54.6K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Aankh Bhar Aansu) Episode 8

(بنا اجازت کاپی پیسٹ کرنے سے براہِ مہربانی گریز کریں)۔


جانے رات کا کون سا پہر تھا جب اس کی آنکھ کھلی۔۔مندھی مندھی آنکھوں سے اردگرد دیکھتے وہ سمجھنے کی کوشش کرنے لگی کہ وہ کہاں ہے۔اس نے دیکھا کہ وہ ہوٹل کے اسی روم میں ہے جہاں وہ ٹھہری ہوئی تھی۔اسے شام کا سارا واقعہ یاد آیا تو آنکھوں میں پھر سے مرچی سی بھرنے لگی۔۔وہ اٹھی تو سائیڈ ٹیبل پر رکھے صفحے کو دیکھا تو اٹھا لیا۔۔
”تم اتنی بڑی رائیٹر ہو تو مجھے پتہ تھا تم کون سے ہوٹل میں ٹھہری ہوئی ہو اس لیئے تمہیں وہیں پہنچا دیا۔سائیڈ ٹیبل پر دوائی رکھی ہے وہ یاد سے کھا لینا۔
ڈاکٹر حسام“۔۔
وہ پڑھ کر بےساختہ مسکرائی تھی۔
”یہ ڈاکٹر تو بڑا انسانیت پسند ہے،فری میں اتنی مدد واہ“۔۔
ہولے سے بڑبڑاتے ہوۓ اس نے الیکٹرک کیٹل سے چاۓ بنائی اور باپ اڑاتا ہوا چاۓ کا کپ لیئے ٹیرس پر چلی آئی۔
آدھی سے زیادہ رات بیت چکی تھی۔
سیاہ آسمان اونگھ رہا تھا۔ چمکتے تارے ویران آسمان کو تک رہے تھے۔چاند زمین زادوں پر حیران تھا جو رات کے اس وقت بھی پیسہ کمانے میں جتے ہوۓ تھے کہ رات میں بھی دن کا گمان ہوتا تھا۔ ویسے ہی وہ خاموشی سے ٹیرس پر کھڑی ان ستاروں کو دیکھ رہی تھی۔ دل میں ایک بے لفظ نے برسوں سے درد کے وہ طوفان جمع کر رکھے تھے جو اگر بپا ہو جائیں تو کاظمیوں کو برباد کر دیں۔۔
ایک نفرت کی موٹی سی تہہ آج اسکے وجود کے گرد مزید بڑھی تھی۔۔
ایک آگ تھی جو اندر لگی ہوئی تھی۔۔۔۔
ایک درد تھا جو ناسور بنتا جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔
کچھ خوف تھے جو اسے گھیرے ہوۓ تھے۔۔۔۔۔
برسوں کی مخنت خاک ہو جانے کا وسوسہ سانپ بن رہا تھا۔۔۔۔
حالانکہ وہ دھوم دھام سے جیت کر آئی تھی۔صرف ایک اس منچلے کے کچھ کہنے سے اس کے کرئیر کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا مگر اسے پڑتا تھا پڑ رہا تھا۔۔ ٹی وی وہ ایوارڈ شو نشر ہو رہا تھا۔ اس نے اپنا مگ اٹھایا اور
اندر چلی آئی۔ سامنے سکرین پہ وہ خود نظر آرہی تھی ایوارڈ لئیے،مائیک پکڑے شان سے مسکراتی ہوئی زارا رباب رانا۔۔۔۔
” میں نے لفظ لکھے نہیں ہیں،میں نے ان لفظوں کو جیا ہے،ہر لمحہ،ہر پل،ہر صبح،ہر دن،ہر شام،ہر رات۔میں اکیلی تھی تو میرا ساتھی تھے میرے الفاظ۔میں ٹوٹتی تھی تو میرا مرہم تھے میرے الفاظ۔چند لفظوں میں صرف اتنا کہ میرا سب کچھ ہیں میرے الفاظ“۔۔
تالیوں کا شور اٹھا تھا۔۔
” محترمہ رباب صاحبہ ! اپنا ایوارڈ کس کے نام کرنا چاہیں گے؟ “
اینکر پوچھ رہا تھا۔ سکرین پر اس نے اپنی انکھوں میں چھا جانے والی اداسی کو دیکھا۔۔
”میرا ایوارڈ فقط میرے،میرے بچپن اور میری ماں کے نام“۔۔
وہ دھیمے سے بولی۔۔
”مس رباب سعدی آپ کے سگے ماموں……“
”لفظ ناجائز سے آپ کا جذباتی……“
”آپ ناجائز……“۔
آگے کی جانے والی گفتگو تو اس کے خافظے میں مخفوظ رہ گئ تھی۔اس نے ٹی وی بند کیا۔۔
”مجھے ملنا چاہیئے،ہاں مجھے ملنا چاہیئے اس شخص سے جس کی مہربانیوں سے آج اک زمانہ مجھے ناجائز کہتا ہے”۔۔
کچھ سوچتے ہوۓ اس نے سر صوفے کی پشت سے ٹکا کر آنکھیں موند لیں۔وہ ایک فیصلے پر پہنچ چکی تھی۔۔


سورج کی کرنیں کھڑکی کے راستے اس کے چہرے پر پڑیں تو آنکھیں ملتے ہوۓ اٹھی۔وہ رات صوفے پر ہی سو گئ تھی۔وہ اٹھ کر واش روم میں چلی آئی۔تھوڑی دیر بعد وہ چینج کر کے باہر نکلی۔بلیو لانگ فراک اور بلیو چوری دار پاجامہ پہنے،گِرے کلر کا دوپٹہ گلے میں ڈالے،کندھے تک آتے بالوں کو ایک طرف سے سٹائل دے کر دوسرے طرف سے کھلا چھوڑے وہ ہمیشہ والے حلیے میں بہت اچھی لگ رہی تھی۔
اس نے بیگ اٹھا کر کمر پر لٹکایا اور آخری نظر شیشے میں اپنا سراپا دیکھ کر باہر نکلنے ہی لگی تھی کہ اس کا موبائل بجنے لگا۔۔سعدی کی کال دیکھ کر وہ مسکرائی اور کال پک کرتے روم لاک کرتے باہر نکل آئی۔۔
”اسلام علیکم بابا!!“۔۔
وہ خوشی سے بولی۔۔
”وعلیکم اسلام۔کیسی ہے میری بیٹی“۔۔
سعدی نے پوچھا۔۔
”ایک دم ٹھیک“۔۔
وہ مسکرائی۔۔
”کاظمیوں کی حویلی جا رہی ہو“۔۔
سعدی کے پوچھنے پر اس کے بڑھتے قدم رکے تھے۔آنکھوں میں درد سا ابھرا تھا۔۔
”زارا!!“
اس کے جواب نہ دینے پر سعدی نے اسے پکارا۔۔
”نہیں“۔۔
اس نے یک لفظی جواب دیا۔۔
”اپنے بابا سے جھوٹ بولو گی اب“۔۔
سعدی نے کہا۔۔
”آپ کو کیسے پتہ میں وہاں جا رہی ہوں“۔۔
وہ پارکنگ میں پہنچ چکی تھی۔۔
”اساور کی ایک عادت بہت پرانی ہے،وہ چوٹ کہیں سے بھی کھاۓ لڑنے کے لیئے وہیں جاتا ہے جہاں اسے لگتا ہے کہ چوٹ لگنی شروع ہوئی تھی“۔۔
”مطلب“۔۔
وہ نہیں سمجھی تھی۔۔
”پتہ ہے دانین سے بچھڑتے وقت اساور جدائی سے ذیادہ تم سے ڈر گیا تھا کیونکہ اس دن وہ جان چکا تھا کوئی ایک اولاد باپ کا عکس لے کر پیدا ہوتی ہے اور وہ تم تھیں۔تم اساور کا عکس ہو۔اس سے دور مگر ہوبہو اس کے جیسی۔وہی غصہ،اور وہی عادت چوٹ کھا کر چوٹ لگانے والے کی جگہ کسی اور کو نشانہ بنانے والی۔تم بلکل اس جیسی تھی اسی لیئے دانین تمہیں لے کر اس سے الگ ہو گئ کہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ زارا اساور سی بنے۔مگر خون کے اثرات تربیت سے ذیادہ ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ماں کی تربیت کی لاج رکھ لو۔انتقام کے چکر کو جہاں ہے وہیں رک جانے دو“۔۔
سعدی نے اسے سمجھانا چاہا۔۔
”ٹھیک ہے بابا۔میں نہیں لڑوں گی کسی سے بھی“۔۔
اس نے اثبات میں سر ہلایا کہ وہ واقعی ماں کی تربیت پر انگلی اٹھانے نہیں دے سکتی تھی کسی کو بھی۔۔
”وعدہ؟؟“۔۔
سعدی نے پوچھا۔۔
”وعدہ بابا“۔۔
زارا نے وعدہ کیا اور چند باتیں کرنے کے بعد کال بند کر کے موبائل بیگ میں ڈالا اور پارکنگ سے نکل کر روڈ پر چلی آئی۔وہ کاظمی حویلی جانے کا ارادہ ملتوی کر چکی تھی۔۔ایک سفید رنگ کی گاڑی آ کر اس کے پاس رکی۔۔
”ہیلو مس زارا،آپ ٹھیک ہیں اب“۔۔
گاڑی کا شیشہ نیچے کرتے حسام نے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔
”آپ۔۔جی میں ٹھیک ہوں اب ڈاکٹر“۔۔
وہ بھی جواباً دھیرے سے مسکرائی۔۔
”کہاں جا رہی ہیں؟؟آئیں میں ڈراپ کر دیتا ہوں“۔۔
حسام نے کہا تو زارا بنا کچھ کہے فرنٹ ڈور کھول کر بیٹھ گئ۔۔
”شکریہ“۔۔
زارا نے کہا۔۔
”کہاں جائیں گی آپ؟؟“۔۔
حسام نے پوچھا۔۔
”آپ کہاں جائیں گے؟؟“۔۔
اس نے الٹا سوال کیا۔۔
”میں ہاسپٹل جا رہا ہوں“۔۔
حسام نے کہا۔۔
”چلیں مجھے بھی وہیں لے چلیں،چیک اپ کروانا ہے میں نے اپنا“۔۔
زارا نے کہا تو حسام نے اثبات میں سر ہلایا۔۔گاڑی میں مکمل خاموشی چھا گئ تھی۔۔
تھوڑی دیر میں وہ ہسپتال پہنچ چکے تھے۔۔
”آپ مجھ سے اپنا علاج کروانا چاہیں گی؟؟“۔۔
ہسپتال کے کوریڈو میں ساتھ ساتھ چلتے ہوۓ حسام نے کہا۔۔
”میں کوئی مریض تو نہیں ہوں،آج کا سارا شیڈول کینسل کر دیا تو سوچا اب چیک اپ کروا لوں“۔۔
زارا نے کہا۔۔حسام نے کچھ کہنے کے لیئے لب کھولے ہی تھے کہ اس کا فون بجا۔۔
”میں آتا ہوں،اک منٹ“۔۔
زارا سے اکسکیوز کرتا وہ آگے بڑھ گیا تو زارا وہی رکھی چیئرز میں سے ایک پر بیٹھ گئ۔۔
”مِس رباب!!“۔۔
اس کے کانوں نے وہ آواز سنی۔اس آواز کو وہ بہت اچھے سے پہچان سکتی تھی جس نے اس کی ذات کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں تھیں۔۔زارا نے فوراً پلٹ کر دیکھا۔۔وہ کوئی بیس اکیس سال کا رکھا تھا۔زارا نے اسے پہچان لیا تھا۔۔وہ وہی تھا جو شو میں اس سے طرح طرح کے سوالات پوچھ رہا تھا۔۔زارا نے ایک ناگوار نظر اس پر ڈال کر رح موڑ لیا۔۔
”میں اس دن آپ کو غصہ دلانا چاہتا تھا مگر کمال کا ضبط رکھتیں ہیں آپ خود پر“۔۔
وہ اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔۔
”ابھی بھی آپ کی آنکھیں بتا رہی ہیں کہ آپ کا دل چاہ رہا ہے،میرا سر دیوار میں دے ماریں مگر چہرے کے تاثرات کمال کے مطمئن ہیں“۔۔
وہ بولا۔۔
”کیا چاہتے ہو تم؟؟“۔۔
وہ دبے دبے غصے سے بولی۔۔
”اساور کاظمی کی بربادی“۔۔
وہ نفرت سے بولا تو زارا نے چونک کر اس لڑکے کی طرف دیکھا۔۔وہ نوجوان لڑکا تھا،کمزور سا دکھنے والا وہ لڑکا برباد کرنے کی بات کر رہا تھا اور وہ بھی اساور کاظمی کو۔۔
”آپ میرا ساتھ دیں گی اس میں“۔۔
لڑکے نے پوچھنے سے ذیادہ جیسے اسے بتایا تھا حکم دیا تھا۔۔
”اور تمہیں ایسا کیوں لگا؟؟“۔۔
زارا اس کے مقابل آ کھڑی ہوئی۔اب کہ آنکھوں میں چھایا غصے کا طوفان چہرے اور لہجے میں اترا تھا۔۔
”کیونکہ میں جانتا ہوں آپ ان سے نفرت کرتی ہیں”۔۔
وہ مسکرایا تھا۔۔فون بند کر کے اس طرف آتے حسام نے زارا کو کسی لڑکے کے پاس کھڑے دیکھا تو ٹھٹھک کر رکا تھا۔دل ایک پل کو ساکت ہوا کہ وہ کچھ اور نہ ہو۔۔مگر چٹاخ کی آواز نے اس کی سوچوں کو لگام لگایا کہ زارا کا زوردار تھپڑ اس لڑکے کے چہرے پر اپنا نشان چھوڑ گیا تھا۔۔حسام دوڑ کر اس کے پاس پہنچا۔۔اس سے پہلے کے زارا ایک اور تھپڑ اس کے منہ پر مارتی بلکہ مار مار کر ادھ موا کر دیتی حسام نے اسے بازو سے پکڑ کر کھینچا۔۔
”زارا۔!! زارا چلو“۔۔
”چھوڑو مجھے حلیہ بگاڑ دوں گی میں اس انسان کا۔کہتا ہے اساور کاظمی کو برباد کرے گا۔زارا رباب کے باپ کو برباد کرے گا۔اس سے پہلے زندہ زمین میں نہ گھاڑ دوں میں اسے“۔۔
وہ مسلسل غصے سے چلائی جا رہی تھی۔بہت سے لوگوں نے رک کر اس تماشے کو دیکھنا چاہا۔۔حسام نے بھی رک کر اس چہرے کو خفظ کیا جس کے لیئے کاظمی حویلی میں مشہور تھا کہ وہ صرف نفرت کرنا جانتی ہے وہ اساور کاظمی کے لیئے لڑنا بھی جانتی ہے۔یہ آج صرف اساور نے جانا تھا۔۔
وہ لڑکا گال پر ہاتھ رکھے پہلے خیرانگی اور اب غصے سے اسے دیکھ رہا تھا کہ وہ جو اساور سے نفرت کرتی تھی اس کو برباد کرنے کا سن کر آپے سے باہر کیوں ہو گئ۔اب کون جانتا تھا وہ ایک وعدہ تھا جو وہ کچھ پلوں پہلے سعدی سے کر آئی ہے یا وہ خون نے جوش مارا تھا؟؟۔چند پل وہ اسے دیکھتا رہا اور پھر لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔


سنو!!
وہ کچن میں چاۓ بنا رہی تھی جب اذان وہیں چلا آیا۔۔
”کچھ بات کرنی تھی تم سے“۔۔
وہ سنجیدہ لہجے میں بولا تھا۔سارہ نے پلٹ کر اسے دیکھا اور اس کے پاس چلی آئی۔۔
”کیا ہوا ہے؟“۔۔
سارہ کچھ پریشان سی ہو گئ۔۔
”ماما چاہتی ہیں اب میری شادی ہو جاۓ،میرا بھی خیال ہے اب میں بڑا ہو گیا ہوں تم کیا کہتی ہو؟“۔۔
اذان نے پوچھا۔۔
”اچھا خیال ہے کر لو“۔۔
سارہ رح موڑ کر کھڑی ہو گئ۔
”تم کرو گی مجھ سے شادی“۔۔
اذان نے کہا تو اس کے دل بےاختیار دھڑکا تھا۔لبوں کو ایک مسکان نے چھوا۔دل نے کہا’میں نہ کہتا تھا دل والا یہیں ہے’۔۔
”سارہ بولو یار“۔۔
اذان نے اس کا رخ بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کیا۔۔
”نہیں“۔۔
اس کے لبوں سے پھسلا اک لفظ پھسلا اور سامنے کھڑے شخص کا چہرہ سفید پڑ گیا۔آنکھوں نے بےیقینی سے اسے دیکھا۔سارہ کے بازو پر اس کی گرفت ڈھیلی پڑ گئ۔۔
”نہیں کروں گی“۔۔
وہ پھر سے بولی تھی۔اذان کا فق ہوتا چہرہ اسے مزا دے گیا تھا۔۔
”کک کیوں“۔۔
اس کی آواز بھرا گئ۔عین ممکن تھا آنکھیں چھلک پڑتیں۔۔
”ایسے بورنگ طریقے سے پرپوز کرو گے تو نہیں کرنی میں نے تم سے شادی۔اب چار لوگ مجھے بھی جانتے ہیں۔انہیں کیا بتاؤں گی کہ اذان کاظمی نے سارہ کاظمی کو کچن میں بورنگ سی سنجیدہ شکل اور روتی آنکھوں کے ساتھ پرپوز کیا“۔۔
سارہ مسکرا کر بولی تو اذان کی آنکھیں چمک اٹھیں۔اس نے دھیرے سے ایک چپت سارہ کے سر پر لگائی۔”شرارتی“۔۔
”اچھا کیسا پرپوزل چاہیئے؟“۔۔
اذان نے پوچھا۔۔
”میں کیوں بتاؤں۔مجھے سرپرائز پرپوزل چاہیئے،اب تم سوچو کیا کرنا ہے“۔۔
چاۓ کپ میں ڈالتی ایک مسکراہٹ اس کے چہرے پر اچھال کر وہ باہر نکل گئ۔


جاری ہے۔۔