54.6K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Aankh Bhar Aansu) Episode 1

ویرانیِ دل میں اک مقبرہ تیار ہے تم جانتے ہو اُس مقبرے میں خوابوں کے مُردہ لاشے دفن ہیں اور خواہشوں کے پَر راکھ کی صورت کتبے پر مَل دی گئی ہے..


(”میں نے اس کے لیئے خود کو بدل ڈالا اور وہ مجھے چھوڑ کر جا رہا ہے ماں“۔اس کے لہجے میں شکوہ تھا تلخی تھی،کچھ کھو دینے کا دکھ تھا۔۔
”تو جانے دو اسے،جانے والوں کو آواز دینا یا روکنا بدشگونی ہوتی ہے۔۔جانے کا فیصلہ جاتے وقت نہیں جانے سے پہلے کر لیا جاتا ہے۔۔وہ کہتے ہیں ناں کہ کوئی ہاتھ چھڑا کر جاۓ تو اسے مت روکو کیونکہ وہ ہاتھ چھڑانے سے پہلے ہی جا چکا ہوتا ہے“۔۔
بیٹی کا مرجھایا چہرہ دیکھ کر ان کی آنکھوں میں نمی چمکی تھی۔۔
”اور وہ جو میری محبت تھی ماں“۔۔
ماں کی بات پر وہ بےدم سی ہو کر بیڈ پر ڈے سی گئ“۔۔
”وہ محبت نہیں تھیں وہ اک نگاہ کی غلطی کا ریشمی بن تھا جس نے تمہاری آنکھ کو دیمک لگا دیا“۔۔
ماں اس کا چہرہ ہاتھوں کے………)
”زارا۔۔!! سنو باہر بارش ہو رہی ہے ماما نے پکوڑے بناۓ ہیں چلو گی۔۔”
اٹھارہ سالہ زینی کی آواز پر اس کے لیپ ٹاپ پر ٹائپنگ کرتے ہاتھ رکے تھے۔۔ایک گہری سانس لیتے اس نے دروازے پر کھڑی زینی کو دیکھا۔۔
”سوری“۔۔زارا کی کوفت زدہ شکل دیکھ کر وہ معصومیت سے بولی تو زارا نہ چاہتے ہوۓ بھی مسکرا دی۔۔
”چلو ناں“۔۔اس کو مسکراتا دیکھ کر زینی اس کے پاس چلی آئی۔۔
”تم جاؤ میں آتی ہوں“۔۔زینی کی نظریں لیب ٹاپ کی اسکرین پر ٹکے دیکھ کر زارا نے فوراً سے لیپ ٹاپ بند کرتے ہوۓ کہا تھا۔۔
”زارا سین بہت اچھا لکھا ہے چھپانے کا کوئی فائدہ نہیں میں نے پڑھ لیا ہے“۔زینی بےپرواہی سے کہتی دروازے کی طرف بڑھی۔۔
”افف“۔۔زارا نے جھرجھری سی لی کہ زینی کی نظریں سیکنڈوں میں ہر شے جانچ لیتی تھیں۔۔
”اس سٹوری کا نام ”میری آہٹوں کا یقیں نہ کر“ رکھو تو ٹاپ پر جاۓ گا۔۔
ہمیشہ کی طرح زینی اپنے مشورے سے نوازتی ہوئی چلی گئ۔۔
زارا نے لیپ ٹاپ کھول کر کچھ دیر سوچا اور پھر ٹائیٹل پر ”میری آہٹوں کا یقیں نہ کر“۔اجلے خروف میں لکھا اور لیپ ٹاپ آف کر کے باہر چلی گئ۔۔


گڈمارننگ بابا۔۔!!
سارہ سیڑھیاں پھلانگتی تیزی سے نیچی اتری اور اساور کے برابر والی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئ۔۔
”اسلام علیکم بچے!!“۔۔
چاۓ کا سپ لیتے اساور نے مسکراتے ہوۓ کہا تو سارہ نے سر کجھاتے ہوۓ شرمندگی کا اظہار کیا کہ اساور اسے سلام کرنے کی تلقین کتنی بار کر چکا تھا۔۔
”وعلیکم اسلام اینڈ سوری بابا“۔۔
ایسے حرکت کرتی ہی کیوں ہو کہ پھر سوری کہنا پڑے آپ اسے ڈانٹیں تو یہ پھر بھول کر بھی سلام نہیں بھولے گی۔۔
بریڈ پر مکھن لگاتے ہوۓ اذان نے لقمہ دینا اپنا فرض سمجھا تھا جس کے جواب میں سارہ نے اسے آنکھیں دکھا کر ڈرانے کی کوشش کی تھی۔۔
”آہستہ آہستہ سمجھ جاۓ گی ابھی تو بچی ہے“۔۔
اساور نے سارہ کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا تو سارہ نے اذان کو دیکھتے ایک نخریلی ادا سے آنکھیں گھمائیں تو وہ مسکرا کر رہ گیا۔۔
”دو ماہ بعد چوبیس کی ہو جاۓ گی یہ،آپ کو ابھی تک بچی لگتی ہے یہ۔استغفراللہ“۔۔
اذان نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوۓ سارہ کو چھیڑا تھا۔۔
”بابا آپ دیکھ رہے ہیں اسے،مجھے بڈھی کہہ رہا ہے میرا مذاق اڑا رہا ہے“۔۔سارہ نے اساور کا بازو تھامتے رونی شکل بنا کر کہا تھا۔۔
”وہ مذاق کر رہا ہے بچے اور میں نے سمجھایا تھا ناں کہ کھانا خاموشی سے کھاتے ہیں اور آپ اذان بڑے ہیں اس کے ساتھ بچے بن جاتے ہیں“۔۔
اب کہ اساور ذرا سختی سے بولا تو دونوں نگاہیں جھکا کر ناشتے کی پلیٹ میں جھک گۓ۔۔
کچھ دیر ڈائینگ ٹیبل پر یونہی خاموشی چھائی رہی۔۔بیچ بیچ میں چمچ کی پلیٹ سے ٹکرانے کی آواز گونج رہی تھی۔۔اس سکوت کو اساور کی آواز نے توڑا۔۔
”اذان ناشتہ کر لیا ہے تو چلیں،میٹنگ ہے آپ کی اور پھر آپ کو شاید جانا بھی پڑے“۔۔
نیپکن سے منہ صاف کرتا اساور اٹھ کھڑا ہوا تو اثبات میں سر ہلاتے اذان نے جوس کا آخری سپ لیا اور ان کے پیچھے ہی چل پڑا۔۔
”تمہیں میں چھوڑوں گی نہیں اذان کاظمی“۔۔
اساور کے باہر نکلتے ہی سارہ نے اذان کو پیچھے سے آواز لگائی۔۔
”کچھ تو شرم کر لو چھ سال بڑا ہوں تم سے،شرم نہیں ہے تو عزت ہی کر لو“۔۔
اذان نے اسے شرمندہ کرنا چاہا تھا مگر سامنے بھی سارہ تھی۔زبان باہر نکال کر اسے چڑاتے وہ سیب کھانے لگی تو مسکرا کر سر جھٹکتا اذان باہر نکل گیا۔۔


رات کی تاریکی آہستہ آہستہ سمٹنے لگی تھی۔اس کی بیڈ سائید پڑا الارم بجا تو وہ آنکھیں ملتی اٹھ بیٹھی۔۔الارم بند کر کے وہ کھڑکی کے پاس آئی۔پردے ہٹا کر لان میں جھانکا۔اندھیرے کا ایک آخری حصہ صبح کے ماحول میں ابھی تک موجود تھا۔پردے گراتی وہ واش روم میں گھس گئ۔تھوڑی دیر بعد وہ واش روم سے نکلی۔الماری میں سے شال نکال کر اچھے سے اپنے گرد لپیٹی اور جاۓنماز ڈال کر نماز کی نیت باندھی۔۔
باہر سیڑھیاں پھلانگنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔جس سے لگتا تھا کہ زینی جھاگ گئ ہے اور سیڑھیاں پھلانگ کر اپنا وزن کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔وہ اچھی خاصی دبلی پتلی تھی مگر نہ جانے کیوں پھر بھی خود کو تھکاتی رہتی تھی۔۔
زارا نے نماز ختم کر کے دعا کے لیئے ہاتھ اٹھاۓ۔۔
”میں اس شخص سے نفرت نہیں کرنا چاہتی اللہ جی۔شاید اس شخص سے نفرت کرنا میرے لیئے گناہ کے زمرے میں آتا ہو مگر سچ یہ ہے کہ میں اس کی شکل کبھی نہیں دیکھنا چاہتی تو پھر کیوں ماں مجھے مجبور کرتی ہے کہ میں اس سے ملوں۔میرے خق میں جو بہتر ہے وہ کر دے یارب“۔۔
دعا مانگ کر اس نے جاۓنماز تہہ کر کے دراز میں رکھی۔۔بالوں میں کنکھی کر کے شال کو اتارا کر دوپٹہ مفلر کے سٹائل میں گلے میں ڈالا اور جوتے پہن کر باہر نکل آئی۔۔
اندھیرا اب پوری طرح سے چھٹ چکا تھا۔روشنی نے اپنے پر کائنات پر پچھا دیئے تھے۔۔وہ سیڑھیاں اتر کر نیچے آئی تو زینی سامنے صوفے پر بیٹھی جوس کے سپ لیتی اسی کے انتظار میں بیٹھی تھی۔۔زارا کے اشارے پر جوس ٹیبل پر رکھ کر دروازے کی طرف چپ چاپ بڑھ گئ۔۔
زارا نے دانین کے کمرے کی طرف دیکھا جو ذرا سا کھلا ہوا تھا۔ایک گہری سانس بھرتے وہ زینی کے پیچھے نکل آئی تھی۔۔
وہ دونوں گھر کا گیٹ عبور کر کے چلتے ہوۓ بہت دور تک نکل آئی تھیں۔اور حیرت کی بات یہ تھی کہ آج زینی چپ تھی۔زارا بھی شکر ادا کرتے آہستہ آہستہ چلتی جا رہی تھی۔باسفورس میں داخل ہوتے ہی دونوں بائیں طرف مڑ گئیں اب ان کا رخ بحیرہ اسود (Black Sea) کی طرف تھا۔ رات ہونے والی بارش سے استنبول نکھر سا گیا تھا باسفورس کا نیلگوں پانی اور دونوں کناروں پر موجود جدید اور قدیم عمارات دلکش نظارہ پیش کر رہیں تھیں اس نظارے نے تو جیسے سب پر سحر سا طاری کر دیا تھا۔ گو کہ یہ نظارہ زارا کئیں بار پہلے بھی دیکھ چکی تھی مگر ہر بار یہ منظر اسے پہلے سے ذیادہ دلکش لگتا تھا۔
”کیوں چپ ہو تم اتنی،خیریت“۔۔زارا ایک جانب بنے بینچ پر بیٹھ گئ۔۔مسلسل دو گھنٹہ زینی چپ رہے تو اس کا مطلب ہوتا تھا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔۔
”آپ مجھے اتنے دنوں کے لیئے چھوڑ کر جائیں گی“۔۔زینی اداس چہرے کے ساتھ مظصومیت سے بولی۔۔
”کہاں چلی جاؤں گی میں“۔۔
زارا نے ناسمجھی سے اس کی طرف دیکھا۔۔
”سارہ کا فون آیا تھا وہ نادرن ایریاز گھومنے جا رہے ہیں آپ کو بھی اس نے پاکستان بلایا ہے“۔۔
زینی نے بتایا تو زارا کی بھنویں تن گئ۔ہتھیلیوں میں ایک دم نمی محسوس ھونے لگی۔۔
”نہیں میں نہیں جا رہی منہ مت لٹکاؤ“۔۔زارا نے دو انگلیوں سے کنپٹی سہلاتے اسے کہا تو زینی کے اترے چہرے پر بہار اتر آئی تھی۔۔
”ضرور یہ ماما کا پلان ہو گا وہ کیوں نہیں سمجھتیں آخر کہ نہیں جانا مجھے پاکستان۔اسپیشلی اساور کاظمی کی فیملی سے ملنے کے لیئے تو بلکل بھی نہیں“۔۔
خود کو ریلیکس کرتے ہوۓ زارا نے خودکلامی کی اور اٹھ کر زینی کے پیچھے بڑھ گئ۔۔


ایک انیس بیس سال کا لڑکا نے فلیٹ میں داخل ہو کر دروازہ بند کیا۔پورا فلیٹ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔اس نے لائٹس آن کر کے روشنی کی اور ہاتھ میں پکڑے شاپرز لے کر کچن کاؤنٹر کی طرف بڑھا۔۔
یہ ایک دو کمروں کا چھوٹا سا فلیٹ تھا جس کے آگے چھوٹا سا لاؤنج اور بائیں جانب چھوٹا سا کچن تھا۔۔
لڑکے نے شاپرز میں سے کھانا نکال کر پلیٹ میں رکھا۔گلاس میں پانی ڈالا اور سب کچھ ایک ٹرے میؤ رکھ کر ایک بند دروازے کے پاس جا کر رکا۔۔
دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا تو کمرے میں نیم اندھیرا تھا۔۔لائٹس آن کر اس نے پاس پڑی ایک چھوٹی ٹیبل کو بائیں ہاتھ سے اٹھایا اور بیڈ کے ساتھ رکھ کر اس پر کھانے کی ٹرے رکھی۔۔
”ماما۔۔
وہ دھیما سا بولا تو بستر پر پڑے وجود میں جنبش ہوئی تھی۔۔وہ ایک بوڑھی عورت تھی جس کا چہرہ جل چکا تھا۔اور دماغی توازن بھی کچھ خاص اچھا نہ تھا۔۔
ماما۔۔!! میں ہوں آپ کا بیٹا آپ کا رضا۔۔
وہ آس سے بولا کہ شاید وہ لاچار پڑا وجود اسے پہچان لے مگر ان آنکھوں میں اجنبیت ہنوز قائم تھی جو رضا کو ہر بار پہلے سے ذیادہ دکھ دیتی تھی۔۔
اچھا چلیں کوئی بات نہیں کبھی نہ کبھی تو پہچانیں گی آپ مجھے۔۔
پھیکا سا مسکرا کر وہ اس لاغر وجود کو سہارا دے کر بٹھانے لگا۔۔اسے بٹھا کر رضا نے وائبز سے اس کا چہرہ صاف کیا اور پھر چھوٹے چھوٹے نوالے توڑ کر ان کے منہ میں ڈالنے لگا۔۔
”آپ کو پتہ ہے کل میری برتھ ڈے ہے،میں بیس سال کا ہو جاؤں گا اور میں چاہتا ہوں کہ اپنا بیسواں جنم دن آپ کے ساتھ مناؤں مگر آپ مجھے پہچانتی ہی نہیں ہیں“۔۔
انہیں کھانا کھلاتے ہوۓ رضا بولا۔۔
”میرا دوست بھی صرف ایک ہی ہے سالار اور وہ بھی چھٹیاں منانے گیا ہوا ہے تو آپ منائیں گی ناں میرے ساتھ میرد جنم دن“۔۔
رضا نے نظروں میں آس اور امید لے کر ان کی طرف دیکھا مگر سامنے بیٹھے وجود کی نظروں میں صرف حالی پن تھا۔۔
”آپ کو سٹابری کیک پسند ھے ناں مجھے یاد ہے بابا آپ کے لیئے بنایا کرتے تھے اور ہم تینوں ساتھ بیٹھ کر کھاتے تھے۔۔کیا آپ کو یاد ھے۔۔؟؟
رضا اسے پرانی باتیں یاد کروانا چاہتا تھا وہ چاہتا تھا اس کی ماں ٹھیک ھو جاۓ مگر شاید وہ خود ٹھیک ہونا ہی نہیں چاہتی تھی۔۔۔
”آپ سوچ رہی ھوں گی میں اتنی باتیں کیوں کرتا ہوں ہے ناں۔۔؟؟ سب کہتے تھے میں آپ پر گیا ہوں آپ بھی بہت باتیں کرتی تھیں۔۔
وہ اداسی سے بولا۔۔
”چلیں آپ لیٹیں میں آپ کے لیئے اپنے ہاتھوں سے کافی بنا کر لاتا ہوں۔کافی آپ کو بہت پسند ہے ناں“۔۔
کھانے کی ٹرے اٹھا کر وہ دروازے کے پاس جا کر رک گیا۔۔مڑ کر دیکھا کہ شاید وہ کچھ رسپانس کریں مگر وہ ناامید ہو کر پلٹ گیا۔۔


”اس بیماری کی ابتدا اچانک پہنچنے والے صدمے اور اس کے نتیجے میں شدید ذہنی دباؤ کی وجہ سے ہوئ ہے اسے amnezia کہتے ہیں،اس میں مریض کی یاداشت آتی جاتی رہتی ہے پھر آہستہ آہستہ بھوک ختم ہونے کی صورت میں مریض پر کمزوری غلبہ پا جاتی ہے اگر خدانخواستہ جلد ہی دوبارہ کوئ صدمہ پہنچے تو برین اسٹروک ہونے کی صورت میں فوری موت ہو جاتی ہے…“۔۔
زینی بیڈ پر ترچھی ہو کر لیٹی سامنے لیپ ٹاپ کھولے بیٹھی بہت انہماک سے زارا کا ادھورا ناول پڑھنے میں مصروف تھی۔۔
”اس کی ایک قسم یہ ہے کہ اس مرض میں مریض کی یاداشت سے کوئی ایک بندہ ہمیشہ کے لیئے مٹ جاتا ہے“۔۔
الفت کی آنکھ سے ڈھیروں پانی نکلا تھا مگر افف وہ پانی نہیں تھا وہ دکھ تھا،تکلیف تھی کہ کوئی ایک بندہ الفت نہ ٹھہرے۔۔وہاں کھڑے سب ہی نفوس نے دکھ سے الفت کے تاریک ہوتے چہرے کو دیکھا۔۔کوئی بھی نہیں جانتا تھا مریض کی آنکھیں کھلتے ہی کون سا چہرہ اس کے لیئے اجنبی ہو گا مگر الفت جانتی تھی وہ چہرہ صرف اس کا ہو گا جسے وہ پہچاننے کے انکار کر دے گا“۔/
”زینی۔!! زینی۔۔!!
زارا اسے پکارتے ہوۓ اس کے کمرے میں داخل ہوئی۔۔
”کیا ہے۔۔“. زینی نے اکتاۓ ہوۓ لہجے میں آنکھیں گھما کر اس کی طرف دیکھا اور پھر سے لیپ ٹاپ کی اسکرین پر نظریں گاڑ کر بیٹھ گئ۔۔
”ادھر دو اور خبردار آئیندہ اسے ہاتھ لگایا تو منہ توڑ دوں گی تمہارا“۔۔
زارا نے غصے سے اس کے آگے سے لیپ ٹاپ اٹھا کر بند کیا اور کھٹاک سے دروازہ بند کرتی باہر چلی گئ۔۔
”اللہ اتنی سنجیدہ بہن بھی کسی کو نہ دے،استغفار“۔۔
کانوں کو ہاتھ لگاتی وہ بیڈ سے چھلانگ لگا کر اٹھی اور اپنے چارج پر لگے موبائل کو لے کر پھر سے بیڈ پر لیٹ گئ۔۔
”ایسی کون سی مصیبت آ گئ تھی جو ایسا ری ایکٹ کر کے گئ ہے،بندہ ایک دوسرے کی شے استعمال کر ہی لیتا ہے مگر اس نک چڑھی رائٹر کو کچھ نہیں پتہ“۔۔
وہ مسلسل بڑابڑاۓ جا رہی تھی کہ دروازہ ایک بار پھر زوردار آواز کے ساتھ کھلا۔زینی نے گال کے نیچے ہاتھ رکھ کر اس کی طرف دیکھا۔آنے والی زارا تھی۔۔غصے سے اس کی ناک سرخ ھو رہی تھی۔۔
”موبائل میں چارج نہیں تھا اس لیئے ٹائم پاس کرنے کو لے لیا تمہارا لیپ ٹاپ کون سی آفت آ گئ“۔۔
اس کے دوبارہ آنے پر زینی گھبرا گئ تھی کہ کہیں پٹائی نہ کر کے چلی جاۓ۔۔زارا نے سنجیدگی سے اس کی طرف دیکھتے بیڈ کے پائینتی کے پاس پڑے چارجر کو اٹھایا اور جیسے آئی تھی ویسے ہی طوفانی سپیڈ سے واپس چلی گئ۔۔
”اوہ شکر ہے بچ گئ،ورنہ پٹائی کرتی تو اخترام میں کچھ بول بھی نہیں سکتی تھی۔آخر کو بڑی بہن ہے“۔۔
ایک جھرجھری سی لیتی وہ اٹھی اور دروازے کو لاک کیا۔۔موبائل کی ٹیون بجی تو وہ پھر سے موبائل لیئے بیٹھ گئ۔۔موبائل پر نظریں گاڑے وہ بہت انہماک سے کچھ دیکھنے میں مصروف تھی۔۔
”سالار جہاں“۔۔فرینڈ ریکیوسٹ میں اس نام کو پڑھتے وہ رکی اور پھر کسی خیال کے تخت اس نے اس کی فرینڈ ریکیوسٹ کو ایکسیپٹ کر لیا۔۔
زینی زینی۔۔!!
باہر سے آتی دانین کی آواز پر اس نے فوراً سے موبائل تکیے کے نیچے رکھا اور جلدی جلدی سلیپرز پہنتی باہر چلی گئ۔۔۔