Aankh Bhar Aansu (Inteqam Lal Ishq Season 2) By Pareeshay Mahnoor Readelle50255

Aankh Bhar Aansu (Inteqam Lal Ishq Season 2) By Pareeshay Mahnoor Readelle50255 Last updated: 22 September 2025

54.6K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aankh Bhar Aansu (Inteqam Lal Ishq Season 2)

By Pareeshay Mahnoor

”کاظمی حویلی“ میں آج جیسے زندگی لوٹ کر آ گئی تھی۔ کچن سے خوشبوئیں اٹھ رہی تھیں۔دانین بھی آ گئی تھی۔۔ اساور نے آج سب کے لیئے خود کھانا بنایا تھا اور سارہ نے اس کی ہیلپ کی تھی۔۔ کاظمی حویلی کے سرسبز لان میں بچھی کرسیوں پر سب نے بیٹھ کر پرتکلف کھانے کا لطف اٹھایا تھا۔۔ ”بابا!!“۔۔ کھانے سے فارغ ہو کر اساور فریش ہونے اپنے کمرے میں چلا آیا تھا کہ زارا بھی تھوڑی دیر بعد کمرے میں داخل ہوئی۔۔ ”جی بچے!!“۔۔ اساور نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔۔ ”میں اور ماما واپس ترکی جا رہے ہیں“۔۔ صبح دانین سے کیئے وعدے کو پورا کرنا تھا۔اور وہ وعدہ پورا کرنے کا فیصلہ کر چکی تھی۔۔ ”زارا۔۔۔!!“۔۔ بےبسی سے کہا گیا تھا۔۔ اساور نے کہاں سوچا تھا اس کے پاس اب بھی اس کی بیٹی نہیں رہ پائے گی۔۔ ”بابا ماما نہیں رہنا چاہتیں یہاں اور میں ماما کے بغیر پاکستان میں نہیں رہ سکتی“۔۔ لہجہ بتا رہا تھا وہ خود بھی نہیں جانا چاہتی مگر وہ جا رہی ہے۔۔ ”آپ جانا چاہتی ہیں؟“۔۔ اساور نے اس سے پوچھا۔۔ ”میں جانا نہیں چاہتی مگر پھر بھی جا رہی ہوں بابا!!“۔۔ ”تم دانین کو سمجھا سکتی ہو زارا ، اسے کہو اب کے مت جائے“۔۔ التجا کی گئی تھی۔۔ ”میں نے سمجھایا تھا انہیں ، کہا تھا رک جاتے ہیں مگر انہوں نے دکھ بھرے لہجے میں کہا کہ”زارا تو چاہتی ہے میں پتھر ہو جاؤں“ پھر میں نے کہا اساور کاظمی کا ساتھ آپ کو پگھلا سکتا ہے تو وہ پھیکا سا ہنس کر بولیں کہ ”جس شخص کے ساتھ نے مجھے پتھر کر دیا بھلا اس کا ساتھ اب میرے لیئے محبت کیسے ہو سکتا ہے“۔۔“۔۔۔ اساور کا چہرہ شرمندگی کے احساس سے جھکتا دیکھ کر زارا کا دل بھی تاریک ہوا تھا۔۔ ”حسام سے شادی کر لو زارا“۔۔ اساور کے غیرمتوقع جملے پر زارا نے خیرانگی سے اساور کی طرف دیکھا۔۔ ”بابا میں نہیں کر سکتی“۔۔ انکار فوراً آیا تھا۔۔ اساور کو بھلانے آتے حسام نے اس کے الفاظ سنے تو ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا پایا تھا۔۔ ”زارا وہ آپ سے محبت کرتا ہے ، آپ کے پاس اس کو ٹھکرانے کی اب کون سی وجہ ہے“۔۔ حسام کا پورا جسم کان بن گیا تھا۔۔ حسام وہ الفاظ زارا کے منہ سے سننا چاہتا تھا جو اسے ایک بار پھر ٹھکرانے کے لییئے وہ استعمال کرے گی۔۔ ”حسام اچھے سے جانتا ہو گا میں کیوں انکار کر رہی ہوں“۔۔ اِدھراُدھر دیکھتے ہوئے وہ بولی تھی۔۔ حسام کو حیرت ہوئی کہ وہ کون سی وجہ ہے جو زارا کے ساتھ وہ جانتا ہے۔۔ ”ایسی کون سی وجہ ہے زارا ، کیا آپ کو حسام پسند نہیں؟“۔۔ اساور نے کہا۔۔ ”ایسا نہیں ہے بابا کہ وہ مجھے پسند نہیں ھے ، بس اتنا ہے کہ حسام کی قسمت میں زارا اور زارا کی قسمت میں حسام نہیں ہے“۔۔ ”ایسا کیوں؟؟“۔۔ اساور کا لہجہ تھوڑا تیز ہوا تھا۔۔ ”کیونکہ جینے کے لیئے ذیادہ وقت نہیں ھے میرے پاس ، کچھ دن یا کچھ مہینے میرا دل کان کرے گا اور پھر بند ہو جائے گا ، وہ جو مجھے پا کر کھو دینے کا دکھ ہو گا وہ کھو کر کھو دینے سے کم ہو گا“۔۔ وہ رو پڑی تھی۔۔ اساور نے ڈبڈباتی آنکھوں سے اپنی بیٹی کو دیکھا جس کے اندر جینے کی خواہش تھی مگر وقت نہیں تھا۔۔ حسام نے بےاختیار اپنے ماتھے کو چھوا تھا کہ جو بات صرف وہ اور اساور جانتے تھے اور انہیں لگتا تھا کہ صرف وہی جانتے ہیں ۔ اس بات سے تو خود زارا بھی واقف تھی۔۔ حسام آہستگی سے دروازہ دھکیلتا اندر داخل ہوا۔ اسے دیکھ کر زارا نے فوراً سے اپنے آنسو روکے تھے۔۔ ”کچھ نہیں ہو گا تمہیں ، ہارٹ ٹرانسپلانٹ کروانا ہو گا تمہارا اور مجھے یقین ہے بہت جلد ٹرانسپلانٹ کے لیئے ہارٹ مِل جائے گا“۔۔ وہ امید دینا چاہتا تھا۔زارا کو ، اساور کو اور خود کو۔۔ ”اور اگر نہیں مِلا تو زبردستی زندہ رکھ سکتے ہو مجھے“۔۔ زارا نے کہا۔۔ ”زارا یقین رکھیں بیٹا ، آپ کا ٹرانسپلانٹ ضرور ہو گا اور آپ بلکل ٹھیک ہو جائیں گی“۔۔ اساور کا لہجہ ایک دم سے بہت ذیادہ ٹھوس اور پرامید ہو گیا تھا۔۔ ”جی بابا جان بلکل ، زارا ٹھیک ہو جائے گی“۔۔ حسام جیسے زبردستی زارا کا خوصلہ بڑھانے کو مسکرایا تھا۔۔ “تم کیوں اپنی زندگی برباد کر دینا چاہ رہے ہو؟“۔۔ زارا نے اس کی زبردستی کی مسکراہٹ پر آنکھیں نکالتے ہوئے کہا۔۔ ”میری زندگی ہے جو چاہے کروں“۔۔ وہ شرارت سے بولا کہ زارا کا موڈ ٹھیک ہو جائے۔۔اساور نے آگے بڑھ کر زارا اور حسام کو گلے لگا لیا۔۔ ”زارا تم ٹھیک ہو جاؤ گی اور حسام کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزارو گی“۔۔۔ یقین کی آنچ دیتا وہ لہجہ زارا کے دل کی ڈھارس بندھا رہا تھا۔۔