54.6K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Aankh Bhar Aansu) Episode 24

”کیوں بلایا تم نے مجھے یہاں“۔۔
گلابی کڑھائی والی شال کندھوں پر ڈالے ، چہرے پر اساور کے لیئے ہمیشہ کی سی بےزاریت سجائے وہ کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔۔
”بیوی ہو تم میری ، مِل سکتا ہوں تم سے“۔۔
ٹین ایجرز کی طرح مسکراہتے لہجے پر دانین نے بمشکل ضبط کیا تھا۔۔
”کیوں بلایا ہے؟“۔۔
دبے دبے غصے سے کہا گیا۔۔
”زارا کے متعلق بات کرنی ہے“۔۔
وہ سیدھا ہو کر بیٹھا۔۔ چہرے پر سنجیدگی چھا گئی تھی۔۔
”اور میں پہلے ہی کہہ چکی ہوں ، زارا کی زندگی کا ہر فیصلہ کرنے کا خق میں رکھتی ہوں تم نہیں ، بھلے وہ تمہاری بھی بیٹی ہے“۔۔
دانین تیز لہجے میں بولی۔۔
”ٹھیک تم ہی کرنا ہر فیصلہ ، بس پہلے یہ دیکھ لو“۔۔
اساور نے زارا کی میڈیکل فائل دانین کے آگے رکھی۔۔ جسے دانین نے ناسمجھی سے کھولا , مگر جیسے جیسے وہ رپورٹس دیکھ رہی تھی ، اس کے چہرے پر ایک رنگ آ رہا تھا اور ایک جا رہا تھا۔۔
”اس اس اس اسا اساو اساور یہ کک کب؟“۔۔
لہجہ ٹوٹ گیا تھا ، نہیں وہ خود بھی ٹوٹ گئی تھی اور اگر وقت یہ دن نہ دکھاتا تو اساور دانین کے منہ سے پرانے لہجے میں اپنا نام سن کر خود کو معتبر جانتا ، مگر وقت کچھ ایسا تھا کہ دونوں اجنبی تھے اور ان میں شناسائی کا صرف ایک نام تھا ”زارا“۔۔
”وہ تمہارے پاس تھی دانین ، اور تمہیں کبھی پتہ ہی نہیں چلا کہ تمہاری بیٹی اتنے بڑے درد سے گزر رہی ہے“۔۔
اساور نے دکھ سے اسے دیکھا جو ابھی تک شاک میں تھی۔۔
”اسے کبھی بھی ایسی کوئی تکلیف نہیں ہوئی ، اس نے کبھی ذکر نہیں کیا“۔۔
آنسو گالوں کو تر کرنے لگے تھے۔۔ وہ اپنی بےپرواہی پر حیران تھی۔۔
”اسے پچھلے پانچ سال سے دل کا عارضہ لاحق ہے دانین“۔۔
وہ بھی رو دینے کو تھا۔۔
”مجھے کیسے نہیں پتہ چل سکا ، میں ماں تھی اس کی ، اس کے بِن کہے مجھے جان لینا چاہیئے تھا کہ وہ کس تکلیف سے گزر رہی ہے“۔۔
بازو ٹیبل پر رکھ کر اس نے اپنے سر کو ان پر گرا لیا تھا۔۔ فرنچ پونی سے نکلی ایک دو لٹیں آنسؤوں سے بھیگ کر گالوں سے چپک گئی تھیں۔۔ ”ساری غلطی میری ہے ، مجھ سے سب غلط ہو گیا“۔۔
”میں کتنا بدنصیب اور کھٹور انسان ہوں اور ایک نہایت برا باپ۔۔ تمہیں اتنے درد دیئے کہ ان دردوں میں تم ہمیشہ کے لیئے الجھ گئی اور ایسی الجھی کہ ان تکالیف کو کبھی بھلا ہی نہیں پائی اور کیسے بھلاتی ، میری دی گئی کوئی بھی تکلیف معمولی تھوڑی تھی۔۔ تمہیں میٹنلی ٹارچر کیا میں ، پھر تم اس ٹارچر سے سنبھلتی یا زارا کو سنبھالتی ، اس سارے قصے میں غلط فیصلے میرے تھے اور اس کے خسارے ہم سب کو بھگتنے پڑے“۔۔
وہ بھی رو دیا تھا۔۔
”کک کوئی حل نہیں ہے اس بیماری کا کیا؟؟“۔۔
کچھ امید سی چمکی تھی اس کی آنکھوں میں۔۔
”ہے ناں ہارٹ ٹرانسپلانٹ “
اساور نے کہا۔۔
”تم ہم کروا دیتے ہیں ناں ، کیوں نہیں کروا رہے تم اس کا ہارٹ ٹرانسپلانٹ ، مہنگا ہے بہت ، اپنی بیٹی کے لیئے پیسے نہیں خرچ کر سکتے تم ، مم میں اپنا گھر بیچ دوں گی“۔۔
دانین نے کہا۔۔
”نہیں دانین میرا سب کچھ میرے بچوں پر قربان ، ہارٹ ٹرانسپلانٹ کے لیئے ہارٹ کا ہونا بھی ضروری ہے ، ڈاکٹرز کر لیں گے ہارٹ ارینج۔۔ زارا ٹھیک ہو جائے گی ، میرا وعدہ ہے ہماری بیٹی کو کچھ نہیں ہونے دوں گا“۔۔
وہ اپنی کرسی کھینچ کر اس کے پاس بیٹھ گیا۔۔۔
”وعدہ رہا ناں اساور زارا کو کچھ نہیں ہونے دو گے؟“۔۔
لہجے میں امید تھی۔۔
”وعدہ رہا“۔۔
اساور نے اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر تسلی بھرے انداذ سے دبایا۔۔
”دیکھ لو ، تم وعدوں کو جلدی بھلا دیتے ہو“۔۔
پرانا شکوہ ہونٹوں پر آیا تھا۔۔
”اب کے کوئی وعدہ نہیں توڑوں گا وعدہ رہا“۔۔
وہ مسکرایا تو وہ بھی پھیکا سا مسکرا دی تھی۔۔
”دانین !! زارا حسام سے محبت کرتی ہے ، ہارٹ ٹرانسپلانٹ سے پہلے ان دونوں کی شادی کر دیتے ہیں ، زارا کا حق ہیں خوشیاں ۔ اسے جی لینے دو۔۔ سمجھ رہی ہو ناں تم میری بات کو۔۔
”ہاں !!“۔۔
دانین نے اثبات میں سر ہِلایا اور پھر ہر فیصلہ منٹوں میں ہو گیا۔۔


”حسام میں ماما کو فورس نہیں کر سکتی , وہ اگر چاہتی ہیں میں حویلی نہ جاؤں تو میں کبھی نہیں جاؤں گی اور تم سے میری شادی وہ نہیں کروانا چاہتیں تو مطلب ہماری شادی نہیں ہو گی“۔۔
فون کان سے لگائے وہ کارپٹ پر صوفے سے ٹیک لگا کر بیٹھی ہوئی تھی۔۔ دانین نے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے اس کے تمام الفاظ سنے اور اپنی آنکھیں صاف کرتے اندر داخل ہوئی۔۔ دانین کو دیکھ کر زارا نے جلدی سے فون کاٹا اور صوفے پر رکھ دیا۔۔دانین اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔۔
”حسام کا فون تھا؟؟“۔۔
دوستانہ لہجے میں دانین نے بات شروع کی۔۔
”جی ماما “۔۔
دو الفاظ پر مشتمل مختصر سا جواب۔۔
”محبت کرتی ہو تم اس سے“۔۔
دانین نے کہا تو زارا نے حیرانی سے اسے دیکھا اور پھر سر اس کی گود میں رکھ کر کارپٹ پر ہی لیٹ گئی۔۔
”آپ نے انکار کر دیا سائرہ آنٹی کو ناں ، تو یقین مانیں میں اب محبت نہیں کرتی اس سے“۔۔
تابعداری سے کہا گیا تھا۔۔
”ماں کے کہنے پر محبت سے منکر کون ہوتا ہے“۔۔
اس کی تابعداری پر دانین کو پیار آیا تھا۔۔
”زارا ماں کے لیئے محبت سے منکر ہو سکتی ہے“۔۔
زارا نے کہا۔۔
”ایسا نہیں ہوتا زارا کہ کسی کو دل دے دو اور ماں کے انکار پر دل واپس مانگ لو“۔۔۔
دانین نے کہا۔۔
”واپس نہیں مانگا ماں بس دل واپس کر دیا ہے“۔۔
زارا نے کہا۔۔
”تو محبت میں دیا جانے والا دل واپس ہو جاتا ہے“۔۔
وہ جیسے اس سے پوچھ رہی تھی یا بتا رہی تھی۔۔
”آپ مجھ سے یہ سب باتیں کیوں کر رہی ہیں؟“۔۔
اس کی کسی بھی بات کا سِرا وہ پکڑ نہیں پا رہی تھی۔۔
”اس لیئے کہ تمہارے بابا کو کہہ دیا ہے میں نے کہ حسام سے کہو بارات لائے اور جس کو دل دیا ہے اسے لے جائے“۔۔
دانین نے مسکرا کر کہا تھا۔۔
”سچ ماما !!“۔۔
وہ ایک دم اٹھ بیٹھی تھی۔۔اس کے چہرے پر پھیلی خوشی دیکھ کر دانین کو سکون ملا تھا۔۔بازو پھیلا کر اس نے مسکراتی ہوئی زارا کو اپنے سینے سے لگا لیا تھا جیسی وہ اسے ہر درد سے بچا لینا چاہتی ہو ، ہر تکلیف اس سے دور کر دینا چاہتی ہو۔۔


”تم ایک بار اور سوچ لو حسام“۔۔
ان دونوں کی شادی کی ڈیٹ فکس ہو گئی تھی۔۔شادی کی ساری رسومات حویلی میں ہونی طے پائی تھیں۔۔ اسی لیئے دانین ، سومو ، زینی ، سعدی ، زارا سب حویلی آ گئے تھے۔۔ اس وقت حسام لاؤنج میں بیٹھا مہمانوں کی لسٹ بنا رہا تھا کہ زارا وھاں آ گئی۔۔
”کیا سوچ لوں؟“۔۔
کاغذ پر قلم چلاتا وہ مصروف سے انداذ میں بولا۔۔
”مجھ سے شادی مت کرو“۔۔
زارا نے کہا۔۔
”کیوں تم چڑیل ہو ، میرا خون پی جاؤ گی“۔۔
حسام نے بات مذاق میں اڑانی چاہی۔۔
”جو ہمیں ملتا نہیں ہے اس کو کھو دینے کا دکھ بہت کم ہوتا ہے اور جسے ہم پا کر کھو دیتے ہیں اس کا حسارہ جسم کو ایسا چمٹتا ہے کہ قبر میں بھی ساتھ جاتا ہے“۔۔
”تم اتنی ناامیدی کی باتیں کیوں کرتی ہو؟“۔۔
حسام اس کی ہر وقت کی ایک ہی بات سے اکتا گیا تھا۔۔
”کیونکہ میں ناامید ہوں حسام“۔۔
زارا نے کہا۔۔
”مگر میں ناامید نہیں ہوں اور تمہیں کچھ نہیں ہو گا پلیز ہر وقت جو نہیں ہوا اس کے بارے میں سوچ کر خود کو اور مجھے تکلیف مت دو“۔۔
حسام نے کہا۔۔
”تو کیا کروں ، مجھے ہر وقت یہی لگتا ہے کہ اب بند ہوا کہ تب بند ہوا میرا دل“۔۔
زارا نے کہا۔۔
”تھوڑی سی لِسٹ رہ گئی ہے ، ریڈی ہو جاؤ بارات کا لہنگا لینے چلتے ہیں اور ان دو باندریوں کو خبر مت ہونے دینا ورنہ ساتھ چل پڑیں گی“۔۔
حسام نے اسے ایزی کرنے کو ہلکا پھلکا لہجہ اپنایا تھا۔۔وہ جان گئی کہ وہ اس کی باتوں کے ہرٹ ہو رہا ہے اسی لیئے اثبات میں سر ہلاتی اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔


آج مہندی کا فنکشن تھا۔۔ بہت ذیادہ لوگوں کو مدعو نہیں کیا گیا تھا بلکہ کچھ قریبی لوگوں کو ہی بلایا گیا تھا۔۔ بیوٹیشن زارا کو تیار کرنے گھر پر آئی ہوئی تھی۔۔
حویلی کے بڑے سے لان کو مہندی کے فنکشن کے لیئے خوبصورت پیلے پھولوں سے سجایا گیا تھا۔۔ پوری حویلی لائیٹنگ کی گئی تھی۔۔
دانین نے آج کے فنکشن کی مناسبت سے سبز رنگ کے ہلکے پھلکے کام والے ٹراؤزر کے ساتھ سادہ ہلکے پیلے رنگ کی قمیض پہنی ہوئی تھی۔۔ پیلے رنگ کی ہی ایک خوبصورت شال کندھوں پر ڈال رکھی تھی۔۔ بالوں کے فرنچ چوٹی کی جگہ آج بالوں کی مانگ نکال کر سٹائل بنائے دو چار لٹوں کو گالوں پر چھوڑا ہوا تھا۔۔ کھلے بال کمر پر بکھرے ہوئے تھے۔۔
تھوڑے سے میکپ سے وہ آج ہمیشہ سے ذیادہ خوبصورت لگ رہی تھی۔۔
اپنے کمرے سے تیار ہو کر نکلتے اساور کی نظریں ٹھہریں تو پھر ٹھہریں ہی رہ گئیں مگر جلد ہی اس نے اپنی حالت پر قابو پایا۔۔
”بہت خوبصورت لگ رہی ہو“۔۔
وہ اس کے پاس آیا تھا۔۔ اسی لہجے میں ، اسی شخص کے الفاظ پر وہ کبھی دل سے مسکرا اٹھتی تھی مگر اب کے جیسے مسکراہٹ کا کسی نے گلا گھونٹ دیا ہو۔۔
”شکریہ“۔۔
بغیر مسکرائے وہ بولی۔۔
”پتہ ہے تم آج بھی میرے دل کی خوشی ہو لیکن اب میں تمہیں نہیں کہوں گا کہ میرے پاس لوٹ آؤ کیونکہ اب میں اور میرا دل اپنے لیئے نہیں صرف اپنے بچوں کی خوشیوں کے لیئے جینا چاہتے ہیں مگر میں جب تک زندہ رہوں گا تم سے بہت محبت کروں گا“۔۔
اساور نے کہا۔۔
”میں لوٹ آؤں گی اساور“اس کے الفاظ پر اساور کو اپنی سماعتوں پر شک گزرا تھا ، حیرانی اس کے چہرے سے عیاں تھی”ہاں میں لوٹ آؤں۔۔ تم نے اپنی زندگی کے سات سال نفرت اور بدلے کی نذر کیئے اور بدلے میں بیس سال کا حسارہ پایا۔۔ سات سال کے بدلے بیس سال کی سزا کافی ہے تمہارے لیئے مگر مجھے وہ سات سال چمٹ کر رہ گئے ہیں ، میں چاہ کر بھی وہ سب نہیں بھلا سکتی اور تمہارے لیئے دل میں کوئی گنجائش نظر ہی نہیں آتی مگر میرا وعدہ ہے جس دن ، جس لمحے مجھے لگا کہ میرے دل میں تمہارے لیئے موجود تمام گرد صاف ہو چکی ہے تو میں بِنا ایک پل کی بھی دیری کیئے تمہارے پاس آ جاؤں گی مگر فی الحال دل ایسی کوئی گنجائش نہیں نکالتا“۔۔
وہ کہہ کر پلٹ گئی۔۔
”میں دعا کروں گا ، خدا وہ لمحات میری زندگی میں ہی لے آئے“۔۔
اساور کی بات پر اس کے آگے بڑھتے قدم رکے تھے اور پھر کچھ پل بعد وہ بِنا پیچھے مڑے آگے بڑھتی چلی گئی۔۔


”دانی میں سوچ رہی ہوں کیوں ناں اب میں بھی اس مصیبت سے چھٹکارا پالوں“۔۔
سومو نے زینی کو دیکھ کر چھیڑا تھا۔۔
”میری بیٹی کو کیوں مصیبت کہہ رہی ہو“۔۔
دانین نے زینی کو اپنے ساتھ لگاتے ڈپٹا تھا۔۔
”دانین آنٹی وہ مہمان کب تک آنا شروع ہوں گے“۔۔
میر بھی کچن میں چلا آیا تھا جہاں سومو ، دانین اور زارا مہندی اور پھول پلیٹوں میں رکھ رہی تھیں۔۔ وہ ہونہی دانین سے چھوٹی چھوٹی ، بےمعنی باتیں کر لیا کرتا تھا کہ ان دونوں کے درمیان ایک کھنچاؤ سا تھا۔۔
”سات بجے سے آنا شروع ہو جائیں گے“۔۔
دانین نے کہا تو میر سر ہلاتا واپس مڑا۔۔
”پھپھو میں آپ کی بیٹی ہوں ناں“۔۔
زینی نے لاڈ سے اس کے گرد بازو حمائل کیئے۔۔
”ہاں تم میری بیٹی ہو“۔۔
دانین مسکرا کر بولی۔۔میر نے دروازے کے پاس رک کر یہ منظر دیکھا تھا۔۔ اس کا بھی دل کرتا تھا زارا اور سارہ کی طرح دانین کو ماں کہہ کر بلائے مگر ایک کھنچاؤ سا درمیان میں آ جاتا۔۔
”کوئی اچھا سا لڑکا پسند کر لو تم بھی تاکہ میں اور تمہارے بابا بھی سکون کا سانس لیں“۔۔
سومو نے کہا۔۔
”خبردار یہ میری بیٹی ہے ، اس کے لیئے میں خود لڑکا تلاش کروں گی“۔۔
دانین نے کہا۔۔ میر نے زینی کی طرف دیکھا جو اس سے لاتعلق سی کھڑی تھے جیسے اسے جانتی ہی نہ ہو۔۔
”سن لیا میں دانین کی بیٹی ہو اور دانین کی یہ بیٹی تو لومیرج بلکل نہیں کرے گی ، پھپھو آپ خود کوئی تلاش کر لیں“۔۔
زینی نے کہا تو دانین کی نظر دروازے میں کھڑے میر پر پڑی جس کی نگاہیں زینی کے چہرے پر ٹکی ہوئی تھیں۔۔ دانین میر کی آنکھوں سے جھانکتے مفہوم اور زینی کی آنکھوں میں موجود لاتعلقی دونوں کو محسوس کر سکتی تھی۔۔
”کیا ہوا میر“۔۔
دانین نے اسے پکارا تھا۔۔ اسے یقین نہیں آیا۔۔ دانین سے ملنے کے بعد یہ پہلی بار تھی کہ دانین نے اسے پکارا تھا وہ بھی اس کے نام سے۔۔۔
”کچھ نہیں ما آنٹی“۔۔
وہ ماں کہتے کہتے رکا تھا۔۔زینی اس کے پاس سے گزر کر چلی گئی۔۔دانین نے اس کی آنکھوں میں موجود محرومیوں کو بہت غور سے دیکھا تھا۔۔ اس کی ماں غلط تھی اور ماں باپ کی کرنی بچے بھگتیں یہ ضروری تھا کیا۔۔
”تم مجھے ماں کہہ سکتے ہو“۔۔
دانین نے اس کے اور اپنے درمیان کے تناؤ کو کاٹ پھینکا تھا اور ان چند الفاظ کی خوشی سامنے والے کے چہرے پر عیاں تھی۔۔


جاری ہے۔۔۔