54.6K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Aankh Bhar Aansu) Episode 12

”اسی انداذ میں یہی بات کبھی آپ نے ان کو کی ہوتی تو آج یہ پچھتاووں کے ناگ آپ کو ڈس نہ رہے ہوتے“۔۔
سائرہ کی طرف اشارہ کرتے وہ اس سے ذیادہ اونچی آواز میں بولی تھی۔۔
”دیکھو زارا تمہارے ساتھ جو ہوا مانتا ہوں غلط ہے مگر تم جو کر رہی ہو وہ اس سے بھی غلط ہے“۔۔
اذان نے کہا۔۔
”مجھے مت بتاؤ کیا غلط ہے کیا صیح ہے۔مجھے بس فیصلہ چاہیئے وہ کرو اور بات ختم“۔۔
زارا نے کہا۔۔
”زارا میری بات سنو………
”اب یہ مت بولنا تمہیں مجھ سے محبت ہے“۔۔
حسام کی بات کاٹتے وہ بےپرواہی سے بولی۔۔
”مجھے تم سے محبت ہے زارا۔!!“۔۔
حسام بےبس لہجے میں بولا تھا۔۔سب نے حسام کی طرف دیکھا جس کے لہجے میں نظر آتی تکلیف اس کے چہرے پر عیاں ہوتی کاظمیوں نے پہلی بار دیکھی تھی۔۔
”زارا میرا حسام تم سے محبت کرتا ہے۔تمہیں خوش رکھے گا“۔۔
سائرہ نے کہا۔۔
”ہمم مجھے خوش رہنے سے اب کوئی مطلب نہیں ہے،مجھے بےچین رہنے کی عادت سی ہو گئ ہے اور وہ کیا ہے ناں مجھے بھی آپ کی طرح ناجائز فوبیا ہے۔پتہ نہیں کس گندے خون کی پیداوار ہے“۔۔
زارا نے کہا۔۔
”بس کر دو زارا“۔۔
حسام کی آنکھوں میں چبتے کانچ سائرہ کے دل میں اترے تو بھیگی آواز کے ساتھ وہ بولیں۔۔
”برا لگا،مجھے بھی لگتا ہے جب ہر آتا جاتا خقارت سے دیکھ کر مجھے کہتا کہ”سائرہ نے بتایا تھا یہ بدکردار عورت کی بیٹی ہے“۔جب پوری دنیا کے سامنے لائیو میرے اور میری ماں کے کردار پر کیچڑ اچھالا گیا تو میرا دل مر گیا،میں مر گئ،اس تکلیف کو محسوس کرو اور بتاؤ تکلیف پھر کہ تکلیف کیا ہوتی ہے“۔۔۔
اس کی آنکھیں نم ہونے لگیں تھیں مگر چھلکیں نہ تھیں کہ وہ کمال ضبط رکھتی تھی۔۔ایک گہرا سانس خارج کرتے وہ حویلی کی حدود سے نکل گئ۔۔حویلی میں موجود ہر فرد اپنا زخمی زخمی دل لیئے اپنے اپنے کمروں میں جا چھپا تھا۔۔


کمرے کی کھڑکی میں وہ ساکت سی بیٹھی تھی۔۔ٹھنڈی ہوا اس کے وجود سے ٹکرا ٹکرا کر پلٹ رہی تھی مگر اسے کوئی خبر نہ تھی۔۔تبھی اس کے کمرے کا دروازہ زوردار آواز کے ساتھ کھلا تھا۔اس نے پھر بھی پلٹ کر نہیں دیکھا کہ وہ جانتی تھی آنے والا کون ہے۔۔
”یہ کیا ہے سارہ!!؟؟“۔۔
اپنا موبائل اس کی گود میں پٹختا وہ چیخا تھا۔۔سارہ نے موبائل کی جلتی سکرین کو دیکھا جہاں اس کا کچھ دیر پہلے کا بھیجا ہوا میسیج چمک رہا تھا۔۔۔۔
”صرف تمہارے اقرار کی صورت ہی سب ختم نہیں ہو گا،تمہارے انکار کی صورت بھی سب ختم ہو جاۓ گا۔زارا کو انکار کی صورت سارہ ختم ہو جاۓ گی اور اس کے ذمہ دار تم ہو گے صرف تم“۔۔
یہ میسیج اس نے کچھ دیر قبل بھیجا تھا اذان کو۔اسی میسیج نے اس کی سانس لینی مشکل کر دی تو وہ لال چہرہ لیئے چلا آیا تھا۔۔
”زارا تم سے محبت کرتی ہے“۔۔
سارہ بنا اس کی طرف دیکھے بولی تھی۔۔
”میں تم سے محبت کرتا ہوں“۔۔
وہ اس کے قدموں میں بیٹھ گیا تھا۔۔
”مگر میں زارا سے محبت کرتی ہوں“۔۔
سارہ نے کہا۔۔
”مگر زارا کسی سے بھی محبت نہیں کرتی۔نہ تم سے،نہ مجھ سے اور نہ کسی اور سے۔وہ صرف انتقام چاہتی ہے۔وہ بدلے کی آگ میں اندھی ہو چکی ہے“۔۔
اذان نے کہا۔۔
”وہ جیسا چاہتی ہے ویسا کر دو پلیز اذان“۔۔
سارہ ملتجی ہوئی تھی۔۔
”میں نہیں کر سکتا اس سے شادی،ایسا مطالبہ مت جو پورا نہ کر پاؤں“۔۔
اذان نے کہا۔۔
”تو جاؤ یہاں سے“۔۔
اپنی گود میں رکھے اذان کے ہاتھوں کو اس نے جھٹکا تھا۔۔اذان نے زخمی نظروں سے اسے دیکھا تھا۔۔
”ٹھیک ہے جیسے تم چاہتی ہو ویسا ہی ہو گا مگر یاد رکھنا غلط فیصلوں کے نتائج بھگتنے پڑتے ہیں۔یہ ایک غلط فیصلہ تمہیں مجھے،زارا کو حسام کو ساری عمر تکلیف ہی دے گا۔اور ہماری تکلیف ہماری ساری فیملی کو سفر کرواۓ گی“۔۔
وہ کہہ کر رکا نہیں تھا۔اس کے جاتے ہی سارہ نے زارا کو کال ملائی۔۔
”وہ مان گیا ہے زارا،تم حویلی آ جاؤ“۔۔
دوسری رنگ ٹون پر کال پک کر لی گئ تو سارہ نے کہا۔۔
”ڈیٹس گڈ ماۓ سسٹر“۔۔
زارا نے مسکرا کر کہا۔۔
سارہ نے بنا مزید کچھ کہے کال کاٹ دی۔اس کی آنکھوں سے آبشار بہنے لگی تھی۔بیڈ کی پائینتی پکڑے وہ بیٹھتی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھی۔۔


”زارا ایسا نہیں کر سکتی،وہ تو بہت خوش تھی سارہ کے رشتے کو لے کر“۔۔۔
دانین نے سنا تو یقین نہ کر پائی تھی۔۔
”وہ ایسا کر رہی ہے دانی،وہ اپنے ساتھ ساتھ سارہ کی خوشیاں بھی تباہ کر رہی ہے“۔۔
اساور بےبسی سے بولا۔۔
”میں اس سے بات کروں گی،میں اسے ایسا نہیں کرنے دوں گی اور تم سارہ کو سمجھاؤ اس کی کسی بات میں نہ آۓ“۔۔
دانین نے کہا۔۔
”اب تو فیصلہ ہو چکا دانی!! اذان مان گیا ہے،جس دن سارہ کی ڈولی اٹھنی تھی زارا کی اٹھے گی“۔۔
اساور نے کہا۔۔
”وہ میرا فون نہیں اٹھا رہی مگر میں آ رہی ہوں پاکستان ۔زارا کو میں ایسا ہر گز نہیں کرنے دوں گی“۔۔
دانین نے فیصلہ کیا تھا۔۔اساور کے دل کو ڈھارس ہوئی کہ شاید دانین کی آمد اس کی دونوں بیٹیوں کی زندگی کو توازن میں لے آۓ۔۔


سارہ کے آنسؤوں نے اذان سے فیصلہ کروا دیا تھا اور فیصلہ ہو چکا تھا۔پندرہ دن بعد زارا اور اذان کی شادی تھی۔کوئی بھی خوش نہیں تھا اور کاظمیوں کی خوشیاں چھیننے ہی تو وہ آئی تھی۔سارہ ذیادہ تر شادی کی تیاری میں خود کو مصروف رکھتی تھی۔اذان کی وہی روٹین تھی۔صبح آفس شام کو گھر مگر وہ حد سے ذیادہ سنجیدہ رہنے لگا تھا۔ان دنوں حسام خود سے نظریں چراۓ پھرتا تھا کہ لفظ”ناجائز“ نے اس کی ذات کو کئیں چیتھروں میں تقسیم کر دیا تھا۔۔اساور کو دانین کا انتظار تھا مگر موسلادھار ہونے والی بارشوں اور دھند کی وجہ سے اسے فلائیٹ نہیں مل پا رہی تھی اور زارا نے فون سوئچ آف کر رکھا تھا کہ وہ دانین کے لیکچر سننے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔۔


”کیا میں نے صیح سنا تم پاکستان آ رہی ہو“۔۔
سالار خوشی سے بولا۔۔
”ہاں“۔۔
وہ پھیکا سا مسکرائی۔۔
”کیا ہوا اداس لگ رہی ہو“۔۔
سالار نے لیپ ٹاپ کی سکرین پر ابھرتے اس کے چہرے پر اداسی دیکھی۔۔
”نہیں بس تھوڑی طبیعت ٹھیک نہیں ہے موسمی بخار ہے“۔۔
زینی نے کہا۔۔
”میں تمہارا شدت سے انتظار کر رہا ہوں“۔۔
سالار نے کہا تو وہ بس مسکرا کر رہ گئ۔۔
”ویسے تم نے بتایا نہیں پاکستان کیوں آ رہی ہو؟؟“۔۔
سالار نے پوچھا۔۔
”کچھ فیملی ایشوز ہیں،وہیں آ کر بتاؤں گی ابھی پھپھو بلا رہی ہیں بعد میں بات کرتی ہوں“۔۔
دانین کے پکارنے پر وہ لیپ ٹاپ بند کرتی اٹھی اور کمرے سے نکل گئ۔۔


”واہ مس رباب!!واہ!! آپ تو مجھ سے بھی دو ہاتھ آگے نکلیں“۔۔
وہ شاپنگ مال آئی تھی کہ جب اسے اپنی پشت پر آواز سنائی دی۔اس نے پلٹ کر دیکھا۔یہ وہی لڑکا تھا۔۔
”اکسکیوزمی”۔۔
زارا نے ناگواری سے اسے دیکھا۔۔
”مجھ سے تو لڑ پڑیں تھیں آپ اساور کاظمی کو برباد کرنے کے نام پر اور خود کاظمیوں کو ہی تباہ کرنے چل پڑیں۔ماننا پڑے گا آپ کو“۔۔
اس نے تالی بجائی تھی۔۔
”تم کیوں اساور کاظمی کے پیچھے پڑے ہو؟؟“۔۔
زارا نے پوچھا۔۔
”کچھ پرانے حساب کتاب نکلتے ہیں ان کی طرف میرے بھی“۔۔
لڑکا لہجے میں نفرت لیئے بولا۔۔
”اوہ آئی سی!! تو میں کیا مدد کر سکتی ہوں تمہاری؟؟“۔۔
زارا نے کہا۔۔
”اوہ تو آپ میرا ساتھ دینے کو راضی ہو گئ ہیں“۔۔
لڑکے نے پوچھا۔۔
”نام کیا ہے تمہارا؟؟“۔۔
زارا نے پوچھا۔۔
”میر کہتے ہیں مجھے“۔۔
وہ مسکرایا۔۔
”تو مسٹر میر!!! ایسا ہے کہ میں اپنے حساب کتاب خود برابر کرنا جانتی ہوں اور اس کے علاوہ میرے باپ کو میلی آنکھ سے بھی دیکھا تو آنکھیں نوچ ڈالوں گی میں تمہاری“۔۔
وہ غصے سے پھنکاری۔۔
”واہ!! واہ!! کیا محبت ہے باپ بیٹی کی مجھے تو دیکھ کر رونا ہی آ گیا۔۔خود سب کی زندگی میلی کر رہی ہیں آپ اور آنکھیں اوروں کی نوچیں گی“۔۔
میر نے کہا۔۔
”وہ میرا اور میری فیملی کا پرسنل میٹر ہے۔میں کسی تیسرے کا انٹرفئیر برداشت نہیں کروں گی“۔۔
زارا نے کہا۔۔
”میں تو سوچ رہا تھا آپ کا بھی بھلا کر لوں مگر نہیں آپ تو خود بہت مہان ہیں مگر کوئی بات نہیں میں اپنا بدلہ خود اکیلے لے لوں گا“۔۔
میر کہہ کر واپسی کے لیئے مڑ گیا۔۔
”کیسا بدلہ تمہارا؟؟“۔۔
زارا نے اسے پیچھے سے آواز لگائی مگر وہ ان سنی کرتے ہوۓ وہاں سے نکل گیا۔۔


جاری ہے۔