وہاں سب تمہارے انتظار میں جان ہتھیلی پر لیئے بیٹھے ہیں تم کہو تو تمہارے قدموں میں رکھ دیں۔ایک بار تم آؤ تو سہی“۔۔
اذان نے کہا۔۔
”اساور کاظمی کی جان بستی ہے سارہ کاظمی میں اور سارہ کاظمی کی اذان کاظمی میں تو……“۔۔
زارا نے اس کی طرف دیکھا۔۔حسام کی چھٹی حس نے کچھ غلط محسوس کیا تھا۔ایسا کچھ غلط جو ہونے والا تھا۔۔
”ٹھیک ہے میں آؤں گی مگر اساور کاظمی اور سارہ کاظمی سے کہو وہ مجھے لینے آئیں تو آؤں گی“۔۔
سارہ نے کہا۔۔
”ٹھیک ہے میں انہیں ابھی کے ابھی لے کر آتا ہوں“۔۔
اذان خوشی سے بولا۔۔
”تم مت لانا انہیں کہو اکیلے آئیں“۔۔
زارا نے کہا۔۔
”کیوں زہر دینے کا ارادہ ہے ان کو؟؟“۔۔
حسام نے کہا۔۔
”لاکھ نفرت سہی مگر باپ اور بہن ہیں میرے ایسا نہیں کروں گی“۔۔
زارا نے کہا۔۔
”لاکھ نفرت سہی مگر زہر پلا دینا انہیں کیونکہ جو زہر تم اپنی زبان سے دو گی وہ انہیں زندہ تو رکھے گا مگر پھر بھی مار دے گا“۔۔
حسام نے کہا۔۔
”بڑا سمجھنے لگے ہو مجھے“۔۔
زارا نے مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔۔
”اور کاش نہ سمجھتا“۔۔
افسوس سے سر جھٹکتا وہ باہر نکل ایا تھا۔۔وہ اس کی آنکھوں میں جلتی آگ اور چہرے پر چھائی زہریلی مسکراہٹ سے کچھ برا اخذ کر آیا تھا۔وہ کچھ کرنے والی تھی ایسا جو جان ہتھیلی پر رکھنے والوں کی جان اس کے قدموں میں رکھے گا۔۔
اذان بھی اس کے ساتھ ہی آ گیا۔۔وہ خوش تھا کہ وہ آنے کے لیئے مان گئ ہے اور حسام پریشان تھا کہ وہ نہ جانے کون سا طوفان لانے کے لیئے آنے کے لیئے مان گئ ہے۔۔
_________________________________
جاری ہے۔۔۔
