54.6K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Aankh Bhar Aansu) Episode 20

ہسپتال کے سفید کوریڈو میں دوڑتا ہوا وہ چکنے فرش پر کئیں بار پھسلتے پھسلتے بچا تھا۔دھڑکنیں اس کی اتھل پتھل ہو رہی تھیں۔وہ جب آئی-سی-یو کے سامنے پہنچا تو سالار کو پہلے سے وہاں کھڑا پایا تھا۔۔وہ ایک ہی جست میں اس تک پہنچا۔۔
”کک کیا ہوا ماما کو،بتا ناں کیا ہوا ہے“۔۔
اس نے سالار کو بازو سے پکڑ کر جھنجھوڑ ڈالا تھا۔سالار نے اسے کندھوں سے پکڑ کر اپنے مقابل کیا۔۔
”وہ ٹھیک نہیں ہیں مگر تمہیں ٹھیک رہنا ہے،اپنے ہوش و حواس میں رہنا ہے آنٹی کے لیئے“۔۔
سالار اسے سمجھا رہا تھا۔۔
”ماما کو میں یاد نہیں ہوں مگر میں ان سے ملنا چاہتا ہوں“۔۔
قریب تھا کہ وہ رو دیتا۔۔
”آنٹی کو الزائمر ہے مگر جانتے ہو جب میں انہیں ہسپتال لا رہا تھا تو وہ تمہیں پکا رہی تھیں“۔۔
سالار کی بات پر اس کی آنکھیں چمکیں تھی۔وہ پھیکا سا مسکرا دیا تبھی ڈاکٹر آئی-سی-یو سے باہر آیا۔۔
”پیشنٹ کی حالت ٹھیک نہیں ہے،شاید ان کی آخری سانسیں چل رہی ہیں۔۔مسٹر رضا آپ ان سے مل لیں“۔۔
ڈاکٹر افسوس سے کہتا چلا گیا۔رضا کے سر پر تو گویا آسمان آن گِرا تھا۔اس نے ڈبڈباتی نظروں سے سالار کو دیکھا اور پھر اندر داخل ہو گیا۔۔سامنے ہی اس کی ماں نالیوں میں جھکڑی ہوئی،مصنوعی سانسیں مشینوں سے لے رہی تھی۔۔
”ماما یہ غلط ہے ماما“۔۔
وہ اس کے ہاتھ پر اپنا سر رکھتا رو پڑا تھا۔۔
”رضا!!“۔۔
ان بوڑھے مردہ ہونٹوں میں جنبش ہوئی تھی۔رضا نے ایک دم سر اٹھا کر اپنی ماں کی طرف دیکھا۔۔کتنے ہی ثانیے وہ یقین نہ کر پایا کہ اس کی ماں نے اسے پکارا ہے۔کتنے برسوں بعد اس نے اپنی ماں کے منہ سے اپنا نام سنا تھا۔۔
”ماما آپ نے مجھے پہچان لیا“۔۔
وہ خوشی سے نہال ہو رہا تھا۔۔
”را را رضا مم میری بب با بات غغ غور سس سے سس سنو بب بیٹا!!“۔۔
اسے بولنے میں مسئلہ ہونے لگا تھا۔۔
”جی بولیں ماما“۔۔
رضا نے اس کے ہاتھ چوم لیئے تھے۔۔
”تت تم اس اساوو اساور کے پاس جج جانا،میرے لل لیئے مم معا معافی طلب کرنا،وہ تم تمہا تمہارا باپ ہہ ہے۔اس اس سے ننن نفرت کک کبھی نہ کرنا“۔۔
حیا رو رہی تھی۔۔ہچکیوں کے درمیان اس کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں۔۔
”مم ماما انہوں نے آپ کو چھوڑ دیا،مجھے کبھی پلٹ کر نہیں دیکھا اور آپ کہتی ہیں۔میں ان کے پاس جاؤں“۔۔
رضا نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔۔
”اس اس اسے نن نہیں پتا کہ تم ہو،میں نے کک کبھی بب بتایا ہہ ہی نن نہیں اسے تت تمہارے بارے میں،کس منہ سے بتاتی۔میں ان سس سب کی گگ گناہ گار تھی“۔۔
الفاظ ٹوٹ رہے تھے۔۔
”ایسا کون سا گناہ ماما!!؟؟“۔۔
رضا نے پوچھا۔۔
”قق قتل کک کیا مم میں نے“۔۔
رضا نے پھٹی پھٹی نگاہوں سے اپنی ماں کی طرف دیکھا۔۔اس کی آنکھوں میں بےیقینی تھی۔۔
”کک کس کا قق قتل ماما“۔۔
وہ بمشکل ہی پوچھ پایا تھا۔۔
”ارمان اللہ کاظمی کا“۔۔
رضا نے آنکھیں زور سے بند کر کے سارے آنسؤؤں کو گالوں پر بہہ جانے دیا۔۔
”تم حویلی جانا۔عینا کو کہنا مجھے معاف کر دے،وہ ہمیشہ کر دیتی تھی ناں آج بھی کر دے۔تم عینا سے میرے لیئے معافی مانگنا،وہ تمہیں گلے سے لگا لے گی۔تمہارا ماتھا چوم کر کہے گی”میری آپی کے بیٹے ہو؟؟“وہ تمہاری حالہ ہے عینا سدوانی،حیا سدوانی کی بہن“۔۔
ایک کے بعد ایک انکشاف ہو رہا تھا رضا پر۔۔
”دانین کے پیروں میں بیٹھنا اور کہنا”حیا نے کہا ہے ظرف والے معاف کر دیتے ہیں اور میں نے دانین سے ذیادہ اعلیٰ ظرف نہیں دیکھا“”اسے کہنا حیا نے آخری سانسوں میں تم سے معافی مانگی ہے“”زارا اور سارہ سے کہنا ان کا بچپن چھیننے والی والی مرنے سے پہلے مر گئ“۔۔۔
”تم جاؤ گے ناں؟؟“۔۔
ماں کی التجا تھی بیٹے سے۔ایک مرتی ہوئی ماں کی۔بھلا بیٹا انکار کر سکتا تھا۔۔اس نے آنسؤوں سے بھری آنکھیں اٹھائیں اور اثبات میں سر ہلایا۔۔حیا کے مرجھائے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئ۔۔
”تم مجھے معاف کر دینا رضا“۔۔
لاغر ہاتھ سے اس رضا کا ہاتھ پکڑا تھا۔۔
”ناں ماما!! ناں۔مجھ سے معافی مت مانگیں۔ماں بیٹے سے معافی مانگے تو کائنات کانپتی ہے۔ماں معافی نہیں مانگا کرتی“۔۔
وہ تڑپ اٹھا تھا۔۔ہمارے ہاں ماں بیٹے سے معافی مانگے تو بیٹا تڑپ ہی تو اٹھتا ہے۔۔
”اپ اپنا حح حیی حیی حیال رر را را را رکھ——“۔۔
الفاظ منہ میں ہی رہ گئے۔۔فرشتہ اجل اس کی روح کو لے کر آسمان کی طرف محو پرواز ہو گیا۔۔رضا نے اپنی ماں کی آخری ہچکی دیکھی تو چیخ پڑا تھا۔۔
”ماما!!!“۔۔
اس کی چیخ نے ہسپتال کے درو دیوار ہِلا دئیے تھے۔۔سالار جلدی سے اندر داخل ہوا اور رضا کی حالت دیکھ کر جان لیا کہ وہ اکیلا ہو چکا ہے۔۔
ڈاکٹرز نے رضا کو پیچھے کیا اور حیا کو چیک کرنے لگے۔۔الیکٹروڈ کی مدد سے اس کی سانسیں بحال کرنے کی کوشش کی گئ مگر وہ جا چکی تھی۔۔اس کے جسم میں کوئی حرکت نہیں ہوئی تھی۔۔
”آئی ایم سوری!! شی از نو مور“۔۔
حیا کی آنکھیں بند کر کے ڈاکٹرز نے اس کے منہ کو ڈھانپ دیا تھا۔۔
رضا کو لگا اس کا کلیجہ کٹ گیا ہے۔۔وہ اکیلا ہو گیا تھا بلکل اکیلا۔۔رشتوں کے نام پر اس کے پاس صرف ماں تھی اور اب وہ بھی نہیں رہی تھی۔۔۔


وہ کافی دیر سے بیڈ پر ایک ہی پوزیشن میں بیٹھی تھی۔۔اس کا دل چاہ رہا تھا وہ اٹھ کر دنیا دیکھے کہ وہ جو دو سال سوئی پڑی رہی ہے کیا کچھ بدلا ہے۔۔
”حسام!!“۔۔
حسام سب کو کال کر کے دوبارہ کمرے میں آیا تو اس کے مخاطب کرنے پر اس کے پاس جا پہنچا۔۔
”کیا ہوا ٹھیک ہو تم؟؟“۔۔
لہجہ فکرمند تھا۔زارا کا دل چاہا مسکرا دے مگر اس نے صرف ناں میں گردن ہِلائی۔۔
”میں تھوڑی دیر باہر جانا چاہتی ہوں،یونہی ہسپتال میں تھوڑا سا چل پھِر کر واپس آ جاؤں گی“۔۔
حسام نے اثبات میں سر ہِلا کر اسے سہارا دے کر اٹھایا اور باہر لے آیا۔۔
”میں خود چل سکتی ہوں۔تم میرا ہاتھ چھوڑ دو“۔۔
زارا نے اس کے ہاتھ میں موجود اپنے ہاتھ کو دیکھ کر کہا تھا۔۔حسام کا چہرہ ایک پل کو پھیکا پڑا تھا۔پھر اس نے بِنا کچھ کہے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔۔
دونوں ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔حسام کی ساری توجہ زارا پر تھی کہ کہیں وہ لڑکھڑا کر گِر نہ پڑے مگر وہ بہت مظبوطی سے ایک ایک قدم اٹھا رہی تھی۔۔
”مبارک ہو ڈاکٹر باذل“۔۔
نرس نے پاس سے گزرتے ہوئے کہا تو وہ مسکرا اٹھا۔۔
”نئی سحر مبارک ہو باذل!! یونہی دونوں ساتھ رہو“۔۔
حسام کے ساتھی ڈاکٹر نے کہا تو زارا نے رک کر ناسمجھی سے اسے دیکھا۔۔حسام گِڑبڑایا۔۔
”مِس کاظمی ہمیشہ ان کے ساتھ رہیئے گا ورنہ ہم اتنے اچھے ڈاکٹر سے محروم ہو جائیں گے،آپ کے بعد اس نے دیوانہ ہو جانا ہے“۔۔
حسام کے لاکھ آنکھیں نکالنے کے باوجود سامنے والے پڑ کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔۔زارا نے ایک نظر حسام کے شرمندہ سے چہرے کو دیکھا اور پھر ہلکا سا مسکرا کر اثبات میں سر ہِلایا اور آگے بڑھ گئی۔۔
”تجھے بعد میں پوچھتا ہوں“۔۔
ساتھی ڈاکٹر کے کندھے پر مکا رسید کرتے وہ زارا کے پیچھے ہی بڑھ گیا۔۔کافی دیر وہ یونہی ہسپتال میں ٹہلتے رہے تھے۔۔جب حسام کے موبائل کی گھنٹی چنگھاڑی۔۔سب آ چکے تھے اور زارا کو کمرے میں موجود نہ پا کر سب پریشان ہو رہے تھے۔۔
”واپس چلیں!سب تم سے ملنے آئے ہیں“۔۔
دونوں واپسی کے لیئے مڑ گئے۔۔حسام کے پیچھے زارا روم میں داخل ہوئی تو سب نے خوشی اور خیرت کی ملی جلی کیفیت سے زارا کی طرف دیکھا۔۔
”ماما!!!“۔۔
زارا فوراً سے دانین کے گلے لگ گئی۔۔دانین خوشی سے نہال ہو رہی تھی۔۔زارا کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لے کر وہ لگاتار اسے بھوسے دیتی رہے اور پھر اسے گلے سے لگا لیا۔۔
”اپنی بوڑھی ماں کی جان لینی تھی کیا؟؟“۔۔
دانین نے شکوہ کیا تھا۔۔
”کون بوڑھی؟؟ میری ماں تو ایک دم ینگ ہے“۔۔
وہ مسکرا کر بولی تو سب مسکرا دیئے۔اساور خوش تھا مگر سر جھکائے کھڑا تھا کہ اسے آج بھی زارا کے دل میں اپنے گنجائش نظڑ نہیں آ رہی تھی۔۔زارا نے دانین سے الگ ہو کر اساور کی طرف دیکھا اور پھر اس کی طرف بڑھ گئ۔۔
”بابا!!“۔۔
وہ جا کر اس کے سینے سے لگ گئی تھی۔۔اساور کو جھٹکا لگا تھا۔۔باقی سب کو بھی خوشگوار خیرت ہوئی تھی۔۔دانین نے مسکرا کر زارا کے معصوم چہرے کی طرف دیکھا جس کی آنکھوں سے آج ہر گرد صاف تھی۔۔اساور نے زارا کے گرد اپنے بازو حمائل کر کے اس کے سر پر بھوسہ دیا تھا۔۔شدِت خوشی سے آنسؤ نکل آئے تھے۔۔
”آئی ایم سوری بابا“۔۔
وہ بھی رو رہی تھی۔۔
”نہیں بیٹا آئی ایم سوری“۔۔
اساور نے اس کے آنسو اپنی ہتھیلیوں سے صاف کیئے۔۔
”باپ بیٹی سے معافی نہیں مانگتے بابا“۔۔
زارا نے ایڑھی اٹھا کر اونچا ہوتے اساور کے آنسو صاف کیئے تھے۔۔پھر دونوں ایک ساتھ مسکرا دیئے تھے۔۔آنسوؤں والی خوشی بھری مسکراہٹ۔۔۔
”مجھ سے نہیں مِلو گی“۔۔
سارہ نے کہا۔۔
”کیوں نہیں پاگل بہن“۔۔
وہ سارہ کے گلے لگ گئی۔۔
”تمہیں پتہ ہے تم ایک نمبر کی ڈفر ہو“۔۔
زارا نے اس کے سر پر ہلکی سی چپت لگائی تھی۔۔
”ہاں ہوں ناں تمہاری کاپی جو ہوں“۔۔
دونوں ایک ساتھ ہنس پڑی تھیں۔۔دانین اور اساور انہیں یوں مسکراتا دیکھ کر جی اٹھے تھے۔۔
”تم سناؤ باپ بننے والے ہو؟؟“۔۔
زارا نے اذان کے کندھے پر ہلکا سا گھونسہ مارا تو وہ جھینپ گیا۔۔”تمہیں حسام نے بتایا؟“۔۔
”نہیں تمہاری بھیگم نے بتایا تھا شاید۔مبارک ہو“۔۔
زارا نے کہا۔۔
”تمہیں بھی مبارک ہو خالہ بننے والی ہو“۔۔
اذان نے کہا تو وہ مسکرا دی۔۔
”مجھے بھی معاف کر دیا ناں تم نے؟؟“۔۔
سائرہ کا سوال تھا۔۔
”نہیں“۔۔
زارا کے سپاٹ لہجے پر سائرہ کے چہرے کے تمام رنگ اڑ گئے تھے۔۔سب نے زارا کی طرف دیکھا۔۔
”آپ مجھے معاف کر دیں“۔۔
وہ ایکدم مسکرا کر اس کے گلے لگ گئی۔سب کی رکی ہوئی سانسیں بحال ہوئی تھیں۔۔
”تھینکس بیٹا۔۔جیتی رہو“۔۔
سائرہ نے اس کے گال پر بھوسہ دیا۔۔سائرہ سے الگ ہوتی وہ عینا کے گلے لگ گئی۔۔یہ ریزرو سی آنٹی اسے ہمیشہ سے بہت اچھی لگتی تھیں۔ان سے کرنے کے لیئے کوئی گلہ تھا نہ شکوہ اس کے پاس۔۔
”بھئی ہماری بیٹی ٹھیک ہو گئی“۔۔
اسی وقت سومو اور سعدی کمرے میں داخل ہوئے۔ان کے پیچھے شرمندہ سی زینی بھی تھی۔۔۔
”پاپا جی!!“۔۔
وہ بےتابی سے سعدی کے گلے لگ گئی تھی۔۔وہ اس کا باپ نہیں تھا مگر اسے اس وقت سنبھالا تھا جب اسے باپ کی ضرورت تھی اور اس کے پاس باپ نہیں تھا۔۔ان دونوں کا رشتہ بہت سپیشل تھا۔۔غم، دکھ، بدگمانی، نفرت، حسدکتنی ہی دیر وہ دونوں بےآواز روتے رہے تھے۔۔ سب ان آنسؤوں میں بہہ گیا تھا۔۔۔
”مجھ سے بھی مِل لو“۔۔
سومو نے کہا تو وہ اس کے گلے لگ گئی۔۔سومو سے الگ ہو کر اس نے زینی کی طرف دیکھا جو انگلیاں چٹختے ہوئے شرمندہ سی کھڑی تھی۔۔زارا نے اس کی آنکھوں میں تیرتے آنسؤوں اور چہرے پر لکھی شرمندگی کی تحریر پڑی تو دل کٹ کر رہ گیا کہ جسے وہ جانتی تھی وہ زینی تو بہت بااعتماد تھی اور یہ زینی نروس سی کھڑی تھی۔۔زارا نے آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگا لیا۔۔کچھ رشتوں میں منہ سے معافی مانگنی ضروری نہیں ہوتی بس رویے ٹھیک کر لینے سے سب ٹھیک ہو جاتا ہے۔۔
اس پل وہاں سب بہت آسودہ تھے۔خوش تھے۔کئیں برسوں بعد وہ دل اتنے خوش ہو پائے تھے۔۔۔


جاری ہے۔۔۔