Aankh Bhar Aansu (Inteqam Lal Ishq Season 2) By Pareeshay Mahnoor Readelle50255 (Aankh Bhar Aansu) Episode 15
Rate this Novel
(Aankh Bhar Aansu) Episode 15
ان دونوں کو پارلر آۓ ابھی آدھا گھنٹہ ہی ہوا تھا۔اگلی باری زارا کی تھی۔بیوٹیشن نے جب زارا کو بلایا تو زینی جپکے سے اٹھ کر باہر نکل آئی۔اس کے ہاتھ میں موبائل تھا۔دروازے کی اوٹ میں کھڑے ہو کر اس نے سالار کا نمبر ملا کر سیل فون کان سے لگایا۔۔
”آ جاؤ میں پہنچ چکا ہوں“۔۔
پہلی ہی بیل پر کال پِک کر لی گئ تھی۔۔
”اچھا پہنچتی ہوں میں“۔۔
اختیاط سے کال منقطع کرتی وہ دوبارہ اندر واپس آئی۔۔
”کتنا وقت لگے گا“۔۔
لہجے کو سرسری بناتے ہوۓ اس نے بیوٹیشن سے پوچھا۔۔
”دو گھنٹے“۔۔
بیوٹیشن پروفیشنل مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔۔
”میں تو آدھے گھنٹے میں تیار ہو جاؤں گی،زارا تم کچھ کھاؤ گی،میں باہر جا رہی ہوں ذرا“۔۔
وہی عام سا لہجہ جس سے کوئی آنے والے وقت کا انداذہ نہیں کر سکتا تھا۔۔
”ہاں برگر لے آنا میرے لیئے اور جلدی آنا“۔۔
زارا بند آنکھوں کے ساتھ بولی۔اس کے چہرے پر کوئی لیپ لگایا ہوا تھا۔۔
زارا کو بتا کر وہ پارلر سے باہر نکلی۔وہ دونوں ڈرائیور کے ساتھ آئیں تھیں اور ڈرائیور کو واپس بھیج دیا تھا واپسی پر انہیں حسام لینے آنے والا تھا۔۔ایک ٹیکسی روک کر زینی بیٹھی اور نزدیکی ریستوران میں چلی آئی۔۔تھوڑی دور ہی اسے سالار بیٹھا نظر آ گیا۔زینی کی طرف اس کی پشت تھی۔۔اس نے الٹی پی کیپ پہن رکھی تھی۔بلیو رنگ کی شرٹ اس نے پہنی ہوئی تھی جس کے بیک پر ”ریوینج از ایووری تھنک“ لکھا تھا۔۔
زینی تھوڑا جھجھکی کہ وہ فون پر تو اس سے بات کر لیتی مگر فیس ٹو فیس پہلی ملاقات تھی۔۔اپنے دھڑکن کو نارمل کرتی وہ اس کی طرف بڑھی۔۔
”ہاۓ آئ ایم زینب رانا۔Hi i am Zainab Rana“۔۔
وہ ہلکا سا مسکرائی۔
”میں نے پہچان لیا“۔۔
وہ مسکراتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔شہد رنگ آنکھوں اور سفید رنگت والا وہ ایک ہینڈم انسان تھا۔۔اس کی شہد رنگ آنکھیں زینی پر ٹھہر کر رہ گئیں تھیں۔اس کی آنکھوں کے رنگ دیکھ کر زینی کی نظریں خود بخود جھک گئیں۔سالار نے بےساختہ اس کے گالوں پر جھولتی ایک لٹ کو چھو کر کان کے پیچھے اڑسنا چاہا تو بدک کر پیچھے ہوۓ۔سالار کو یکدم شرمندگی نے آن گھیرا تھا کہ زینب کو برا لگا۔۔
”آئی ایم سوری…وہ—“۔۔
وہ ابھی مزید کچھ کہتا مگر زینی کی نظروں کو کہیں اور پا کر وہ پلٹا۔۔سامنے سے حسام آ رہا تھا اور زینی اس کو دیکھ کر ہی بدک گئ تھی۔سالار کو یکلخت بہار نے آن گھیرا تھا۔۔
”حسام بھائی!! یہ ھے میرا دوست سالار“۔۔
حسام پاس پہنچا تو اس نے جلدی سے سالار کا تعارف کروایا۔۔
”شاید میں آپ سے پہلے مل چکا ہوں“۔۔
سالار کی آنکھوں میں ہلکے ہلکے پہچان کے رنگ ابھرے تھے۔۔
”نہیں میں پہلے آپ سے کبھی نہیں ملا“۔۔
سالار نے کہا۔۔
”ہو سکتا ہے“۔۔
حسام کندھے جھٹکتا کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔۔ٹیبل پر لیپ ٹاپ اور دو موبائل پڑے تھے جنہیں لیپ ٹاپ سے کنیکنٹ کیا گیا تھا۔۔سالار اور زینی بھی کرسی کھینچ کر بیٹھ گۓ۔۔
”حسام بھائی زارا میرا انتظار کر رہی ہو گی،مجھے جانا ہو گا،آپ کو پلان یاد ہے ناں“۔۔
زینی نے کہا۔۔
”ایک بار پھر سوچ لو زینب!! تم ٹھیک کر رہی ہو“۔۔
حسام نے کہا۔۔
”جی میں ٹھیک کر رہی ہوں،میں نے سوچ لیا ہے“۔۔
زینی نے کہا تو حسام نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
”میں چلتی ہوں پھر“۔۔
زینی اٹھ کر ریستوران سے نکل آئی اور ٹیکسی میں پیٹھ کر دوبارہ پارلر پہنچ گئ۔ایک گھنٹہ گزر چکا تھا مزید ایک گھنٹہ تھا زارا کو تیار کرنے میں۔۔اپنا ڈریس نکالتی وہ بھی تیار ہونے چلی گئ۔۔
”یہ ابھی تک زارا کیوں نہیں آئی“۔۔
سارہ پریشانی سے پورے گھر کے چکر کاٹ رہی تھی۔تین گھنٹے ہو گۓ تھے اور زارا اور زینب نہیں آئی تھیں۔۔
”حسام انہیں لینے گیا ہے،آتیں ہی ہو گیں“۔۔
سائرہ نے کہا۔۔
”نکاخ خواں بھی آ پہنچا مگر زارا کا کوئی پتہ نہیں،وہ ایسی بےپرواہی کیسے کر سکتی ہے“۔۔
عینا نے کہا۔۔
”سارہ بی-بی بی آپ کا فون بج رہا تھا“۔۔
ملازمہ نے فون لا کر سارہ کو پکڑایا۔۔زارا کالنگ دیکھ کر سارہ نے فوراً سے کال ریسیو کی اور موبائل کان سے لگایا۔۔
”کہاں ہو زارا،آئی کیوں نہیں،نکاخ خواں ڈرائینگ روم میں آیا بیٹھا ہے“۔۔
کیا کہہ رہی ہو زارا تم یہ“۔۔
سب نے کن اکھیوں سے سارہ کی طرف دیکھا۔اذان پہلو بدل کر رہ گیا تھا۔۔
نکاح کی سادہ سی تقریب کا اہتمام ہال کمرے میں کیا گیا تھا۔سفید شلوار قمیض میں اذان سر جھکاۓ بیٹھا تھا۔باقی سب بھی ہلکی پھلکی تیاری کے ساتھ وہاں موجود تھے۔۔
”کیا کہہ رہی ہے زارا،فون سپیکر پر ڈالو“۔۔
سائرہ نے زارا سے کہا تو زارا نے فوراً سے اس کی بات پر عمل درآمد کیا۔۔
”آئی ایم رئیلی سوری سارہ(i am really sorry sara)۔اذان ٹھیک کہہ رہا تھا کب تک اپنی قسمیں دے کر مجھے اس سے باندھے رکھو گی۔محبت تو وہ صرف تم سے ہی کرتا ہے ناں۔میں ہی جانے کیوں تم دونوں کے بیچ زبردستی آنا چاہتی تھی یہ جانتے ہوۓ بھی کہ یہاں تو محبتوں میں برسوں ایک دوسرے کی شکل نہیں دیکھی جاتی نفرتوں میں پھر کتنا دم ہو گا“سارہ کو شک گزرا کہ وہ زارا نہیں ہے۔باقی سب دم سادھے زارا کو سنے جا رہے تھے۔”تم صیح کہتی ہو ماں کی آنکھوں کے کرب میں جب زندگی کی خقیقت محسوس کی تو میں نے خود کو اس نفرت کے خول کے نیچے چھپا لیا مگر تم میری جڑواں ہو تم سے کیسے اتنی نفرت کر لوں کہ تم سے تمہاری محبت تمہاری خوشی ہی چھین لوں۔بہت سوچا اور کر گزرنا چاہا مگر میں ایسا نہیں کر سکتی“۔۔
”زارا میری جان کیا کہہ رہی ہو،میری کوئی بات بری لگی ہے تو آئی ایم سوری“۔۔
سارہ پریشان ہوئی تھی۔۔
”نہیں سارہ تم تو بہت اچھی ہو بس میں ہی برائی کے زیرِ اثر آ گئ تھی مگر اب ضمیر جاگا ہے تو جانا میں کتنی غلط تھی۔تم اذان سے نکاح کر لو،وہ صرف تمہارا ہے اور تم صرف اس کی“۔۔
سارہ نے بےیقینی کے فون کی طرف دیکھا۔اذان کے ساکت وجود میں جنبش ہوئی تھی۔۔
”انکار مت کرنا،بہت دل دکھایا ہے میں نے تمہارا۔اب میں تمہیں خوش دیکھنا چاہتی ہوں پلیز سارہ“۔۔
”مگر تم—-“۔۔
سارہ نے کچھ کہنا چاہا تھا مگر اس کی بات کاٹتے وہ فوراً بولی۔۔
”نہیں جاؤں گی اب کے چھوڑ کے وعدہ رہا،نہ نفرت کروں گی کسی سے،نکاح حواں کو بلاؤ اور نکاح شروع کرو،میں تمہارے منہ سے تمہیں تمہاری خوشیاں قبولتے ہوۓ سننا چاہتی ہوں۔تمہیں میری قسم ہے،تمہیں زارا کی قسم ہے،اس کے بعد میں آ جاؤں گی واپس۔اس سے پہلے آ کر تم سے نظریں نہیں ملا سکوں گی۔۔
”تم کیا کرو گی پھر زارا“۔۔
اسے ابھی بھی زارا کی فکر تھی۔۔
”چلوں گی تو کٹ ہی جاۓ گا زندگی کا یہ سفر آہستہ آہستہ،بابا کو بولو نکاح خواں کو بلائیں“۔۔
سارہ نے اثبات میں سر ہلا کر اساور کی طرف دیکھا تو فوراً سے اٹھ کر باہر نکلے۔۔تھوڑی دیر بعد اساور لوٹا تو نکاح خواں ساتھ میں تھا۔۔نکاح حواں نے نکاخ شروع کیا۔زارا کی کال ابھی تک لگی ہوئی تھی۔۔
”بسم اللہِ الرحمٰنِ الرحیم“۔۔
نکاح حواں نے نکاخ شروع کیا۔۔اعجاب و قبول کے بعد مبارکباد کی صدائیں بلند ہوئیں تو سالار نے مسکراتی نظروں سے اس سنجیدہ جوان کو دیکھا۔۔
”ہو گیا ان دونوں کا نکاح“۔۔
کال ذسکنیکٹ کرتے اس نے فون لیپ ٹاپ کے پاس رکھا۔۔اور پاس پڑا صفحہ اٹھا کر تہہ کیا اور اپنی پاکٹ میں رکھ لیا۔اس صفحے پر زینب نے اسے تمام کو باتیں لکھ دیں تھیں جو اس نے سارہ سے کرنی تھیں۔اور ٹیکنالوجی کے کمال سے اس نے زارا کا موبائل ہیک کیا اور پھر اسی کے نمبر سے سارہ کو کال لگائی اور سافٹ وئیر کے ذریعے اپنی آواز کو زارا کی آواز میں بدل کر سارہ تک پہنچا دیا۔کچھ پلوں کا کھیل تھا مگر زارا نے جیتی ہوئی بازی ہار دی تھی۔۔
”پتہ نہیں زارا اب کیا طوفان کھڑا کرے گی“۔۔
حسام نے جھرجھری سی لی۔۔
”کوئی بھی طوفان آ جاۓ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔اذان کاظمی سارہ کو کسی قیمت پر نہیں چھوڑے کا اور سارہ کے نام کے آگے لگے اذان کاظمی کے نام کو رباب بڑا سے بڑا طوفان لا کر بھی اپنے نام کے آگے نہیں لگا سکتی آفٹرآل سگی بہن ہے وہ سارہ کی۔اور بخثیتِ مسلمان وہ ایسا نہیں کر سکتیں“۔۔
سالار کی بات پر اسے خوصلہ ہوا تھا۔۔
”تمہارا شکریہ۔۔میں چلتا ہوں“۔۔
حسام اٹھ کر اپنی گاڑی کے پاس پہنچا۔ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتا وہ گاڑی بھگاتا ہوا پارلر کی طرف بڑھ گیا۔۔
”بابا کو چاہئیے تھا ڈرائیور کو بھیج دیتے،اس نکمے ڈاکٹر نے پتہ نہیں کون سے ملک کا دورہ کر کے واپس لینے آنا ہے“۔۔
زارا سحت جھنجھلائی ہوئی تھی۔۔
،”آ جائیں گے زارا“۔۔
زینی مطمئن سی بولی۔۔
”آ ہی نہ جاۓ،اور پتہ نہیں یہ میرا فون کام کیوں نہیں کر رہا“اس نے ایک نظر ہینگ فون پر ڈالی” تم اپنا فون دو“۔۔
”میرے فون تو گھر پر رہ گیا“۔۔
زینی نے فوراً جھوٹ گھڑا۔۔
”میم آپ کو لینے آۓ ہیں“۔۔
ایک لڑکی نے آ کر بتایا تو زارا نے سکون کا سانس لیا جبکہ زینی کی دھڑکنوں نے اودھم مچا دیا تھا۔۔وہ اس ہنگامے کو ابھی سے دیکھ سکتی تھی جو دیر بعد کاظمی حویلی میں ہونے والا تھا۔۔وہ اپنی ہی سوچوں میں غلطاں تھی کہ زارا کا موبائل چنگھاڑا۔۔زینی بےچین سی ہو کر باہر نکل آئی تو زارا نے کال اٹینڈ کر کے کان سے موبائل لگایا۔۔
”چچچ بہت برا ہوا آپ کے ساتھ“۔۔
اس افسوس کرتے ہوۓ لہجے کو وہ پہچان چکی تھی۔۔
”کیا بکواس ہے ۔کیوں فون کیا؟اور نمبر کدھر سے ملا میرا تمہیں؟“۔۔
وہ دبے دبے غصے سے چلائی۔۔
”یہ سب چھوڑیں اور جا کر حویلی میں دیکھیں،کاظمیوں نے کمال کا تحفہ رکھا ہے آپ کے لیئے“۔۔
اس کے لہجے میں جانے کیا تھا کہ زارا کا ماتھا ٹھنکا۔۔
،”میر دماغ مت گھماؤ اور سیدھی بات کرو“۔۔
”اپنا بدلہ خود لیں گی اور کوئی کاظمیوں کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھے گا تو آنکھیں نوچ ڈالیں گی۔یہی کہا تھا ناں آپ نے۔آپ کے الفاظ آپ کا ہی منہ چڑا رہے ہیں۔آپ بھی اموشنل فول نکلیں ناں“۔۔
اس کے تمسخر پر زارا چلا اٹھی۔۔
”شٹ اپ“۔۔
”غصہ بچائیں اور جا کر ”کاظمی حویلی میں جا کر گنگنائیں”اچھا صلہ دیا تو نے میرے یقین کا،بہن نے ہی لوٹ لیا گھر بہن کا“۔۔
میر نے کال منقطع کر دی تو وہ ہیلو ہیلو کرتی ہی رہ گئ۔اس کے دل میں خدشات کا ریلا اکھٹا ہوا تو وہ بھاگم بھاگ باہر پہنچی۔زینی حسام کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر براجمان تھی۔اپنا جامنی لہنگا سنبھالتی وہ پچھلی سیٹ پر بیٹھی تو حسام بِنا اس کی طرف دیکھے گاڑی زن سے بھگا لے گیا۔۔
”مبارک ہو بچے“۔۔
دانین نے سارہ کو گلے لگا کر اس کے ماتھے پر بھوسہ دیا۔اذان کا چہرہ خوشی کا غماز تھا۔۔
”زارا نے کال بھی کاٹ دی اور ابھی تک پہنچی بھی نہیں“۔۔
وہ پھر سے زارا کے لیئے پریشان ہوئی۔۔
”میری حسام سے بات ہو گئ ہے وہ انہیں لے کر آ رہا ہے“۔۔
سائرہ نے کہا۔۔
”کاظمی حویلی“ کا گیٹ کھلا اور حسام کی سفید سوک اندر داخل ہوئی۔زارا جلدی سے گاڑی سے اتر کر ہال کمرے کی طرف بھاگی۔حسام اور زینی بھی اس کے پیچھے ہی بھاگے۔۔زارا ہال کمرے میں داخل ہوئی تو سب مسکراتے چہرے یک دم ساکت ہو گۓ۔سارہ مسکراتی ہوئی زارا کے گلے لگ گئ۔۔
”تھینک یو تھینک یو سو مچ“۔
سارہ کے لہجے اور اذان کے چہرے نے میر کی باتوں پر تصدیق کی مور ثپت کر دی۔۔زارا نے پوری قوت لگا کر سارہ خود سے الگ کر کے پیچھے دھکیلا۔اذان جلدی سے آگے بڑھ کر اسے تھام لیا ورنہ وہ سیدھی کانچ کی ٹیبل سے ٹکراتی۔۔
”مٹھائی کھاؤ زارا،میرے اور سارہ کا نکاح ہو گیا ہے تم سالی ہو میری منہ میٹھا کرنا تو بنتا ہے ناں“۔۔
اذان دل جلی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولا تو زارا کے تن بدن میں آگ لگ گئ۔۔
”تم نے میرے ساتھ دھوکہ کیا سارہ“۔۔
زارا چلائی تو سارہ نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔۔”کیسا دھوکا“۔۔
”تم نے کہا تھا تم میری شادی اذان سے کرواؤ گی مگر تم نے خود کر لی۔اتنا بڑا دھوکہ میرے ساتھ“۔۔
”تم نے ہی کہا تھا ناں مجھے“۔۔
سارہ نے کہا۔۔
”ڈرامے مت کرو“۔۔
زارا چلائی۔۔
”یہ دیکھو تم نے ہی تو کہا تھا“۔۔
اپنا موبائل اٹھا کر سارہ نے زارا کی کال ریکارڈنگ آن کی۔جیسے جیسے وہ سنتی جا رہی تھی اس کے رونگٹے کھڑے ہو رہے تھے۔۔
”تم سب نے مل کر دھوکہ دیا مجھے“۔۔
وہ خلق کے بل چلائی تھی۔۔”یہ تم نے کیا ہے ناں“زارا زینب کی طرف مڑی کہ وہ جانتی تھی زینی بہت اچھی ہیکر ہے۔زینی نے خاموشی سے سر جھکا لیا۔۔سارہ نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے زینب کی طرف دیکھا۔۔
”غصہ تھوک دو زارا۔۔جو ہونا تھا وہ ہو چکا“۔۔
دانین نے کہا۔۔
”آپ نے ماما۔۔اچھا نہیں کیا۔آپ تو میری ماں تھی یار پھر مجھے ہی کیوں دھوکہ دیا۔اور آپ،آپ تو باپ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ناں پھر مجھے کیوں توڑ دیا“اس کا رخ اب اساور کی طرف تھا۔سب چپ چاپ اس کی چیخ و پکار سن رہے تھے۔”اور زینی تم،تم تو آستین کا سانپ نکلی یار۔اور آپ تو خوش ہو گئ ہوں گی ناں کہ دیکھو کل دانین کو رلایا آج اس کی بیٹی رو رہی ہے۔مل رہا ہے ناں سکون“۔۔سائرہ کی طرف دیکھتی وہ چلائی تھی”آپ نے بھی ان سب کا ساتھ دیا۔”اور تم“اس نے حسام کا گریبان پکڑ لیا”تم تو محبت کے دعوے دار تھے ناں پھر کیا ہوا دے دیا ناں مجھے دھوکا۔اذان میری خواہش تھا نہ ہی محبت وہ میری ضد تھا اور تمہارا فرض بنتا تھا تم میری ضد کو پورا کرتے کیونکہ تو محبت کے دعوے دار تھے مجھ سے“اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو بہہ رہے تھے۔حسام کو اپنا دل کٹتا ہوا محسوس ہوا”تم دل میں تھے مگر تم کاظمیوں میں سے ہو یہ سن کر دل سے آدھے اتر گۓ تھے اور آج پورے اتر گۓ“ وہ اظہار تھا اس ایک احساس کا جو حسام نے اس کے لیئے محسوس کیا تھا۔۔حسام کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ زارا کے یوں اظہارِ محبت پر خوش ہو یا اس کے اظہارِ نفرت پر رو دے۔۔
”مجھے نفرت ہے آپ سب سے“سب کی طرف انگلی اٹھا کر وہ بولی”میں آپ میں سے کسی سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتی،آپ خوشیاں مناؤ سب۔میں تو ہمیشہ خوشیوں سے محروم رہی ہوں اب مرحوم ہو جاؤں گی سب خوشی کے شادیانے بجانا پھر“۔۔
حسام کے ہاتھ سے گاڑی کی چابی چھین کر وہ باہر کو بھاگی تھی۔۔اس کی آخری بات سمجھ کر سب کے چہروں سے ہوائیاں اڑ گئیں تھیں۔وہ زارا سے بڑے سے بڑا طوفان ایکسیپٹ کر رہے تھے مگر یہ ایکسیپٹ نہیں کر رہے تھے۔۔سب زارا کے پیچھے ہی باہر کو بھاگے تھے مگر تب تک وہ حسام کی گاڑی زن سے بھگاتی ہو حویلی سے نکال کر لے گئ تھی۔اس کا عروسی دوپٹہ زمین پر پڑا اپنی بےوقعتی پر بین ڈال رہا تھا۔حسام نے دوپٹہ اٹھا کر اپنے ہاتھوں میں تھام لیا تھا۔۔
سب کی دھڑکنیں ایک ساتھ ساکت ہوئیں تھیں۔اذان نے جلدی سے اپنی گاڑی پورچ سے نکالی۔۔
”حسام جلدی بیٹھ“۔۔
حسام کے بیٹھتے ہی وہ گاڑی بھگاتا ہوا لے گیا۔۔دانین کا دل کسی انہونی کے احساس سے دھڑک دھڑک کر قیامت لا رہا تھا۔۔
جاری ہے۔۔
