Aankh Bhar Aansu (Inteqam Lal Ishq Season 2) By Pareeshay Mahnoor Readelle50255 (Aankh Bhar Aansu) Episode 11
Rate this Novel
(Aankh Bhar Aansu) Episode 11
وہ صوفے پر ٹانگیں پھیلاۓ بیٹھی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔حسام اور اذان کو گۓ ابھی بیس آدھا گھنٹہ ہی ہوا تھا۔گھڑی پر ایک مسکراتی نظر ڈال کر اس نے کندھے اچکاۓ۔۔
”کاظمی بڑے جلدی آ جاتے ہیں“۔۔
مسکرا کر کہتے وہ دروازے تک آئی اور دروازہ کھولا۔۔سامنے ہی سفید شلوار قمیض میں ملبوس سیاہ واسکٹ پہنے،آنکھوں پر چشمہ چڑھاۓ اس کا باپ کھڑا تھا۔ساتھ ہی پنک ٹی شرٹ کے ساتھ گرے پینٹ پہنے،لمبے بالوں کی اونچی پونی بناۓ وہ کھڑی تھی اس کاحصہ اس کی جڑواں۔سارہ کاظمی۔۔
”کاظمیوں کا ہی انتظار تھا اندر آئیے“۔۔
سائیڈ پر ہو کر زارا نے ان دونوں کو راستہ دیا۔۔اساور ساظمی نے اندر داخل ہو کر اس کے سر پر ہاتھ رکھنا چاہا مگر زارا نے فوراً سے ان کا ہاتھ پکڑا۔۔
”نہ کاظمی صاحب ایسے کیسے۔ابھی اس ایموشنل ڈرامے کو رہنے دیتے ہیں۔کچھ باتیں ہو جائیں پھر کنٹینو کیجیئے گا اور تم بھی بہنا پھر دیکھنا مجھے محبت بھری میٹھی نظروں سے“۔۔
اساور کاظمی کا ہاتھ ان کے پہلو میں جھٹکتی وہ چبا چبا کر بولی تھی۔۔وہ دونوں اثبات میں سر ہلاتے سامنے پڑے صوفے پر جا بیٹھے۔۔دروازہ بند کرتے وہ ان کی طرف مڑی۔۔
”کیا لیں گے چاۓ کافی یا کچھ اور“۔۔
زارا نے کہا۔۔
”کچھ نہیں بیٹا آپ کو لینے آئیں ہیں۔آپ تیار ہو جائیں تو چلتے ہیں“۔۔
اساور نے کہا۔۔
”میں تو تیار ہوں جانے کے لئے مگر اس سے پہلے کچھ کھا لیں یقین جانیں زہر نہیں دوں گی“۔۔
زارا نے مسکرا کر کہا اور انٹرکام پر تین کافی کا کہہ کر ان کے سامنے بیڈ پر آ ٹکی۔۔
”تو آپ دونوں مجھے لینے آۓ ہو؟؟“۔۔
زارا نے کہا تو اساور اور سارہ نے ایک ساتھ اثبات میں سر ہلایا۔۔
”کتنی محبت کرتے ہیں آپ مجھ سے؟“۔۔
زارا نے اساور سے پوچھا۔۔
”باپ اپنی اولاد سے جتنا پیار کرتا ہے اس کی پیمائش ممکن نہیں ورنہ میں آپ کو بتاتا کہ کتنا پیار کرتا ہوں میں آپ سے“۔۔۔
اساور نے کہا۔۔
”اور تم؟“۔۔
زارا نے سارہ کی طرف دیکھا۔۔
”ہم دونوں تو ایک ہی ہیں ناں زارا۔ایک سے اور ایک دوسرے کے بغیر ادھورے۔میں ایک ادھورا حصہ ہوں جس کا مکمل تم ہو۔اور اپنے مکمل سے محبت نہیں عشق کیا جاتا ہے،تم میری بہن ہو میرا حصہ میرا عشق“۔۔
سارہ نے کہا۔۔
”شادی کب ہے تمہاری،ڈیٹ فکس ہو گئ ہے ناں؟؟“۔۔
زارا نے پوچھا۔۔
”اگلے مہینے کی پندرہ کو“۔۔
سارہ نے کہا۔۔
”مطلب پچیس دن رہتے ہیں“۔۔
زارا نے کہا تو سارہ نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
”اچھا یہ بتاؤ اذان سے کتنی مخبت کرتی ہو؟؟“۔۔
زارا کے سوال پر سارہ نے باپ کی طرف دیکھا اور پھر شرم سے نظریں جھکا لیں۔۔
”بتاؤ!!“۔۔
زارا نے زور سے کہا مگر وہ پھر بھی چپ رہی۔۔
”چلو یہ بتا دو مجھ سے ذیادہ محبت کرتی ہو یا اذان سے،؟؟“۔۔
زارا نے پوچھا۔۔
”تم سے“۔۔
سارہ فوراً سے بولی تھی۔۔
”تو ٹھیک ہے پھر اذان مجھے دے دو“۔۔
زارا سکون سے بولی تھی مگر سامنے بیٹھے نفوس کے سروں پر جیسے ہوٹل کی چھت گر پڑی ہو۔۔
”یہ کیا بکواس کر رہی ہیں آپ زارا“۔۔
اساور کھڑا ہوا تھا۔۔اس کے چہرے پر غصہ واضح دیکھا جا سکتا تھا۔۔
”بکواس نہیں اب تو برباد کروں گی“۔۔
زارا بولی۔۔
”اپنی بہن کو ہی برباد کرو گی تو خود ہی برباد نہیں ہو جاؤ گی؟“۔۔
سارہ نے حیرانی سے اسے دیکھا تھا۔۔
”میں زارا رباب ہوں،مجھے برباد کرنے کے لیئے برباد ہو جانا آتا ہے اور اس طرح برباد ہو جانے کا کوئی غم نہیں“۔۔
ہونٹ کا کونا دانتوں سے کاٹتی وہ مسکرا رہی تھی۔۔سارہ کی آنکھ سے کئیں بوندیں ایک ساتھ نکلیں تو سامنے کھڑی زارا کسی دھند میں چھپتی ہوئی لگی۔۔
”زارا جیسا آپ چاہتی ہیں ویسا نہیں ہو سکتا،کبھی بھی نہیں“۔۔
اساور نے سخت لہجے میں دوٹوک فیصلہ سنایا۔۔
”دروازہ کھلا ہے دونوں جا سکتے ہو“۔۔
زارا کی مسکراہٹ سمٹ گئ تھی۔اس نے بدلخاظی سے کہا۔۔
”زارا جیسا تم چاہتی ہو ویسا ہی ہو گا،بس تم لوٹ آؤ۔بہت برس ہم نے تمہیں یاد کیا ہے۔بہت تڑپے ہیں“۔۔
سارہ نے کہا۔۔
”جیسا میں چاہتی ہوں ویسا کرو گی تو ہمیشہ کے لئیے حویلی ہی تو آ جاؤں گی ناں“۔۔
زارا نے کہا۔۔
”یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں سارہ،ایسا نہیں ہو سکتا“۔۔
اساور غصے سے بولا۔۔
”میرے لیئے میری بہن سے ضروری کچھ نہیں ہے بابا۔جیسا یہ چاہتی ہے ویسا ہونے دیں بابا۔“۔۔
سارہ نے منت بھرے لہجے میں کہا۔۔
”مگر تمہاری بہن کے لیئے تم ضروری نہیں ہو“۔۔
اساور نے افسوس سے زارا کی طرف دیکھا۔جس کے چہرے پر تمسحرانہ مسکراہٹ چھائی ہوئی تھی۔۔
”کل تک کا وقت دیتی ہوں،پرسوں میری فلائیٹ ہے۔کل تک سب کو راضی کر لو ورنہ میں پرسوں چلی جاؤں گی“۔۔
زارا نے کہا تو سارہ نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
”تم غلط کر رہی ہو بچے“۔۔
اساور نے زارا کو کہا۔۔
”اوہ غلط۔۔زارا نے ایک آہ بھری۔”یہ غلط خون ان رگوں میں دوڑ رہا ہے تبھی تو مجھ سے سب غلط ہو جاتا ہے“۔۔
اساور کی طرف اشارہ کرتے زارا نے کہا۔۔۔
”بیٹا سب بھول کر………
”نہ نہ نہ مسٹر اے_کے۔ماضی بھول کر آگے بڑھ جانے والوں کی سب سے بڑی غلطی بھول جانا ہی تو ہے۔میں بھی سب بھول گئ تھی مگر وہ میری غلطی تھی۔غلطیوں سے سیکھتی ہے انہیں دہراتی نہیں ہے انہیں دہراتی نہیں ہے زارا رباب“۔۔
زارا نے کہا۔۔
”تو پھر سیکھو زارا۔انتقام غلطی ہے جو میں نے کی تھی اور اس غلطی کی سزا آج تک بھگت رہا ہوں۔میری محبت میری بیوی،میری دانین مجھ سے بچھڑ گئ ہے۔بیٹی شدت سے نفرت کرتی ہے۔دوسری بیٹی کے دل کی دنیا میری غلطی کا خمیازہ بھگت کر برباد ہو رہی ہے“۔۔۔
اساور نے کہا۔۔
”آپ نے کہاں بھگتیں ہیں ابھی خمیازے،ابھی تو آپ بھگتیں گے۔آپ کی جان اس سارہ کاظمی میں بند ھے ناں تو سب سے پہلے اسے برباد کروں گی اور اس کی بربادی پر پل پل تڑپو گے تب بتانا غلطیوں کے درد کیسے ہوتے ہیں؟۔اپنوں کے دکھ کیا ہوتے ہیں؟؟اور اس سارہ کاظمی کی جان اذان کاظمی میں بند ھے ناں تو وہ تو تڑپ تڑپ کر زندہ لاش بنے گا تو یہ پل پل مرے گی۔تب اسے پتہ چلے گا غلط فیصلوں کے نتائج کتنے بھیانک ہوتے ہیں“۔۔
زارا چبا چبا کر بولی تھی۔۔
”اور آپ کو خوشی ملے گی زارا اس سب سے تو سارہ کو برباد ہونے پر کوئی اعتراض نہیں“۔۔
سارہ نے کہا۔۔زارا کے دل کو ایک پل کو کچھ ہوا تھا مگر وہ ایک پل تھا جو پلک چھپکتے بیت گیا تھا۔۔
”زارا میری جان تو آپ بھی ہیں،مجھے برباد کرتے کرتے آپ خود کا نقصان نہ کر لیں بچے“۔۔
اساور نے کہا۔۔
”مجھے خود کے برباد ہو جانے پر قطعی افسوس نہیں ہو گا“۔۔
زارا نے کہا۔۔
”تم واپس مت جانا زارا“۔۔
سارہ نے کہا۔۔
”کل دو بجے تک تمہارا فون آ گیا تو صیح ورنہ میں نکل جاؤں گی،ابھی آپ دونوں کو بھی جانا چاہیئے“۔۔
زارا نے دروازہ کھولتے ہوۓ کہا۔۔
”تمہارا نمبر……
سارہ نے کہا۔۔
”حسام سے کہنا وہ فون کر دے گا مجھے“۔۔
اس کی بات کاٹتے ہوۓ زارا نے کہا۔۔
”زارا بچے……
”آپ دونوں جا سکتے ہیں“۔۔
زارا اونچا آواز میں ناگواری سے بولی۔۔تھوڑی دیر میں اساور اور سارہ ہوٹل سے نکل چکے تھے۔زارا نے اپنے کمرے کی کھڑکی سے انہیں جاتے دیکھا اور واپس کمرے میں چلی آئی۔۔
_________________________________
”تم پاگل تو نہیں ہو گئ ہو سارہ“۔۔
سارہ کی بات سن کر سب سکتے میں آ گۓ تھے۔کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ زارا ایسا کوئی مطالبہ بھی کر سکتی ہے۔اذان تو اس کی بات سن کر چیخ پڑا تھا۔۔
”اذان پلیز میری بات کا مان رکھ لو“۔۔
سارہ نے کہا۔۔
”واہ واہ سارہ کاظمی تمہاری بات کا مان رکھ لوں میں اور اپنی زندگی زارا کے بدلے کی بھینٹ چڑھا دوں“۔۔
اذان کا غصے کے مارے برا حال تھا۔۔
”زارا بہت اچھی ہے،تم بہت خوش رہو گے۔ویسے بھی ہم دونوں میں فرق کیا ہے۔ایک سی دکھتی ہیں ہم دونوں۔تمہیں اس سے محبت ہو جاۓ گی”۔۔
سارہ نے اذان کو منانا چاہا تھا۔باقی سب خاموش بیٹھے ان دونوں کو سن رہے تھے۔حسام چہرہ ہاتھوں پر گراۓ اپنے اندر کی کیفیت سے جنگ لڑ رہا تھا۔وہ جو اس کے کڑے تیور بھی محبت تھے،وہ جو اس کا لڑنا،اس کا ہنسنا بھی محبت تھا وہ سب کوئی حواب بن کر اسے ستا رہا تھا۔۔
”چاہے وہ تم سی دکھتی ہو مگر وہ زارا رانا ہے سارہ کاظمی نہ ہے اور نہ بن سکتی ہے“۔۔
اذان نے کہا۔۔
”زارا رانا سارہ کاظمی بننا بھی نہیں چاہتی،زارا رانا زارا رانا ہی میں خوش ہے“۔۔
بالوں کو جھٹکتے وہ لاؤنج میں داخل ہوئی تو سب نے اس کو دیکھا۔زارا کے چہرے پر ڈھیروں اطمینان تھا۔اذان کا دل چاہا وہ اس کے خوبصورت چہرے کو آگ لگا دے جس پر ان سب کا سکون غارت کرنے کے بعد بھی مسکراہٹ چھائی ہوئی تھی۔۔حسام نے سر اٹھا کر اسے دیکھا جو اس کی پہنچ سے بہت دور تھی۔۔
”تم زارا۔۔تم نے تو کل آنا تھا ناں“۔۔
سارہ نے اسے کل کی جگہ آج وہاں دیکھ کر حیرت سے کہا۔۔
”ہاں مجھے کل آنا تھا مگر سوچا حویلی میں چلتا ایموشنل ڈرامہ کیوں کر مِس کروں۔اسی لیئے چلی آئی“۔۔
ایک آنکھ دبا کر سارہ کی طرف دیکھتے وہ ٹانگ پر ٹانگ جما کر صوفے پر بیٹھ گئ۔۔۔
(”تمہیں میں یاد ہوں،اور اب تم بھول نہیں پاؤ گے۔تھپڑ سے نکل کر سوچو آگے آگے ہوتا ہے کیا؟“۔۔)
اذان کے دماغ میں زارا کے صبح کہے گۓ الفاظوں کی بازگشت ہوئی تو اس نے تیز نظروں سے زارا کی طرف دیکھا۔وہ اس کے لفظوں میں چھپے زہرخند معنوں کو اب تلاش کر کے سمجھ پایا تھا۔۔
”کیا ایسے کیوں دیکھ رہے ہو؟؟_تم نے ہی تو کہا تھا آ جاؤ زارا سب جان ہتھیلی پر رکھے تمہارے قدموں میں بچھنے کو تیار ہیں تو لو میں آ گئ۔اب نکالوں جان اور رکھو میرے قدموں میں“۔۔
زارا دل جلا دینے والے انداذ میں بولی۔دور اذان جل بھن ہی تو گیا تھا۔۔
”دیکھو بیٹا یہ میرے اذان کی زندگی ہے کوئی کھلونا نہیں جس سے تمہیں کھیلنے دوں۔جیسا تم چاہتی ہو ویسا کبھی نہیں ہو سکتا۔اپنے بدلے کی آگ میں میرے بیٹے کو مت گھسیٹو“۔۔
اتنی دیر سے چپ بیٹھی عینا بولی تو زارا نے اسے آنکھیں سکیڑ کر دیکھا۔۔
”تو آپ ہیں اذان کی ماں۔امان اللہ کاظمی کی بیوہ“۔۔
زارا بلند آواز سے بولی تو عینا کی آنکھ میں ایک آنسو چمکا جسے اس نے فوراً صاف کیا۔۔
”انتقام کی اس کہانی کا سب سے اہم خصہ ہی تو آپ ہیں تو کیسے آپ کے بیٹے کو اس میں نہ گھسیٹوں۔۔سب کچھ آپ سے ہی تو شروع ہوا تھا جس کی سزا دانین جمشید علی اور زارا رانا نے ان چوبیس برسوں میں بھگتی ہے“۔۔
اگے کو ہو کر بیٹھتی وہ بولی تو عینا نے بےاختیار اس سے نظریں چرائیں کہ کئیں برسوں سے وہ اسی آگ میں تو جل رہی تھی کہ کاظمیوں کی خوشیوں کو برباد کرنے والی وہ ہے۔۔
”زارا بیٹا جو بیت گیا سو بیت گیا۔ماضی کو لے کر اپنا حال اور مستقبل مت برباد کرو“۔۔
سائرہ نے کہا۔۔
”اوہ تو آپ بھی ہیں سائرہ کاظمی جی“۔۔
وہ جی کو لمبا کر کے بولی تھی۔۔
”آپ کی تو شکرگزار ہوں میں آپ نے جن لفظوں سے مجھے بچپن میں روشناس کروایا تھا ان لفظوں کی نوک نے مجھے تراش کر ہیرا کر دیا،مجھے دنیا میں ایک الگ مقام مل گیا میرا“۔۔
سائرہ کی طرف دیکھتی وہ بولی۔۔
”دیکھو زارا میں تم سے ہر گز ہر گز بھی شادی نہیں کروں گا۔نہ آج،نہ کل اور نہ پھر کبھی سنا تم نے“۔۔
اذان نے کہا۔۔
”اوہ تو پھر کون کرے گا مجھ سے شادی؟؟“۔۔
ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھتی وہ سوچنے کی ایکٹنگ کرنے لگی۔۔
”میں٠۰۰“
حسام نے کہا تو سب نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔۔
”میں کروں گا تم سے شادی“۔۔
سب کو اپنی جانب دیکھتا پا کر وہ فوراً بولا۔۔
”آپ کا مکمل تعارف ڈاکٹر صاحب“۔۔
زارا نے کہا۔۔
”یہ میرا بیٹا ہے ڈاکٹر حسام باذل“۔۔
سائرہ نے بتایا۔۔
”آپ کا بیٹا مگر ڈائیوورس نہیں ہو گئ تھی آپ کو“۔۔
زارا نے پوچھا۔۔
”ایڈاپٹ کیا ہے حسام بھائی کو پھپھو نے“۔۔
سارہ نے جواب دیا۔۔
”اوہ آئی سی۔تو کیا کہہ رہے تھے تم“۔۔
زارا حسام کی طرف گھومی تو سب کے چہروں پر سکون آنے لگا کہ شائید زارا اپنا فیصلہ بدل رہی ھے۔۔
”میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔مجھ سے شادی کرو گی پلیز“۔۔
حسام نے کہا۔۔
”آپ نے اسے ایڈاپٹ کرنے سے پہلے کنفرم کر لیا تھا ناں کہ کسی کی جائز اولاد ہے۔وہ کیا ہے ناں کہ آپ کو ناجائز فوبیا ہے“۔۔
اس کی بات پر سب کو دھچکا لگا تھا۔حسام نے کرب سے اپنی ماں کی طرف دیکھا جو نظریں چرا گئ تھی۔۔
”زارا۔!! بی ہیو یور لینگویچ“۔۔
اساور چلایا۔۔
”اسی انداذ میں یہی بات کبھی آپ نے ان کو کی ہوتی تو آج یہ پچھتاووں کے ناگ آپ کو ڈس نہ رہے ہوتے“۔۔
سائرہ کی طرف اشارہ کرتے وہ اس سے ذیادہ اونچی آواز میں بولی تھی۔۔
———————————
جاری ہے۔۔
