Aankh Bhar Aansu (Inteqam Lal Ishq Season 2) By Pareeshay Mahnoor Readelle50255 (Aankh Bhar Aansu) Episode 2
Rate this Novel
(Aankh Bhar Aansu) Episode 2
زارا ڈریسنگ مرر کے سامنے کھڑی اپنے کندھوں تک آتے بالوں کو درمیان سے مانگ نکال کر بائیں طرف سٹائل بنا کر کھڑی اپنا جائزہ لینے لگی۔۔اورنج رنگ کی لانگ گھیرے دار فراک کے ساتھ چوری دار پاجامہ پہنے ہونٹوں پر ہلکی سی لپ اسٹک لگاۓ،دوپٹے کو مفلر کی طرح گردن کے گرد لپیٹے وہ کہیں جانے کے لیئے تیار تھی۔۔تبھی زینی دروازہ کھولتی معصوم شکل بناۓ اندر داخل ہوئی۔۔
”میں اندر آ جاؤں زارا“۔۔
بیڈ پر بیٹھتے ہوۓ وہ معصومیت سے بولی۔۔
”تم اندر آ چکی ہو زینی،اور خدارا مینرز سیکھ لو آئیندہ اس طرح میرے کمرے میں مت آنا“۔۔
زارا نے کوفت سے اسے دیکھتے الماری سے بلیک جیکٹ نکال کر پہنی۔۔
”اچھا سنو ناں۔۔!!“۔۔
وہ اٹھ کر زارا کے ساتھ ڈریسنگ کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔۔اپنی انگلی سے اس کے بازو پر دستک کی طرح بار بار چھو رہی تھی۔۔
”فرمائیں“۔۔
زارا اب پوری اس کی طرف گھومی۔۔
”میں جاؤں تمہارے ساتھ تقریب میں پلیز“۔۔زینی کی بات پر زارا نے اسے دیکھا تو زینی آنکھیں پٹپٹا کر بولی”بہت خوبصورت لگ رہی ہو تم“۔۔
”تمہارے اماں ابا خود آئیں گے کہ وفد کے بھیجوں ان کے پیچھے“۔۔
زارا نے جوتے کے اسٹریپ باندھ کر بیگ کندھے پر ڈالا۔۔
”تم بہن نہیں ہو……“۔۔
”ہاں ڈائن ہوں،آئی نو اینڈ تھینک یو“۔۔
زارا کہہ کر دروازہ کھولتی کمرے سے باہر نکل گئ۔۔
”افف اللہ،ایسی بہن کسی کو نہ دے“۔۔
زینی نے اداس شکل بناتے ہوۓ کہا اور وہیں زارا کے بستر پر نیم دراز ہو گئ۔۔
کچن سے آتی اشتہاانگیز کھانوں کی خوشبو زارا کے نتھوں سے ٹکرائی تو وہ کندھے پر ڈالے بیگ کو صوفے پر رکھ کر کچن میں چلی آئی۔۔
”کیا بنایا جا رہا ہے ماما“۔۔
وہ دانین کے سامنے ہی شیلف پر بیٹھتی ہوئی بولی۔۔
”تمہارا من پسند ناشتہ،نہاری اور خلوہ“۔۔
دانین نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا۔۔
”اوہ تھینکس ماما“۔۔
شیلف سے اتر کر وہ دانین کے گلے لگتے ہوۓ بولی۔۔
”کہیں جا رہی ہو تم“۔۔
دانین نے اسے نک سک سے تیار ہوۓ دیکھ کر پوچھا۔۔
”جی یس۔میری کتاب کی تقریبِ رونمائی ہے،دعا کریں پچھلی کتاب کی طرح یہ بھی سب کو پسند آۓ“۔۔
”انشاءاللہ“۔۔
دانین نے اس کے ماتھے پر بھوسہ دیتے ہوۓ کہا۔۔
”سعد ماموں اور مامی کب تک آئیں گے؟“۔۔
زارا نے کہا۔۔
”میری صبح بات ہوئی تھی سعد کہہ رہا تھا کہ شام کی فلائیٹ سے واپسی ہے ان کی۔۔تم کیوں پوچھ رہی ہو؟؟“۔
نہاری پلیٹ میں ڈال کر دانین نے اس کے آگے رکھی۔۔
”یہ اپنی آفت کی پڑیا کو بھی ساتھ لے جایا کریں،دماغ کھا جاتی ہے میرا،کبھی یہ چاہیئے،کبھی وہ چاہیئے،آج تو میڈن کو میرے ساتھ جانے کا بھوت سوار تھا“۔۔
زارا نے جھرجھری سی لیتے ہوۓ کہا۔۔
”چھوٹی بہن ہے تمہاری ایسا نہیں کہتے زارا“۔۔
دانین نے اسے جھرکا تو وہ مسکرا کر سر ہلا کر رہ گئ۔۔
” اچھا چلیں جلدی سے ناشتہ دے دیں،مجھے نکلنا ہے پھر“۔۔
کرسی کھینچتی وہ کچن ٹیبل کے گرد ہی بیٹھ گئ۔۔
”زارا ایک بات کہوں مانو گی“۔۔
دانین اس کے سامنے بیٹھتی ہوئی بولی۔۔
”پاکستان جانے کے علاوہ جو کہیں گی مانوں گی“۔۔
وہ جانتی تھی اس کی ماں کیا کہنے والی ھے اس لیئے انہیں پہلے ہی ٹوک دیا۔۔
”سارہ بہت یاد کرتی ہے تمہیں،اٹلیسٹ اس سے تو مل لو بہن ہے وہ تمہاری“۔۔
دانین نے ہمیشہ والی گفتگو کو پھر سے دہرایا تو زارا اکتا کر کھڑی ہو گئ۔۔
”وہ اساور کاظمی کی بیٹی ہے اور اساور کاظمی سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی انسان زارا رباب کا کچھ نہیں لگتا“۔۔
اس کے چہرے پر سختی در آئی تھی۔۔
”وہ تم سے ملنا چاہتی ہے زارا،تم صرف اس سے دو بار ملی ہو کتنا عرصہ ہو گیا ہے اس دو بار کی ملاقات کو بھی۔۔وہ جب بھی آتی ہے تم ہفتوں گھر سے غائب رہتی ہو۔وہ تمہاری جڑواں بہن ہے تمہارا دل نہیں کرتا اس سے ملنے کو“۔۔
دانین کی آواز میں نمی گھل گئ تھی۔۔
”نہیں کرتا میرا دل،اور پلیز آپ اب رونے مت لگ جانا“۔۔
زارا بالوں کو جھٹکتے بیگ کندھے پر ڈالتی ہابر نکل گئ۔۔
”جانے اتنی تلخی تمہارے اندر کہاں سے آ گئ ہے زارا،میں ایسا کیا کروں کہ تم کم از کم سارہ سے تو نفرت نہ کرو“۔۔
گیس بند کرتی وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئ۔کچن میں پڑا ناشتہ ویسے کا ویسا ھی پڑا رہ گیا ۔
”سالار لیپ ٹاپ کدھر ہے تیرا“۔۔
سالار کچن میں کھڑا چاۓ بنا رہا تھا جب وہ رف سے حلیئے میں آنکھیں ملتا ہوا آیا۔۔
”الماری کے دراز میں رکھا ہے،تجھے صبح صبح کیوں یاد آ گیا لیپ ٹاپ“۔۔
چاۓ دو کپوں میں انڈیل کر سالار نے ایک کپ اس کی طرف بڑھایا۔۔
”تمہارے اکاؤنٹ سے میل بھیجی تھی ایک کمپنی کو،دعا کر جاب مل جاۓ“۔۔
چاۓ کا کپ لے کر اس نے لبوں سے لگایا۔۔
”اچھا چل تو میل دیکھ میں ناشتہ بناتا ہوں“۔۔
سالار نے کہا تو وہ مسکرا کر اس کی طرف دیکھتا کمرے میں چلا آیا۔۔لیپ ٹاپ الماری سے نکال کر وہ صوفے پر بیٹھ گیا۔۔
”اب کام دیں گے تو تجربہ آۓ گا ناں،یہ کیا بات ہوئی پہلے ہی اکسپیرئینس مانگتے ہیں“۔۔
ہمیشہ کی طرح تجربے کی ڈیمانڈ والی میل دیکھ کر وہ اکتا گیا تھا۔۔صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتے اس نے ایک گہری سانس لی اور چاۓ کا کپ لبوں پر لگاتے فیسبک آن کی۔۔یونہی سکرولنگ کرتے اس کی نظر ایک تصویر پر جا کر ٹک گئ۔۔تصویر میں ایک لاابالی سی لڑکی ایک ہاتھ میں آئس کریم لیئے سر پر پی کیپ پہنے دوسرے ہاتھ کو پھیلاۓ ایک دلکش سی مسکراہٹ کے ساتھ آسمان سے برستی بارش کو انجواۓ کر رہی تھی۔تصویر دیکھ کر اس کے لبوں پر مسکراہٹ رینگی تو اس نے اس لڑکی کا اکاؤنٹ کھولا۔۔”زینب رانا“۔۔ نام لکھا دیکھ کر اس کی آنکھوں میں چمک ابھری تھی۔۔
”Hate me or hate me more i don’t give a damn care…..!”
اس کی بائیو میں لکھے الفاظ پر وہ نہ چاہتے ہوۓ بھی مسکرا اٹھا اور کچھ سوچتے ہوۓ اسے انباکس پر ٹیکسٹ کر دیا۔۔ٹیکسٹ بھیج کر اس نے لیپ ٹاپ بند کر کے ٹیبل پر ہی چھوڑا اور چاۓ کا کپ پکڑے باہر چلا آیا۔۔سامنے ہی سالار ٹیبل پر ناشتہ لگا رہا تھا۔۔
”کیوں مسکرایا جا رہا ہے جگر“۔۔
اس کے چہرے پر بکھری مسکراہٹ دیکھ کر سالار نے پوچھا۔۔
”ایسے ہی“۔۔
بات کو ٹالتا وہ کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔۔
”جاب مل گی کیا؟؟“۔۔
سالار نے پوچھا۔۔
”نہیں کچھ اور مل گیا،اور جاب والے بےپرکیاں ہانکتے ہیں انہیں تجربہ کار بندہ چاہیئے مگر تجربہ کرنے کو نوکری نہیں دیتے“۔۔
اس نے آملیٹ اپنی پلیٹ میں ڈالتے ہوۓ کہا۔۔
”اچھا چل کوئی بات نہیں دل چھوٹا مت کر مل جاۓ گی“۔۔
سالار نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے کہا تو وہ مسکرا اٹھا اور پھر دونوں ناشتہ کرنے میں مصروف ہو گۓ۔۔۔
”اذان میرے پیارے دوست،کہاں ہو“۔۔
سارہ اس کے کمرے میں داخل ہو کر لہجے میں ڈھیروں مٹھاس لیئے بولی تو موبائل پر مصروف اذان نے یکدم سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔
”یہ تیرا لہجہ حلوائی کی دکان کیوں بنا ہوا ہے،کیا چکر ہے؟“۔۔
اذان نے اسے مشکوک نظروں سے دیکھا۔۔
”کوئی چکر نہیں ہے،ہر وقت شک کرتے ہو مجھ پر“۔۔
سارہ نے آنکھیں پٹپٹاتے ہوۓ کہا تو وہ مسکرا اٹھا۔۔
”اچھا اچھا پیاری لڑکی بتاؤ کیا ہوا“۔۔
موبائل کو ٹیبل پر رکھ کر وہ اٹھ کر اس کے پاس چلا آیا۔۔
”لاسٹ سمسٹر ہے،اسائمنٹس بنا دو،بلکل دل نہیں کر رہا بنانے کو،پلیز“۔۔
بات کے آخر میں سارہ نے اس کا بازو تھاما تو اذان نے بےساختہ اثبات میں سر ہلایا۔۔
”اچھا بنا دوں گا بدلے میں مجھے کیا ملے گا“۔۔
اذان نے ترچھی نگاہ سے اسے دیکھتے ہوۓ کہا۔۔
”کیا چاہیئے“۔۔
سارہ نے پوچھا۔۔
”تم“۔۔اذان کی زبان سے بےساختہ نکلا تو سارہ نے حیرت سے آنکھین پھاڑ کر اسے دیکھا۔۔”تم نے جو بیکنگ کلاسز لیں تھیں ان کا تھوڑا فائدہ دے دو،ایک اچھا سا کیک بنا دو“۔۔اذان نے فوراً اپنی بات کی تصحیح کی تو سارہ کی حیرت مسکراہٹ میں بدلی۔۔
”چلو کیا یاد کرو گے،ادھر تم میری اسائمنٹس کمپلیٹ کرو،ادھر میں کیک بناتی ہوں“۔۔
سارہ مسکرا کر کتابیں اسے پکڑاتی باہر نکل گئ۔۔
ا
”اذان بےقابو مت ہوا کر“۔۔
اذان نے سر کجھاتے خود کو ڈانٹا اور کتابیں لے کر بیٹھ اسائمنٹس بنانے بیٹھ گیا۔۔
آج پھر استنبول میں ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔لوگ برساتیاں پہنے تیزی سے ادھرادھر جا رہے تھے ایسے میں زارا صرف ایک جیکٹ پہنے کمر پر بیگ باندھے سست قدمی سے چل رہی تھی۔۔بارش کی وجہ سے اس کے بال گیلے ہو کر اس کے چہرے سے چپک گۓ تھے۔۔بیگ میں پڑا اس کا موبائل بج بج تھک گیا تھا۔وہ گھر سے تقریب میں جانے کے لیئے نکلی تھی مگر اب وہ سب کچھ فراموش کیئے بارش میں بھیگ رہی تھی۔اس کے آنسو بارش کے پانی میں کہیں گم ہو کر رہ گۓ تھے۔۔یونہی چلتے چلتے وہ ایک شاپ کے شیلٹر کے نیچے بنے لکڑی کے پینچ پر آ کر بیٹھ گئ۔اس کے چہرے پر زمانوں کی تھکن تھی۔۔
”بابا مجھے چھوٹی چھتری دلاؤ ناں“۔۔
کسی چھوٹے سے بچے کی آواز پر اس نے چونک کر پیچھے دیکھا۔۔وہ کھلونوں کی دکان تھی۔۔اور پانچ سالہ بچی اپنے باپ کا ہاتھ تھامے منہ بسوڑتے ہوۓ ضد کر رہی تھی۔زارا بہت دھیان سے انہیں دیکھے گئ۔۔
”اچھا چلو آپ کے بابا آپ کو بہت سے کھلونے اور چھتری دلوائیں گے“۔۔
باپ نے بیٹی کو اٹھایا اور دکان میں چلا گیا۔۔زارا کی نظروں نے بہت دیر تک ان باپ بیٹی کو دیکھا تو چہرے پر ایک درد کی لکیر سی ابھری تھی۔۔پھر کسی حیال کے تحت اس نے بیگ سے موبائل نکالا اور فیسبک کھولی۔۔
”سارہ کاظمی“۔۔کا نام سرچ کرتے ہوۓ اس کے چہرے پر نرم سے تاثرات تھے مگر وہ تاتراث سارہ کی تصاویر دیکھ کر پتھر ہو گۓ تھے۔۔
ہر تصویر میں زارا اساور کے ساتھ مسکرا رہی تھی۔۔دونوں کی مسکراہٹ تصویر کو مکمل کر رہی تھی۔۔زارا کے اندر جلن سی ہونے لگی تھی۔۔اساور اور سارہ کی مسکراتی تصویر دانین اور زارا کے بغیر بھی مکمل دیکھ کر اس کی رگیں تن گئیں تھیں۔کنپٹی سہلاتے اس نے خود کو شانت رکھنے کی کوشش کی۔۔
”نفرت ہے مجھے اساور کاظمی سے،شدید نفرت اور اس نفرت کی آگ کی لپیٹ میں سارہ بھی آتی ہے“۔۔
وہ دوبارہ سی بھیگی سڑک پر چلتے ہوۓ چلائی تھی۔۔پاس سے گزرتے ایک دو لوگوں نے مڑ کر اسے دیکھا۔۔
”ماما کہتی ہے وہ میرا باپ ہے میں اس سے مل لیا کروں مگر ماما یہ کیوں نہیں سمجھتیں اس شخص سے بےانتہا نفرت کی ہے میں نے“۔۔
وہ گیلی سڑک پر گھٹنوں کے بل بیٹھتے ہوۓ چلائی تھی۔۔لوگوں نے اسے پاگل سمجھا تھا۔۔اس کی جیکٹ میں پڑا اس کا موبائل تھرایا تو اس نے اپنا چہرہ صاف کرتے ہوۓ موبائل نکالا۔۔
”زندگی محبتوں کے بغیر ادھوری ہوتی ہے اور میں یعنی سارہ کاظمی یقین نہیں کر پاتی کہ رب نے مجھے محبتوں کے شہر میں راجکماری بنا کر پیدا کیا ہے“۔۔سارہ کی اسٹوری پر لکھی لائنز پڑھ کر اس کے اندر کی جلن میں مزید اضافہ ہوا تھا۔۔اس نے اساور کی بائیو میں لکھا دیکھا تھا”ماۓ ویکنیس ماۓ لو “۔۔
”تو اساور کاظمی سارہ کاظمی کمزوری ہے آپ کی،تو میں آپ کو اسی کمزوری سے توڑ کر ریزہ ریزہ کر دوں گی،ہر وہ پل آپ کی زندگی میں لاؤں گی جو میں نے گزارا ہے،روتے ہوۓ،سسکتے،بلکتے ہوۓ“۔۔
انسو صاف کرتے وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔اس کی آنکھیں غصے اور ضبط کی شدت سے لال ہو رہیں تھیں۔۔اس کا رخ اب واپسی کے راستوں کی طرف تھا جہاں سے ہو کر اس نے اساور تک پہنچنا تھا سب کچھ برباد کرنے۔۔
continue…
