54.6K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Aankh Bhar Aansu) Episode 3

”رباب تم نہیں آئیں ،تقریب آپ کی تھی اور ہمیشہ کی طرح آپ اس تقریب میں بھی نہیں آئیں“۔۔
زارا کی دوست کی فون پر خفا خفا سی آواز گونجی۔۔
”طبیعت تھوڑی بوجھل ہو گئ تھی گُل ورنہ پورا ارادہ تھا میرا آنے کا“۔۔
زارا نے ٹیرس کی ریلنگ پر بازو ٹکاتے ہوۓ کہا۔۔
”ہر بار کتاب کی رونمائی کی تقریب میں ہی تمہاری طبیعت خراب ہو جاتی ہے“۔۔
گل نے کہا تو زارا کی رگ و جاں میں اذیت کی ایک لہر دوڑ گئ۔اب وہ اسے کیا بتاتی کہ ہمیشہ ایسے موقع پر اس کی ماں اساور اور سارہ کا ذکر چھیڑ کر اسے ہوش و خرد سے بیگانہ کر دیتی تھی۔
”تم بتاؤ تقریب کیسی رہی“۔۔
زارا نے فوراً بات کو بدلا۔۔
”تمہارے بغیر بہت پھیکی مگر تمہاری لکھی کہانی نے دھوم مچا دی ہے،آج ہی پانچ سو کاپیاں فروحت ہو گئ ہیں“۔۔
گل نے خوشگوار لہجے میں اسے بتایا تو زارا نے ایک سکون کا گہرا سانس خارج کیا۔۔
”اسپیشلی نام بہت اچھا لگا،کہانی کا”میری آہٹوں کا یقیں نہ کر“۔۔
گل نے کہا۔۔
”ہاں نام بہت اچھا ہے،زینی نے رکھا تھا“۔۔
زارا مسکرا اٹھی۔۔
”اچھا رائیٹر صاحبہ کل ملاقات ہوتی ہے،اللہ خافظ“۔۔
گل کی مسکراتی آواز گونجی تو زارا نے بھی اللہ خافظ کہتے ہوۓ فون بند کر کے ٹراؤزر کے پاکٹ میں ڈالا اور دونوں کہنیاں ریلنگ پر رکھ کر ہر طرف پھیلے اندھیرے کو انہماک سے دیکھنے لگی۔وہ اندھیرا جو اسے دھیرے دھیرے اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا۔۔
”ادھر دو باپ کا مال سمجھا ہے کیا“۔۔
وہ سائرہ کے روم میں آئی تو کارپٹ پر پڑی لپ اسٹک دیکھ کر اٹھا لی،تبھی سائرہ آ گئ اور انتہائی بدلخاظی سے اسے دھکا دے کر اس سے لپ اسٹک چھین لی۔۔زارا نیچے گر گئ تھی۔۔
”آپو میں لگا دوں“۔۔
زارا نے لپ اسٹک کی طرف دیکھتے معصومیت سے کہا تھا۔۔
”دفعہ ہو جا بدکردار ماں کی ناجائز اولاد“۔۔
سائرہ نے اسے بازو سے کھینچ کر کمرے سے نکال کر دروازہ زوردار آواز سے بند کر دیا۔۔
”زارا کی آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر گال پر بہہ نکلا جسے اس نے فوراً سے صاف کرتے ریلنگ سے ہاتھ ہٹاۓ اور کمرے میں چلی آئی۔۔ٹیرس کا دروازہ بند کرتی وہ سٹڈی ٹیبل کے پاس آ کر بیٹھ گئ۔پھر سیاہ کور والی ڈائری نکال کر کھولی اور قلم سے لکھنا شروع کیا۔
”میں ہمیشہ سے سوچتی رہی کہ ماضی تکلیف دہ ہے یا آگہی۔اور پھر میں نے جان لیا کہ ماضی سے ذیادہ تکلیف آگہی میں ہے۔سائرہ مجھے ناجائز کہتی تھی مگر جب تک آگہی کے لمحات مجھ پر وارد نہیں ہوۓ تھے میں صرف اس کے رویے سے تکلیف محسوس کرتی تھی مگر جب میں نے سمجھداری کی دہلیز پر کھڑے ہو کر ان الفاظ کے مطلب جانے تو میرا وجود پاش پاش ہو گیا،میری روح تک گھائل ہو گئ“۔۔
”سب کے رویے تکلیف دیتے تھے اور اساور کاظمی کی دھوپ چھاؤں سی نظریں،وہ کیسا باپ تھا جو تب میٹھی نظروں سے دیکھتا جب اس کی بھابھی آس پاس نہ ہوتی اور جب وہ پاس ہوتیں تو وہ کڑی دھوپ بن کر جلاتا تھا۔میں نے اپنی ماں کو ہر وقت روتے اور اساور کو اس پر چلاتے دیکھا تھا۔میں نے شعور کی منازل طے کرتے سائرہ کاظمی سے نفرت کی لیکن اساور کاظمی سے نفرت لاشعوری طور پر برسوں پہلے محسوس کی۔چار سالہ زارا جب کسی سے نفرت کرتی ہے تو وہ نفرت تاحیات حیات رہتی ہے“۔۔
”اور ایک وہ میری بہن تھی۔میری جڑواں بہن جو میرے ساتھ اس دنیا میں آئی تھی وہ جو میری واحد دوست تھی،وہ جو میری زندگی میں سب سے اہم تھی مگر اس نے مجھ پر اساور کاظمی کو چنا اسے آنا چاہیئے تھا میرے ساتھ مگر وہ نہیں آئی۔اسے سارہ کاظمی بن کر جینا تھا اور وہ جی رہی ہے بہت خوشی سے،میں اس سے نفرت نہیں کرتی مگر اب میں اس سے محبت بھی نہیں کرتی“۔۔
ڈائری کے صفحات پر بکھرا اس کا ماضی اور درد بتاتا تھا وہ اپنے اندر کئیں طوفان لیئے بیٹھی ہے جو اگر باہر آ گۓ تو سب تباہ کر دیں گے۔۔ڈائری بند کر کے اس نے دراز میں رکھی اور بیڈ پر آ کر چِت لیٹ گئ۔۔
”دعا کرو اساور کاظمی زندگی میں کبھی ہم دونوں کا آمنا سامنا نہ ہو کیونکہ جس دن آپ کو میں نے دیکھ لیا میرے اندر بپا سب قیامتیں تمہارے سر ٹوٹیں گی“۔۔
آنکھیں چھت کی سیگنگ پر ٹکاۓ وہ زیرِلب بڑبڑائی تھی۔۔


”زینی بیٹا چاۓ کے کپ دھو دو“۔۔
وہ جو کپ دیکھ کر وہاں سے کھسکنے کی تیاری میں تھی سومو کی بات پر منہ بناتی دوبارہ بیٹھ گئ۔۔
”ماما،مجھے نیند آ رہی ہے“۔۔
زینی سے بھرپور جمائی لیتے ہوۓ منہ پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔
”ٹھیک ہے بیٹا جا کر سو جاؤ،آپ کو نیند آئی ہے“۔۔
سعدی نے پاس پڑا زینی کا موبائل اٹھا کر اپنی پاکٹ میں رکھتے ہوۓ کہا تو زینی کی ایکٹنگ اڑن چھو ہو گئ تھی۔اس نے پوری آنکھیں کھول کر اپنے باپ کو دیکھا۔۔
”نہیں بابا،اٹس ناٹ فیئر۔میرا فون واپس کریں“۔۔
زینی نے رونی صورت بناتے ہوۓ کہا۔۔
”کیوں آپ کو تو نیند آئی ہے ناں،موبائل کی کیا ضروت۔جاؤ اور سو جاؤ“۔
سعدی نے اسے مزید تنگ کیا۔۔
”اچھا دھو رہی ہوں میں کپ،نہیں آئی مجھے نیند“۔۔
غصے سے کہتی وہ کپ اٹھا کر کچن میں گھس گئ۔۔سعدی،سومو اور دانین مسکرا کر رہ گۓ۔وہی تو تھی اس گھر کی رونق،چلبلی سی ”زینب رانا“۔۔
کپ پٹخ پٹخ کر دھو کر وہ دوبارہ لاؤنج میں آئی تو وہ تینوں ابھی تک وہیں بیٹھے تھے۔۔
”مسٹر اینڈ مسز سعدی رانا،آپ کی ملازمہ زینی نے برتن دھو دیئے ہیں اب فون مل سکتا ہے“۔۔
کمر پر ہاتھ رکھے وہ پھولے ہوۓ منہ کے ساتھ بولی۔۔
”ہمم دے دوں بھیگم“۔۔
سعدی نے سومو کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔۔
”دشمن ملک سے کیوں پوچھ رہے ہیں رانا صاحب،دیں مجھے میرا فون“۔۔
زینی نے کہا۔۔
”دے دو ورنہ اس آفت کی پڑیا نے ہمارے کانوں کو کچا کھا جانا ہے“۔۔
سومو نے اثبات میں سر ہلاتے ہوۓ کہا تو سعدی نے فون زینی کی طرف بڑھایا جسے اس نے فوراً سے چھپٹا کہ کہیں پھر سعدی کا ارادہ نہ بدل جاۓ۔۔
”آپ بہت ڈرپوک ہو رانا صاحب۔!! اپنی بیوی کے کے سامنے بھیگی بلی بنے رہتے ہو۔اور آپ دو نمبر آدمی بھی ہو“۔۔
زینی شرارت سے کہتی اپنے کمرے کی طرف بھاگی تو سعدی نے مصنوعی خفگی سے اس کی طرف دیکھا۔۔
”لیکن پھر بھی ”آئی لو یو رانا صاحب“۔۔
سیڑھیوں کے پاس رک کر کہتی وہ تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتی کمرے میں گھس گئ۔۔پیچھے سعدی کا ایک جاندار قہقہہ لاؤنج میں گونج کر رہ گیا۔۔


”بابا اندر آ جاؤں“۔۔
سارہ نے اساور کے کمرے کے دروازے پر دستک دی تو دروازے کو کھلا پا کر پوچھا۔۔
”آ جاؤ بچے“۔۔
اساور جو کسی کتاب کو پڑھ رہا تھا سر اٹھا کر بولا اور کتاب بند کر کے ٹیبل پر رکھ دی۔۔
”کیا ہوا سارہ،سب خیریت ہے ناں“۔۔
سارہ آ کر اساور کے سینے پر سر رکھتی بےآواز رو دی تھی۔۔اساور سارہ کے اس طرح رونے پر پریشان ہو اٹھا تھا۔۔
”ماما کا فون آیا تھا زارا نہیں مانی،وہ نہیں آۓ گی بابا۔میں نے گھومنے پھرنے کا پلان اس لیئے بنایا تھا کہ وہ آ جاۓ مگر اسے تو میں یاد بھی نہیں ہوں بابا”۔۔
سارہ کی آواز میں نمی تھی۔۔
”آپ کو حود اسے بلانا چاہیئے تھا ناں ایسے کیسے وہ آ جاتی“۔۔
سارہ کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے اساور نے کہا۔۔
”وہ میرا فون نہیں اٹھاتی بابا۔اگر غلطی سے اٹھا لے تو میری آواز سنتے ہی فون رکھ دیتی ہے“۔۔
سارہ نے کہا تو اساور نے کرب سے آنکھیں بند کر لیں۔۔وہ اساور کی وجہ سے ہی تو سارہ سے بھی بات نہیں کرتی تھی۔۔اس کی اپنی بیٹی اس سے اتنی نفرت کرتی ہے یہ سوچ کر وہ پل پل اور ہر پل مرتا تھا۔۔
”سب ٹھیک ہو جاۓ گا رونا بند کرو آپ“۔۔
اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو انگلی کی پور سے صاف کرتے اساور نے اسے تسلی دی تھی۔۔مگر وہ خود جانتا تھا یہ تسلی انتہائی بوسیدہ ہے۔۔


زینی نے کمرے میں داخل ہو کر دروازہ لاک کیا اور کمبل اوڑھ کر بیڈ پر لیٹ گئ۔۔
”افف اللہ مجھے سردی لگ گئ ہے“۔۔
گیلے ہاتھوں پر کمبل لپیٹ کر وہ کانپ رہی تھی جیسے اس کے کمرے میں برف باری ہو رہی ہو۔۔
”خدا پوچھے گا سعدی رانا،بچی کو بلیک میل کرتے ہیں“۔۔
موبائل آن کرتے ہوۓ اس کی بڑابڑاہٹ جاری تھی۔۔موبائل کی اسکرین پر ”سالار جہاں“ کے اکاونٹ سے میسیج آیا ہوا شو ہو رہا تھا۔۔زینی نے میسج کھولا۔۔”کیا حال ہیں زینب رانا“۔۔اتنی بےتکلفی سے لکھے میسج کو دیکھ کر زینی چونکی۔۔
”ایسے پوچھ رہا ہے جیسے میرے مامے کا پتر ہو“۔۔
زینی نے ناگواری سے اس کے میسیج کو دیکھتے ہوۓ کہا۔۔
”چل زینی پتہ کر یہ جو اتنا بےتکلف ہو رہا ہے،آخر ہے کون“۔۔زینی نے جلدی سے رپلائی کیا۔۔
”میں تو ٹھیک ہوں،آپ مجھے کچھ کھسکے ھوۓ لگتے ہیں“۔۔ٹیکسٹ لکھ کر سینڈ کیا۔۔
دوسری طرف وہ اس کی طرف سے موصول ہوۓ ٹیکسٹ کو پڑھ کر مسکرایا۔۔
”لچھن تمہارے مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے،صبح سے میرے لیپ ٹاپ پر نظریں گھاڑے بیٹھے ہو اور اب مسکرا بھی رہے ہو“۔۔
سالار اسے یوں مسکراتے دیکھ کر مشکوک ہوا تھا۔۔
”شٹ اپ“۔۔
اس نے بنا سالار کی طرف دیکھے کہا اور جلدی سے ٹائیپنگ کرنے لگا۔۔
”لگے رہو بھائی مجھی تو نیند آ رہی ہے،میں چلا سونے“۔۔
سالار کہتا ہوا کمرے میں چلا گیا۔۔
”کیوں محترمہ ایسا کیوں لگا آپ کو“۔۔
زینی نے آنکھیں سکوڑ کر جواب کو دیکھا اور پھر ٹائپنگ کرنے لگی۔۔
رات دھیرے دھیرے ڈھل رہی تھی۔۔گپ میں اندھیرے میں چمکتا چاند اس کی کھڑکی پر کھڑا مسکرا کر اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔دو گھنٹے سے ذیادہ وہ دونوں بات کرتے رہے تھے۔۔پھر زینی تھک کر سو گئ مگر وہ کھڑکی پر کھڑے چاند کو دیکھتا مسکراتا ہوا سوچتا رہا کہ اس کے لیئے تو کوئی اچھی سی جاب ہی فرسٹ پائیوریٹی تھی پھر کیسے وہ ایک انجان لڑکی کا اتنی جلدی دوست بن گیا۔۔


کب آ رہے ہو حسام بیٹا۔۔
سائرہ لیب ٹاپ گود میں رکھے آنکھوں میں ڈھیروں محبت لئیے بولی۔۔
”نیکسٹ ویک انشاءاللہ ماں،ریسرچ ورک بس ختم ہی ہونے والا ہے“۔۔
لیپ ٹاپ پر ابھرتے حوبرو اور سنجیدہ چہرے والے حسام نے کہا۔۔
”دو ماہ سے یہی کہہ رہے ہو،تمہاری ماں کے ماتھے پر بیوقوف لکھا ھے کیا“۔۔
سائرہ نے حفگی سے کہا۔۔
”ماں یہاں کے موسم کی وجہ سے ہم کام جلدی نہیں نبٹا پاتے اسی لیئے ورنہ جلدی آ جانا تھا میں نے“۔۔
حسام نے وجہ بتانی ضروری سمجھی کہ وہ اپنی ماں کو ناراض نہیں کر سکتا تھا۔وہ ماں جو اگر نہ ہوتی تو شاید وہ کسی سڑک پر رل رہا ہوتا۔۔سائرہ کو وہ خراب خالت میں ایک کوڑے کے ڈھیڑ سے ملا تھا اور پھر سائرہ نے اسے اپنا بیٹا بنا لیا تھا۔۔
”ہر بار کی طرح آس تو نہیں ہے یہ“۔۔
سائرہ نے کہا۔۔
”بلکل بھی نہیں“۔۔
حسام نے جلدی سے نفی میں سر ہلایا۔۔
سائرہ پھپھو آپ کی چاۓ“۔۔
سارہ چاۓ کا کپ لیئے کمرے میں داخل ہوئی۔اذان کی دیکھا دیکھی وہ بھی سائرہ کو پھپھو کہنے لگی تھی۔۔
”شکریہ بیٹا“۔۔
سائرہ نے اس کے ہاتھ سے چاۓ لیتے ہوۓ کہا تبھی سارہ کی نظر حسام پر پڑی۔۔”اسلام علیکم۔۔!! حسام بھائی کیسے ہیں۔بھول گۓ ہیں آپ گھر کا راستہ کیا۔چار ماہ دس دن ہو گۓ ہیں آپ کو گۓ ہوۓ“۔۔وہ ایک ہی سانس میں جلدی جلدی بولی۔۔
”وعلیکم اسلام۔۔!! آرام سے سارہ۔کیا ہو گیا ہے“۔۔
حسام نے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔
”کیا آرام سے ہاں،ایک تو آپ عرصے سے ریسرچ کے نام پر غائب ہیں اور اوپر سے کہتے ہیں میں پوچھوں بھی ناں۔۔یہ غلط ہے ناں پھپھو“۔۔سارہ نے سائرہ سے تائید چاہی۔۔
”بلکل ٹھیک کہہ رہی ہے میری بیٹی“۔۔
سائرہ نے اثبات میں سر ہلاتے ہوۓ کہا۔۔
”لو جی میری ماں نے پارٹی بدل لی“۔۔
حسام نے کہا تو وہ دونوں مسکرا دیں۔۔
”سارہ۔۔!!“
حسام نے سارہ کو پکارا۔۔
”جی بھائی“۔۔
سارہ نے جواب دیا۔۔
”کیوں روئی ہو تم“۔۔
اس کی لال آنکھیں دیکھ کر حسام فکرمندی سے بولا۔۔
”نہیں میں روئی تو نہیں ہوں،نزلہ ہو گیا ہے مجھے“۔۔
سارہ نے جھوٹ بولا۔۔
”سارہ مجھ سے جھوٹ مت بولو اور بتاؤ کیا ہوا ہے“۔۔
حسام نے کہا۔۔
”مجھے زارا کی بہت یاد آتی ہے حسام بھائی۔۔!! مگر وہ مجھ سے بات کرنا یا ملنا نہیں چاہتی۔۔وہ مجھ سے نفرت کرتی ہے“۔۔
سارہ کے آنسو پھر سے بہہ نکلے تھے۔۔
”غلط وہ تم سے نفرت نہیں کرتی،وہ تم سے نفرت چاہ کر بھی نہیں کر سکتی“۔۔
حسام نے کہا تو سارہ نے یکدم سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔۔
”پھر وہ مجھ سے بات کیوں نہیں کرتی،میں ترکی جاؤں تو وہ ہفتوں گھر سے غائب رہتی ہے،پاکستان وہ انا نہیں چاہتی،فون میرا نہیں اٹھاتی کیوں۔۔؟؟“
اس کے سوالات کی بوچھاڑ وہ چپ رہ گیا۔۔وہ اسے تسلی دے سکتا تھا مگر اس کے سوالوں کے جواب اس کے پاس تھے بھی نہیں۔۔وہ خود نہیں جانتا تھا زارا سارہ سے کیوں نفرت کرتی ہے۔۔اساور سگ نفرت کی وجہ سمجھ آتی تھی مگر سارہ سے دوری کی وجہ وہ نہیں سمجھ پایا تھا۔۔