54.6K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Aankh Bhar Aansu) Episode 22

”صاحب آپ سے ملنے کوئی آیا ہے“۔۔

اساور اپنے کمرے میں تھا جب ملازمہ نے آکر اسے بتایا۔۔

”کون؟؟“۔۔

اساور نے پوچھا۔۔

”اپنا نام میر بتایا ہے ، آپ سے ملنا چاہ رہے ہیں“۔۔

ملازمہ نے بتایا۔۔

”اچھا بٹھاؤ اسے میں آتا ہوں“۔۔

اساور نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا کہ وہ کسی میر کو جانتا ہی نہیں تھا۔۔

”میں نے ڈرائینگ روم میں بٹھا دیا ہے انہیں صاحب“۔۔

ملازمہ نے بتایا اور واپس چلی گئی۔۔ اساور بھی سیاہ چادر کو کندھوں پر ڈالتا ڈرائینگ روم کی طرف بڑھ گیا۔۔

دانین ، سومو ، عینا اور سائرہ سارہ کے بچے کے لیئے آنلائن شاپنگ کرنے کی غرض سے سائرہ کے کمرے میں ہی جمع تھیں۔۔

زارا اور حسام سارہ اور اذان کے کمرے میں بچوں کی تصاویر لگا رہے تھے۔۔اذان کی باتوں نے سب کے سر میں درد کر رکھا تھا۔۔

زینی پچھلے لان میں موجود پودوں کو پانی دے رہی تھی۔۔

سعدی کسی کام سے واپس جا چکا تھا۔۔ باقی سب ابھی تک کاظمی حویلی میں ہی تھے۔۔ اساور کو اس وقت اپنی حویلی بہت مکمل اور آسودہ لگی تھی مگر یہ آسودگی ہمیشہ کے لیئے تو نہیں تھی۔۔

اساور پروقار چال چلتا ہوا ڈرائینگ روم میں داخل ہوا تو سامنے سیاہ پینٹ کے ساتھ سفید شرٹ پہنے کھڑے لڑکے کی اس کی طرف پشت تھی۔۔ وہ کھڑکی سے باہر پودوں کو پانی دیتی زینی کو بہت دھیان سے دیکھ رہا تھا مگر زینی نے اسے ابھی تک حویلی میں نہیں دیکھا تھا۔۔

”اکسکیوزمی!!“۔۔

اساور اس کا دھیان کہیں اور دیکھ کر کھنکھارا تھا۔۔ میر نے سر جھٹک کر زینی سے نظریں ہٹائیں اور آہستہ سے پلٹا۔۔ اساور کو ایک پل کو لگا کہ وہ اپنا ہی عکس اپنے سامنے دیکھ رہا ہے۔۔ پل بھر کو وہ ٹھٹھکا تھا پھر سر جھٹکتا وہ صوفے کی طرف بڑھ گیا۔۔

”اسلام علیکم!!“۔۔

میر نے ہلکا سا سر جھکا کر اساور کو سلام کیا تھا۔۔ اساور کے دل کو جانے کیوں کچھ الگ ہونے کا احساس ہو رہا تھا۔۔اس نے بہت غور سے میر کی طرف دیکھا اور سر کے اشارے سے سلام کا جواب دے کر اسے بیٹھنے کو کہا اور خود بھی اس کے سامنے پڑے صوفے پر براجمان ہو گیا۔۔

”جی کہیئے بیٹا ، کون ہیں آپ اور مجھ سے کس سلسلے میں ملنا تھا؟؟“۔۔

وہ لہجہ بہت شفیق اور مہربان تھا بلکل ایک باپ کی ہی طرح۔۔ میر کا دل چاہا وہ کچھ بھی نہ بولے بس اٹھ کر اپنے باپ کے گلے لگ جائے۔۔

”میری ماں کی آخری خواہش تھی کہ بس ایک بار اساور کاظمی اپنے منہ سے کہہ دے کہ اس نے معاف کر دیا تو اگلا جہان سدھر جائے گا“۔۔

وہ وہاں اپنی ماں کے لیئے آیا تھا اور بھلا کیسے ممکن تھا کہ ان کے گھر کی قاتلہ کے بیٹے کو گلے سے لگایا جاتا۔۔ اس کے لاڈ اٹھائے جاتے۔۔

”میں کچھ سمجھا نہیں بیٹا ، کون ہیں آپ کی ماں؟؟“۔۔

اساور نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔۔ اساور کے منہ سے لفظ ”بیٹا“ سننا اسے بہت بھلا لگ رہا تھا۔۔

”میری ماں حا حا حی حیا سدوانی!!“۔۔

وہ لفظ توڑ توڑ کر بولا تھا اور وہ ٹوٹے لفظ سامنے والے کو کسی مظبوط پتھر کی طرح لگے تھے۔۔ وہ تڑپ کر اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔

”میں جانتا ہوں میری ماں ایک قاتلہ ہے مگر معاف کر دینے سے آپ کا ظرف بڑا ہو جائے گا“۔۔

وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔اساور نے ابرو اٹھا کر اس خوبرو نوجوان کو دیکھا۔۔ جو جانتا تھا اس کی ماں ایک قاتلہ ہے اور اس آگہی کا دکھ اس کے چہرے پر اجلے خروف سے رقم تھا۔۔

”میں نے اسے معاف کیا“۔۔

اساور نے آنکھوں کی نمی کو انگلی سے صاف کیا۔۔ بھلا مرے ہوئے کو معاف نہ کر کے کیا ہی کر لیتا وہ۔۔ میر کو ترس آیا تھا اس شخص پر جسے اس کی ماں نے مکمل برباد کر دیا تھا اور وہ ایسی بربادی تھی جس نے اس کے آنکھوں میں ویرانی بھر دی تھی۔۔

____________________________________

”زرینہ!! ڈرائینگ روم میں کون ہے؟؟“۔۔

زینی کچن میں چائے بنانے آئی تو زرینہ کو ٹرے سیٹ کرتے دیکھ کر پوچھا۔۔

”پتہ نہیں بی بی جی کوئی میر صاحب آئے ہیں ، بڑے سونے ہیں جی بلکل اپنے اساور صاحب کی طرح لگتے ہیں“۔۔

زرینہ نے چہکتے ہوئے کہا۔۔زینی اسے نظرانداذ کرتی اپنے لیئے کپ میں چائے نکالنے لگی۔۔

”بی بی جی ذرا یہ چائے لے جائیں ڈرائینگ روم میں ، میں گئی تو یہ نوڈلز خراب ہو جائیں گے اور پھر اذان صاحب مجھے خراب کر دیں گے“۔۔

زرینہ نے معصوم سی شکل بنا کر کہا تو زینی نے اثبات میں سر ہلایا اور اپنا کپ شیلف پر رکھ کر چائے کی ٹرالی لیئے ڈرائینگ روم کی طرف بڑھی۔۔

ڈرائینگ میں وہ داخل ہوئی تو سامنے اساور کے ساتھ ایک اور جانے پہچانے چہرے کو دیکھ کر وہ ٹھٹھکی تھی۔۔

”تم یہاں؟؟“۔۔

اس کی حویلی میں موجودگی زینی کو بہت عجیب لگی تھی۔۔

”آپ جانتی ہیں اسے زینب بیٹا!!؟؟“۔۔

اساور نے زینی کے چہرے کے اتار چڑھاؤ محسوس کر لیئے تھے۔۔

”نہیں بابا جان!! میں نہیں جانتی شاید نظر کا دھوکہ ہے یہ“۔۔

زینی کا لہجہ تلخ ہوا تھا۔۔

”میں عینا خالہ سے ملنا چاہتا ہوں“۔۔

اس نے اساور کی طرف دیکھا تھا۔۔۔ زینی کو حیرت پر حیرت ہو رہی تھی۔۔ اساور نے اثبات میں سر ہلایا اور موبائل سے ایک میسج عینا کو کر دیا۔۔

تھوڑی دیر میں عینا ، دانین ، سومو اور سائرہ کے ہمراہ ڈرائینگ روم میں داخل ہوئی۔۔ دانین اور سومو واپس جا رہی تھیں۔۔

”جی چچا!“۔۔

عینا نے کہا۔۔

”یہ میر ہے ، تم سے ملنا چاہتا ہے“۔۔

اساور نے ساتھ کھڑے میر کی طرف اشارہ کیا۔۔

”مجھ سے“۔۔

عینا نے ناسمجھی سے کہا۔۔ میر تو بس اسے دیکھے جا رہا تھا۔۔ وہ اس کی ماں ک بہن تھی۔۔ وہ بلکل اس کی ماں کی طرح تھیں۔ اسے دیکھ کر میر کی آنکھیں بھر آئی تھیں ، دل نے پکار پکار کر کہا تھا کہ ”میر تیری ماں مری نہیں ہے ، دیکھ سامنے کھڑی ہے“۔۔

”یہ حیا کا بیٹا ہے“۔۔

اساور نے کہا تو عینا نے حیرانگی سے اس لمبے چوڑے مرد کو دیکھا۔۔

”تم حیا آپی کے بیٹے ہو؟؟“۔۔

وہ یقین کر لینا چاہتی تھی یا دھتکار دینا وہ سمجھ نہ پایا۔۔

”نہیں!! میں آپ کی محبت کے قاتلہ کا بیٹا ہوں“۔۔

وہ رو دیا تھا۔۔ زینی نے اس کی آنکھوں سے آنسو نکلتے دیکھے تو دل ڈوب ڈوب کر ابھرا مگر وہ ابھی تک کچھ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔۔

”وہ کہاں ہیں؟؟“۔۔

عینا چاہ کر بھی اپنے لہجے کو نفرت میں نہیں لپیٹ سکی تھی۔۔

”وہ مر چکیں ہیں“۔۔

اگرچہ دانین کی زندگی برباد کر دینے کی ذمہ دار حیا تھی مگر دانین کو پھر بھی افسوس ہوا تھا۔۔ عینا کی آنکھوں سے کئیں آنسو ایک ساتھ نکلے تھے۔۔ وہ سب کچھ بھلا کر آگے بڑھی اور میر کے گلے لگ گئ۔۔ دونوں کتنی ہی دیر روتے رہے تھے۔۔

”ایک بات پوچھوں؟؟“۔۔

دانین کو کچھ کھٹک رہا تھا ، شاید میر کی شکل و صورت ، اس کے نین نقش۔۔

”جی پوچھیں“۔۔

اس نے عینا سے الگ ہو کر اپنے آنسو صاف کیئے۔۔

”تمہارا باپ کہاں ہے؟؟“۔۔

سوال غیرمتوقع تھا۔۔ وہ گبھرایا تھا کہ وہ یہاں اپنی پہچان کروانے نہیں آیا تھا۔۔جواب میں وہ چپ رہا تھا۔۔ عینا نے سائرہ کو اشارہ کیا کہ دانین کو بولو مت پوچھے ایسے سوال جس کا جواب بہت تکلیف دہ ہو۔۔

”تم نہیں بتانا چاہ رہے مگر تمہارا ہر نقش ، تمہاری باڈی لینگویج بتا رہی ہے کہ تم–“ اپنی بات ادھوری چھوڑ کر دانین نے طنزیہ نظروں سے اساور کی طرف دیکھا۔۔ اساور کو بھی جھٹکا لگا تھا۔۔ اس نے ایک دم پلٹ کر میر کو دیکھا۔۔ ہاں اسے دیکھ کر جو جانی پہچانی شبیہہ ذہن میں آ رہی تھی ۔ وہ اس کی اپنی ہی تو تھی۔۔ سائرہ نے بھی سر تا پیر میر کو دیکھا اور آنکھیں بند کر لیں تھیں۔۔ عینا کی گردن میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی تھی۔۔زینی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وھاں کیا ہو رہا ہے۔۔

حسام ، سارہ ، زارا اور اذان بھی باتیں کرتے ڈرائینگ روم میں داخل ہو گئے تھے۔۔

”تم !!“۔۔

حسام اور زارا ایک ساتھ بولے تھے۔۔پھر دونوں نے رک کر ایک دوسرے کو دیکھا۔۔

”تم اسے جانتے ہو؟“۔۔

سائرہ نے حسام سے پوچھا۔۔

”ہاں یہ زینی کا دوست ہے“۔۔

حسام نے زینی کی طرف دیکھا جس کے چہرے پر الجھن ہی الجھن تھی۔۔سومو نے زینی کی طرف دیکھا مگر وہ خود اتنی کنفیوذڈ تھی کہ ان کو کیا جواب دے پاتی۔۔

”کون ہے یہ؟؟“۔۔

سارہ نے پوچھا۔۔میر نے سر جھکا لیا۔۔ وہ دیکھ چکا تھا کہ وہ نہ بھی بتاتا سب اسے پہچان رہے ہیں۔۔ تو اس اپنی پہچان بتانے کا فیصلہ کر لیا۔۔

”مم میں رضا میر کاظمی ہوں ، اساور کاظمی اور حیا سدوانی کا بیٹا“۔۔

ایک آسمان تھا جو سب پر ٹوٹ کر گِرا تھا۔۔ اساور نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے میر کے جھکے سر کی طرف دیکھا۔۔ دانین کی آنکھوں نے طنز کے تیر برسائے کہ پتہ نہیں کہاں کہاں اولادیں رلتی پھر رہی ہیں تمہاری؟؟ سب کو لگ رہا تھا کہ وہ غلط سن رہے ہیں اور زارا کو میر کی نفرت پھر اس کی محبت اس کا وہ محبت بھرا شفیق سا لمس سب یاد آیا۔۔

”تم میرے بابا کے بیٹے ہو؟“۔۔

سب سے پہلے زارا اس کی طرف آئی تھی۔۔ اساور صوفے پر ڈھے گیا کہ بیس سال بعد زارا ملی تھی اور اب پھر سے نفرت کرے گی۔۔

”ہاں!!“۔۔

میر نے گردن ہِلائی۔۔

”تو اس لیئے تم نے وہ سب کیا تھا ، تم نے اپنے بدلے کے لیئے مجھے استعمال کیا۔۔“۔۔

زینی چیخی تھی۔۔سب اس کی طر متوجہ ہوئے۔۔

”نہیں میں نے نہیں کیا وہ سب اور خدا کی قسم میں نے تمہارا استعمال نہیں کیا“۔۔

وہ تڑپ کر بولا تھا۔۔ زینی کی آنکھوں میں اپنے لیئے نفرت دیکھ کر دل جیسے مر رہا تھا۔۔

”میں یہاں اپنی پہچان ظاہر کر کے آپ سب کو دکھ دینے نھیں آیا تھا ، میں تو اپنی مری ہوئی ماں کے لیئے معافی کا کشکول لے کر آیا تھا“ وہ آہستہ آہستہ چلتا دانین کے رو برو آیا اور پھر اس کے قدموں میں بیٹھ گیا۔ دانین بدک کر ایک قدم پیچھے ہوئی تھی۔”ماما نے کہا تھا دانین کے پیروں میں بیٹھنا اور کہنا”حیا نے کہا ہے ظرف والے معاف کر دیتے ہیں اور میں نے دانین سے ذیادہ اعلیٰ ظرف نہیں دیکھا“”اسے کہنا حیا نے آخری سانسوں میں تم سے معافی مانگی ہے تو وہ معاف کر دے گی“ وہ اٹھ کر کھڑا ہوا تھا۔”ماما نے کہا تھا کہ زارا اور سارہ سے کہنا ان کا بچپن چھیننے والی والی مرنے سے پہلے مر گئ“۔۔۔وہ زارا اور سارہ کے سامنے جا کھڑا ہوا۔۔سارہ کی آنکھیں بہنے لگیں تھی اوذ زارا وہ تو یک ٹک اسے دیکھے جا رہی تھی۔۔”تم نے اپنے باپ کو کبھی نہیں دیکھا صرف میری ماں کی وجہ سے ، تم یتیم ہو گئے میری ماں کی وجہ سے مگر خدارا میری ماں کو معاف کر دینا“اذان کے دکھ کا مداوا آسان نہیں تھا مگر معافی آسان تھی۔۔

”میں آپ سب سے ہاتھ جوڑ کر اپنی ماں کے تمام گناہوں کی معافی مانگتا ہوں ، آپ سب کی گناہ گار تھیں وہ آپ سب معاف کریں گے تو رب بھی رعایت کر دے گا“۔۔

وہ سب کے درمیان ہاتھ جوڑ کر کھڑا تھا۔۔

”میں نے معاف کیا انہیں“۔۔

زارا اور سارہ ایک ساتھ بولیں تھیں۔ میر نے نم آنکھوں میں محبت سمو کر ان دونوں کو دیکھا۔۔اور زارا اور سارہ کو گلے لگا لیا تھا۔۔ تینوں ایک دوسرے کا حصہ تھے مگر برسوں سے الگ تھے ، وہ رو بھی رہے تھے اور وہ مسکرا بھی رہے تھے۔۔ اساور بھی نم آنکھوں سے اپنے تینوں بچوں کو ایک ساتھ دیکھ کر مسکرا دیا تھا۔۔

دانین نے دیکھا کہ اس کی زارا بہت صابر اور ظرف والی ہو گئی ہے۔۔ دانین نے بھی دل سے حیا کو معاف کر دیا تو جانا کہ معاف کر دینے میں کتنا سکون ہے۔۔

”میری ماں اور بیوی نے معاف کر دیا تو میں کیسے نہ کروں اور ویسے بھی دل میں کدوتیں رکھ کر بندہ برباد ہی ہوتا ہے اور معاف کر دینا اللہ کو بہت پسند ہے ، چل اب چھوڑ میری بیوی کو اور میرے گلے لگ جا“۔۔

اذان شرارت سے مسکرایا ، میر کی مسکراہٹ بھی بےساختہ تھی۔۔

سب بچھڑے مل چکے تھے مگر کہانی ابھی تک ادھوری ہی تھی۔۔اور اس ادھوری کو مکمل کرنا نہ کرنا قسمت کے ہاتھ میں تھا۔۔

____________________________________

جاری ہے۔۔