Aankh Bhar Aansu (Inteqam Lal Ishq Season 2) By Pareeshay Mahnoor Readelle50255 (Aankh Bhar Aansu) Episode 16
Rate this Novel
(Aankh Bhar Aansu) Episode 16
گاڑی ایک سو ساٹھ(160) کی سپیڈ پر بھگاتے وہ حویلی سے بہت دور نکل آئی تھی۔اس کے سلیقے سے سیٹ کیئے ہوۓ بال بکھر چکے تھے۔کلائی میں پہنی چوڑیاں ٹوٹ کر کلائی اور ہاتھوں میں چبھ گئ تھیں۔دوپٹہ کہیں پیچھے چھوٹ گیا تھا۔آنسوؤں تھے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔شرٹ کے کام دار بازوؤں سے وہ بار بار اپنا چہرہ پونج رہی تھی جس کی وجہ سے منہ پر بھی جگہ جگہ نشان بن گۓ تھے۔۔
عرض اس کی خالت اجاڑ تھی۔بھلے وہ محبت نہیں ہاری تھی مگر وہ انا ہار آئی تھی اور محبت ہار جانے سے ذیادہ تکلیف دہ انا کو ہار جانا ہوتا ہے۔۔
وہ اپنی بےوقعتی پر رو رہی تھی۔وہ ہمیشہ سے اپنی فیملی کے لیئے اہم ہونا چاہتی تھی مگر اسے تو ضروری بھی نہیں سمجھا گیا تھا۔۔
”ماما آپ تو ایسا نہ کرتیں“۔۔
اس نے روتے ہوۓ دانین سے شکوہ کیا تھا۔۔اس کی آنکھوں کے سامنے سب گڈمڈ ہو رہا تھا۔وہ سب سے خفا تھی اور وہ ایسے ہی خفا سب سے بہت دور چلے جانا چاہتی تھی تبھی آنکھوں کو پونجتے اس نے گاڑی کی سپیڈ مزید تیز کی۔اتنی تیز سپیڈ پر گاڑی اپنا توازن قائم نہ رکھ پائی اور سامنے سے آتی گاڑی سے زور سے ٹکرائی۔زارا نے بےڈول گاڑی کا اسٹئیرنگ زور سے گھمایا تو وہ گاڑی سے رگڑ کھاتی دور سڑک پر جا گری۔زارا کا سر زور سے اسٹئیرنگ سے ٹکرایا اور کھڑکی کے کانچ ٹوٹے تو کانچ کا ایک ٹکڑا اس کے سر کے پچھلے خصے میں پیوست ہو گیا۔۔
اس کے سر سے خون کی لکیر نکلی اور کنپٹی سے ہوتی ہوئی گال پر بہتی چلی گئ۔اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا تھا۔تکلیف کی ایک زوردار لہر اس کی رگ و جاں میں سرائیت کر گئ۔۔اس نے جانا کہ موت اس کے تعاقب میں تھی۔اس نے بند ہوتی آنکھوں کے ساتھ دیکھا کہ کچھ باوردی لوگ اس کی طرف دوڑتے ہوۓ آ رہے ہیں۔
زارا کے جاتے ہی دانین کو یوں لگا کہ ساری دنیا اس کی آنکھوں کے سامنے گول گول گھوم رہی ہے۔اپنا سر ہاتھوں میں گراۓ وہ وہیں لوہے کی کرسی پر بیٹھتی چلی گئ۔سارہ کے اپنے کان سائیں سائیں کر رہے تھے۔دل کے دھڑکنے کی رفتار اتنی ذیادہ تیز تھی کہ باآسانی سنی جا سکتی تھی۔
”پھپھو آپ ٹھیک ہیں“۔۔
زینی بھاگ کر دانین کے پاس زمین پر بیٹھ گئ۔
”اذان کو فون کرو،انہوں نے روکا زارا کو“۔۔
دانین کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو نکلنے لگے تھے۔۔
”وہ لے آئیں گے اسے،کچھ نہیں ہو گا“۔۔
اساور نے اسے دلاسہ دینے کو اپنا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا جسے وہ فوراً جھٹکتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
”وہ تمہاری بیٹی ہے اساور،وھ منٹوں میں فیصلہ کرتی ہے اور سیکنڈوں میں اس پر عمل کرتی ہے،وہ کچھ بھی کر سکتی ہے،کچھ بھی“۔۔
بلند آواز میں کہتے وہ آخر میں بےبسی سے رو دی تھی۔اساور کا اپنا دل خدشات سے ڈوب رہا تھا۔۔
”آپ سب نے اچھا نہیں کیا،بلکل اچھا نہیں“۔۔
سارہ زمین پر اکڑو بیٹھی شدت سے رو دی تھی۔زینی نے شرمندگی سے سر جھکا لیا تھا۔عینا بار بار کبھی اذان تو کبھی حسام اور زارا کو کال ملا رہی تھی مگر فون ریچڈایبل نہیں تھا۔سب کی پریشانی بڑھتی جا رہی تھی۔
”اذان گاڑی،گاڑی روک“۔۔
سڑک پر پیٹرولنگ پولیس کی گاڑی اور ایمبولینس دیکھ کر حسام چلایا تھا۔۔اذان کے گاڑی روکنے سے پہلے ہی حسام گاڑی کا دروازہ کھولتا چھلانگ لگا کر نیچے اتر چکا تھا۔اذان نے جلدی سے گاڑی سائیڈ پر لگائی اور حسام کی تقلید کرتا وہ بھی بھاگا۔۔
حسام بھاگ کر سڑک کے دوسری طرف پہنچا تو اپنی گاڑی کی حالت دیکھ کر اندر تک کانپ گیا تھا۔اذان بھی اس کے پیچھے آیا اور سامنے کا منظر دیکھ کر اس کا سر چکرا گیا تھا۔گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ بری طرح سے چکنا چور ہو گیا تھا۔بونٹ کا کباڑا ہوا گیا تھا۔۔ایمبولینس کی آواز گونجی اور کچھ لوگ بھاگتے ہوۓ ایمبولنس سے باہر نکل کر گاڑی کی طرف بھاگے۔۔
”ززز زا زارا—-“۔۔
حسام کے خلق سے پھنسی پھنسی سی آواز نکلی۔گرتا پڑتا وہ گاڑی کے پاس پہنچا۔زارا کا سر اسٹئیرنگ پر ٹکا ہوا تھا جس کے خون کی کئیں لکیریں نکل کر اس کی گردن اور چہرے پر پھیل گئ تھیں۔ہاتھ پہلو میں گرے ہوئے تھے جن میں کانچ کے ٹکڑے پیوست ہو گۓ تھے۔حسام کو لگا وہ اگلا سانس نہیں لے پائے گا مگر ہائے رہے یہ کمبخت سانس جہاں نکل جانی چاہیئے وہان نکلتی ہی تو نہیں۔اور اس کا نہ نکلنا اذیت کی انتہا ہوتا ہے۔۔
پولیس والوں نے اسے بازؤں سے پکڑ کر پیچھے کیا۔اذان کو حسام اس پل کوئی دیوانہ لگا تھا۔۔زارا کو ٹوٹی پھوٹی گاڑی سے نکال کر اسٹریچر پر ڈالا گیا۔اس کے وجود میں کوئی خرکت نہیں تھی۔دل کی دھڑکن ہلکی ہلکی چل رہی تھی۔ہارٹ ریٹ کم ہوتا جا رہا تھا۔نرس نے الیکٹروڈ لیئے اور ہاتھ فضاء میں بلند کیئے۔حسام نے اپنا دل تھام لیا تھا۔آنکھوں سے کئیں بوندیں نکل کر گردن بھگو گئیں تھیں۔اسٹریچر سڑک پر رکھے تمام اہلکار اس کے گرد جمع تھا۔۔
نرس نے ہاتھ ہوا میں بلند کر کیئے۔
ایک—-دو—تین—
زارا کا وجود جھٹکوں سے لرز اٹھا تھا۔۔
”چھوڑو،مجھے کرنے دو“۔۔
سب کو دھکیلتا وہ آگے بڑھا اور نرس کے ہاتھ سے الیکٹروڈ چھین لیا۔بازو کی پشت سے اپنی آنکھوں کو رگڑتے وہ زارا پر جھکا۔نرس اسے پہچان کر پیچھے ہو گئ۔۔
”ایک—-دو—-تین—-“۔۔
زارا کا وجود ایک بار پھر لرز اٹھا تھا۔اس کی دھڑکنیں بہت مدھم چل رہی تھیں۔۔
”اسے ہسپتال لے جانا ہو گا،جلد سے جلد ہٹو آگے سے“۔۔
وہ پوری قوت سے چیخا تھا۔سب نے ابرو اٹھا کر ترحم سے اس دیوانے کو دیکھا۔زارا کو فوراً سے ایمبولنس میں ڈالا گیا۔زارا کا ہاتھ تھامے حسام بھی ایمبولنس میں سوار ہو گیا۔۔
”کچھ نن نہیں ہو گا تت تمہیں،کچھ بھی نہیں زارا“۔۔
ایمبولینس ہسپتال کی طرف بڑھ چکی تھی۔اس کے ہاتھ کی پشت پر اپنا چہرہ ٹکاتا وہ شدت سے رو دیا تھا۔۔
اذان نے جلدی سے گاڑی سٹارٹ کی اور ایمبولنس کے تعاقب میں ڈال دی۔وہ یہ جانتا تھا کہ حسام کو زارا پسند ہے مگر یہ اس نے آج جانا تھا کہ وہ اس کے لییئے دیوانہ ہے۔۔
”زارا–!!زارا– ہمت کرو،موت کو ہرا دو یار،تمہیں جینا ہے ابھی یار،پلیز“۔۔
حسام نے اسے جھنجھور ڈالا تھا۔۔
”تمہیں کچھ نہیں—“
”بب بچچ بچا لوں گا–“
”محبت کرتا ہوں–“۔۔
اس کی بڑبڑاہٹیں سارے راستے جاری تھیں۔ایمبولنس ہسپتال میں رکی۔زارا کو اسٹریچر کو ایمبولنس سے نکالا گیا۔اسٹریچر دھکیلتا زارا کا ہاتھ تھامے وہ اس کے ساتھ بھاگا چلا جا رہا تھا۔زارا کو آپڑیشن تھیٹر لے جایا گیا۔آپریشن تھیٹر کے دروازے کے پاس وہ ڈھے سا گیا تھا۔۔
”حسام کک کہاں ہے زارا“۔۔
اذان بھی وہاں پہنچ چکا تھا۔۔
”آپریشن تھیٹر میں ہے“۔۔
وہ بےبسی سے بولا تھا۔۔اذان نے اسے کندھوں سے پکڑ کر کرسی پر بٹھایا۔۔کچھ ہی پل میں وہ کتنا نچڑ گیا تھا۔۔
”وہ ٹھیک ہو جاۓ گی حسام“۔۔
اذان نے اس سے ذیادہ خود کو دلاسہ دیا تھا اگر زارا کو کچھ ہو جاتا تو وہ ساری زندگی خود سے نظریں نہیں ملا پاۓ گا۔زارا کے ساتھ ساتھ وہ سارہ کو بھی کھو دے گا۔۔
”اسے کہو وہ ٹھیک ہو جائے یار–!!“۔۔
وہ بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہا تھا۔۔
”ڈاکٹر باذل–!!چینج کر کے فوراً آپریشن تھیٹر میں پہنچیں“۔۔
نرس نے وہاں آ کر کہا تو وہ فوراً اٹھ کر چینجنگ روم کی طرف بھاگا۔۔تھوڑی دیر میں وہ چینج کر کے وہاں پہنچا تھا۔۔
”حسام یار دیکھ تیری طبیعت ٹھیک نہیں ہے،تیرے حواس بھی ابھی جگہ پر نہیں ہیں،تو مت جا آپریشن تھیٹر“۔۔
اذان اس کی دگرگوں خالت کا انداذہ لگا سکتا تھا۔۔
”نن نہیں میری زارا اندر ہے،مم میں اس اسے بچا لل لوں گگ گا“۔۔
وہ اٹک اٹک کر بولتا آپریشن تھیٹر کا دروازہ دھکیلتا اندر داخل ہو گیا۔۔اذان کو فوراً سے گھر والوں کی خالت کا انداذہ ہوا تو اس نے فون نکال کر سارہ کو کال ملائی مگر کال پک نہیں کی گئ۔یقیناً وہ اپنا فون کہیں رکھ کر بھول گئ ہو گئ۔۔اذان نے زینب کو کال لگائی۔جو پہلی ہی بیل پر اٹینڈ کر لی گئ۔۔
”اذان بھائی زارا ملی آپ کو،آپ اسے لے کر گھر آئیں پلیز پھپھو بہت پریشان ہیں“۔۔
زینی روہانسی ہوئی۔۔
”زینی میری بات دھیان سے سنو–!!“۔۔
اذان کے لہجے پر زینی چونکی تھی۔۔
”سب ٹھیک ہے ناں بھائی“۔۔
”زارا آپریشن تھیٹر میں ہے،اس کا ایکسیڈینٹ ہوا ہے“۔۔
اذان نے کہا۔۔
”کک کیا؟؟ کون سے ہس ہس پپ پتال میں-؟“۔۔
زینی نے اٹک اٹک کر پوچھا تو صوفے پر بیٹھی دانین یکدم کھڑی ہوئی۔اساور کو اپنا سانس دھونکنی کی مانند چلتا ہوا معلوم ہوا۔۔اذان کی کال منقطع ہوئی تو اس نے روتے ہوۓ سب کی طرف دیکھا۔۔
”زارا ٹھیک نہیں ہے ناں؟؟۔۔
دانین کی مری مری سی آواز نکلی۔۔
”ہمیں ہوسپٹل نکلنا ہو گا پھپھو،زارا کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے،اس کا آپریشن ہو رہا ہے“۔۔
اساور کو لگا حویلی کی چھت اس کے سر پر آن گری ہو۔عینا اور سائرہ کے چہرے تاریک ہوئے تھے۔سارہ سنتے ہی باہر کی طرف بھاگی تھی۔باری باری سب اس کے پیچھے بھاگے تھے۔سارہ گاڑی سٹارٹ کر چکی تھی۔سب لپک کر گاڑی میں بیٹھے تو سارہ گاڑی ہوا کی مانند اڑاتی ہوئی لے گئ۔۔
آدھے گھنٹے کا سفر سارہ نے ریش ڈرائیوینگ کے دس منٹ میں طے کیا تھا اور وہ دس منٹ بھی ان کے لیئے صدیوں کے برابر تھے۔۔گاڑی پارک کرتے وہ ریسیپشن کی طرف دوڑی۔زارا کا پتہ لگا کر وہ سیڑھیاں پھلانگتی آپریشن تھیٹر کو پہنچی تھی۔۔سامنے ہی اذان ٹہلتا ہوا دکھائی دیا۔۔
”زارا کیسی ہے؟“۔۔
سارہ دور کر اس کے پاس پہنچی۔۔باقی سب بھی وہیں پہنچ گۓ۔۔
”آپریشن سٹارٹ ہوا ہے ابھی“۔۔
اذان نے کہا۔۔
”یہ زارا نے کیا کر دیا_کب وہ اپنے دل میں اتنا بغض پال بیٹھی کہ میں جان ہی نہ پائی کہ بغض نفرت کینہ تو انسان کی جان لے کر چھوڑتے ہیں“۔
دانین کرسی پر ڈھے گئ تھی۔اساور کی اپنی یہی حالت تھی کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔۔
”دعا کرو کچھ نہیں ہو گا ہماری بیٹی کو“۔۔
عینا نے کہا۔۔سائرہ دوپٹہ صیح کر کے وہیں بیٹھ کر تسبیخ کرنے لگی تھی۔دانین کی ہچکیاں بند چکی تھیں۔۔
حسام کی آنکھیں بار بار آنسوؤں کی وجہ سے دھندلاہٹ کا شکار ہو رہی تھیں،ہاتھ کپکپا رہے تھے۔دھڑکنیں بےربط ہو رہی تھی۔بازو کی پشت سے وہ بار بار اپنی آنکھوں میں چھائی نمی کو صاف کر رہا تھا۔۔
”ڈاکٹر باذل–!! آپ سے نہیں ہو گا آج،آپ چھوڑ دیں“۔۔
دوسرے سرجن کو اس کی حالت کا انداذہ تھا کہ جب کوئی اپنا یوں ساکت و جامد پڑا ہو تو ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں اور دماغ کسی کام کا نہیں رہتا۔۔
”نن نہیں زارا کو میں بب بچاؤں گا،اسے کچھ نہیں ہو گا ڈاکٹر-!!“۔۔
وہ اٹک اٹک کر بولا۔صاف لگ رہا تھا وہ اپنے حواسوں میں نہیں ہے۔۔
”ہم آپ کی زارا کو ضرور بچانے کی کوشش کریں گے،باقی آپ دعا کریں اور جائیں آپ سے نہیں ہو گا“۔۔
ڈاکٹر نے اسے سمجھایا۔۔
”آپ وعدہ کریں کہ میری زارا کو بچا لیں گے“۔۔
اس نے ڈاکٹر کا ہاتھ اپنی گرفت میں لیا۔۔
”کچھ نہیں ہو گا آپ کی زارا کو۔آپ اطمینان رکھیں“۔۔
ڈاکٹر نے اسےخوصلہ دیا تو وہ اثبات میں سر ہلاتا دروازے کی طرف بڑھا۔جاتے ہوئے وہ دیوانوں کی طرح پلٹ پلٹ کر زارا کے نالیوں میں جھکڑے وجود کو دیکھ رہا تھا۔۔وہ باہر نکلا تو سب نے کھڑے ہو کر امید بھری نظروں سے اسے دیکھا۔۔
”آپریشن چل رہا ہے،مجھ سے نہیں ہو رہا،میرے حواس میرا کام چھوڑ چکے ہیں“۔۔
آنکھوں کی نمی صاف کرتے وہ بولا تو وہاں موجود ہر شخص نے دیکھا کہ اس کی آنکھوں میں جانے کتنے زمانوں کے غم کی باس سمٹ آئی تھی۔۔
”میری بچی ٹھیک ہو جاۓ گی ناں“۔۔
اساور نے یاس سے اس کی طرف دیکھا۔اس کی آواز میں واضح کپکپاہٹ تھی۔وہ پلوں میں بوڑھا لگنے لگا تھا۔۔
”کیوں نہیں بابا جان-! وہ بلکل ٹھیک ہو جائے گی“۔۔
اساور سے ذیادہ اس نے خود کو تسلی دی تھی۔۔
”زارا کو کچھ ہو گیا تو میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی اذان! کبھی نہیں“۔۔
سارہ نے اذان کے خدشے کو الفاظ مہیا کر دیئے تھے۔۔اذان بس اسے دیکھ کر رہ گیا تھا وہ کہتا بھی تو کیا کہتا آخر۔۔
”اسے میرا نہ کر مگر اسے ٹھیک کر دے رب“۔۔
ہسپتال سے ملخقہ مسجد میں کتنی ہی دیر سے بیٹھا وہ رو رہا تھا۔ڈاکٹر حسام باذل رو رہا تھا۔جب بےبسی اپنے پنجے گاڑتی ہے تو نہ جانے کس کس کو جھکنا پڑتا ہے،ٹوٹنا پڑتا ہے اور وہ آج ٹوٹ گیا تھا۔۔
دانین بھی وہاں کتنی ہی دیر بیٹھی دعا مانگتی رہی تھی کہ ماں کی دعا سب سے پہلے عرش پر پہنچتی۔اساور نے بھی فریادیں کر کر کے اپنی بیٹی کی زندگی مانگی تھی۔عرض سب نے آنسؤوں سے وضو کر کے زارا کی سلامتی مانگی تھی۔۔
کبھی جب انتہائے غم ہو۔۔۔۔!!🌹♥️🌹
کہ آنکھ پوری نم ہو۔۔
بس ایک کام کرنا۔۔
رب سے کلام کرنا۔۔
ہاتھوں کو اٹھا کر۔۔
اور دل کو جھکا کر۔۔
ہر غم بیان کرنا۔۔
بس ایک کام کرنا۔۔
سن کر وہ غم تمہارا۔۔
تم پر کرم کرے گا۔۔
اور تمہارے غم کو۔۔
محبت سے وہ چنے گا۔۔
بس جب نہ ہو سہارا۔۔
تو ایک کام کرنا۔۔
ہاتھوں کو تم اٹھا کر۔۔
رب سے کلام کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔!!
جاری ہے۔۔
