Aankh Bhar Aansu (Inteqam Lal Ishq Season 2) By Pareeshay Mahnoor Readelle50255 (Aankh Bhar Aansu) Episode 18
Rate this Novel
(Aankh Bhar Aansu) Episode 18
وہ ایک گھنٹے سے مسلسل فٹ پاتھ پر بھاگا چلا جا رہا تھا۔بھاگنے کی وجہ سے اس کی سانس پھول گئ تھی اور چہرے پر پسینے کے قطرات چمک رہے تھے مگر وہ پھر بھی بھاگ رہا تھا۔لگاتار بھاگ رہا تھا جیسے کوئی اس کا پیچھا کر ر رہا ہو۔۔
ایک جگہ وہ تھکن سے بےحال ہو کر رک گیا۔اس کی ٹانگیں کانپنے لگیں تھیں۔۔وہ سر ہاتھوں میں گِرائے فٹ پاتھ پر ہی بیٹھ گیا۔۔اس کا سر درد سے پھٹا جا رہا تھا۔اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کرے۔۔
دل و دماغ کی جنگ جاری تھی۔بیچ میں بےچارہ وجود ہلکان ہو رہا تھا۔۔
”افف اللہ جی میں کیا کروں؟؟“
آسمان کی طرف دیکھتے وہ بسی سے بولا۔۔سڑک کے کنارے بنی دکانوں میں جلتی تیز روشنی سے اس کی آنکھیں چندیا گئ تھیں۔۔
اسے وہ شام کا منظر یاد آیا جب اس نے زارا کے پاس ایکسیڈینٹ کے وقت موجود گاڑی چیک کی تھی۔۔گاڑی بری طرح سے ٹوٹ چکی تھی۔اس کی حالت دیکھ کر انداذہ لگایا جا سکتا تھا کہ گاڑی میں موجود شخص کو کتنی چوٹیں لگی ہوں گی مگر اسے جو بات پتہ چلی تھی اس کے بعد سے اس کا خون کھول رہا تھا۔۔اندر ایک آگ لگی ہوئی تھی۔۔غصے کے الاؤ بھڑک رہے تھے۔۔
گاڑی کے بریکس فیل کیئے گۓ تھے جس کی وجہ سے گاڑی توازن نہ رکھ پائی تھی۔۔زارا غصہ تھی مگر بزدل نہیں تھی جو خودکشی کرتی۔۔اور وہ یہ بھی اچھے سے جانتا تھا کہ اس خادثے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔۔
کچھ دیر یونہی بیٹھنے کے بعد وہ اٹھا اور پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے سر جھکائے فٹ پاتھ پر آگے بڑھنے لگا۔۔
چلتے چلتے وہ سیاہ علاقے میں پہنچ گیا۔ اور پھر نپے تلے قدم برابر اٹھاتا، مختلف گلیوں میں آگے بڑھتا رہا۔ گلیاں تنگ اور تاریک تھیں۔۔ کچھ آگے چل کر بیشتر کیفیز اور ریسٹورینٹس کا آغاز ہوا کرتا تھا۔ لیکن وہاں پر جانے والا ہر انسان یہ جانتا تھا کہ وہ غیرقانونی دھندوں کا علاقہ ہے۔جہاں کھانے سے ذیادہ پینے پر زور دیا جاتا تھا اور ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالنے کا دعویٰ کرنے والے یہاں خود کو ہی سنبھال نہیں پاتے تھے اور جھومتے پھرتے تھے۔۔
وہاں سے گزرتے اس نے مختلف عورتوں کو نیم برہنہ سے ملبوسات میں دیکھا۔ نشے میں دھت مرد ان عورتوں کے ننگے جسم پر گِرتے چلے جا رہے تھے۔۔وہ یہاں پہلے کبھی نہیں آیا تھا مگر وھ جانتا تھا ”نعمان انصاری“ جیسا رنگین مزاج شخص یہیں مل سکتا ہے۔۔
وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ایک کیفے کا دروازہ دھکیلتا اندر چلا آیا۔ پسِ منظر میں بجتے مدھم سے میوزک اور نرم گرم سے ماحول میں بہت سے لوگ بھاپ اڑاتی کافی سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ ان کے باتیں کرنے کی آواز بھنبھناہٹ کی صورت محسوس ہوتی تھی۔ اس نے مدھم زرد روشنیوں سے منور اس کیفے کو پار کیا اور پھر پچھلے حصے میں موجود دروازے کی جانب چلا آیا۔ دروازہ دھکیلتا وہ اندر داخل ہوا تو سامنے ہی اسے اپنا مطلوبہ شخص سیاہ تھری پیس سوٹ میں ایک نیم برہنہ اپنی بانہوں میں لیئے صوفے پر بیٹھا اس کے ہونٹوں پر جھکا ہوا تھا۔۔اسے آگ ہی تو لگ گئ تھی۔یہ شخص اس کی ماں کو بدکردار کہہ کہہ کر پاگل کر چکا تھا اور خود یہاں پارسائی کے جھنڈے گاڑ رہب تھا۔ اس نے آگے بڑھ اسے گریبان سے پکڑ کر اٹھایا تو نیم برہنہ عورت لڑکھڑا کر چکنے فرش پر گِر گئ۔
”کیا بدتمیزی ہے یہ رضا!“۔۔
نعمان چلایا تھا۔۔
”بدتمیزی ابھی تم نے میری دیکھی کہاں ہے مسٹر نعمان!“
اسے گریبان سے پکڑ کر رضا نے دیوار کے ساتھ لگایا۔۔اس کی گرل فرینڈ وہاں سے بھاگ چکی تھی۔۔
”چھوڑو مجھے“۔۔
نعمان نے خود کو چھڑوانے کی کوشش کی۔۔
”حسام کی گاڑی کے بریکس کیوں فیل کیئے تھے؟؟“۔۔
اس کی گردن دبوچے وہ چیخا۔۔
”میں اپنے بزنس میٹرز تم سے کیوں شیئر کروں؟؟“۔۔
اس کے گلے سے پھنسی پھنسی آواز نکلی۔۔
”اگر نہیں بتایا تو قسم ہے مجھے اپنی ماں کی،تمہارا وہ حال کروں گا آج کہ تمہاری لاش کی شناخت بھی نہیں ہو سکے گی“۔۔
وہ سفاکی سے بولا۔۔
”باپ ہوں میں تمہارا۔چھوڑو مجھے“۔۔
نعمان نے کہا۔۔
”باپ مائے فٹ“رضا نے اس کے چہرے پر تھوک دیا تھا”بتاتے ہو یا—–“رضا نے مکا بنا کر اس کے منہ پر مارنے کے لیئے بڑھایا تھا کہ وہ یکدم بولا۔۔
”بتاتا ہوں مجھے چھوڑو تو صیح“۔۔
رضا نے اسے چھوڑ دیا۔۔نعمان نے اپنی اٹکی ہوئی سانس بحال کی۔کچھ دیر وہ کھانستا رہا پھر رضا کی طرف دیکھ کر بولنے لگا۔۔
”میں نے اور میرے دوستوں نے مل کر اپنے آفس میں کام کرنے والی ایک غریب لڑکی کا ریپ کر لیا اور اسے مرا ہوا سمجھ کر پھینک دیا۔مگر وہ زندہ تھی اور کسی نے اسے ہسپتال پہنچا دیا۔۔کچھ دن اس کی حالت بہت خراب رہی اور وہ مر گئ مگر مرنے سے پہلے اس نے ویڈیو پیغام ریکارڈ کروالیا جس میں میرے اور میرے دوستوں کے نام لیئے۔وھ ویڈیو ڈاکٹر حسام باذل کے پاس تھی اور لڑکی کی پوسٹ مارٹم اور ڈی-این-اے ریپورٹ بھی۔۔وہ بکنے کے لیئے تیار نہیں تھا۔اس لیئے اسے مارنے کا پلان بنا لیا“۔۔۔
”تم ایک گھٹیا انسان ہو،انتہائی گھٹیا“۔۔
غصہ امڈ امڈ کر آ رہا تھا۔۔”تمہاری اس گھٹیا پن کی وجہ سے ایک لڑکی کی تو جان چلی گئ مگر میں بتا رہا ہوں اگر رباب کو کچھ ہوا تو تمہیں جینے کے قابل نہیں چھوڑوں گا“۔۔
”رباب کون؟؟اساور کی بیٹی؟؟“۔۔
نعمان نے پوچھا۔
”ہاں!اساور کاظمی کی بیٹی۔خیر مناؤ تم اپنی“۔۔
وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا جس راستے سے آیا تھا وہیں سے واپس ہو گیا۔۔
ڈیڑھ سال بعد۔۔۔۔۔۔۔۔
سارہ نے روم میں داخل ہو کر ایک مسکراتی محبت بھری نظر لیٹی ہوئی زارا پر ڈالی۔ہاتھ میں پکڑا سرخ گلابوں کا بُکے اس کے سرھانے رکھا۔۔
”زارا—!!!کیسی ہو۔سوری میں کل ملنے نہیں آ سکی،طبیعت کچھ خراب تھی۔گائناکالوجسٹ کے پاس گئ تھی میں۔گیس کرو کیا گڈنیوز ہے“۔۔اس کا ہاتھ پکڑے اس کے سامنے ہی کرسی پر بیٹھ گئ۔۔
”ہمم۔۔تم نہیں گیس کر سکی ناں چلو میں ہی بتا دیتی ہوں۔تم خالہ بننے والی ہو“۔۔
”ہاں بابا میں سچ کہہ رہی ہوں“کچھ دیر خاموشی سے اسے تکنے کے بعد وہ پھر سے بولی تھی۔۔”تم جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ،پھر مل کر نیو بےبی کا ویلکم کریں گے“۔۔
”تم کب آئی سارہ“اسٹیتھوسکوپ گلے میں ڈالے حسام روم میں داخل ہوا تو اسے پہلے سے بیٹھے دیکھ پوچھا۔۔
”بس ابھی ابھی آئی ہوں،زارا کو گڈ نیوز دینی تھی ناں“وہ ہلکا سا مسکرائی۔
اسٹیتھوسکوپ کانوں پر لگا کر حسام زارا کو چیک کرنے لگا۔۔
”بھائی!!“سارہ نے اٹھ کر حسام کا بازو پکڑا۔۔”جی بہنا“۔
”زارا کب تک ٹھیک ہو گی“سارہ نے سر خسام کے کندھے سے ٹکا دیا۔۔
”بہت جلد،تمہاری بےبی کی آمد سے پہلے“اس سے ذیادہ حسام نے خود کو تسلی دی تھی۔۔
”اچھا میں جاتی ہوں،آپ زارا کا حیال رکھنا“وہ حسام کو تاکید کرتی واپس مڑ گئ۔۔
حسام نے زارا کے سرھانے پڑا بُکے اٹھایا اور ایک سرخ پھول نکال کر اس کے کان کے پیچھے اڑسا۔باقی کا بُکے اٹھا کر گلادانوں میں سجا دیا۔پچھلے ڈیڑھ سال سے روز کئیں گلابوں سے وہ کمرہ مہکتا تھا مگر وہ جو ایک گلاب بیڈ پر مرجھایا پڑا تھا وہ کھلنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔
جہاں کچھ دیر پہلے سارہ بیٹھی تھی اب وہاں حسام بیٹھ گیا۔زارا کا ہاتھ اپنی نرم گرفت میں لیتا وہ اسے دیکھے گیا۔۔وہ اسے یونہی دیکھ رہا تھا کہ اسے اپنی ہاتھوں کی گرفت میں حرکت محسوس ہوئی۔اس نے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا تو چونک اٹھا۔زارا کے ہاتھ کی چھوٹی انگلی میں حرکت پیدا ہو رہی تھی،اور اس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے اس نے شہادت کی انگلی تک ساری انگلیوں کو حرکت دی۔۔
”زارا!!!زارا!!!تمہیں ہوش آ رہا ہے“خوشی سے اس کی آواز کانپی تھی۔وہ ایکدم اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔اچانک زارا کی سانسیں اکھڑنے لگی۔اس کے سینے کو جھٹکے لگے تھے۔۔حسام کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔اس کی سمجھ بوجھ یہیں آ کر ختم ہو جاتی تھی۔۔
”ڈاکٹر-ہاں میں ڈاکٹر کو بب بلاتا ہوں“وہ بوکھلاہٹ میں بھول گیا کہ وہ خود ڈاکٹر ہے۔وہ ڈاکٹر کو بلانے باہر کی جانب بھاگا۔۔
کچھ دیر میں وہ سیئرز ڈاکٹر کے ساتھ واپس آیا تھا۔۔ڈاکٹرز نے زارا کا چیکب کیا۔۔حسام کے چہرے سے ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں۔
”ڈاکٹر باذل ریلیکس۔کچھ نہیں ہوا انہیں۔شی از فائن“ڈاکٹر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دی۔۔
”ڈاکٹر باذل!!مجھے لگتا ہے کوئی مسئلہ ہے،کوئی درد ہے ان کی باڈی میں۔ہمیں ان کے کچھ ٹیسٹ کرنے ہوں گے،رپورٹس آنے کے بعد ہی کچھ کہہ سکتے ہیں“ڈاکٹر نے کہا اور دروازے کی جانب بڑھتے ہوئے رکا”اس اسٹیج کے پیشنٹس کو صرف ایک چیز بچا سکتی ہے اور وہ ان کی اپنی جینے کی خواہش ہے،اور مجھے نہیں لگتا مِس کاظمی کے اندر اب جینے کی خواہش بچی ہے“ڈاکٹر کہہ کر چلا گیا۔۔حسام قدم قدم چلتا اس کے پاس آیا۔اس کا وجود پھر سے پرسکون ہو چکا تھا۔
”کتنا رلاؤ گی اور؟؟كک کتنا ستاؤ گی اور ہمیں؟؟بس کر دو۔اب بس کر دو زارا،لوٹ آؤ زندگی کی طرف“اس کے سر سے اپنا سر ٹکائے وہ جیسے رو ہی پڑا تھا۔ایک آنسو آنکھ سے نکل کر زارا کی پلکوں پر جا گِرا تھا۔۔
”تم اب صرف تم تھوڑی ہو۔تم سے ہم سب ہیں۔تم سے حسام باذل ہے۔تم سے سب ہے زارا!!سب ہے“۔۔وہ اسی پوزیشن میں زارا سے مخاطب تھا۔۔
”ڈاکٹر باذل!!داکٹر رؤف نے کہا ہے مِس کاظمی کے کچھ ٹیسٹ کرنے ہےں“نرس دروازہ کھول کر اندر آئی تو اس نے سیدھا ہو کر اپنی آنکھیں صاف کرتے اثبات میں سر ہلایا۔۔
”کیسی ہو!“سالار کے بہت اصرار کرنے پر وہ اس سے ملنے ریسٹورنٹ آئی تھی۔۔
”ٹھیک ہو“وہی سپاٹ لہجہ جو پچھلے ڈیڑھ سال سے تھا۔سالار نے پہلو بدلا کہ اب کو وہ ڈیڑھ سال پہلے کھو چکا تھا۔۔
”تم پہلے سی کیوں نہیں ہو؟؟“وہ سراپاِ سوال تھا۔۔
”اب کچھ بھی تو پہلے سا نہیں ہے“سالار نے دیکھا کہ سامنے بیٹھی لڑکی کی آنکھوں سے ہر شریر جذبہ اڑ چکا تھا۔۔
”تم مجھے معاف نہیں کر سکتی؟؟“وہ معافی کشکول لئیے پھر سے روبرو آیا۔۔
”کر سکتی ہوں۔اگر تم مجھے بتا دو کہ تم نے کون سی دشمنی نکالی ہے۔مجھ سے یا میری بہن سے؟؟“اب کہ اس کے سوالات خاضر تھے۔۔۔۔۔
”میں کیوں دشمنی کرنے لگا“وہ بوکھلایا مگر پھر جلدی سے نارمل بھی ہو گیا۔۔
”میں دو ہفتے پہلے تم سے تمہارے فلیٹ پر ملنے آئی تھی۔تم نہیں تھے مگر کچھ تصاویر تھیں۔کراس کے نشان کے ساتھ“وہی سپاٹ لہجہ۔نہ نفرت تھی نہ محبت۔۔
”کک کیسی تصویریں؟؟ ایس ایسا تو کک کچھ نہیں ہے“اس کی بوکھلاہٹ سب بتا رہی تھی۔زینی نے جھک کر اپنا بیگ اٹھایا اور جانے کے لیئے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
”وہ تم ہی تھے جس نے بھری محفل میں ساری دنیا کے سامنے میری بہن اور میری پھپھو کے کردار کے چیتھڑے اڑائے تھے۔میں نہیں جانتی تم نے یہ سب کیوں کیا؟؟ بس میں اتنا جانتی ہوں کہ اپنی ہی بہن کو موت کے منہ تک پہنچانے کی تمہاری سازش میں،میں نے تمہارا پورا پورا ساتھ دیا۔۔بظاہر میری مدد کرنے کی آڑ میں تم نے جانے کون سی دشمنی نبھائی ہے؟؟ تم نے میرا استعمال کیا ہے۔تم نے میرے دل میں موجود محبت کو آلہ بنایا ہے۔میں اس کے لیئے تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔اور اپنی بہن کی خالت کے لیئے میں پھر کبھی تمہاری شکل نہیں دیکھنا چاہتی“۔۔۔
اپنی بات مکمل کرتے وہ واپسی کے لیئے پلٹی۔۔۔۔۔
”اور وہ جو ایک محبت ہے ہم دونوں کے بیچ اس کا کیا؟؟؟سالار کے ٹوٹے لہجے پر اس کے قدم رکے تھے۔وہ پلٹ کر اس تک آئی اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی۔۔
”ہاں وہ جو ایک محبت ”تھی“ ہم دونوں کے بیچ وہ وہ اب نہیں رہی۔۔تمہاری محبت وہ آسمان تھی جسے میں آنکھ بھر کے دیکھتی تھی مگر افسوس وہ آسمان ٹوٹ چکا ہے اور وہ جو محبت تھی وہ مر چکی ہے،اور مر جانے والے ہر ے شے صرف روزِ قیامت ہی زندہ ہوتی ہے“۔۔
”تو پھر میں انتظار کروں روزِ حشر کا؟؟“عجیب ٹوٹا لہجا تھا اس کا۔سمجھ نہیں آتی تھی کہ وہ دشمن ہے یا دوست۔۔
”میں دعا کروں گی۔وہ جب ہر شے زندہ کی جائے گی۔اس اس وقت بھی اس مر چکی محبت کا نام نہ لیا جائے۔اسے آگ میں جھونک دیا جائے“۔۔
وہ تیز تیز چلتی وہاں سے چلی گئ۔۔سالار کے اندر بہت کچھ ٹوٹ چکا تھا جس کی تکلیف کے آثار اس کی آنکھوں میں واضح تھے۔اس کے وجود پر زمانوں کی تھکن غالب آ رہی تھی۔آنکھیں میچتے اس نے آنکھوں میں بکھڑی پڑی کرچیوں کو اندر دھکیلا۔۔
”یہ تم نے مجھے کہاں سے کہاں پہنچا دیا نعمان انصاری!!“۔۔
وہ بڑابڑایا تھا۔۔اس کے فون کی بیل بجی تو نہ چاہتے ہوئے بھی اسے فون ریسیو کرنا پڑا۔۔دوسرے طرف سے ملی خبر کو سن کر اس کے پاؤں تلے زمین نہیں رہی تھی۔۔کافی کی پےمنٹ کرتا وہ باہر بھاگا تھا۔۔
دانین کچن میں کھڑی اپنے لیئے چائے بنا رہی تھی کہ دروازے پر بیل ہوئی۔سعدی اور سومو گھر پر نہیں تھے اور زینی ذیادہ تر ”کاظمی حویلی“ یا ”ہسپتال“ میں پائی جاتی تھی۔۔
”کون آ گیا؟؟“برنر بند کر کے دانین دروازے کی طرف بڑھی۔دروازہ کھولا تو سامنے اساور کھڑا تھا۔سیاہ شلوار قمیض میں سیاہ واسکوٹ پہنے ہوئے تھا۔کنپٹیوں کے سفید بال اب سر کو بھی سفید کر چکے تھے۔اس کی وجاہت پر صدیوں کی تھکن غالب تھی۔چہرے پر زمانوں کا درد رقم تھا۔۔
”اسلام علیکم!!“۔۔
دانین کو دیکھتے اس کی آنکھوں میں ایک رنگ آ کر ٹھہر چکا تھا۔
”وعلیکم اسلام“۔۔
بِنا کسی تاثر کے جواب دیا گیا۔۔
”اندر آ سکتا ہوں؟؟“۔۔
اسے ہنوز دروازے پر کھڑا دیکھ کر بولا۔۔
”ہمم آ جائیں“۔۔
وہ سائیڈ پر کھسک گئ۔زارا کے ہاسپٹلائز ہونے کے بعد وہ واپس ترکی جانا چاہتی تھی نہ ”کاظمی حویلی“ میں رکنا چاہتی تھی۔اس لیئے بیس سال بعد وہ دوبارہ سعدی اور سومو کے ساتھ اس گھر لوٹ آئی تھی جہاں کی وہ پیداوار تھی۔جہاں اس نے خواب بنے تھے۔جہاں اس کے باپ کی مخنت اور ماں کی محبت لگی تھی۔۔
”سعدی گھر پر نہیں ہے؟؟“۔۔
وہ لاؤنج میں پڑے صوفے پر براجمان ہو گیا۔۔
”نہیں!“
مختصر سا جواب دیتی وہ دوبارہ کچن میں چلی گئ۔کچھ دیر بعد وہ لوٹی تو ہاتھ میں چائے کے دو کپ تھے۔ایک کپ اساور کو پکڑا کر،دوسرا خود لیئے وہ اس کے سامنے صوفے پر بیٹھ گئ۔۔
”تم کیسی ہو؟؟“۔
حال احوال تھا یا تمہید۔سمجھ سے بالاتر تھا۔۔
”زندہ ہوں“۔۔
لہجا سپاٹ تھا مگر اساور کو کڑوا لگا۔۔
”کچھ دنوں کے لیئے حویلی آ جاؤ“۔۔
زبان لڑکھڑائی تھی مگر دل کی بات زبان تک آ گئ تھی۔۔
”کیسے آنا ہوا“۔۔
سخت لہجے میں اس کی درخواست کو نظر انداذ کیا گیا تھا۔۔
”سارہ ماں بننے والی ہے“۔۔
خوشی کو الفاظ ملے تھے مگر دل پر لگا زخم بہت گہرا تھا۔۔
”ہاں!مجھے بتایا آج سارہ نے۔کہہ رہی تھی آئے گی آج مجھ سے ملنے“۔۔
لہجہ کھنکھا تھا۔وہ کھنک جو کبھی اس کی ذات کا حاصہ ہوا کرتی تھی۔اور وہ کھنک جو اب مقفود تھی۔۔
”تم آ جاؤ اس سے ملنے“۔۔
پھر سے التجا کی گئ تھی۔۔
”میں زارا سے ملنے جا رہی تھی“۔۔
کمال بےنیازی تھی کہ اب اس شخص کی کوئی اہمیت نہیں تھی تو التجاؤں کی کیا ہوتی۔۔
”میں بھی چلوں گا“۔۔
اسے بھی فوراً یاد آیا کہ وہ اسے ہسپتال کے لیئے ہی تو لینے آیا تھا۔۔دانین نے اثبات میں سر ہلایا اور چائے کے گھونٹ بھرنے لگی۔۔
”سنو!“۔۔
وہ لہجہ محبت تھا،وہ لہجہ التجا تھا،وہ لہجا جتن کرتا ہوا تھا۔۔دانین نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔
”زارا جب ٹھیک ہو جائے گی تو ہم سب ایک ساتھ رہیں گے“۔۔
پھر وہی التجا کرتا ہوا لہجہ۔۔افف زندگی بیس سال پیچھے لے جاتی تو وہ مر مٹتی اس لہجے پر مگر وہ بیس سال گزار کر ہر جذبہ اپنے اندر سے ختم کر چکی تھی۔۔
”زارا ٹھیک ہو جائے گی تو میں اسے لے کر ترکی واپس چلی جاؤں گی“۔۔
یہ غلط ہے کہ چھری کی ضرب تڑپا دیتی ہے،یہ صیح ہے کہ زبان کی نوک اندر آگ لگاتی ہے اور جلا کر بھسم کر دیتی ہے۔۔
”ہم ساتھ بھی تو رہ سکتے ہیں“۔۔
وہی بیس سالوں میں کوئی بیس کڑوڑ دفعہ دہرائی گئ بات۔۔
”ہم ساتھ ہی تو نہیں رہ سکتے“۔۔
اس کا بھی وہی پرانا جواب تھا مگر لہجہ ہر بار نیا ہوتا تھا۔پہلے سے ذیادہ تیز،ذیادہ سخت ذیادہ کاٹ دار۔۔
”بوڑھا ہو گیا ہوں۔زندگی نہ جانے کب دغا دے جائے۔کب یہ روح اس وجود کو چھوڑ دے۔کچھ پتہ نہیں۔بس ہر پل کو آخری سمجھ کر اپنا بڑھاپا تمہارے ہاتھوں کا لمس محسوس کرتے اور اپنے بچوں کی خوشیاں دیکھتے گزارنا چاہتا ہوں“۔۔
وہ بَلا کا عاجز ہو گیا تھا۔دانین کے اندر صرف ایک پل کو ہی سہی مگر کچھ تڑپا تھا۔کچھ ٹوٹا تھا۔کچھ بکھڑا تھا پتہ نہیں۔مگر اسے گوشت پوست کے اس لوتھڑے میں درد محسوس ہوا تھا جسے دنیا درد کہتی ہے۔۔
”ہمیں چلنا چاہیئے“۔۔
جانے کیوں وہ نظریں چراتی اٹھ کھڑی ہوئی تھے۔۔اساور بھی کپ میز پر رکھ کر کھڑا ہو گیا۔ہر بار کی طرح اس بار بھی اساور کو ناکامی ہی ھوئی تھی۔۔
چائے کے کپ کچن میں رکھ کر وہ اس کے ساتھ ہسپتال کے لیئے نکل گئ۔۔
وجود کے ایک لوتھڑے میں بہت درد تھا،بہت نہ جانے کیوں؟؟
”میں نے کہا تھا میں تمہیں ہسپتال سے پِک کروں گا،تم خود کیوں آ گئ“۔۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی وہ جلدی جلدی بولا۔کاؤچ پر ٹانگیں پھیلا کر سر پیچھے کو ٹکائے وہ آنکھیں موندے بیٹھی۔اس کی آواز پر ذرا کی ذرا نظر اٹھا کر اسے دیکھا اور پھر سے آنکھیں بند کر لیں۔۔
”تم سے کہہ رہا ہوں“۔۔
اسے خاموش دیکھ کر وہ اس کے پاس چلا آیا۔۔
”آج ڈیڑھ سال ہو گیا اور زارا ویسی ہی بےسدھ پڑی ہے“۔۔
بند آنکھوں میں درد پھوٹا تھا۔لہجہ بھرایا ہوا تھا۔۔
”انشاءاللہ وہ ٹھیک ہو جائے گی“۔۔
اسے بھی گِلٹ کھا رہا تھا کہ زارا کی خالت کا ذمہ دار وہ ہے۔۔
”ہم دونوں نے ایک ساتھ اس دنیا میں تشریف لائی مگر ہم ایک سی نفسیات،ایک سی عادات نہیں لے پائیں۔مجھے آج بھی یاد ہے سائرہ پھپھو کہیں جا رہی تھیں۔راستے میں مجھے بیٹھے دیکھ کر ان کی آنکھوں کا رنگ بدلا تھا اور انہوں نے پاؤں کی ایک زوردار ٹھوکر مجھے ماری اور بڑابڑاتی ہوئی چلی گئیں۔ان کی وہ بڑبڑاہٹ میں نے ہمیشہ یاد رکھی مگر اس ٹھوکر کو ماں سے چھپا لیا۔شعور کی منزل پر پہلا قدم رکھتے میں نے اس بڑبڑاہٹ کے مطلب کو ڈھونڈا اور مطلب جان کر میں کتنی ہی گھنٹے روتی رہی تھی۔۔انہوں نے مجھے ”ناجائز“ کہا تھا۔مگر میں زارا جیسی حساس کبھی رہی ہی نہیں کہ ہر بات محسوس کر کے دل سے لگا لیتی۔میں بس بھول جاتی تھی اور سائرہ پھپھو نے کہا معاف کر دو تو کر دیا معاف“اذان کا ہاتف پکڑ کر اپنا سر اس سے ٹکا دیا۔اذان آہستہ آہستہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا۔۔
”زارا نے معاف نہیں کیا۔وہ خفا ہے ہم سب سے اور خفا شخص کب جینا چاہتا ہے اور جو جینا نہیں چاہتا اسے ہم کتنی دیر تک زندہ رکھ سکتے ہیں“۔۔
”امید اور یقین رکھو۔سب ٹھیک ہو جائے گا“۔۔
تسلی بخش لہجہ تھا کہ فکر ناٹ ابھے سوئی ہے سونے دو صبح جاگ جائے گی۔۔
جاری ہے۔۔۔
