54.6K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Aankh Bhar Aansu) Episode 19

وہ ہسپتال سے ہو کر آئی تھی تب سے وہ اب تک بےسدھ لیٹی ہوئی اسے علم نہ ہوسکا۔ اس نے ہولے سے اٹھ کر گھڑی کی جانب نگاہ کی تو حیران رہ گئ۔ رات کا ایک بج رہا تھا۔اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ خوش ہو کہ رو پڑے۔ایک بیٹی کو سب کچھ مل گیا اور ایک سب سے محروم ہو کر مرحوم ہو جانے کے راستے کھڑی ہے۔ یکایک دروازے پر دستک ہوئی تو وہ چونک کر اٹھ بیٹھی۔۔ اگلے ہی پل اسکے کمرے میں زینی انتہائ خاموشی سے داخل ہوئی تھی۔۔ ہاتھ میں کھانے کی ٹرے تھامے۔۔وہ جانتی تھی دانین نے کھانے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا ہو گا۔۔
”کیا میں کمرے میں آجاؤں پھپھو۔۔؟“
وہیں کھڑے کھڑے معصومیت سے اجازت چاہی تو دانین گیلی آنکھیں لیے ہنس پڑی۔دانین یوں ہی اس سے پیار سے بات کرتی تھی ورنہ سومو تو زارا کے خادثے کے بعد زینی کی شکل دیکھنے کی روداد بھی نہ تھی۔ایسے میں دانین ہی اس کی دلجوئی کرتی تھی۔ حلق میں گرہیں گہری ہونے لگی تھیں لیکن وہ بمشکل آنسو پرے دھکیلتی ہنستی جارہی تھی۔۔
”تم کمرے میں آچکی ہو زینی“۔۔
وہ اسے ہنستا دیکھ کر بوجھل دل اور بھاری ٹرے اٹھائے اس کے پاس آئی۔ہلکا سا مسکرا کر وہ اس کے پاس بیڈ پر ہی بیٹھ گئ۔وہ نگاہیں جو پچھلے ایک عرصے شے شرمندگی سے جھکی رہتی تھیں۔آج بھی جھکی ہوئی تھیں۔۔
”مجھے پتہ ہے آپ نے کھانا نہیں کھایا ہوگا۔ اسی لیے آپ کے لیے کھانا نکال لائی ہوں۔۔“
وہی شرمندہ لہجہ۔۔
”مجھے بھوک نہیں ہے بیٹا“
اس نے گیلی آنکھیں خفیف سے انداز میں رگڑ کر اسے دیکھا تھا۔
”اب میں لے آئی ہوں تو کھا لیں ناں“۔۔
شرمندہ اصرار تھا۔۔تھکی تھکی آواز،پھیکی مسکراہٹ۔۔
”تم بھی کھاؤ میرے ساتھ“۔۔
دانین نے ٹرے اپنے سامنے رکھ کر پلیٹ میں سالن ڈالا۔۔
”سارہ آپی کو زبردستی کھلاتے کھلاتے خود بھی ساتھ کھا لیا تھا میں نے“۔۔
وجہ خاضر تھی۔۔
”اچھا کیا۔وہ تو خود اپنا خیال رکھتی نہیں ہے“۔۔
دانین نے کہا اور ساتھ ہی وہ اسکا لایا کھانا بھی بہت رغبت سے کھانے لگی تھی۔ زینی نے اسے کھانا کھاتے دیکھا تو سکون کا سانس خارج کیا۔ پھر مسکرائی۔۔
”زارا جاگتی کیوں نہیں ہے پھپھو!!“۔
اس نے ہاتھ روک کر چونکتے ہوۓ دیکھا تھا اسکی جانب۔ وہ متفکر سی پوچھ رہی تھی۔۔ معصوم سیاہ آنکھوں میں فکر ہلکورے لے رہی تھی۔۔دانین کا دل درد سے بھر گیا تھا مگر وہ ہولے سے مسکرائ تھی۔۔
”سومو نے کچھ کہا ہے تمہیں؟؟“۔۔
اس نے سکون سے کہہ کر آخری نوالہ لیا اور پھر ٹرے سمیٹ کر ایک طرف رکھ دی۔
”نہیں بس میں خود ہی خود کا احتساب کر لیتی ہوں“۔۔
اسے لگا دانین نے طنز کیا ہے۔اسی لیئے سر جھکا کر بولی۔۔دانین نے اس کے افسردہ چہرے کو دیکھا اور اپنے پاس آنے کا اشارہ کیا تو وہ اٹھ کر سر اس کی گود میں رکھ کر لیٹ گئ۔۔
دانین دھیرے دھیرے اس کے سر میں انگلیاں پھیرنے لگی تھی۔۔کمرے میں خاموشی چھا گئ تھی۔ان دونوں کے پاس مزید کرنے کے لیئے کوئی بات تھی ہی نہیں۔۔


”اسلام علیکم!! بابا جان!آپ کب آئے؟“۔۔
وہ ہسپتال کے کمرے میں داخل ہوا جہاں زارا ایک عرصے سے سوئی ہوئی تھی۔۔اساور کے ہاتھ میں کوئی کتاب تھی جس سے وہ کچھ پڑھ رہا تھا۔۔سر کے اشارے سے اس نے حسام کے سلام کا جواب دیا اور پھر سے کتاب پڑھنے لگا۔۔
سنو اے لڑکیو!!ایسا نہیں ہو گا
محبت
فروری کی شاموں میں فنا ہو گی
کہ اب ایسا نہیں ہو گا
محبت مارچ کے موسم میں
اپنے کچے جسموں کی
زرا سی باس بھی
اپریل کو چھونے نہیں دے گی
کہ اب ایسا نہیں ہو گا
مئ کی تلملاتی لو
محبت اوڑھ بیٹھے گی
کہ اب ایسا نہیں ہو گا
محبت بس دیوانوں سی
کسی کی خوبرو آنکھوں کے
ماہِ جون سینکے گی
کہ اب ایسا نہیں ہو گا
محبت آندھیوں کے ہاتھ لگ کر دردبدر ہو گی
محبت جنوری جیسی ہی اب کہ معتبر ہو گی۔۔۔۔۔
وہ ٹھہڑی ہوئی خوبصورت بھاری آواز جو کانوں کو بڑی بھلی معلوم ہوتی تھی۔۔وہ روز اسی وقت یہاں آتا تھا اور رات دیر تک بیٹھا زارا کے سوئے ہوئے وجود سے باتیں کرتا رہتا۔کبھی کوئی کتاب لے آتا اور گھنٹوں اسے کہانیاں،شاعری،شیکسپئر کے ڈرامے سناتا رہتا تھا۔۔وہ اس کا ہاتھ پکڑے گھنٹوں اسے تکتا رہتا تھا کہ کیسے؟؟کیسے؟؟ اس کی بیٹی نے اس کے بِنا زندگی کے چوبیس سال کاٹ لئیے۔۔اور وہ کیسے اتنے عرصے اس سے دور رہا تھا؟؟۔۔حسام بھی وہیں کھڑا انہیں سننے لگا تھا۔۔
”بابا جان!!“۔۔
حسام نے اسے پکاڑا تو وہ جو کتاب کے صفحے پلٹ رہا تھا چہرہ اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔۔
”آپ جانتے ہیں یہ ٹھیک ہو گئ تو پھر بھی آپ سے نفرت ہی کرے گی۔پھر بھی آپ اسے ٹھیک کرنے کا ہر طریقہ آزما رہے ہیں؟؟“۔۔
استفسار تھا یا سوال۔۔
”تم بھی جانتے ہو یہ ٹھیک ہو گئ تو پھر بھی تم سے شادی نہیں کرے گی۔پھر بھی تم اس کا علاج کر رہے ہو؟؟ڈیڑھ سال میں کتنے دن تم نے حویلی میں اور کتنے ہسپتال میں گزاریں ہیں؟؟حساب لگاؤ تو حساب ہسپتال جیت جائے“۔۔
اس کے الفاظ اسے ہی لوٹا دیئے تھی۔۔
”اور یہ میری بیٹی ہے حسام!! یہ مجھ سے نفرت کر سکتی ہے نہ میں اس کے جینے کی امید چھوڑ سکتا ہوں“۔۔
حسام شرمندہ ہوا تھا۔۔اساور نے اٹھ کر کتاب زارا کے سرھانے رکھی اور اس کے ماتھے پر بھوسہ دے کر باہر نکل گیا۔۔ان ڈیڑھ سالوں میں زارا کو سنائی گئ ہر کتاب وہیں تھی۔اساور کبھی واپس لے کر ہی نہیں گیا تھا۔وہ بس لاتا تھا۔۔
حسام نے کتاب اٹھا کر بوکس میں پڑی مزید کتابوں کے ساتھ ہی رکھ دی۔۔سارہ کے لائے ہوئے پھولوں کو گلدان میں رکھا اور کرسی زارا کے بیڈ کے پاس رکھتا اس کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھ گیا۔۔۔
”تمہیں پتہ ہے تم نے کل رسپانڈ کیا تھا۔میں نے گھر میں کسی کو نہیں بتایا مگر——تم بھی کہہ رہی ہو گی کیا بورنگ انسان ہے۔علاج،دوائیوں،چیکب کی ہی بات کرتا رہتا ہے“حسام نے ہلکا سا اپنا ماتھا چھوا تھا”اچھا تمہیں شاعری اور ناولز پسند ہیں ناں،میں تمہیں کچھ سناتا ہوں مگر مجھے شاعری کوئی اتنی خاص آتی نہیں ہے مگر تمہارے لیئے کچھ بھی“۔۔۔
جیسے ننگے پاؤں
پھٹے پرانے کپڑوں والے بچے
اپنی خالی جیبوں کا احساس لیئے ہوۓ دل کو اچھی لگنے والی
مہنگی چیزیں
کسی دکان کے بند شیشوں سے
پہروں لگ کر تکتے ہیں ناں
میں بھی تم کو یوں ہی محسن
اکثر تکتا رہتا ہوں
اس کی نرم کلائی اپنی گرفت میں لیئے وہ بول رہا تھا کہ یکایک زارا کے وجود نے حرکت کی۔وہ جو کچھ اور سنانے کے لیئے منہ کھول رہا تھا ایکدم سے اسے چیک کرنے لگا۔۔
اس کی ہارٹ بیٹ بہت سلو اور سانسیں بہت تیز چل رہی تھیں۔۔حسام گھبرا گیا۔۔وہ ماہر سرجن تھا،وہ ایک اچھا ڈاکٹر تھا مگر ایک زارا کی طبیعت حراب ہونے پر وہ گھبرا جاتا تھا۔سب بھول جاتا تھا۔۔
وہ کانپتے ہاتھوں سے اسے چیک کر رہا تھا کہ ڈاکٹر رؤف اندر آئے۔۔زارا سے ذیادہ اس کی حالت خراب ہوتے دیکھ کر نرس کے ہمراہ بڑی مشکل سے اسے دوسرا مریض دیکھنے کو بیجھا۔۔اور خود زارا کی طرف متوجہ ہوئے۔ان کے ساتھی ڈاکٹر سراج اور ڈاکٹر مدیحہ بھی آ چکی تھیں۔۔
”نرس ان کی ٹیسٹ رپورٹ آئی کہ نہیں؟؟“۔۔
ڈاکٹر رؤف نے زارا کی دھڑکنیں چیک کرتے ہوئے نرس سے پوچھا۔۔
”جی ڈاکٹر میں لیب سے لے کر آتی ہوں“۔۔
نرس نے کہا اور رپورٹس لانے چلی گئیں۔۔اور اسی وقت ڈاکٹر رؤف کو مریض کے جسم میں زندگی کی حرارت محسوس ہوئی۔۔
”ڈاکٹر رؤف انہوں نے حرکت کی“۔۔
ڈاکٹر مدیحہ نے کہا۔۔ڈاکٹر سراج بھی اس کی طرف متوجہ ہوئے۔۔زارا کے ہاتھ میں حرکت ہوئی تھی اور اس کے بعد اس نے دیکھتے ہی دیکھتے اپنے پورے بازو کو حرکت دی تھی۔۔
”مِس کاظمی کوما سے باہر آ رہی ہیں،انہیں ہوش آ رہا ہے“۔۔
ڈاکٹر سِراج نے جلدی سے اسے آکسیجن لگایا۔۔اس کی تیز تیز چلتی سانسیں متوازن ہوئیں تھیں۔۔
”ڈاکٹر!! رپورٹس“۔۔
نرس نے رپورٹس لا کر ڈاکٹر رؤف کے ہاتھ میں دیں۔۔ڈاکٹر رؤف جیسے جیسے رپورٹس دیکھ رہے تھے ان کے چہرے پر پریشانی کے تاثرات بڑی تیزی سے ابھر رہے تھے۔۔
”کیوں ہوا ڈاکٹر رؤف؟؟“۔۔
ڈاکٹر مدیحہ نے پوچھا۔۔
”مِس کاظمی کوما سے باہر آ رہی ہیں مگر افسوس یہ پھر بھی ذیادہ نہیں جی پائیں گی،ان کے دل کے والوز بند ہو چکے ہیں“۔۔
تینوں ڈاکٹروں نے ترحم سے اس سوئی ہوئی شہزادی کو دیکھا۔۔اسی وقت زارا نے دھیرے سے اپنی آنکھیں کھولیں تھیں۔۔
”پیاری لڑکی!! نئی زندگی مبارک ہو،خدا تمہیں زندہ رکھے“۔۔
ڈاکٹر رؤف نے مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا۔۔کچھ دیر تو وہ سب کو غائب دِماغی سے دیکھتی رہی پھر ہلکا سا مسکرائی۔وہ مسکراہٹ بہت زخمی سی تھی۔۔
”جا کر ڈاکٹر باذل کو بُلا لائیں“۔۔
ڈاکٹر رؤف نے نرس کو کہا تو وہ تیزی سے باہر نکلی۔۔
”زندگی تمہیں خوش آمدید کہتی ہے پیاری لڑکی!!“۔۔
ڈاکٹر مدیحہ نے نرم لہجے میں کہا تو وہ مسکراتی ہوئی بازؤں کے سہارے اٹھ کر بیٹھ گئ۔۔
”زندگی کبھی بھی بازو پھیلا کر ہمیں خوش آمدید نہیں کہتی،وہ ہمیشہ ہمیں چلے جانے کے بہانے ڈھونڈواتی ہے“۔۔
عام سا لہجہ تھا۔۔ڈاکٹر مدیحہ نے دیکھا وہ لڑکی کمال کی خقیقت پسند ہے۔۔
”آپ آرام کریں مِس کاظمی!! کچھ دیر میں ملتی ہیں“۔۔
تینوں ڈاکٹرز باہر چلے گۓ۔۔سامنے سے آتا حسام ڈاکٹر رؤف کے گلے لگ گیا۔۔
”تھینکس سر!! تھینکس“۔۔
خوشی اس کے چہرے پر رقم تھی۔۔
”ہم کوشش کرتے ہیں،بچاتا خدا ہے۔زارا کی نئی زندگی مبارک ہو“۔۔
ڈاکٹر سراج نے کہا۔۔
”نہیں باذل کو اس کی نئی زندگی مبارک ہو“۔۔
ڈاکٹر رؤف نے اسے چھیڑا تو وہ تھوا جھنیپ گیا اور پھر ان سب کا شکریہ ادا کرتا وہ زارا کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔
”زارا!!“وہ کمرے میں داخل ہوا تو اسے ٹیک لگا کر بیٹھے دیکھ کر خوشی کی انتہا نہیں رہی تھی”میں حسام ہوں،یاد ہوں ناں تمہیں؟؟“۔۔
زارا نے اثبات میں سر ہِلایا۔وہ بھلا اسے کیسے بھول سکتی تھی جسے ان ڈیڑھ سالوں میں ہر لمحہ اپنے اردگرد محسوس کیا تھا۔۔
حسام کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اپنی خوشی کیسے اکسپریس کرے۔۔وہ والہانہ انداذ میں آگے بڑھا اور زارا کو گلے سے لگا لیا۔۔زارا نے حیرت سے حسام کو دیکھا جو اس پل بلکل کوئی بچہ لگ رہا تھا۔۔۔
”حسام مجھے درد ہو رہا ہے“۔۔
کمزور سی آواز میں کہا گیا تو حسام کو احساس ہوا کہ اس کی گرفت مظبوط ہو گئ ہے۔وہ شرمندہ ہوتا ہوا اس سے الگ ہوا۔۔
”میری پسلی کی ہڈی دکھ رہی ہے شاید“۔۔
اس نے اپنی کمر پر ہاتھ رکھا۔۔”سوری“وہ خجالت کا شکار ہوا۔۔
”میں گھر میں سب کو بتاتا ہوں،سب اسی دن کے انتظار میں تھے“۔۔
حسام نے فون نکالا اور جلدی جلدی سب کو بتا دیا۔۔
”تم ایسے کیوں ری-ایکٹ کر رہے ہو؟؟“۔۔
زارا نے اس کے انگ انگ سے پھوٹتی خوشی کو محسوس کیا۔۔
”شاید پاگل ہو گیا ہوں میں“۔۔
وہ کھسیانہ سا ہنسا تو وہ بھی مسکرا دی۔اس مسکراہٹ میں کچھ بھی تو پرانا نہیں تھا۔نہ نفرت،نہ بدلہ،نہ کوئی کدوت۔بس وہ ایک عام سی نگاہ تھی جس نے حسام کے دن کے بہت خاص بنا دیا تھا۔۔


جاری ہے۔۔۔۔۔۔