Aankh Bhar Aansu (Inteqam Lal Ishq Season 2) By Pareeshay Mahnoor Readelle50255 (Aankh Bhar Aansu) Episode 23
Rate this Novel
(Aankh Bhar Aansu) Episode 23
میر کو اساور نے حویلی بھلا لیا تھا اور وہ خوشی خوشی آ گیا تھا کہ اتنے برسوں بعد وہ اپنوں کی محبت کو پا رہا تھا۔۔
خالہ کی جگہ ماں کے برابر ہوتی ہے اور وہ اپنی خالہ کی آغوش میں باقی کی ساری زندگی گزارنا چاہتا تھا۔۔
زارا دانین کے ساتھ اس کے گھر چلی آئی تھی۔ وہ اساور سے بہت محبت کرتی تھی مگر وہ اپنی ماں کو ہر گز نہیں چھوڑ سکتی تھی۔۔
آج وہ میر کے بھلانے پر اس سے ملنے باہر آئی تھی۔۔میر اسے پزا ہٹ لایا تھا۔۔
سر سبز گھاس پر بچھی پلاسٹک کی کرسیوں پر وہ دونوں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔۔
”ایک بات پوچھوں آپ سے رباب“۔۔
کافی دیر کی خاموشی کے بعد وہ بولا تھا۔۔ دونوں میں ابھی تک اتنی بےتکلفی نہیں ہوئی تھی کہ ملتے ہی فوراً باتیں شروع کر دیتے۔۔
”ہاں پوچھو“۔۔
زارا نے پزا کا پیس اٹھا کر اپنی پلیٹ میں رکھا۔۔
”آپ تو مجھ سے بھی ذیادہ نفرت کرتیں تھیں بابا جان سے ، پھر آپ نے اچانک سب بھلا دیا“۔۔۔
اس کی بات پر زارا کے ہونٹوں پر پھیکی سی مسکراہٹ رقص کرنے لگی ، ایک زخمی مسکراہٹ۔۔
”میں نے زندگی محرومیوں میں نہیں گزاری ، میرے ماموں نے مجھے ہر آسائش مہیا کی مگر وہ جو ایک خانہ باپ کا ہوتا ہے اسے وہ چاہتے ہوئے بھی پُر نہیں کر پائے کہ ایک وہی محرومی تھی جو ساری زندگی میرے ساتھ رہی اور پھر میں سب کی زندگیاں اجیرن کرنے پاکستان لوٹ آئی ، میں کبھی بھی پاکستان نہیں آنا چاہتی تھی اور اگر آ بھی جاتی تو کبھی بدلہ نہ لیتی مگر پھر قسمت مجھے پاکستان لے آئی اور تم سے ملا دیا ، تم نے میرے غصے کو ہوا دی اور میرے اندر بدلے کے بجھے الاؤ پھر سے بھرک اٹھی“ذرا سا رک کر اس نے اپنا آئی برو کجھایا”پھر میں بدلہ لینے پہنچ گئی اور اس بدلے کی جنگ میں خود کو ہسپتال کے بستر پر پہنچا دیا ، سب میرے پاس روز آتے تھے ، میری دلجوئی کرتے مگر میں پھر بھی زندہ ہو کر دوبارہ کاظمیوں میں نہیں جینا چاہتی تھی اور پھر اس دن سارہ آئی ، اس نے بتایا وہ ماں بننے والی ہے اور اس دن میں نے رسپانڈ کیا کہ مجھے حیرت ہوئی کہ وہ اپنی زندگی کیسے شروع کر سکتی ہے اور پھر میرے اندر جینے کی امنگ جاگی اور میں نے موت کو ہرا دیا ، آنکھیں کھولنے سے پہلے میرے اندر ایک ہی جنگ جاری تھی اور وہ جنگ تھی بدلے کی۔۔
اور وہ آگ تب ٹھنڈی ہوئی جب میں نے آنکھیں کھولتے ہی پہلے الفاظ یہ سنے کہ”مِس کاظمی کوما سے تو باہر آ گئی ہیں مگر یہ ذیادہ عرصہ جی نہیں پائیں گی ، ان کے دل کے وال بند ہو چکے ہیں“۔۔
اپنی آنکھوں کے کو زور سے بند کرتے اس نے امڈ آنے والے آنسوؤں کو روکا۔۔ میر ہونٹوں پر زبان پھیرتا ، پھٹی پھٹی آنکھوں سے زارا کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔
”آپ مذاق کر رہی ہیں ناں؟“۔۔
وہ ابھی تک بےیقین تھا۔۔
”نہیں میں نے ہوش میں آتے ہی پہلے الفاظ یہ سنے اور جانا کہ زندگی تو بہت محتصر سی ہے ، جسے ہم نفرتوں اور بدلوں کی نذر کر دیتے ہیں ، ہمیں بدلہ لینے والا نہیں معاف کرنے والا بننا چاہیئے مگر ہم بدلہ لینے کو ترجیع دیتے ہیں اور پھر اپنا سب کچھ گنوا دیتے ہیں ، میں مرنے والی ہوں تو میں کیا کروں گی دل میں بغض رکھ کر اور میں سوچتی ہوں کہ اتنے سال نفرت کر کے میں نے کون سا کمال کر دیا ۔۔ نفرت کرنا کمال نہیں محبت کرنا اصل کمال ہے“دو آنسو نہ چاہتے ہوئے بھی گال پر بہہ نکلے تھے”تھوڑی سے رہ جانے والی زندگی کو نفرت اور بدلے کی نظر نہیں کر سکتی تھی میں ، اس لیئے سب بھلا دیا اور یقین مانو بہت سکون پایا ، موت بھی کیا چیز ہے ناں کچھ پلوں میں آتی ہے پنجا مارتی ہے اور انسان کے ساتھ سالوں کی نفرت کو بھی ختم کر دیتی ہے“۔۔
”دانین آنٹی اور باقی سب کو پتہ ہے؟؟“۔۔
وہ خود شاکڈ تھا۔۔
”نہیں صرف حسام اور بابا جان جانتے ہیں“۔۔
زارا نے کہا۔۔
”آپ کو دانین آنٹی کو بتا دینا چاہیئے“۔۔
میر نے کہا۔۔
”بتا دوں گی ، تم کیوں دکھی ہو رہے ہو پِزا کھاؤ ، سب ٹھیک ہو جائے گا“۔۔
زارا زبردستی مسکرائی تھی۔۔ میر نے بہت دکھ سے اسے دیکھا تھا۔۔ وہ اس کی بہن تھی اور قطرہ قطرہ مر رہی تھی مگر مسکرا رہی تھی پھر بھی۔۔
”دانین بہت امید سے ہم آپ کے پاس آئے ہیں ، پلیز انکار مت کیجیئے گا“۔۔
سائرہ ، عینا اور اساور حسام کے لیئے زارا کا رشتہ مانگنے آئے تھے۔۔ اس وقت سب دانین کے گھر کے ڈرائینگ روم میں بیٹھے ہوئے تھے۔۔دانین چاہ کر بھی زارا کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتی تھی۔۔ کسی نہ کسی طرح وہ لوٹ کر حویلی ہی جاتی۔۔
”ہم واپس جا رہے ہیں اگلے ہفتے“۔۔
دانکسی بھی طرح وہاں نہیں رکنا چاہتی تھی اور اگر زارا وہاں رہ جاتی تو وہ مجبور ہو جاتی۔۔
”زارا محبت کرتی ہے حسام سے“۔۔
اساور نے اسے باور کرانا چاہا تھا۔۔
”تو کرنے دو ، محبت تو سبھی کر لیتے ہیں ، سب ساتھ رہیں یہ ضروری تو نہیں ہے“۔۔
دانین کا لہجہ تلخ ہوا تھا۔۔
”وہ صرف حسام کے ساتھ خوش رہ سکتی ہے“۔۔
اساور اسے ہر صورت کنوینس کرنا چاہتا تھا ، زارا کی مختصر سی زندگی کو وہ خوشیوں سے بھر دینا چاہتا تھا۔۔
”نہیں نہیں !! کاظمی حویلی میں کوئی خوش نہیں رہ سکتا“۔۔
وہ اتنا تجربہ بتا رہی تھی۔۔
”میں بھی تو خوش ہوں ناں ماما“۔۔
سارہ اور اذان بھی آ گئے تھے۔۔ سارہ نے دانین کے گلے میں بانہیں ڈال کر لاڈ سے کہا تھا۔۔۔
”کیا جتانا چاہ رہی ہو“۔۔
دانین اس وقت کوئی لحاظ کرنے کے موڈ میں نہیں تھی۔۔ سارہ ہمیشہ سے اساور کے ساتھ تھی اس لیئے وہ سارہ کو اساور سے دور نہیں لے جا سکتی تھی مگر وہ زارا کو ہر صورت اس شخص سے دور رکھنا چاہتی تھی ، جس کی شکل دیکھ کر ہی اس کے اندر کڑواہٹ بھر جاتی تھی۔۔
”میں کچھ جتانا نہیں چاہ رہی ماں!! بس بتا رہی ہوں آپ کی دونوں بیٹیاں کاظمی حویلی میں ہی خوش رہ سکتی ہیں“۔۔
سارہ دانین کے تیور دیکھ کر تھوڑی جھجھک گئی تھی۔۔
”میں زارا کو اس لیئے لے کر نہیں گئی تھی کہ اتنے سالوں بعد دوبارہ وہیں بھیج دوں“۔۔
وہ کسی صورت ماننے کو تیار نہیں تھی۔۔
”ماں آپ نے خود زارا کو کہا تھا کہ وہ حسام سے شادی کر لے“۔۔
سارہ نے اسے یاد کروانا چاہا۔۔
”وہ ایک ماں کی مجبوری تھی کہ اس طرح تم برباد ہونے سے بچ جاتی“۔۔۔
”میرا حسام بہت خوش رکھے گا زارا کو ، بہت محبت کرتا ہے وہ زارا سے ، کوئی تکلیف نہیں دے گا وہ زارا کو“۔۔
سائرہ نے کہا۔۔
”غلط سائرہ جو محبت کرتے ہیں وہ صرف تکلیف ہی دیتے ہیں ، خوشیاں کبھی نہیں دے سکتے“۔۔۔
ایک تلخ نظر اساور پر ڈالی تھی۔۔ میر اساور کا بیٹا ہے ، جب سے یہ جانا تھا ۔ اس کے دل میں اساور کے لیئے رہی سہی گنجائش بھی ختم ہو گئی تھی۔۔
”میرے غلط فیصلوں کی سزا تم میری بیٹی کو نہیں دے سکتی“۔۔
اساور بےبس تھا۔۔
”وہ میری بھی بیٹی ہے مسٹر اساور کاظمی!!! اور تمہارے غلط فیصلوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہی میں اپنی بیٹی کے لیئے کوئی غلط فیصلہ نہیں کر سکتی“۔۔
دانین کے پاس ان سب کے لیئے کوئی رعایت نہیں تھی۔۔
”مگر چاچی—-“۔۔
عینا نے کچھ کہنا چاہا مگر دانین نے فوراً سے اس کی بات کاٹ دی۔۔
”پلیز!! پلیز!! عینا بس اس سے ذیادہ میں کچھ نہیں کہنا چاہتی“۔۔
وہ اٹھ کر وہاں سے چلی گئی۔۔
”آئی ایم سوری چکس!! دانی کبھی نہیں مانے گی“۔۔
سومو نے کہا۔۔۔
تھوڑی دیر وہاں بیٹھنے کے بعد سب وہاں سے چلے آئے تھے اور دانین کا فیصلہ سن کر اساور نے بھی ایک فیصلہ کر لیا تھا۔۔ کہ وہ دانین کو زارا کی بیماری کے متعلق بتا دے گا کیونکہ وہ چاہتا تھا زارا کی باقی بچی زندگی خوشگوار ہو ۔۔
زینی آج بازار شاپنگ کے لیئے آئی تھی۔۔ اگلے ہفتے ان کی ترکی واپسی تھی ، اس لیئے وہ اپنے دوستوں کے لییۓ پاکستان سے کچھ گفٹس حریدنا چاہ رہی تھی۔۔۔
ابھی وہ ایک دکان سے نکلی ہی تھی کہ سامنے سے آتے میر سے ٹکراتے ٹکراتے بچی۔۔ میر اپنے دوست سالار کے ساتھ آیا ہوا تھا۔۔
زینی کو دیکھ کر اس کی آنکھیں چمکیں تھیں ، چہرے پر مسکراہٹ رینگی تھی لیکن زینی ایک نفرت بھری نظر اس پر ڈالتی پاس سے گزر گئی۔۔
”یار تو جا ، میں آتا ہوں“۔۔
میر سالار کو کہتا زینی کے پیچھے بھاگا تھا۔سالار کندھے اچکا کر آگے بڑھ گیا۔۔
”زینی!! ، زینی پلیز میری بات سنو یار“۔۔
بہت دنوں بعد میر نے اسے دیکھا تھا ورنہ وہ اس کے سامنے آتی نہیں تھی اور کسی سے اس کے بارے میں پوچھنا اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔
”زینی لِسن ٹو می پلیز یار“۔۔
میر نے اسے روکنے کے لیئے اس کی کلائی پکڑ لی تھی۔۔زینی کو جیسے جھٹکا لگا تھا ۔۔ اس نے ایک دم اپنی کلائی اس کے ہاتھ سے کھینچی تھی۔۔
”کیا بدتمیزی ہے یہ مسٹر“۔۔
انگلی اٹھا کر وہ نفرت سے بولی تھی۔۔اس کی آنکھوں سے چنگاریاں نکل رہی تھیں۔۔۔
”زینی میری جان!! ہم کہیں آرام سے بیٹھ کر بات کرتے ہیں ، تم تسلی سے مجھے سن لو اس کے بعد کوئی فیصلہ کرنا پلیز“۔۔
وہ التجا کر رہا تھا۔۔ زینی نے اس کے بےبس چہرے کی طرف ایک نظر دیکھا اور شاپنگ مال میں موجود ریسٹورنٹ کی طرف بڑھ گئی۔۔ زینی کی اتنی ہی رضامندی پر وہ مسکرا کر اس کے پیچھے بڑھا۔۔
دونوں ایک ٹیبل کے گرد آمنے سامنے بیٹھ گئے۔۔
”کیا کھاؤ گی؟“۔۔
وہ اب کچھ ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا۔۔
”کچھ نہیں جو کہنا ہے جلدی کہو ، مجھے پیکنگ کرنی ہے پھر“۔۔
زینی نے جان بوجھ کر پیکنگ کا کہا کہ سامنے والا اس سے کوئی امید نہ رکھے۔۔
”کیسی پیکنگ ، کک کہاں جا رہی ہو تم“۔۔
میر نے پوچھا۔۔
”واپس ترکی جا رہے ہیں ہم اور آئی وِش دوبارہ کبھی پاکستان نہ آؤں میں کہ اس تھوڑے سے عرصے میں بہت دھوکےباز دیکھ لیئے ہیں میں نے“۔۔
لہجہ تلخ تھا۔۔
”نہیں زینی نن نہیں ، میں تمہیں نہیں جانے دوں گا“۔۔
میر نے کہا۔۔
”کیوں؟“۔۔
زینی کے زاویے بگڑے ہوئے تھے۔۔
”کیونکہ ہم دونوں محبت کرتے ہیں ، ایک دوسرے سے“۔۔
اس کی بات پر ایک تلخ مسکراہٹ زینی کے ہونٹوں پر ابھری۔۔
”مجھے اب ایسی کوئی فیلنگ نہیں آتی کہ لگے تم سے محبت ہے مجھے ، ہاں مجھے تم سے محبت ’تھی‘ سمجھے“۔۔
”زینی دیکھو میں نہیں جانتا تھا کہ تم رباب کی بہن ہو یا اساور کاظمی سے تمہارا کوئی رشتہ ہے۔۔ مجھے تم اچھی لگی اور بات شروع کر لی۔۔ مجھے بعد میں پتہ چلا کہ تم رباب کی بہن ہو ، لیکن تب تک تمہاری محبت کا پودا میرے اندر تناآور درخت بن چکا تھا“۔۔
”اور تم نے اس محبت کا خوب استعمال کیا پھر واہ!!“۔۔
”آئی ایم سوری لیکن میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں“۔۔
”پھر میں کیا کروں اس محبت کا“۔۔
وہی اکتایا ہوا لہجہ تھا زینی کا۔۔
”شادی“۔۔
خواہش لبوں پر آ گئی تھی۔۔
”دیکھو مِسٹر— ویسے کیا کہوں میں تمہیں ، کس نام سے بھلاؤں ، جانے کتنے روپ اور کتنے نام ہیں تمہارے۔۔ اینی وے مِسٹر کاظمی بھول جاؤ یہ کہ میری اور تمہاری شادی ہو سکتی ہے“۔۔
”ایسا کیوں کہہ رہی ہو“۔۔
میر کو لگ ہی رہا تھا کہ وہ اسے کھو رہد تھا یا کھو چکا تھا۔۔
”اس لیئے کہ اگر میں تمہیں معاف کر بھی دوں تب بھی رانا ہاؤس سے کوئی بھی کاظمیوں کی حویلی نہیں آ سکتا کہ پھپھو کے دل میں کاظمیوں کے لیئے بہت نفرت ہے“۔۔
”تم بات کر کے تو دیکھو“۔۔
میر نے کہا۔۔
”بات تو تب کرتی جب تم میں مجھے کوئی انٹرسٹ ہوتا ، مجھے تم میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے ناں میں پھر کبھی تم سے ملنا چاہوں گی“۔۔
وہ اپنا بیگ اور شاپرز اٹھا کر وہاں سے اٹھ گئی تھی۔۔ اسے جاتا دیکھ کر میر کا دل ڈوب رہا تھا۔۔ وہ محسوس کر سکتا تھا کہ وہ صرف یہاں سے اٹھ کر نہیں گئی بلکہ وہ چلی ہی گئی ہے۔۔
دکھ اس کے چہرے سے عیاں تھا۔۔ بےبسی سے اس نے سر ہاتھوں پر گِرا دیا۔۔
جاری ہے۔۔۔
