54.6K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Aankh Bhar Aansu) Episode 5

”مجھ سے بات مت کریں“۔۔
حسام کب سے سارہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا مگر وہ کتاب میں سر دیئے اس سے خفا خفا سی بیٹھی تھی۔۔اس کے بار بار پکارنے پر وہ تنک کر بولی۔۔
”باپ رے ایسا کیا پڑھ رہی ہو جو اتنے غصے میں ہو“۔۔
حسام نے جھوٹ موٹ ڈرنے کی ایکٹنگ کرتے ہوۓ کہا۔۔
”پہلی بات میں غصہ اس لییئے ہوں کیونکہ میں آپ سے ناراض ہوں اور دوسری بات میں زارا رباب کا ناول پڑھ رہی ہوں“۔۔
کہہ کر وہ دوبارہ سے کتاب پر جھک گئ۔۔
”زارا رباب یہ کون ہے۔؟؟“۔
حسام نے پوچھا۔۔
”میری بہن ہے اور کون“۔۔
سارہ نے کہا۔۔
”اچھا مجھے کیا پتہ زارا کاظمی کا قلمی نام زارا رباب ہے،،اچھا تم یہ کتاب چھوڑو اور مجھ سے بات کرو“۔۔
حسام نے اس سے کتاب چھین کر ٹیبل پر رکھی۔۔
”مجھے آپ سے بات نہیں کرنی میری کتاب دیں“۔۔
سارہ نے کتاب لینے کو ہاتھ بڑھایا مگر اس کے دونوں ہاتھ حسام نے اپنے ہاتھوں میں جھکڑ لیئے۔۔
”دیکھو سارہ بچے،میں دو گھنٹے بعد کے فلائیٹ سے جا رہا ہوں،آپ روٹھیں یا مان جائیں مجھے جانا ہی ہر صورت،یہ نہیں ہے کہ مجھے آپ کی ناراضگی کی پرواہ نہیں ہے۔ایسا ہے کہ میرے کام میرے پیشن کی ڈیمانڈ ہے یہ مجھے جانا ہی ہو گا۔۔میں تمہیں یوں ناراض کر کے نہیں جانا چاہتا۔سفر پر جا رہا ہوں زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔۔آپ سمجھ رہی ہو ناں میں کیا کہہ رہا ہوں۔۔؟؟“۔۔
حسام نے اس کے ہاتھوں کو پکڑے ہی کہا تو سارہ نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا اور پھر ہاں میں سر ہلاتی ہلکا سا مسکرا دی۔۔
”آپ بھی ناں بھائی ایموشنل کر دیتے ہیں“۔۔
حسام کے کندھے سے سر ٹکاتی ہوئی وہ بولی تو حسام نے اس کے سر پر ہلکی سی چپت لگائی۔۔
”اچھا بہن تو نے باتوں میں لگا لیا میں نکلتا ہوں کچھ ضروری کام بھی نبٹانے ہیں“۔۔
تھوڑی دیر میں وہ سائرہ،عینا،اساور،سارہ اور اذان سے الوداع ہوتا ایئرپورٹ کے لیئے نکل گیا تھا۔۔


”اچھا ناں سوری کر تو رہا ہوں یار ختم کر دو ناں اب یہ ناراضگی“۔۔
زینی نے کب سے بجتے فون کو تنگ آ کر ریسیو کر کے کان سے لگایا تو سالار جہاں کی بےتاب آواز گونجی۔۔
”میں کال ریسیو نہیں کر رہی تو اس کا مطلب ہے کہ میں بات نہیں کرنا چاہتی تم سے“۔۔
زینی کو ابھی تک اس پر غصہ تھا۔۔
”یار ابھی تک غصہ ہو“۔۔
بالوں کو مٹھی میں جھکڑتا وہ بیڈ پر ترچھا سا لیٹ گیا۔۔
”مزید کچھ ارشاد کریں گے آپ یا میں فون رکھوں“۔۔
زینی بولی۔۔
”سوری،سوری،سوری،سوری،ایم سوری پلیز معاف کر دو آئیندہ خیال رکھوں گا میں“۔۔
سالار جہاں بولا۔۔
”میری بہن میری جان ہے سالار اس کے خلاف کچھ نہیں سن سکتی میں اور اس کے خلاف کچھ بھی الٹا سیدھا بولنے والوں سے میں کبھی کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہوں گی“۔۔
اس کا لہجہ اب تھوڑا نرم ہوا تھا مگر غصے کے عناصر ابھء بھی موجود تھے۔۔
”میری کیا مجال جو آئیندہ کچھ کہوں رباب رانا کے بارے میں،بس اس بار معاف کر دو“۔۔
سالار بولا۔۔
”ہمم صیح ہے آئیندہ دھیان رکھنا ورنہ زینب رانا کی آواز بھی کبھی نہیں سن پاؤ گے تم“۔۔
زینی نے کہا۔۔
”اوکے۔۔ابھی تو تم نے معاف کر دیا ناں“۔۔
سالار نے امید سے پوچھا۔۔
”ہاں کر دیا“۔۔
اس کے لہجے میں جلتی بجتی امید کی لو محسوس کرتے ہوئی زینی کا دل پگھل گیا تھا۔۔وہ نرمی سے مسکرائی۔۔
”اوہ تھینک گاڈ“۔۔
ایک گہرا سانس لیتے ہوۓ سالار کو جیسے سکون آیا تھا۔۔
”اور کچھ“۔۔
زینی نے مسکرا کر بالوں کی لٹ کو کان کے پیچھے اڑسا۔۔
”پاکستان کب آ رہی ہو“۔۔
سالار نے پوچھا۔۔
”بہت جلد”۔۔
زینی نے کچھ سوچ کر کہا تو چہرے پر شرمیلی سی مسکراہٹ چھا گئ تھی۔۔
”مجھے انتظار رہے گا تمہارا“۔۔
سالار نے نرم لہجے میں کہا تو زینی کو لگا وہ نرم لہجہ صرف نرم لہجہ نہیں تھا وہ محبت کی داستاں کا آغاز تھا۔وہ اظہار تھا کہ ”سنو زینی مجھے تم اچھی لگتی ہو“۔اور اس حیال نے زینی کی آنکھوں میں کئیں خواب بوۓ تھے وہ حواب جو عمر کے اس حصے میں اکثر بہت سہانے لگتے ہیں جس حصے میں زینی داخل ہو رہی تھی۔یہ خوابوں کی بادشاہی کی عمر تھی۔اس عمر میں دل ہی رعایا اور دل ہی حکمران ہوتا ہے۔ایک تھوڑا سا ہنسنا بھی چمکتی دھوپ لگتا ہے۔نوجوانی اس شے سے بےبہرہ ہے کہ اک تھوڑے سے ہنسنے پر چمکتی دھوپ جھلسا بھی سکتی ہے۔۔


”اندر آ جاؤں میں دانی۔۔!!“۔
دروازے پر دستک دے کر سعدی نے اجازت چاہی تو ڈائری کے سادہ صفحات پر قلم کی سیاہی بکھیرتی دانین نے چونک کر دروازے کی سمت دیکھا اور پھر ڈائری بند کر کے سائیڈ پر رکھی اور اثبات میں سر ہلا کر اندر آنے کو کہا۔۔
”کیا کر رہی ہو“۔۔
سعدی نے پوچھا۔۔
”کچھ نہیں“۔۔
تین لفظی کے سوال پر دو لفظی کا جواب فوراً آیا تھا۔۔
”تمہارے لئیے پارسل آیا ہے پاکستان سے“۔۔
سعدی نے ہاتھ میں پکڑا ڈبہ دانین کے سامنے میز پر رکھا۔۔
”تم جاؤ“۔۔
وہ جو کچھ کہنے کے لیئے لب کھول رہا تھا اس کے کہنے پر اثبات میں سر ہلا کر باہر نکل گیا۔۔
دانین نے ایک گہری سانس لیتے ڈبے کی طرف دیکھا کہ جب جب اساور کی کالز بڑھ جاتیں اور وہ اگنور کرتی تھی تب تب پاکستان سے اس کے لیئے یہ پارسل آتا تھا اور یہ تقریباً مہینے میں دو بار ضرور ہوتا تھا۔۔
دانین نے ڈبے کو کھینچ کر اپنے سامنے کیا۔۔کچھ دیر وہ اسے یونہی دیکھتی رہی پھر اٹھی اور ڈبہ اٹھا کر واشروم سے ملحقہ الماری کھول کر اس ڈبے کو اندر رکھ دیا۔۔اندر اس رنگ کے گفٹس کا انبار لگا تھا جنہیں اس نے کھول کر دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا تھا کہ اسے ڈر تھا وہ انہیں کھولے گی تو پگھل جاۓ گی اور وہ پگھلنا نہیں چاہتی تھی۔جو پتھر اس نے چوبیس سال پہلے دل پر رکھ لیا تھا وہ اس پتھر کو رکھے رہنا چاہتی تھی۔۔


استنبول کے آسمان پر سرمئ بادل چھاۓ ہوۓ تھے۔موسم کی خنکی بڑھ رہی تھی۔یوں لگتا تھا تھوڑی دیر میں تیز برسات ہونے والی ہے۔۔
زارا سفید لانگ فراک اور چوری دار پاجامہ پہنے،گلے میں مفلر کے سٹائل میں دوپٹہ ڈالے،کندھوں پر بیگ لٹکاۓ،ایک کتاب ہاتھ میں پکڑے،بڑھتی ہوئی سردی سے بےنیاز بلیک جیکٹ کو بازو پر ڈالے وہ سست روی سے فٹ پاتھ پر چل رہی تھی۔اس کے کندھوں تک آتے بال ہمیشہ کی طرح ایک طرح سے سلائیوں میں مقید تھے۔۔وہ سر جھکاۓ پاؤں گھسیٹی ہوئی جا رہی تھی کہ تبھی کسی قدآور شے سے ٹکڑا کر گرتے گرتے بچی۔اس کے ہاتھ میں موجود کتاب تھوڑی دور گر چکی تھی۔۔زارا نے نظر اٹھا کر سامنے دیکھا۔وہ قدآور شے اونچا لمبا مرد تھا۔وہ شائد موبائل پر کسی سے بات کر رہا تھا۔اس کے ہاتھ سے موبائل گر کر اس کے پیروں کے پاس پڑا تھا۔۔
”تم“۔۔
وہ حسام تھا جو اسے دیکھ کر کچھ پل کو ساکت ہوا تھا کہ اتنی مشابہت سارہ اور زارا میں اس نے سوچی نہیں تھی۔۔
”جی مطلب“۔۔
اس کے اس طرح تم کہنے پر زارا نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔۔
”نہیں کچھ نہیں“۔۔
حسام نے نفی میں سر کو ہلایا۔۔
”فون پر بات کرتے ہوۓ اردگرد بھی دیکھ کر چلا کریں مسٹر“۔۔
زارا سخت لہجے میں ٹھہر ٹھہر کر بولی تو حسام کو سامنے کھڑی لڑکی اور سارہ میں واضح فرق نظر آیا۔۔
”سوری وہ میں……“۔۔
حسام کے الفاظ منہ میں ہی رہ گۓ تھے اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا زارا تیز نظر اس پر ڈالتی آگے بڑھ گئ۔۔
حسام نے تھوڑی خیرانگی سے اسے دیکھا اور پھر کندھے اچکاتے ہوۓ جھک کر موبائل اٹھانے لگا تبھی اس کی نظر اس کتاب پر پڑی جو ابھی زارا سے گری تھی۔۔اس نے موبائل پاکٹ میں ڈال کر کتاب اٹھائی۔۔
ٹائٹل پر ”میری آہٹوں کا یقین نہ کر“۔ اجلے خروف میں لکھا ہوا تھا۔۔حسام نے کتاب کا پہلا صفحہ کھولا۔۔”مصنفہ زارا رباب“ لکھا ہوا دیکھ کر اب کہ اسے یقین آ ہی گیا کہ یہ زارا کاظمی ہے سارہ کاظمی کی جڑواں بہن۔۔
”زارا…!!“۔۔
حسام نے آواز دی تو اس کے قدم رکے اور پھر اس نے مڑ کر اسے دیکھا۔۔
”آپ کی کتاب گر گئ تھی“۔۔
اب کہ وہ سلیس اردو میں بولا تو زارا نے خیرانگی سے اسے دیکھا۔انکھوں میں سوال تھا کہ میرا نام کیسے جانتے ہو۔۔
”کتاب پر لکھا تھا“۔۔
اس کی نظروں کا سوال پڑھتے حسام نے فوراً سے جواب دیا۔۔
”تھینکس“۔۔
اس کے ہاتھ سے کتاب تقریباً چھینتے ہوۓ وہ واپس پلٹ گئ۔۔حسام کی نظروں نے بس میں سوار ہو کر وہاں سے جاتی زارا رباب کو کتنی دیر تک ساکت ہو کر دیکھا اور پھر خود کو ڈانٹا ہوا واپس پلٹ گیا۔۔


ہسپتال کے کوریڈو میں وہ وہیل چیئر دھکیلتا ہوا جا رہا تھا۔وہیل چیئر پر بیٹھا وجود یوں ساکت بیٹھا تھا جیسے کوئی مجسمہ ہو۔۔
وہیل چئیر کو ریسپشن کے پاس روک کر اس نے اخراجات معلوم کیئے۔۔بل بہت ذیادہ تھا جبکہ اس کے والٹ میں رکھے پیسے بہت کم تھے۔آنلائن جابز سے وہ بہت تھوڑے ہی پیسے کما پایا تھا۔۔
”مسٹر رضا،ٹیسٹ کے بِل پے کر دیں پھر آپ اپنی مدر کو لیب لے جا سکتے ہیں“۔۔
ریسپشن پر موجود لڑکے نے کہا تو رضا نے اپنے والٹ کی طرف دیکھا جس میں پیسے بہت کم تھے۔۔کچھ سوچتے ہوۓ اس نے موبائل نکالا اور کال ملا کر موبائل کان سے لگایا۔۔
کال پِک نہیں کی جا رہی تھی دوسری طرف سے اس لیئے وہ بےچینی سے ادھر ادھر ٹہل رہا تھا۔۔بار بار وہ موبائل پر نمبر ملاتا رہا تو آخر کچھ دیر بعد کال پک کر لی گئ۔۔
”اسلام علیکم ڈیڈ۔۔!!“۔۔
وہ فوراً بولا۔۔
”کیوں فون کیا ہے“۔۔
دوسری طرف سے کرخت لہجے میں پوچھا گیا۔۔
”ڈیڈ آپ نے پیسے نہیں بجھواۓ مام کے علاج کے لیئے،میں انہیں ہاسپٹل لایا ہوں،ٹیسٹ کروانے ہیں“۔۔
رضا نے کہا۔۔
”واہ پچھلی بار تو بڑا اکڑ کر بول رہے تھے نہیں چاہیئے مجھ سے کچھ بھی“۔۔
تمسخر اڑاتا ہوا لہجہ رضا کے ضبط کو للکار رہا تھا۔۔
”ڈیڈ مجھے کوئی جاب نہیں ملی اور ابھی پیسے چاہئیں“۔۔
رضاضبط کرتے ہوۓ بولا۔۔
”میں نے تمہاری ماں کا ٹھیکا نہیں اٹھا رکھا آئیندہ مجھے فون مت کرنا“۔۔
”ڈیڈ آج بھیج دیں میں آپ کو جلد لوٹا دوں گا پلیز“۔۔
وہ منت بھرے لہجے میں بولا۔۔
”چلو آج بھیج دیتا ہوں مگر تمہیں ایک بینک اکاؤنٹ کا پتہ دوں کڑوڑ پتی ہو جاؤ گے“۔۔
مسکراتے لہجے میں دوسری طرف سے کہا گیا۔۔
”کیا میں سمجھا نہیں“۔۔
رضا ناسمجھی سے بولا۔۔مگر دوسری طرف سے کہے گۓ الفاظ اس کے سینے میں تیر کی طرح چبھے تھے یا وہ لہجہ ہمیشہ سے ذیاہ دل دکھا دینے والا تھا وہ فیصلہ نہ کر پایا۔۔
کال ڈسکنیکٹ ہوئی تو وہ موبائل ہاتھ میں لیئے غائب دماغی سے کتنی دیر اسے دیکھتا رہا۔۔تھوڑی دیر بعد موبائل چنگھاڑا تو رضا نے دیکھا اس کے باپ نے پیسے بھیج دئیے تھے مگر اس کا سکون غارت ہو گیا تھا۔۔ساری سوچوں کو سر جھٹک کر پرے دھکیلتا وہ ماں کی طرف دیکھ کر ریسیپشن پر بِل جمع کروانے بڑھ گیا۔۔


”آج میں نے زارا کو دیکھا“۔۔
حسام فون کان سے لگاۓ ہوٹل روم کے ٹیرس پر کھڑا بولا۔۔
”سچ کیسی ہے وہ“۔۔
سارہ نے فوراً سے پوچھا۔۔
”بہت عجیب ہے“۔۔
اس کو تصور کرتے حسام نے کہا۔۔
”کیا مطلب اور آپ نے اسے کیسے پہچانا؟؟“۔۔
سارہ نے پوچھا۔۔
”رویہ بہت عجیب تھا اس کا اور میں نے پہچان لیا اس کے اور تمہارے چہرے کے نقوش ایک سے ھیں“۔۔
حسام نے کہا۔۔
”آپ نے اسے بتایا میں اسے کتنا یاد کرتی ہوں“۔۔
سارہ آبدیدہ ہو گئ تھی۔۔
”میں اسے جانتا ہوں وہ مجھے نہیں جانتی بیٹا“۔۔
حسام نے کہا۔۔
”تو آپ اسے بتاتے ناں کہ آپ میرے بھائی ہو“۔۔
سارہ نے کہا۔۔
”تاکہ وہ جوتا اتار کر میرے سر پر مارتی“۔۔
حسام نے اس کے لہجے کو یاد کرتے ہوۓ ہنس کر کہا۔۔
”کیا مطلب؟؟“۔۔
سارہ نے ناسمجھی سے پوچھا۔۔
”کچھ نہیں وہ لاہور آ رہی ہے ناں تم اس سے مل لینا“۔۔
حسام نے کہا۔۔
”وہ کہاں آتی ہے پاکستان“۔۔
سارہ نے آہستہ سے کہا۔۔
”وہ آ رہی ہے،اس کے لیئے پروگرام اورگنائز کیا گیا ہے،اس سال کی بہترین کتابوں میں اس کی کتاب بھی منتخب ھے وہ آ رہی ہے“۔۔
حسام نے بتایا۔۔
”آپ سچ کہہ رہے ہیں بھائی“۔۔
سارہ خوشی سے بولی۔۔
”جی میری گڑیا“۔۔
اس کے خوشی محسوس کرتے وہ مسکرایا۔۔
”یاہو چلیں کال بند کریں میں بابا،عینا آنٹی اور پھپھو کو بتاتی ہوں“۔۔
خوشی سے کہتی وہ کر اس نے فون کاٹا اور بیڈ پر پھینک کر باہر سب کو بتانے دوڑ لگا دی۔۔
”پاگل“۔۔
حسام نے موبائل پاکٹ میں ڈالا اور ٹیرس کا دروازہ بند کرتا کمرے میں چلا آیا۔۔
(فون پر بات کرتے ہوۓ اردگرد بھی دیکھ کر چلا کریں مسٹر“۔۔)۔۔
ذہن پر کچھ خدوخال ابھرے تو وہ بےساختہ مسکرا اٹھا اور پھر اپنے ہی سر پر چپت لگا کر خود کو جھڑکتا وہ سونے کے لیئے لیٹ گیا ۔


”بھائی بھی چلے گۓ تم بھی جا رہے ہو۔اٹس ناٹ فئیر“۔
سارہ کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گر رہے تھے۔وہ ایسی ہی تھی بہت نازک دل کی۔رشتوں میں دوریاں اس کے دل کو دہلاتی تھیں کہ شائد جانے والا زارا کی طرح واپس آنے سے انکاری نہ ہو جاۓ۔۔
”تو پاگل ہمیشہ کے لیئے تھوڑی جا رہا ہوں،ایک ہفتے بعد واپس آ جاؤں گا”۔۔
اذان نے اس کے گالوں پر بہتے آنسوؤں کو اپنی ہتھیلیوں سے رگڑ کر صاف کیا۔۔
”مجھے ڈر لگتا ہے کہ جانے والے زارا سے بن گۓ تو“۔۔
اس نے اپنا خدشہ بیان کیا۔۔
”یار ہر وقت زارا زارا افف“۔۔
اذان نے اپنا سر پکڑ لیا تھا۔وہ اب اس زارا نامی لڑکی سے شدید اکتا گیا تھا جس کا ذکر اٹھتے بیٹھتے وہ ہر وقت کرتی تھی۔۔
”وہ میری بہن ہے اذان“۔۔
آبدیدہ لہجے میں کہا گیا۔۔
”میں جانتا ہوں یار اب تو مجھے خفظ ہو گیا ہے سوتے جاگتے ایک ہی لفظ کی گونج تو ہوتی ہے میرے کانوں میں”زارا زارا اور بس زارا“۔۔
اذان تنک کر بولا۔۔
”تو اتنا ہائیپر کیوں ہو رہے ہو“۔۔
سارہ نے کہا۔۔
”مجھے لگا میں جا رہا ہوں تو تمہیں دکھ ہو رہا ہے مگر تم تو ہر دکھ میں زارا کو ڈھونڈ لیتی ہو۔میں یونہی خوشفہم ہو گیا تھا”۔۔
اذان کا لہجہ اداس ہوا۔۔
”میں تم سے،سب سے بہت مخبت کرتی ہوں اس لیئے تو پرانا گھاؤ مجھے ڈرا دیتا”۔۔
اس کا ہاتھ تھام کر وہ بولی۔۔
”مجھ سے بھی محبت کرتی ہو۔۔؟؟“۔۔
جانے کیوں وہ پوچھ بیٹھا۔۔
”ہاں“۔۔
اس جلدی سے اثبات میں سر ہلایا تو وہ کتنی دیر اسے دیکھتا رہا تھا۔۔وہ واقعی میں ناسمجھ تھی یا بنتی تھی۔۔کتنی آسانی سے وہ بولی بیٹھی تھی کہ اسے بھی محبت ہے۔اذان نے پوچھنا چاہا”کیا وہ محبت ہے جو مجھے تم سے ہے۔؟؟مگر وہ پوچھ نہ پایا مگر اتنا جان گیا کہ جیسی محبت اسے سب سے ویسی ہی اس سے بھی ہے۔۔کچھ مختلف سا نہیں تھا۔۔
”چلو نکلتا ہوں میں“۔۔
اسے اپنے ساتھ لگاتے اس کے سر پر ٹھوڑی رکھتا وہ بولا۔۔
”جلدی آنا”۔۔
سارہ اپنے آنسو صاف کرتی اس سے الگ ہوئی۔۔
”ابھی تو چلا جاؤں ناں ابھی ماما اور پھپھو نکل آئیں گی انہوں نے نہیں جانے دینا پھر مجھے“۔۔
اذان کہہ کر سوٹ کیس گاڑی میں رکھتا ہوا بیٹھا تو ڈرائیور گاڑی زن سے بھگا کر لے گیا۔۔
سارہ کچھ دیر یونہی کھڑی رہی پھر آنسؤوں والے چہرے کے ساتھ پھیکا سا مسکرا دی۔۔
”ہاں مجھے بھی وہی محبت ہے تم سے جو تمہیں مجھ سے ہے باقیوں سے الگ“۔۔
اس راستے کو دیکھتے جہاں سے وہ گزرا تھا وہ زیرِلب بڑابڑائی۔۔
”مگر اب کہ محبت سے بہت ڈر لگتا ہے کہ محبت کے معاملے میں بہت بدنصیب ٹھہری ہوں نصیب نہیں ہوتی۔۔


آسمان کی وسیع چادر آہستہ آہستہ انھیرے کی لپیٹ میں آ رہی تھی۔آسمان پر چمکتا تیر سا چاند روشنی دینے میں ناکام تھا۔تارے گنتی وہ چاۓ کا مگ تھامے ٹیرس پر کھڑی تھی۔ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اس کے وجود سے ٹکڑاتا تو وہ سفید شال کا گھیرا مزید اپنے گرد تنگ کر دیتی تھی۔سالوں گزر گۓ تھے مگر اس کی پسند وہی سفید تھی وہ سفید جو اساور کی پسند تھی اس سے برسوں کا فاصلہ ہونے کے باوجود وہ اس کی پسند کے رنگ کو اپنے اوپر سے نوچ کر نہیں پھینک پائی تھی۔۔گلی میں کسی نے بانسری کی دھن بکھیری تو چاند کو تکتی اس کی آنکھیں بھٹک بھٹک کر اطراف میں گھومنے لگیں۔۔تھوڑی دیر میں دھن کے ساتھ ایک مدھم اور سریلی سی آواز گونجنے لگی۔دانین نے کونے میں جا کر ٹیرس کی ریلنگ کو پکڑ کر گلی میں جھانکا۔نیچے بنے چبوترے پر سفید لباس پہنے لڑکی بیٹھی گا رہی تھی اور آتے جاتے لوگ اسے سنتے ہوۓ چند سکے اس کی گود میں رکھ کر آگے بڑھ رہے تھے۔۔
”سنو اے محبت
انہیں کہنا کہ ان سے
فاصلوں کے پتھر پر
کندہ کر دیا ہے
کہ وہ آنکھیں جنہیں میں
رات میں بھی صبح سمجھتا تھا
میری تاریکیوں میں
سورجوں کو مات دیتی تھیں
انہیں دیکھے ہوۓ
جب سے زمانہ ہو گیا ہے
تو سن لو اے محبت!!
اسی کندہ پتھر کو
کبھی اس راہ پہ رکھنا
جہاں اس کا بسیرا ہو
جہاں سے صبح گزرتی ہو…“۔۔
الفاظ اس سفید شہزادی کے منہ سے ٹوٹ ٹوٹ کر مگر بہت خوبصورتی سے ادا ہو رہے تھے۔۔دانین کی آنکھوں میں کئیں دکھ ایک ساتھ اترے تھے۔کبھی وہ ان آنکھوں کو دیکھ کر جیتی تھی جن کو دیکھے بنا جیئے اسے زمانے گزر گۓ تھے۔۔ٹیبل پر پڑا اس کے بجتے موبائل نے اس کی توجہ اپنی جانب کھینچے تو اس نے آگے بڑھ کر موبائل اٹھایا۔۔کچھ دیر وہ فون کو تکتی رہی کہ درد آنکھوں سے ہوتا رگوں میں اتر رہا تھا۔۔
”کیسی ہو دانی“۔۔
کچھ توقف بعد اس نے فون اٹھایا تو دوسری طرف کے لہجے میں بسا درد اس کی آنکھوں کی تحریر کو مٹانے لگا۔۔
”کیوں فون کیا ہے؟؟“۔۔
اس نے بتانا چاہا”نہیں ہو ٹھیک“ مگر اس کے منہ سے ٹھنڈے برف سے الفاظ نکلے تھے۔شاید یہ سختی گزرے ماہ و سال کی تھی جو اب کبھی نہیں جانے والی تھی۔۔
”تم سے بات کرنے کو بےقرار تھا میں،تم فون اٹھاتی ہو نہ خطوط کے جواب دیتی ہو،رحم کا کوئی آخری حصہ اگر ہے توہ مجھ پر کر دو،مجھ سے بات کر لیا کرو“۔۔
اساور کے لہجے میں درد بول رہا تھا۔۔
”بھول جاؤ اس محبت کو۔اب ہم بوڑھے ہو چکے ہیں“۔۔
دانین کا لہجہ وہی دسمبر تھا جو جون میں بھی ہنوز قائم رہتا تھا۔۔
”ہم بوڑھے ہو سکتے ہیں،محبت کبھی بوڑھی نہیں ہوتی دانی“۔۔
کبھی اس کے منہ سے اپنا نام سن کر وہ ہواؤں میں اڑتی پھرتی تھی۔۔وہ نام معتبر تھا جو اس کے محبوب کے منہ سے نکلا تھا مگر اب تو جذبات بھی سرد تھے دسمبر کی طرح۔وہ دسمبر جو جولائی میں بھی اترتا تھا۔۔
”میں بوڑھی ہو چکی ہوں اور میری محبت جوانی میں ہی مر گئ“۔۔
ہوا کا جھونکا اس سے ٹکڑایا تو وہ جھرجھری لے کر رہ گئ۔۔
”لوٹ آؤ،اساور تمہارے انتظار میں ہر رات جاگتا ہے،ہر دن تمہاری راہ تکتا ہے“۔۔
لہجے میں مِنت اتر آئی تھی۔۔
”مجھے فون مت کیا کرو میں نہیں آؤں گی“۔۔
دانین نے کہہ کر فون کاٹا اور کمرے میں چلی آئی۔۔ٹھنڈی ہوا کے ساتھ اس کے اندر امڈتے جذبات بھی ٹھنڈے ہو گۓ تھے۔۔موبائل آف کر کے اس نے دراز میں ڈالا کہ وہ جانتی تھی وہ اب بار بار فون کرے گا اور بار بار کی برسات پتھر کو پگھلا بھی سکتی ہے۔اور وہ پھگلنا نہیں چاہتی تھی۔۔


اس کی طبیعت صبح سے بوجھل ہو رہی تھی تو وہ ہسپتال چلی۔اسے تیز فیور ہو رہا تھا۔سر چکرا رہا تھا۔دھیرے دھیرے چلتی وہ کوریڈو میں آئی۔ایک زور کا چکر آیا اور وہ لڑکھڑائی۔دیوار کا سہارا لینے کو اس نے ہاتھ بڑھاۓ مگر آنکھوں کے سامنے چھاتے اندھیرے کی وجہ سے اس کے ہاتھ ہوا میں معلق ہو کر رہ گۓ۔اس سے پہلے کہ وہ گرتی وہ کسی قدآور شے سے ٹکرائی۔بنا دیکھے ہی اس نے محسوس کیا کہ وہ اس دیوار سے پہلے بھی ٹکرا چکی ہے۔بمشکل آنکھیں کھولتے اس نے دیکھا تو پہچان لیا وہ اسے پہلے بھی ٹکرا چکا ہے۔۔
”آپ ٹھیک ہیں زارا“۔۔
حسام نے اس کے دہکتے وجود کو محسوس کرتے فکرمندی سے پوچھا۔
”میرا سر چکرا رہا ہے“۔۔
اس کے وجود کا سہارا لیتی وہ دھیرے سے بولی۔۔بہت کوشش کرنے کے باوجود بھی وہ اپنے حواس پر قابو نہیں پا رہی تھی۔۔اور پھر وہ بند ہوتی آنکھوں کے ساتھ اس کی بانہوں میں جھول کر رہ گئ۔۔
”زارا۔۔!!زارا۔۔!!“۔۔
اس کا چہرہ تھپتھپاتا وہ فکرمندی سے بولا مگر اسے ہوش و حواس سے بیگانہ دیکھ کر اس کے دل میں ہول اٹھنے لگے تھے۔۔اسے بازؤوں میں اٹھاتا وہ ایمرجنسی وارڈ کی طرف بھاگا۔۔
”ڈاکٹر۔۔!! ڈاکٹر۔۔!!“۔۔
اسے بیڈ پر لٹاتا وہ چلایا۔۔اس کے حواس بھی اہستہ آہستہ اس کا ساتھ چھوڑ رہے تھے۔۔ڈاکٹر دوڑتے ہوۓ آۓ۔تھوڑی دیر میں زارا کو ڈرپ اور انجکشن لگا دیا گیا۔۔اسے تیز بخار تھا۔اسے بارش میں بھیگنے پر تیز فیور نے آن گھیرا تھا۔۔
حسام نے اس کی حراب ہوتی حالت کے ساتھ اپنی سانسیں اکھڑتی محسوس کء تو جانا کہ پہلی ملاقات کی مسکراہٹ ہی تو محبت تھی۔۔اس نام سے انجانی سی انسیت ہی تو محبت تھی۔۔وہ جو بیڈ پر بےسد لیٹی تھی آنکھ بھر ہی سہی مگر اس کی محبت کا آسمان تھی۔۔اس کے پاس کھڑا وہ اسے کتنی دیر تک دیکھتا رہا تھا۔۔
”وہ پہلا امپریشن ہی تو محبت تھا“۔۔
زیرِلب بڑابڑاتے اس کے ہاتھ کو تھام کر حسام نے اپنی بھیگی آنکھوں سے لگایا اور پھر آنسؤوں کے درمیان ہی مسکرا دیا تھا۔۔


جاری ہے۔۔۔