54.6K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Aankh Bhar Aansu) Episode 9

”کیوں لڑ رہی تھیں تم اس سے“۔
حسام اسے بڑی مشکل سے کھینچ کر اپنے کیبن میں لایا تھا۔۔
”وہ مجھ سے کہہ رہا تھا میں اس کی مدد کروں،اپنے ہی باپ کو برباد کرنے میں اس کی مدد کروں“۔۔
زارا ابھی تک بہت غصے میں تھی۔۔
”کیوں کرنا چاہتا ہے وہ تمہارے باپ کو برباد“۔۔
حسام نے پانی کا گلاس اسے پکڑاتے ہوۓ پوچھا۔۔
”مجھے نہیں پتہ مگر میں اسے چھوڑوں گی نہیں“۔۔
پانی کا گلاس ٹیبل پر رکھتے وہ پھر سے باہر جانے کو دروازے کی جانب بڑھی تھی کہ حسام نے اسے کھینچ کر صوفے پر بٹھایا اور پانی کا گلاس اس کے منہ کے ساتھ لگا کر اسے شانت کرنے کی کوشش کی۔۔
”میں خود پی لوں گی چھوڑو“۔۔
اس کے ہاتھوں کو جھٹکتی وہ خود پانی پینے لگی تھی۔پانی پی کر اس نے گلاس زور سے دیوار پر دے مارا۔کانچ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے فرش پر بکھر کر رہ گۓ تھے۔حسام نے چونک کر اس کی طرف دیکھا کہ وہ غصے میں اساور کی بھی ماں تھی۔۔
”اس کا سر توڑنے کا ارادہ ہے تو جاؤ توڑو،یوں گلاس توڑ کر میرے آفس کو کبار نہ بناؤ“۔۔
حسام سختی سے بولا تھا۔۔
”تمہارا آفس ماۓ فٹ“۔۔
صوفے کو زور کی ٹھوکر مارتی وہ اپنا بیگ اٹھا کر تیزی سے باہر نکل گئ۔حسام نے بھی اسے نہیں روکا کہ اب تک وہ لڑکا تو جا چکا ہو گا۔۔


”اساور چچا مجھے آپ سے بات کرنی ہے ضروری“۔ ۔
رات کے کھانے پر سب ڈائینگ ٹیبل کے گرد بیٹھے تھے کہ عینا نے ڈائیننگ ہال میں چھائی خاموشی کو توڑا۔ ۔
”ہاں بولو عینا“۔۔
اساور نے کہا۔۔۔
”آپ اپنی سارہ میرے اذان کو دے دو“۔۔
عینا نے کہا تو سارہ کے خلق میں نوالہ پھنسا تھا۔۔اس نے جلدی سے پانی کا گلاس پیتے ہوۓ خود کو نارمل کیا۔۔
”آپ ٹھیک ہیں سارہ“۔۔
اساور نے پوچھا۔۔
”جج جی بابا“۔۔
وہ ہکلائی اور سر مزید جھکا لیا۔۔
”کیا کہہ رہی تھیں آپ عینا“۔۔
اساور پھر سے عینا کی طرف متوجہ ہوۓ۔۔
”بہت امید سے آپ سے اپنے اذان کے لیئے سارہ مانگ رہی ہوں انکار مت کیجیئے گا“۔۔
عینا نے کہا تو اساور نے سارہ اور اذان کی طرف دیکھا جو اشاروں میں ایک دوسرے کو کچھ کہہ رہے تھے۔۔سارہ کے تیور ایسے تھے کہ ابھی گلاس اس کے سر میں پھوڑ ڈالے جبکہ اذان مسکراتے ہوۓ اسے کچھ اشارے کر رہا تھا۔۔
”بابا دیکھ رہے ہیں رک جا مجنوں کی اولاد“۔۔
حسام نے اس کے پیر پر زور سے پیر مار کر کہا تو وہ اساور کی طرف دیکھتے ایک دم سیدھا ہو کر بیٹھا تھا۔۔
”پاؤں زخمی کر دیا۔ڈاکٹر ہو یا پہلوان،اس کا حساب لوں گا میں“۔۔
اذان نے حسام کو آنکھیں دکھائیں۔۔
”مجھے تو کوئی اعتراض نہیں اگر بچوں کو کوئی اعتراض نہ ہو تو“۔۔
اساور نے ان دونوں کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔۔
”جی چچا بلکل اذان کی یہ اپنی خواہش ہے آپ سارہ سے پوچھ سکتے ہیں؟“۔۔
عینا نے کہا۔۔
”سارہ بیٹا،آپ کیا کہتی ہیں“۔۔
اساور نے سارہ سے پوچھا۔۔
”جیسے آپ کی مرضی بابا۔مجھے کوئی اعتراض نہیں“۔۔
سارہ نے جھکے سر کے ساتھ ہی کہا۔۔
”ٹھیک ہے عینا مجھے کوئی اعتراض نہیں مگر……“۔۔
اساور نے بات پیچ میں چھوڑی تو سب وے سوالیہ نظروں نے ان کی طرف دیکھا۔۔
”مگر کیا چاچو؟؟“۔۔
سائرہ نے پوچھا۔۔
”میں دانین سے مشورہ کرنا چاہتا ہوں،وہ ماں ہے سارہ کی۔اس کی رضامندی بھی تو ضروری ہے“۔۔
اساور نے کہا۔۔
”ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ۔۔آپ دانین چچی سے بھی پوچھ لیں“۔۔
عینا نے کہا تو سب نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
”صیح ہے پھر دانین کی رضامندی کے بعد ہی ہم کوئی فیصلہ کریں گے“۔۔
اساور نے کہا۔۔اور سب پھر سے اپنی اپنی پلیٹوں پر جھکے کھانے میں مشغول ہو چکے تھے۔۔


”کیوں فون کیا ہے اب“۔۔
اساور کی لگاتار آتی کالز سے تنگ آ کر دانین نے فون اٹھایا۔۔
”بات کرنی تھی تم سے“۔۔
اساور دھیرے سے بولا۔۔
”اوہ بات کرنی تھی ہاں مگر تم بات کہاں کرتے ہو اساور کاظمی تم لفظوں کے نشتر دل کے آر پار کرتے ہو۔اچھے بھلے انسان کی نسیں کاٹ دیتے ہو اپنی کاٹ دار باتوں سے“۔۔
دانین غصے سے بولی۔۔
”ایم سوری دانین“۔۔
اساور شرمندگی سے بولا۔۔
”کتنا آسان ہے ناں تمہارے لیئے اساور انسان کو درد کی گہرائیوں میں پھینک کر سوری کہہ دینا“۔۔
دانین دکھ سے بولی تھی۔۔
”غصے میں میرا حود پر کنٹرول نہیں رہتا یار،تم جانتی تو ہو۔پلیز معاف کر دو مجھے میرے پچھلے رویے کے لیئے“۔۔
اساور نے کہا۔۔
”کیوں فون کیا ہے یہ بتاؤ؟؟“۔۔
دانین نے اب کے لہجے کو دو ٹوک کیا۔۔
”تمہیں پتہ ہے سارہ بڑی ہو گئ ہے،اتنی بڑی کہ اب اس کو کسی اور کے نام کر دیا جاۓ“۔۔
اساور نے کہا۔۔
”رشتہ آیا ہے سارہ کا“۔۔
سارہ کے ذکر پر دانین کا لہجہ نرم ہوا تھا۔۔
”ہاں عینا نے مانگا ہے اپنے اذان کے لیئے۔امان کا بیٹا اتنا بڑا ہو گیا ھے۔کتنے برس بیت گۓ ناں“۔۔
اساور نے کہا۔۔
”تم نے ہاں کر دی؟“۔۔
دانین نے پوچھا۔۔
”نہیں تم ماں ہو اس کی تمہارا فیصلہ آخری فیصلہ ہو گا“۔۔
اساور نے کہا۔۔
”سارہ اذان کو پسند کرتی ہے،انکار کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا“۔۔
دانین نے کہا۔۔
”ہاں آج میں نے دیکھا سارہ کو۔اس نے مجھے خود بتایا نہ میں نے اس کے چہرے سے اخذ کرنے کی کوشش کی کبھی۔ایسی باتیں لڑکیاں شائید صرف ماؤوں کو ہی بتاتی ہیں اس لیئے اس نے مجھے خود سے نہیں بتایا“۔۔
اساور نے کہا۔۔
”ہاں کر دو پھر سارہ کی خوشی سب سے اہم ہونی چاہیئے“۔۔
ہاں کل سب کو بتا دوں گا بس تم سے پوچھنا تھا۔۔
”صیح ہے“۔۔
دانین نے کہا۔۔
”تم آؤ گی اپنی بیٹی کو رخصت کرنے ناں“۔۔
اساور نے پوچھا۔۔
”ہاں کیوں نہیں۔میں ضرور آؤں گی۔آخر وہ میرا خصہ ہے“۔۔
دانین نے کہا۔۔
”کبھی تم کہا کرتی تھی ”اساور تم میرا حصہ ہو“۔۔یاد ہے ناں تمہیں“۔۔۔
اساور نے اس کے الفاظ دہراۓ تھے۔۔
”اور اس حصے کو تم نے ہی میرے اندر سے اکھاڑ پھینکا تھا۔۔یاد ہے ناں تمہیں“۔۔۔
دانین نے کہا۔۔
”کیسے بھول سکتا ہوں اپنے ان گناہوں کو جن کی سزا آج تک اندر ہی اندر مر مر کر بھگت رہا ہوں”۔۔
اساور کی آنکھ سے ایک آنسو نکلا تھا۔اور وہ آنسو دانین کے دل پر گرا تھا۔۔
”مجھے وہ گفٹ ہر ہفتے ملتا ہے۔وہ مت بھیجا کرو“۔۔
دانین نے آنکھیں پونچھتے کہا تو اساور نم آنکھوں کے ساتھ مسکرایا کہ کتنے برسوں بعد چند لفظوں کے بعد دانین نے فون بند نہیں کیا تھا۔۔مطلب وہ اس سے بات کرنا چاہتی تھی۔۔
”اور تم نے ان میں سے کسی کو بھی آج تک کھول کر نہیں دیکھا ہو گا،پتہ ہے مجھے“۔۔
اساور نے کہا۔۔
”ہاں نہیں کھولا ایک بھی اسی لیئے کہتی ہوں مت بھیجا کرو“۔۔
دانین نے کہا۔۔
”تم ڈرتی ہو ناں مجھے میرے تخائف کی صورت سامنے پاؤ گی تو پگھل جاؤ گی“۔۔
اساور نے کہا۔۔
”ہاں میں پگھل جانے سے ڈرتی ہوں۔تمہارے لیئے میں اپنے دل کے پگھل جانے سے خوفزدہ ہو جاتی ہوں“۔۔
دانین نے کہا۔۔
”تو ختم کر دو سب خوف۔لوٹ آؤ میرے پاس۔زندگی کے باقی کے چند گنے چنے دن تمہاری سنگت میں گزارنا چاہتا ہوں”۔۔
اساور نے کہا۔۔
”مجھے لگتا ہے اب ہم بےمعنی گفتگو کر رہے ہیں۔اللہ خافظ“۔۔
دانین نے کہہ کر فون بند کر دیا۔۔
اساور کچھ دیر یونہی فون کو تکتا رہا کہ شاید ابھی پھر سے دانین کی آواز اس کی سماعتوں میں اترے مگر………
مگر کے آگے سب ادھورا تھا۔۔فون سائیڈ پر رکھتے وہ اٹھ کر ٹیرس پر چلا آیا۔آج چاند کی چودھویں تھی۔گول مٹول بڑا سفید چاند آسمان کی چادر پر چمک رہا تھا۔۔چاند کو تکتے اس کے آنکھوں کے سامنے گزرے دنوں کی کئیں یادیں تصویر بن کر ابھریں تھیں۔۔
”میں یہ گڑیا تمہارے لیئے لایا ہوں……
”یہ گڑیا تمہاری اور تم گڑیا میری……وہ مسکرایا۔۔
”مجھے سکالرشپ ملا ہے،وکالت کی دنیا کی بےتاج بادشاہ بننے آ رہی دانین جمشید علی……اس کی آنکھوں میں خوابوں کی جوت تھی۔۔
”تم نے میرا کرئیر برباد کر دیا……وہ مرجھا کر ڈھے گئ تھی۔
”تم سے محبت کرتی ہوں……تم نفرت کے قابل ہو……تم ذلیل انسان ہو……
”آپ پر سلامتی بھیجوں اس سے بہتر نہیں ہے کہ میں ڈوب کر مر جاؤں……زارا کا لہجہ اسے جھلسا گیا تھا۔۔
وہ ہربڑا کر یادوں کے تسلسل سے باہر نکلا تھا۔اس کے گالوں پر کئیں بوندیں چمک رہی تھیں۔اس کی آنکھوں سے بہتا لاوا پچھتاوے کا تھا۔اس کے دل پر ٹھہرا موسم پچھتاوے کا تھا۔اساور کاظمی سر سے پیر تک پچھتاوا ہی پچھتاوا تھا۔۔”اور پچھتاوے معافی سے کوسوں دور ہوتے ہیں“۔۔


”یار کال پک کیوں نہیں کر رہی تھی،پھر کے کوئی غلطی ہو گئ ناراض ہو مجھ سے کیا”۔۔
فون پر سالار کی فکرمند سی آواز گونجی۔۔
”نہیں تھوڑی ٹینشن تھی گھر پر تو اسی لیئے“۔۔
زینی نے کہا۔۔
”کیسی پریشانی،سب ٹھیک ہے ناں“۔۔
سالار بھی پریشان ہو اٹھا۔۔
”ہاں ہاں سب ٹھیک ہے اب،تم بتاؤ کیسے فون کیا“۔۔
زینی نے کہا۔۔
”ایسے ہی یار تمہاری فکر ہو رہی تھی اس لیئے“۔۔
سالار نے کہا۔۔
”میں ٹھیک ہوں بےفکر ہو جاؤ“۔۔
زینی نے کہا۔۔
”اچھا یہ بتاؤ پاکستان کب آ رہی ہو“۔۔
سالار نے کہا۔۔
”پتہ نہیں“۔۔
زینی نے کہا۔۔
”مطلب نہیں آ رہی“۔۔
سالار نے پوچھا۔۔
”شاید“۔۔
زینی نے کہا۔۔
”کیا بات ہے کچھ اکتائی ہوئی سی لگ رہی ہو تم“۔۔
سالار نے پوچھا۔۔
”نہیں ایسی بات نہیں ہے“۔۔
زینی نے کہا۔۔
”اچھا پھر مجھے تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔ابھی فون رکھتا ہوں،تم آرام کرو پھر بات کریں گے ہم“۔۔
سالار نے کہا۔۔
”اچھا باۓ“۔۔
زینی نے کہا اور فون بند کر کے سائیڈ پر رکھ کر لیپ ٹاپ اپنے سامنے کیا۔۔لیپ ٹاپ پر ایک تصویر نظر آ رہی تھی مگر وہ تصویر واضح نہیں تھی۔۔وہ ایوارڈ شو سے لی گئ تصویر تھی۔۔زینی اس شخص تک پہنچنا چاہتی تھی جس نے اس کی بہن کو ساری دنیا کے سامنے مینٹلی ٹارچر کیا ہے۔مگر سب بےسود تھا۔وہ کامیاب نہیں ہو پا رہی تھی اس شخص تک پہنچنے میں۔وہ تقریب میں جس جگہ کھڑا تھا وہاں بہت کم لوگ بیٹھے تھے اور لائیٹس بھی ہلکی ہلکی پڑ رہی تھیں۔جس سے اس کا چہرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔۔وہ بہت کوشش کر کے بھی اس چہرے کو صاف نہیں کر سکی تھی۔۔
”میں تم تک پہنچ جاؤں گی کسی بھی طریقے سے“۔۔
لیپ ٹاپ پر نظریں گھاڑے وہ آنکھوں میں نفرت کی شدت لیئے بولی اور لیپ ٹاپ بند کے سونے کے لیئے لیٹ گئ۔۔


”تو مس سارہ کاظمی!! کیسا لگا آپ کو میرا پرپوز کرنے کا طریقہ“۔۔
وہ حویلی کے پچھلے لان میں بیٹھی جھولا جھول رہی تھی کہ وہ آن پہنچا۔۔
”تم پاس ہو گۓ مسٹر کاظمی“۔۔
سارہ جھینپ کر مسکرائی تھی۔۔
”تو سارہ کاظمی اب مجھ سے شرماۓ گی“۔۔
اذان نے اسے چھیڑا۔۔
”جی نہیں سارہ کاظمی شرماتی نہیں ہے“۔۔
سارہ سر جھکا کر اپنے چہرے پر چھائی سرخی کو چھپانے کی کوشش کی۔۔
”اوہ،صیح صیح پھر یہ سرخ گلاب تمہارے چہرے پر کیوں اپنے رنگ بکھیر رہے ہیں“۔۔
اذان نے ٹھوڑی سے پکڑ کر اس کا چہرہ اونچا کیا۔۔
”مجھے تنگ مت کرو میں نے بابا کو جا کر انکار کر دینا ہے پھر بھلے مجنوں بن جاؤ تمہاری دال نہیں گلے گی“۔۔
اس کا ہاتھ جھٹک کر اسے پیچھے دھکا دیتی وہ اٹھ کر اندر بھاگ گئ۔۔
”اظہارِ محبت نے میری دوست کو گما دیا اس بات کا افسوس رہے گا مجھے“۔۔
اس کی پشت پر بلند آواز سے کہتا وہ مسکراتا ہوا جھولے پر بیٹھ گیا۔اس کے چہرے پر آج بہار اتری تھی۔۔
تمہارے پاس ہونے سے
تمہارے پاس ہونے سے
میری دھڑکن میں یہ کیسی
عجب سی انتشاری ہے
عجب سی روح میں بےچینیاں ہیں
جانے کیوں ہر دم
تمہارے پاس ہونے سے
میرے لب
مسکراتے ہیں
یہ آنکھیں بولتی ہیں کیوں؟؟
صدا دھڑکن کی مجھ کو
کیوں عجب بے ربط لگتی ہے؟؟
تمہارے پاس ہونے سے
محبت جاگ اٹھتی ہے


جاری ہے۔۔