Aankh Bhar Aansu (Inteqam Lal Ishq Season 2) By Pareeshay Mahnoor Readelle50255 (Aankh Bhar Aansu) Episode 13
Rate this Novel
(Aankh Bhar Aansu) Episode 13
جلتی بجتی روشنیاں،لہراتے آنچل،شوخ مسکراہٹیں،پررونق ماحول کا عالم تھا۔”کاظمی حویلی“ کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔آج زارا اور اذان کی مہندی تھی۔شہر بھر کے لوگ اس مہندی کی تقریب میں شریک تھے۔ہنستے مسکراتے سب کاظمیوں کی خوشیوں میں شریک ہونے آۓ تھے مگر وہ کاظمیوں کی بربادی تھی خوشی نہیں۔۔
”زارا تم تیار ہو۔“
سارہ نے کمرے میں داخل ہو کر پوچھا۔سامنے ہی قدآور آئینے کے سامنے سجی ہوئی وہ بیٹھی تھی۔زارا رباب رانا۔اک وہ خوش تھی باقی سب پھٹے ہوۓ دل اور زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ اس کی خوشی میں شریک تھے۔۔
”ہاں تیار ہوں،دیکھو کیسی لگ رہی ہوں“۔
وہ اٹھ کر سارہ کی طرف گھومی۔ڈارک سبز لہنگے کے ساتھ ہلکی پیلی کڑھائی والی شرٹ پہنی ہوئی تھی۔سبز پٹیوں والا پیلا جھالی دار دوپٹہ بازؤوں پر ڈالا ہوا تھا۔لائٹ میک اپ کے ساتھ تازہ خوشبودار گجرے پہنے ہوۓ وہ اپنی تمام تر خوبصورتی کے ساتھ کھڑی تھی۔شولڈر کٹ بالوں کی مانگ نکال دائیں طرف سے سٹائل بنا کر گجرا لگایا ہوا تھا۔۔
”بہت اچھی لگ رہی ہیں آپ زارا“۔
سارہ نے کہا۔۔
”اچھا مجھے بلانے آئی ہو تو چلو“۔
دوپٹہ سر پر ٹکا کر وہ اس کے ساتھ باہر چلی آئ۔اپنے کمرے سے نکلتے حسام کی نظر اس پر اٹھی اور اٹھی ہی رہ گئ۔اس کی نظروں کی تپش کو محسوس کرتے زارا نے ناگواری سے اسے دیکھا اور سر اٹھا کر گزر گئ۔حسام نے آنکھیں بند کرتے گہری سانس میں آنکھوں میں نظر آتے کرب کو اندر اتارا۔آنکھیں رتجگے کی وجہ سے سرخ ہو چکی تھیں۔وہ اس کے پیچھے ہی باہر چلی آیا۔
سارہ کے ساتھ سہج سہج کر چلتی وہ اسٹیج کی طرف بڑھی۔اسٹیج کے پاس پہنچ وہ کتنی ہی دیر کھڑی اذان کی منتظر رہی کہ وہ اس کی طرف ہاتھ بڑھاۓ گا مگر وہ بیٹھا ٹس سے مس نہ ہوا۔۔
”اذان ہاتھ بڑھاؤ“۔
سارہ نے گھبرا کر اذان سے کہا۔۔
”تمہیں تھامنے کے لیئے بڑھا سکتا ہوں،اس دو ٹکے کی لڑکی کے لیئے اذان کاظمی کے پاس کوئی گنجائش نہیں“۔۔
وہ چبا چبا کر بولتا زارا کو آگ لگا گیا تھا۔غصے کی ایک شدید لہر اس کی رگ و جاں میں سرائیت کر گئ۔سارہ نے گھبرا کر زارا کے چہرے کے بدلتے رنگوں کو دیکھ کر فوراً کہا۔”اذان تماشا مت کرو سب دیکھ رہے ہیں،تمہیں میری قسم!“۔
”یہ محبوب کی قسمیں بھی ناں…! کب تک اس کے ہمقدم رکھو گی مجھے یہ قسمیں دے کر؟“۔
بالوں میں ہاتھ پھیرتے اس نے اٹھ کر ہاتھ زارا کی طرف بڑھایا۔اپنے غصے کو دباتی وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسٹیج کی طرف بڑھی۔حسام نے اپنے اندر ایک طوفان بپا ہوتا محسوس کیا تھا۔اساور کی نظریں بار بار گیٹ کی طرف بھٹک رہی تھیں۔انتظار کرتی آنکھیں جنہیں برسوں بعد محبوب کے دیدار کی نوید ملی تھی۔برسوں کا انتظار قابلِ برداشت تھا مگر یہ چند پلوں کا فاصلہ ناقابلِ برداشت ہوتا جا رہا تھا۔
سائرہ بیٹے کی آنکھوں سے جھانکتے دکھ کی تحریر کو پڑھ کر اندر ہی اندر نچڑ رہی تھی۔عینا نے اپنے بعد آج اپنے بیٹے کی محبت کو بھی الوداع ہوتے دیکھ کر دل تھام لیا تھا۔
”آنٹی رسم شروع کریں“۔
سارہ عینا کے پاس چلی آئی۔عینا نے اثبات میں سر ہلایا اور سارہ کے ہمراہ اسٹیج کی طرف بڑھیں۔۔
رسم شروع کی جا چکی تھی تبھی گیٹ پر گاڑی کا تیز ہارن چنگھاڑا تھا۔شور و غل میں صرف اساور جان پایا کہ وہ آ چکی ہے۔انتظار طویل تھا مگر آخرکار ختم ہوا تھا۔وہ بےتابی سے گیٹ کی طرف بڑھا۔تب تک گاڑی پورچ میں آ رکی تھی۔گاڑی کا پچھلا دروازہ کھلا اور وہ باہر نکلی۔سفید گھٹنوں تک آتی شرٹ کے ساتھ لائٹ پنک ٹراؤزر پہنے،شانوں پر سفید شال ڈالے،بالوں کی فرنچ چوٹی بنا کر اطراف سے دو چار لٹیں چہرے کی پہرےدار بناۓ وہ ہمیشہ کی طرح جاذبِ نظر لگ رہی تھی۔اساور نے دل پر ہاتھ رکھ کر دھڑکنوں کو توازن میں رکھنا چاہا مگر دل کسی ضدی نوجوان کی طرح محبوبہ کے قدموں میں بچھا چلا جا رہا تھا۔
”اسلام علیکم انکل“۔
زینی کی آواز پر اس کا سکتہ ٹوٹا تھا۔اس نے رخ موڑ کر سومو کی بیٹی کو دیکھا۔دل سے ایک شکر بھری آہ نکلی تھی۔”سومو“۔زینی کو دیکھ کر اس کے لب بےساختہ ہلے تھے۔
”زینب رانا ہوں میں انکل“۔
وہ ہلکا سا کھنکھاری۔
”ہاں ہاں کیسی ہو“۔
وہ جیسے نیند سے جاگا تھا۔زینی کو اپنے ساتھ لگاتے اس کے سر پر بھوسہ دیا۔
”میں ٹھیک ہوں“۔
وہ پھیکا سا مسکرا کر دانین کی طرف دیکھنے لگی۔آنکھیں اس کی بھی اس ایک نکتے پر ٹھہر چکی تھیں جہاں وہ تھا اس کا اساور تھا۔یہ کیفیت پل بھر کو رہی اور پھر اس نے نگاہوں کا زاویہ بدل کر اسے پلکوں سے کہیں دور اتار پھینکا تھا۔اس پھینکے جانے کی چوٹ اسے بہت زور سے لگی تھی اور پھر اس کا پاس سے گزر کر چلے جانا اسے اذیت کی گہری کھائی میں پھینک آیا تھا۔۔دل کی تھمتی دھڑکن کو سنبھالتا وہ اس کے پیچھے اندر کو بڑھا تھا۔قدم شکست کا پتہ بتاتے تھے۔
”ماما جی!“۔
دانین کو سامنے پا کر سارہ اس کی طرف بھاگی تھی۔”ماما جی!میں نے آپ کو بہت مِس کیا،بہت ذیادہ“ دانین کے گلے لگی وہ فرطِ جذبات سے بولی۔دانین کی نظریں اسٹیج پر مایوں کی دلہن بنی بیٹھی زارا پر ٹھہر گئیں تھیں۔وہ جس بات کے لیئے سارا راستہ خود کو تسلی دیتی آئی تھی کہ ”نہیں شائد یہ سب غلط فہمی ہو“ مگر دلہن بنی زارا نظریں چراتی چیخ چیخ کر بتا رہے تھے کہ سب سچ ہے۔اس کے چہرے پر صدمے کے بادل سمٹ آۓ تھے۔۔
”دیکھو دانین آئی ہے“مہمانوں میں سے کوئی بولا تھا”یہ اساور کاظمی کی پہلی بیوی ہے“۔کسی کی خیران آواز گونجی تھی۔
اور دانین وہ ان سب آوازوں کو یکسر نظرانداز کیئے سامنے بیٹھی زارا کو دیکھ رہی تھی۔جس کے لیئے اس نے دعویٰ کیا تھا کہ بھلے وہ اساور کی سی فطرت لے کر پیدا ہوئی ہو مگر وہ اپنی تربیت سے اس فطرت کو بدل دے گی،کوئی زارا کسی دانین کی بربادی کا سبب نہیں بنے گی مگر اب وہی زارا اپنی ہی سگی بہن کی خوشیوں کو تباہ کرنے چلی تھی۔۔
”ہاہاہا…کہا تھا ناں خون کا اثر تربیت سے ذیادہ ہوتا ہے“۔۔”تمہاری ساری زندگی کی کمائی رائیگاں گئ“۔۔”بنا دیا کیا تم نے زارا کو ایک اچھا انسان“۔۔
دانین کو لگا ہجوم میں کھڑا ہر شخص اس پر جملے کس رہا ہے_سب اس کا مذاق اڑا رہے ہیں۔اسے اپنا سر چکراتا ہوا محسوس ہوا۔کان سائیں سائیں کر رہے تھے۔سارہ کے گلے لگے ہی وہ ہوش و خرد کی دنیا سے بےگانہ ہو گئ۔۔
سب اس کے جھولتے وجود کو دیکھ کر اس کی طرف بھاگے آۓ تھے۔صرف زارا اور اساور تھے جو پھٹی پھٹی آنکھوں سے دانین کے بےہوش وجود کو دیکھے جا رہے تھے۔۔
”تم ٹھیک ہو دانین؟“۔
دانین نے جیسے ہی آنکھیں کھولیں پاس بیٹھی سائرہ لپک کر اس کے پاس آئی۔ہاتھوں کے سہارے دانین کسلمندی سے اٹھ کر بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئ۔بائیں طرف اس کا ہاتھ تھامے بیٹھی سارہ نے اس کے پیچھے کشن سیٹ کیا۔زارا دلہن بنی دوپٹے سے بےنیاز اس کے پاؤں پر ہاتھ رکھے بیٹھی تھی۔دانین نے ایک سرسری نگاہ زارا پر ڈال کر اپنے پیر سمیٹ لیئے تو وہ خالی ہاتھ بس انہیں دیکھ کر رہ گئ۔
”جن ماؤں کی کوکھ سے زارا سی بیٹیاں جنم لے کر پرورش پاتی ہیں،وہ بھلا ٹھیک رہ سکتی ہیں“۔
دانین نے ایک غصیلی نگاہ زارا پر ڈالی۔
”کیا کر دیا ہے میں نے ماما!؟“۔
زارا نے اچنبھے سے انہیں دیکھا جیسے وہ کچھ بھی نہیں جانتی ہو۔
”کچھ بچا ہے اور جو تم ابھی کرو گی“۔
دانین کے سخت لہجے نے زارا پر گھڑوں پانی ڈال دیا تھا۔۔
”ماما زارا کو کچھ مت کہیں“۔
سارہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر جیسے منت کی تھی۔۔
”پتہ ہے غلطی کرنے والا اتنا غلط نہیں ہوتا جتنا کہ اس غلطی کی روک تھام نہ کرنے والا اور جسٹیفائی کرنے والا ہوتا ہے“۔اور میری نظر میں اس سے ذیادہ تم غلط ہو جو اس کے غلط فیصلے کو مان کر اس کا ساتھ دیا“۔۔
دانین نے بغیر لگی لپٹی رکھے سارہ کو لتاڑا تھا۔زارا نے ماں کی طرف شکائیتی انداذ میں دیکھا کہ”کون سا غلط فیصلہ“۔۔
”تم ہی زارا کو سمجھاؤ دانین! اس کا ایک غلط فیصلہ چار زندگیاں برباد کر دے گا۔اسے کہو میرے حسام کی جھولی میں اپنے نام کی کونپل ڈال کر اسے پھر سے زندہ کر دے“۔
دکھی ماں نے اپنی مامتا سے مجبور کاسۂ اس کے سامنے رکھا تھا۔۔دانین نے زارا کی طرف دیکھا۔ان آنکھوں کا سوال پڑھ کر زارا بدک کر پیچھے ہوئی تھی”نہیں ماما کبھی نہیں۔جو خلا ساری زندگی میرے اندر رہا ہے میں اسی خلا کے شکار شخص سے ہر گز کوئی تعلق قائم نہیں کروں گی،اور پوچھیں ناں ذرا ان سے کہ یہ کیوں ایک ناجائز لڑکی کو اپنی بہو بنانا چاہتی ہیں کیونکہ یہ بھی نہیں جانتیں کہ جانے کس گندے خون کی پیدار ہے وہ جسے یوں کوئی راستے میں پھینک گیا تھا“اس نے نہایت بدتمیزی سے کہا تھا۔۔
”زارا!!“دانین چلائی تھی۔زارا کے منہ سے اتنے گھٹیا الفاظ سن کر دانین کو دھچکا لگا تھا جبکہ دانین کا چیکپ کرنے آتے حسام نے زارا کی تمام باتیں باہوش و حواس سنیں اور لمحے بھر کا کھیل تھا اور اس کھیل نے فیصلہ کیا کہ آج زارا اگر حسام کی نہیں ہونا چاہتی تو ابھی سے حسام بھی زارا کا نہیں ہونا چاہتا۔۔
”پلیز آنٹی کو آرام کرنے دیں۔ان کا بلڈ پریشر نارمل نہیں ہے“حسام کمرے کا دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا۔”اور آپ مِس زارا!! جیسا مرضی چاہے کریں مگر حسام باذل کاظمی اب آپ کا طلب گار ہے ناں آپ کی محبت کا بھکاری سو زبان اور الفاظ سنبھال کر“وہ دبے دبے لہجے میں سختی سے بولا۔۔”آنٹی کو آرام کرنے دیں،سب باہر آ جائیں پلیز“۔حسام کہہ کر پلٹ گیا۔زارا نے ایک ناپسندہ نگاہ اس پر ڈالی اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئ۔۔
”کیسی ہو،کچھ پریشان لگ رہی ہو“۔
سالار نے لہجے میں فکر سمو کر اسے کہا۔
”ہاں کچھ خاندانی مسائل ہیں،اور کچھ نہیں“۔
آنکھوں کی پتلیوں کو دو انگلیوں سے دباتی وہ بولی۔۔
”تم مجھ سے شئیر کر سکتی ہو،ہم اچھے دوست ہیں اور……“۔
دانستہ اس نے اپنی بات کو ادھورا چھوڑا کہ زینب رانا سے بہتر ادھوری باتوں کے مطلب بھلا کون جان سکتا ہے۔اور وہ اس کے نرم لہجے اور محبت بھرے انداذ پر پگھل کر اپنی زندگی سے جڑا ہر مسئلہ اس کے سامنے کھولتی چلی گئ۔۔
”تمہاری بہن ایسا کیوں کر رہی ہے؟“۔
سالار نے پوچھا۔۔
”وہ اپنے اندر کی فرسٹیشن نکال رہی ہیں سب پر“۔۔
زینی نے کہا۔۔
”ایک حل بتاؤں میں،تھوڑا ٹیڑھا ہے مگر سب صیح ہو جاۓ گا“۔
سالار نے کچھ سوچتے ہوۓ کہا۔۔
”کک کیسا حل؟“۔
زینی بےچین ہوئی تھی۔۔
”تھوڑا ڈرامہ بھی ہو سکتا ہے اس میں مگر کچھ وقت کے بعد شاید تمہارے تمام فیملی میٹرز سولو ہو جائیں گے“۔۔
سالار نے کہا۔۔
”سسپینس کرئیٹ مت کرو،سیدھا سیدھا پوائینٹ پر آؤ“۔۔
زینی نے جھنجھلا کر کہا۔۔
”تمہارے گھر سے کون کون چاہتا ہے کہ رباب میرا مطلب ہے زارا کی شادی اذان سے نہ ہو؟“۔۔۔
سالار نے پوچھا۔۔
”سب ہی ایسا چاہتے ہیں کہ نہ ہو“۔۔
زینی اب اکتانے لگی تھی۔۔
”اور ایسا کوئی بندہ جو شادی رکوانے کے لیئے بھلے کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑ جاۓ تمہارا ساتھ دے گا؟“۔۔
سالار نے پوچھا۔۔
”ہممم،اذان بھائی اور حسام بھائی دونوں“۔۔
زینی کی زبان سے بےساختہ نکلا تھا۔۔
”تو پھر غور سے سنو……“۔
وہ جیسے جیسے بولتا گیا زینی کے رونگٹے کھڑے ہو گۓ۔۔
”سالار اس کے بعد زارا کوئی بڑا طوفان لے آئی گی تم اسے جانتے نہیں ہو“۔
زینی نے کہا۔۔
”کچھ بھی کر لے وہ پھر مگر جو ہو چکا ہو گا اسے تو نہیں بدل سکے گی ناں“۔
سالار نے اس کی سوچ کو نیا رخ دیا۔۔
”ہاں تم ٹھیک کہتے ہو،میں اذان بھائی اور حسام بھائی سے بات کرتی ہوں“۔۔
زینی نے کچھ سوچتے ہوۓ کہا۔۔
”گڈ یہ ہوئی ناں بات“۔۔
اس نے جوش سے کہا تو زینی پل بھر کو چونکی اور پھر اللہ خافظ کہہ کر کال منقطع کرتی وہ اذان اور حسام سے بات کرنے کی نیت سے کمرے سے نکلی۔۔
”آج زارا اور اذان کے نکاح کی تقریب ہے مگر نکاخ زارا اور اذان کا نہیں سارہ اور اذان کا ہو گا“
کھانے کی میز پر سب کو موجود پا کر دانین وہیں چلی آئی۔سارہ اور زارا اس وقت اپنے اپنے کمروں میں تھیں۔۔
”زارا کا کوئی انتہائی قدم میں برداشت نہیں کر پاؤں گا دانی“۔۔
اساور نے ٹوٹے لہجے میں کہا۔۔
”یہ بھی انتہائی قدم ہی ہے،جو سب بہا کر لے جاۓ گا“۔۔
دانین بھی ایک کرسی کھینچ کر بیٹھ گئ۔اذان پلیٹ میں چمچ ہلاتا بہت غور سے ان کی باتیں سن رہا تھا۔حسام لاتعلق سا بیٹھا کھانے کی پلیٹ پر جھکا ہوا تھا۔۔
”وہ برسوں بعد ہمیں ملی ہے،ہم اسے کھونا نہیں چاہیں گے یہ بات وہ جانتی ہے اسی لئیے وہ یہ سب کر رہی ہے کہ اس کے لیئے تو سب خوشی خوشی برباد ہو جائیں“۔۔
سائرہ نے بھی گفتگو میں اپنا خصہ ڈالا۔
”میرے پاس ایک طریقہ ھے تھوڑا رسکی ہے مگر سب نہیں تو کچھ مسائل سولو ہو ہی جائیں گے“۔
زینی نے رازداری سے کہا تو حسام کا نوالہ لیتا ہاتھ رکا۔اس نے بہت غور سے اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھا جو کہہ رہی تھی کہ اتنے بڑے مسئلے کا اس کے پاس حل ہے۔باقی سب بھی اس کی طرف متوجہ ہوۓ۔۔
دھیرے دھیرے زینی نے سالار کا پیش کردہ مسئلہِ حل ان کے آگے رکھ دیا۔۔
”اور اس سب کے بعد جو ہنگامہ زارا کرے گی اس کا کیا؟“۔۔
حسام بےساختہ بولا۔۔
”بعد کی بعد میں دیکھ لیں گے،ابھی زینی جیسا کہہ رہی ہے ویسا کریں گے سب“۔۔
اذان جلدی سے بولا کہ اسے پلان معقول لگا تھا۔ہر وہ منصوبہ جو اسے سارہ سے ملانے کے لیئے کیا جاتا اسے معقول ہی لگنا تھا۔۔
سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور تائیدی اندار میں سر ہلا کر منصوبے پر عمل کی رضامندی ظاہر کی۔۔
————————————————–
جاری ہے۔۔
