54.6K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Aankh Bhar Aansu) Episode 26

”حسام !!“۔۔

زارا نے کھڑے ہو کر حسام کو پکارا۔۔ حسام مسکراتا ہوا پلٹا مگر اس کے چہرے پر چھائے تکلیف کے تاثرات دیکھ کر وہ جم گیا تھا۔۔ حسام کی طرف دیکھتے اس کی ہونٹ پھرپھراۓ اور وہ بےدھم سی صوفے پر گِر گئی۔۔ایک قیامت تھی جو کاظمیوں پر ٹوٹ پڑی تھی۔۔

سب زارا کے پاس پہنچے تھے۔۔ آنکھیں اس کی بند ہوئی تھیں اور جان ان سب کی نکل رہی تھی۔۔

”زارا !!! زارا !!! “۔۔

حسام اس کا چہرہ تھپتھپا رہا تھا۔مگر وہ بلکل چپ تھی۔۔ دانین تو ساکت ہو گئی تھی۔ جس وقت سے وہ ڈر رہی تھی وہی وقت آ پہنچا تھا۔۔ اذان نے ایمبولینس کو کال کر لی تھی جو آنے والی تھی مگر حسام اس سے ذیادہ انتظار نہیں کر سکتا ، دلہن بنی زارا کو بانہوں میں اٹھائے وہ پارکنگ کی طرف بھاگا تھا۔۔

ہوٹل سے نکل کر اس نے جلدی سے زارا کو گاڑی میں ڈالا اور گاڑی بھگاتا ہوا لے گیا۔۔۔ افراتفری کے عالم میں سب آگے پیچھے بھاگتے گاڑی میں سوار ہو رہے تھے۔۔ اذان نے اپنی گاڑی سٹارٹ کی۔۔ اذان میر اور زینی اور عینا اس کے ساتھ بیٹھ گیئے۔۔ اساور کی گاڑی میں دانین ، سومو ، سعدی اور سائرہ بھی نکل چکے تھے۔۔

ہسپتال پہنچ کر حسام زارا کو بانہوں میں اٹھائے بھاگتا ہوا اندر داخل ہوا۔۔ ہسپتال کے عملے نے جلدی سے اسٹریچر لایا۔۔ زارا کو اس پر ڈالا گیا۔۔ زارا کے اسٹریچر کے ساتھ بھاگتے حسام کی حالت غیر ہو رہی تھی۔۔ لوگوں نے بہت دکھ اور ترس بھری نگاہوں سے ان دونوں کی طرف دیکھا۔۔

زارا کے ماتھے کا ٹکا راستے میں ہی کہیں گر چکا تھا۔بال بکھر کر لٹوں کی صورت احتیار کر چکے تھے۔۔ دوپٹہ ڈھلک چکا تھا۔۔ وہ لال جوڑے میں دلہن نئی زندگی کے حواب سجائے اپنی سانسوں سے لڑ رہی تھی اور حسام تو لگتا تھا اس کے ساتھ ہی مر جائے گا۔۔

ڈاکٹرز نے جلدی سے اسے آئی-سی-یو میں شفٹ کیا۔۔حسام آئی-سی-یو کے باہر ہی گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گیا تھا۔۔

باقی سب بھی بھاگتے ہوئے وہاں پہنچے تھے۔۔

”حسام مم میری زز زارا ٹھیک ہے ناں ، کک کہاں ہے وو وہ“۔۔

دانین کی آواز کانپ رہی تھی۔۔ گال آنسوؤں سے تر تھے۔۔ اساور کی اپنی حالت خراب ہو رہی تھی۔۔

”مم میں نن نہیں جی ، وو وہ ٹھیک ہو جج جا جا جائے گگ گی گی“۔۔

حسام کے الفاظ ٹوٹ رہے تھے۔۔ سائرہ نے حسام کو گلے لگا کر اسے دلاسہ دینے کی کوشش کی تھی۔ خود اس کے اپنے آنسو بھی نہیں رک رھے تھے۔۔

”ہماری بب بیٹی اس اس اسا اساور ، تم نے کہا تھا اسے کک کچھ کچھ بب بھی نہیں ہونے دد دو گے“۔۔

دانین اساور کا گریبان پکڑے رو رہی تھی۔۔ وہ خود بھی رو رہا تھا۔۔ گلے میں ڈالی سفید چادر ہسپتال کے فرش پر پڑی تھی۔۔

”کچھ بھی نہیں ہو گا ہماری بیٹی کو“۔۔

اساور اسے اپنے سینے سے لگاتا خود بھی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا تھا۔۔اس کے آنسو دانین کے بالوں پر گر رہے تھے اور دانین کے آنسوؤں نے اس کے گریبان کو گیلا کر لیا تھا۔۔۔

اس وقت وہاں موجود کوئی بھی شخص پریقین نہیں تھا کہ زارا ٹھیک ہو جائے گی مگر پھر بھی سب ایک دوسرے کو جھوٹے دلاسے دے رہے تھے۔۔

____________________________________

”آپ نے میرے ٹیسٹ کیئے تھے کیا رپورٹ ہے بتایا نہیں آپ نے“۔۔

وہ ڈاکٹر کے کیبن میں کھڑا تھا۔۔

”آپ کے سارے ٹیسٹ ٹھیک ہیں ، آپ اپنا ہارٹ مِسز حسام کو دے سکتے ہیں“۔۔

ڈاکٹر نے فائل اس کے ہاتھ میں پکڑائی۔۔

”تو پھر دیر کس بات کی ہے ، سرجری شروع کریں“۔۔

فائل کو ایک نظر دیکھ کر اس نے ٹیبل پر رکھی۔۔

”آپ ایک بار اور سوچ لیں ، آپ اپنی زندگی اپنے ہاتھوں سے ختم کر رہے ہیں“۔۔

ڈاکٹر نے کہا۔۔

”نہیں !!! میری زندگی تو وہ ہے جو ہسپتال کے بستر پر موت سے لڑ رہی ہے ، وہ بچ گئی تو سمجھئیے گا میں مرا نہیں ہوں“۔۔

وہ پھیکا سا مسکرایا۔۔

”ٹھیک ہے ایک گھنٹے بعد سرجری شروع کرتے ہیں“۔۔

ڈاکٹر نے کہا۔۔

”ایک ریکیوئیسٹ ہیں آپ سے ڈاکٹر !!“۔۔

”جی کہیئے“۔۔

ڈاکٹر نے کہا۔۔

”سرجری مکمل ہونے سے پہلے میری فیملی کو نہیں پتہ لگنا چاہیئے کہ ہارٹ میں نے دیا ہے ، سرجری کے بعد زارا کی صحت یابی اور میری باڈی ان کے حوالے کر دیجیئے گا“۔۔

اس کی آواز بھیگ رہی تھی۔۔

”ٹھیک ہیں جیسے آپ کہہ رہے ہیں ویسے ہی ہو گا“۔۔

ڈاکٹر نے کہا۔۔

”شکریہ ڈاکٹر“۔۔

کہہ کر وہ آنکھیں صاف کرتا ہوا کیبن سے باہر نکل گیا۔۔

____________________________________

بھاگتے لمحوں میں ۔۔۔۔کم ہوتی زندگی۔

اور

اس پر ہمارا اترانا ؟

اس پر ہمارا زندگی میں کھو جانا ؟

اس پر ہمارا ایک دوسرے سے روٹھ جانا ؟

اس پر ہمارا رب سے غافل ہو جانا ؟

اس پر ہمارا خواہشات میں گم ہو جانا ؟

کیا یہ سب زیب دیتا ہے ؟؟

سوچنا تو بنتا ہے۔

”یہاں کیوں بیٹھی ہو؟“۔۔

زینی ہسپتال کے گارڈن میں بینچ پر بیٹھی تھی جب میر اس کے پاس چلا آیا۔۔

”دل بند ہو رہا تھا میرا اندر ، جب ہمارا کوئی اپنا تکلیف میں ہوتا ہے تو ہم اس اپنے سے ذیادہ تکلیف میں کیوں ہوتے ہیں؟“۔۔

وہ بِنا اس کی طرف دیکھے بولی۔۔

”کیونکہ وہ ہمارا اپنا ہوتا ہے ، ہمارے دل اور رگوں میں خون بن کر دوڑتا ہے“۔۔

وہ اس کے ساتھ آ بیٹھا۔۔

”میر زارا مر جائے گی؟“۔۔

اس کے لہجے میں خوف تھا۔۔ آنکھوں میں ڈر لیئے اس نے میر کی طرف دیکھا۔۔

”نہیں کچھ نہیں ہو گا رباب کو زینی ، کچھ بھی نہیں ہو گا“۔۔

وہ ایک دم سے بولا۔۔ وہ اسے تسلی دے رہا تھا چاہے وہ اندر سے خود ڈرا ہوا تھا۔۔

”اب مجھی سمجھ آئی کہ وہ ایک دم بدل کیوں گئی تھی۔۔ موت کا ڈر بھی کیا چیز ہے ناں بندے کو سالوں کی نفرت بھلا دیا ہے۔۔ کیسے لمحوں میں سب ختم کر دیتی ہے موت“۔۔

ٹپ ٹپ آنسو بہہ رہے تھے۔۔

”زندگی تو پلوں میں ختم ہو جانے والی شے ہے زینی !! اسے ہم نفرتوں اور بدلے کی نذر کر کے بہت غلط کرتے ہیں ، کائنات کے بنانے کا مقصد محبت تھا ، انسان کے جینے کا مقصد محبت کرنا اور محبت بانٹنا تھا اور ہم انسان کس راستے پر چل نکلے ہیں۔۔ بس صرف نفرت کرنا جانتے ہیں اور پھر سب تباہ کر دیتے ہیں اپنے ہی ہاتھوں“۔۔

وہ جوتے کی نوک سے زمین پر ضرب لگا رہا تھا۔۔

”زارا صرف زارا نہیں ہے وہ ہم سب کی جان ہے ، اسے کچھ ہو گیا تو میں جی نہیں پاؤں گی“۔۔

اس نے سر میر کے کندھے سے ٹکا دیا۔۔

”کچھ نہیں ہونے دوں گا زارا کو ۔۔ یہ وعدہ رہا زینی“۔۔

زینی سے وعدہ کرتے ہوئے اس نے خود سے بھی عہد کر لیا تھا کہ اسے جو کرنا پڑا کر گا مگر زارا کو کچھ نہیں ہونے دے گا۔۔

____________________________________

”مبارک ہو ، مِسز حسام کے لیئے ہارٹ کا انتظام ہو گیا ہے“۔۔

ڈاکٹر نے آ کر بتایا تو سب کے چہروں پر بےپناہ خوشی نظر آنے لگی۔۔

”کک کیسے ڈاکٹر“۔۔

دانین آنسوؤں کے درمیان مسکرائی۔۔

”وہ– ہارٹ کا انتظام ہو گیا ہے مگر اس سے پہلے انہیں پلازمہ کی ضرورت ہے“۔۔

ڈاکٹر نے بات بدلی کہ دل دینے والے کا نام وہ نہیں بتا سکتا تھا۔۔”او پوزیٹو گروپ بلڈ ارینج کرنا پڑے گا“۔۔

”ڈاکٹر میرا او پوزیٹو ہے ، آپ میرا بلڈ لے لیں“۔۔

میر نے کہا۔۔

”آپ–؟؟“۔۔

”میں زارا کا بھائی ہوں ، پلیز چلیئے“۔۔

میر نے کہا۔۔

”ٹھیک ہے جلدی چلیئے“۔۔

میر ڈاکٹر کے ساتھ چلا گیا۔۔ دانین نے مسکراتے ہوئے اساور کی طرف دیکھا۔۔

”ہماری بیٹی ٹھیک ہو جائے گی اب ، وہ بلکل صیح ہو جائے گی“۔۔

”ہاں بلکل ٹھیک ہو جائے گی“۔۔

اساور کو بھی تسلی ہو گئی تھی۔۔ چہرے پر سکون چھا گیا تھا۔۔

”ریلیکس سارہ !! سنا ناں ڈاکٹر نے کیا کہا ، زارا ٹھیک ہو جائے گی تم اسٹریس مت لو۔۔۔ تمہارے ساتھ ایک نئی زندگی جڑی ہے“۔۔

عینا نے سارہ کے آنسو صاف کرتے ہوئے اسے گلے لگایا۔۔

زینی آہستہ سے میر کے پیچھے لیبارٹری کی طرف بڑھ گئی۔۔

____________________________________

”ڈاکٹر رؤف!!“۔۔

ڈاکٹر رؤف سرجری کی تیاری کر رہے تھے جب حسام ان کے پیچھے چلا آیا۔۔

”آؤ برخودار !! تم تو مجنوں بن گئے ہو ، فکر نہ کرو تمہاری بیوی اب بلکل ٹھیک ہو جائے گی“۔۔

ڈاکٹر رؤف نے اسے تسلی دی۔۔

”ڈاکٹر ہارٹ کا انتظام کیسے ہوا ، مجھے یاد ہے پچھلے دنوں میں نے بہت بھاگ دوڑ کی تھی مگر ہارٹ کا بندوبست نہیں کر پایا تھا“۔۔

حسام نے کہا۔۔

”میں نے آپ کو پہلے بھی بتایا تھا کہ میں اپنے ذرائع سے ہارٹ کا انتظام کر رہا ہوں اور خوش قسمتی صیح وقت پر ہو گیا“۔۔

ڈاکٹر رؤف کا ارادہ اس سے ذیادہ بتانے والا نہیں تھا اس لیئے حسام نے مزید پوچھا ہی نہیں۔۔

”وہ ٹھیک ہو جائے گی ناں؟“۔۔

اس کا لہجہ بہت تھکا ہوا تھا۔۔

”بلکل باذل وہ ٹھیک ہو جائے گی اور پھر اگلے ساٹھ ستر سال تمہیں ٹھیک نہیں رہنے دے گی“۔۔

ڈاکٹر رؤف کا لہجہ مذاق والا تھا ، حسام مسکرا دیا۔۔

”میں بھی سرجری میں آپ کے ساتھ آؤں“۔۔

حسام نے کہا۔۔

”نہیں ڈاکٹر باذل !! آپ یہ نہیں کر پائیں گے۔۔ پچھلی بار والا واقعہ یاد ہے“۔۔

ڈاکٹر نے اسے یاد دلایا تو اس نے سمجھ کر اثبات میں سر ہلایا۔۔

ڈاکٹر رؤف اس کے کندھے پر تسلی بھرا ہاتھ رکھ کر باہر چلے گئے۔۔

کوئی کھینچ رہا ہے عدم آباد کی طرف

____________________________________