52K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

بلگرامی ہاؤس میں پارٹی کی تیاریاں اپنے عروج پر تھی بلکہ تیاریاں تو مکمل ہو چکی تھیں لوگوں کی آمد اب شروع ہو چکی تھی ویٹر کھانے کے لوازمات ٹرے میں سجائے آئے ہوئے مہمانوں کے آگے لے جا کر انکی خاطر مدارت میں مصروف تھے
تیاری پوری ہے
اس نے گن کو پاکٹ میں رکھتے ہوئے پوچھا تھا
جی بلکل لیکن میں سوچ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی وہ کہنے ہی والا تھا کہ اچانک انت کا موبائل بجا تھا
ویٹ
انت نے جیسے ہی نمبر دیکھا تھا حمزہ کو کہتا روم سے باہر نکلا تھا
ہیلو انت اسپیکنگ
انت نے کال پک کرتے ہی کہا تھا
انت میں بول رہا ہوں مجھے تمہیں بتانا تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مقابل نے اسے وہ سب بتایا تھا جو وہ کب سے کھوج رہا تھا اسے بس وہی تو چاہیے تھا مگر وہ سب کہاں تھا اسے نہیں پتہ تھا اور آج اسے وہ سب بھی مل گیا تھا
اس نے کال اینڈ کی تھی اور کمرے میں آیا تھا
چلو حمزہ
اس نے آتے ہی ٹیبل پر رکھی دوسری گن اٹھائی تھی اور اسے دوسری پاکٹ میں رکھتا وہ کمرے سے باہر نکلا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
یہ ایک ایسا گھر تھا جو بلکل ویران تھا کوئی بندہ بشر نہ تھا ہر طرف ویرانی ہی ویرانی تھی وہ دونوں محتاط انداز میں آگے بڑھے تھے کیونکہ اس گھر سے انہیں بہت کچھ ملنے والا تھا
حمزہ تم اطراف کا جائزہ لو میں اندر جاتا ہوں
انت نے جیکٹ سے گن نکالتے ہی حمزہ سے کہا تھا اور حمزہ گن لئیے گھر کے پیچھے کی جانب گیا تھا
اس نے گھر کا دروازہ کھولا تھا جو ٹوٹا پھوٹا سا تھا اسے ہلکا سا پش کیا تھا کہ دروازہ ٹوٹ کر نیچے گرا تھا
اے لگتا ہے کوئی آیا ہے
اندر بیٹھے دو آدمیوں میں سے ایک نے کہا تھا
چل جا کے دیکھ تو
ایک نے دوسرے سے کہا تھا
نہیں تو جا مجھے یہ پینے دے
دوسرے نے ٹیبل سے گلاس اٹھاتے ہوئے کہا تھا
ابے جا نہ ڈرامے کیوں کر رہا ہے باس کو بتاؤں گا میں ورنہ
پہلے والے نے ٹیبل پر پڑی اس حرام چیز کی بوتل پر نظریں جمائے اس سے کہا تھا
تم لوگوں کو کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے میں خود ہی آ گیا ہوں
انت نے انکے سامنے آتے ہی کہا تھا
ابے یہ ۔۔۔۔۔۔۔یہ تو
اسے یونیفارم میں دیکھتے ہی پہلے والے نے ہکلاتے ہوئے کہنا چاہا تھا
ہاں کیپٹن انت آرمی مین تم لوگ تو میرے دائیں ہاتھ کا کھیل ہو
انت نے کہتے ہی ان دونوں پر مکوں اور لاتوں کی بوچھار کر دی تھی ایک تو وہ پہلے سے نشے میں تھے دوسرا انت کے جاندار مکے اور لاتیں کھا کر پانچ منٹ میں ہی ڈھیر ہو گئے تھے
دوسری جانب حمزہ اس گھر کے ارد گرد چکر لگا کر دیکھ رہا تھا کہیں وہاں کسی کو پہرا دینے کے لیے تو نہیں رکھا ہوا مگر ایسا کچھ نہیں تھا ایک تو گھر ایک ایسے علاقے میں تھا جہاں بندہ بشر دور دور تک نظر نہیں آ رہے تھے اوپر سے گھر کی حالت ایک دم ٹوٹی ہوئی تھی کوئی بھی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ اس ٹوٹے ہوئے گھر میں کسی کے کالے کرتوت کے سارے کارنامے موجود تھے
انت نے جیسے ہی گھر کے اندر بنے ایک کمرے کا دروازہ کھولا تھا اسے سامنے ایک چھوٹی سی الماری دکھی تھی جس میں وہ فائلز تھیں جسکی اسے کب سے تلاش تھی وہ تیزی سے اس الماری کی طرف بڑھا تھا اور الماری میں لگے ہوئے پن کوڈ کو دیکھا تھا
شٹ یہاں تو پاسورڈ چاہیے اب کہاں سے پاسورڈ لاؤں
انت نے ایک ٹانگ الماری کو مارتے ہوئے غصے سے کہا تھا کیونکہ اسکے پاس وقت بہت کم تھا
ممممم۔۔۔۔۔۔۔مجھے ججججججج۔۔۔۔۔۔جانے ۔۔۔۔۔۔۔دددددد۔۔۔۔۔۔دو
وہ ابھی غصے میں اتنا ہی بول پایا تھا کہ اسے کسی کہ گھٹی گھٹی سی ہکلاتی ہوئی التجا سنائی دی تھی اس نے یہ آواز سنتے ہی ارد گرد نظریں دوڑائیں اور اسے ایک کونے میں سمٹی سی چادر میں لپٹی ایک ضعیفہ خاتوں دکھی تھی وہ تیزی سے اسکی طرف بڑھا تھا
آپ کون ہیں ٹھیک تو ہیں آپ
انت نے اس عورت کو ہاتھ سے چھوتے ہوئے پوچھا تھا
اااا۔۔۔۔۔۔۔انت
اس عورت نے بھرائی ہوئی آواز میں مشکل سے انت کا نام لیا تھا
جی میں لیکن آپ کون۔۔۔۔۔۔۔
انت نے کہتے ہوئے جیسے ہی اس ضعیفہ خاتون کو اپنی جانب کیا تھا اسکے الفاظ اسکے منہ میں ہی دم روڑ گئے تھے یک دم آنکھیں نمکین پانی سے بھر گئیں تھیں یہ کیسی قدرت تھی کیسا انعام تھا یا کیسا پھر کیسا امتحان تھا وہ سمجھنے سے قاصر تھا سامنے جھریوں سا چہرا ، زرد رنگت ، کمزور جسم اور ہکلاتی ہوئی زبان یا خدا یہ کیا تھا میں نے کبھی ایسا سوچا بھی نہیں تھا
وہ اس عورت کو دیکھتے ہی دل سے تڑپ اٹھا تھا دل کی تڑپ کیا ہوتی ہے دکھ کیا ہوتا ہے کرب کیا ہوتا ہے یہ کوئی اس سے پوچھتا یہ ایسی چیزیں ہوتی ہیں کہ بیان کرنا چاہو تو الفاظ نہیں ملتے
امی
اس نے بھرائی ہوئی آواز میں اس عورت کو پکارہ تھا اور اور اسکے گلے لگ کر اسے محسوس کرنا چاہا تھا
امی آپ کی ایسی حالت میں نہیں چھوڑوں گا اسے امی آپ ٹھیک تو ہیں نا چلیں میں ۔۔۔۔۔میں آپ کو لیکر چلوں گا یہاں سے چلیں گھر چلتے ہیں
حمزہ
حمزہ جلدی آؤ یہاں
انت نے اپنی ماں کو دیکھتے ہوئے محبت سے کہا تھا پھر حمزہ کو آواز دی تھی جو شاید گھر میں داخل ہو ہی رہا تھا انت کی پکار سن کر فوراً بھاگتا ہوا کمرے میں آیا تھا
جی بھائی مل گئے۔۔۔۔۔۔۔
ابھی حمزہ نے بولنا چاہا تھا جب اسکی نظر اپنی ماں پر پڑی تھی
اممم۔۔۔۔۔امی
اس نے با مشکل کہا تھا کیونکہ اسے تو یہ سب خواب لگ رہا تھا
بھائی ۔۔۔۔بھائی یہ ۔۔۔۔۔ام۔۔۔۔۔امی ہیں نا
حمزہ نے انت کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا گویا اپنی دیکھی گئی چیز کی تصدیق چاہی تھی اور انت نے نم آنکھوں سے گردن ہلائی تھی گویا اسکی بات کی تصدیق کر دی تھی
امی
حمزہ نم آنکھیں لئے انکے وجود سے لپٹا تھا
بہت مس کیا میں نے آپ کو بہت رویا بھی تھا کہاں چلی گئی تھیں آپ اور یہ ۔۔۔۔۔یہ کیا حالت بنا لی آپ نے
حمزہ نے انکے ہاتھ پاؤں ٹٹولتے ہوئے کہا تھا
حمزہ شششش دیکھو انکی حالت وہ ابھی اپنے حواسوں میں نہیں ہے وہ کیسے یک ٹک دیکھ رہی ہیں تمہیں
انت نے حمزہ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے کہا تھا
انت
بھائی۔۔۔۔ دیکھا امی نے آپ کا نام لیا وہ اپنے حواسوں میں ہے
حمزہ نے سنتے ہی فوراً کہا تھا
امی ۔۔۔۔۔۔۔
ابھی انت کچھ کہنے ہی لگا تھا جب ماہم بے ہوش ہو گئی تھی اور انت نے انہیں سنبھالا تھا
یہ سب ہو کیا رہا ہے مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے
حمزہ نے پریشانی سے کہا تھا
حمزہ ماں کبھی بھی اپنے بچوں کو نہیں بھولتی وہ پاگل بھی ہو جائے نہ تو تب بھی وہ اپنی اولاد کو پہچان لیتی ہے اور امی نے مجھے پہچان لیا کہ میں انکا بیٹا ہوں ابھی وہ اپنے حواسوں میں نہیں ہے انہیں ٹریٹمنٹ کی ضرورت ہے میں انہیں لیکر گاڑی تک جاتا ہوں تم یہ فائلز اٹھا کر لاؤ
انت حمزہ کو کہتا ماہم کو بانہوں میں اٹھائے کمرے سے باہر نکل گیا تھا حمزہ بھی فائلز کو جلدی سے اٹھاتے ہی اسکے پیچھے آیا تھا
میں کار ڈرائیو کرتا ہوں
حمزہ نے انت کو دیکھتے ہوئے کہا تھا اور انت نے ہاں میں گردن ہلائی تھی ماہم کو بیک سیٹ پر لیٹایا تھا اور اسکا سر اپنی گود میں رکھا تھا جبکہ حمزہ نے گاڑی سٹارٹ کی تھی
بھائی نہیں چھوڑوں گا میں کسی کو بھی جو جو ان سب میں ملوث ہے
حمزہ نے لہو رنگ آنکھوں سے گاڑی ڈرائیو کرتا ہوئے کہا جبکہ انت کچھ نہ بولا تھا وہ خاموش تھا بلکل ویسے جیسے طوفان آنے سے پہلے خاموشی ہوتی ہے لیکن اس خاموشی کے پیچھے کتنا خطرناک طوفان آنے والا تھا اس سے سب بے خبر تھے۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
پارٹی اپنے عروج پر تھی بلاول شاہ اور عارف بلگرامی اپنے خصوصی مہانوں سے ملنے میں مصروف تھے ہر طرف قہقوں کی آوازیں تھیں
تو مسٹر بلاول شاہ نیکسٹ کیا پلین ہے آپ کا
ایک بزنس مین نے بلاول شاہ سے پوچھا تھا
بس اب ایک کمپنی کھولنی ہے پاکستان کی نمبر ون کمپنی بناؤں گا اسے
بلاول شاہ نے اپنا پلین بتایا تھا
گوڈ
ایک آدمی نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
ایکسکیوز می
بلاول شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا اور ان سے دور عارف کے پاس آیا تھا
تم نے کہا تھا کہ وہ مار دئے جائیں گیں ابھی تک کوئی خبر کیوں نہیں ملی
بلاول شاہ نے عارف کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا
آجائے گی خبر کیوں بے صبرے ہو رہے ہو
عارف بلگرامی نے گلاس منہ کو لگاتے ہوئے کہا تھا
پاگل ہو گئے ہو شیر کتنا بھی زخمی کیوں نہ ہو اسے کمزور سمجھنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے
بلاول شاہ نے اسکے اطمینان کو دیکھتے ہوئے غصے سے کہا تھا
شیر جتنا بھی طاقتور ہو لیکن۔ جب اسکی کمزوری پر وار کیا جائے وہ کمزور ہو ہی جاتا ہے
عارف بلگرامی نے شیطانی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے بلاول شاہ کو دیکھتے ہوئے کہا
کیا مطلب میں کچھ سمجھا نہیں
بلاول شاہ نے حیرت سے پوچھا تھا
مطلب بھی پتہ چل جائے گا ابھی پارٹی انجوائے کرو
عارف بلگرامی نے مسکراتے ہوئے کہا تھا اور بلاول شاہ کے ہاتھ میں پکڑے گلاس پر اپنا گلاس ہلکا سا ٹکراتے ہوئے وہاں سے چلا گیا تھا جبکہ بلاول شاہ ابھی حیرانگی میں تھا ۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
انت اور حمزہ ماہم کو لیکر گھر پہنچے تو انھیں کچھ انہونی کے ہونے کا احساس ہوا تھا
حمزہ نے گاڑی پورچ میں روکی تھی اور گاڑی سے باہر نکلا تھا وہیں انت بھی فوراً گاڑی سے نکلا تھا
تم رکو میں آتا ہوں
انت حمزہ سے کہتا فوراً گھر میں داخل ہوا تھا مگر گھر کے اندر کا منظر دیکھ اسکی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا ساتھ ہی پریشانی بھی ہوئی تھی
بھائی کیا ۔۔۔۔۔۔
ابھی حمزہ گھر میں داخل ہوا ہی تھا کہ گھر کا منظر دیکھ کر چپ ہو گیا تھا
مائرہ
حیا باجی
اماں صاحب، شانزہ آنٹی
شفاقت انکل
کہاں ہیں آپ سب ؟
حمزہ پریشانی سے گھر میں سب کو آوازیں دینے لگا تھا مگر بدلے میں اسے صرف خاموشی ملی تھی
بھائی
حمزہ نے حیرت سے انت کو دیکھتے ہوئے اسے پکارہ تھا
مجھے پتہ ہے وہ سب کہاں ہیں اور کون لے گیا ہے انہیں
انت نے غصے سے گھر کی بکھری حالت دیکھتے ہوئے کہا تھا کیونکہ گھر کی حالت خود بتا رہی تھی کہ یہاں کے مقیم لوگوں کے ساتھ بہت بری طرح کا سلوک کیا گیا ہے ہر چیز بکھری پڑی تھی جیسے گھر میں آئے گئے لوگوں سے مزاحمت کی گئی تھی نا جانے کے لیے ان کے ساتھ
چلو حمزہ
انت نے غصے سے کہا تھا اور گھر سے باہر نکل گیا تھا حمزہ بھی بھاگتا ہوا اسکے پیچھے آیا تھا
بھائی کچھ تو بتائیں آپ کو کیسے پتہ اگر پتہ تھا تو پھر آپ نے یہ سب کیوں ہونے دیا
حمزہ نے الجھی ہوئی نظریں اس پر جمائے پوچھا تھا
میں پاگل نہیں ہوں کہ اپنے گھر والوں کو مشکل میں ڈالوں گا یہ سب صرف ایک انسان کا کام ہے جسکا مجھے پتہ ہے کہ کس نے کیا ہے یہ سانپ کے بل میں ہاتھ ڈالا ہے اب مرنا ہوگا ان دونوں کو اب میں زرا بھی رحم نہیں کھاؤں گا کسی پر کیوں کہ یہاں بات اب میری عزت میری فیملی پر آ گئی ہے میری فیملی پر بری نظر ڈالی ہے
انت نے گاڑی پر غصے سے ہاتھ مارتے ہوئے کہا تھا
تم ماں کو ہاسپٹل لے کر جاؤ اور انہیں ایڈمیٹ کرواؤ میں باقی سب کو لیکر آتا ہوں
انت نے حمزہ کو دیکھتے ہوئے کہا تھا
مگر بھائی آپ اکیلے کیسے میں بھی چلوں گا آپ کے ساتھ
حمزہ نے فوراً کہا تھا
آ جانا لیکن پہلے ماں کو ہاسپٹل لے کر جاؤ
انت نے حکمیہ لہجے میں کہا تھا
ٹھیک ہے میں دوسری گاڑی میں چلا جاتا ہوں
حمزہ نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا
نہیں تم جاؤ میں چلا جاؤں گا
انت نے اسے دیکھتے ہوئے کہا اور پورچ میں کھڑی دوسری گاڑی کو لئیے گھر سے نکل گیا تھا حمزہ بھی گاڑی کو سڑک پر ڈالے ہاسپٹل کی جانب چل دیا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
Here is the Last episode of my novel 💜💜💜
انت سیدھا بلگرامی ہاؤس آیا تھا جہاں پارٹی ہو رہی تھی
کون ہیں آپ کہاں جا رہے ہیں
گارڈ نے انت کو غصے سے گھر میں داخل ہوتے دیکھ پوچھا تھا
سائیڈ پر ہو جاؤ ورنہ میرے ہاتھوں سے مارے جاؤ گے
انت نے گارڈ پر اپنی سرخ نظریں گاڑے کہا تھا کہ گارڈ ڈرتے ہوئے پیچھے ہو گیا تھا کیونکہ آج انت کے سارے وجود کا خون لگتا تھا آنکھوں میں ہی ا گیا تھا
وہ غصے سے قدم بڑھاتا گھر میں داخل ہوا تھا جہاں سب آپس میں باتوں میں مصروف تھے اس نے یہاں وہاں نظریں گھمائی تھیں اور جلد ہی اسے ایک کونے میں وہ دونوں کسی سے مسکراتے ہوئے باتیں کرتے دکھائی دئیے
اس نے گن نکالی تھی اور ہوا میں فائر کیا تھا کہ سارے مسکراتے ہوئے چہروں پر ڈر کے تاثر چھائے تھے عارف بلگرامی اور بلاول شاہ نے اس سمت دیکھا تھا جہاں سے فائر کی آواز آئی تھی اور اسے سامنے دیکھ انکے چہرے کا رنگ اڑا تھا اور سب کی چیخ نکلی تھی
انت نے ایک نظر سب کو دیکھا تھا پھر دور کھڑے ان دونوں کو
کہا تھا میں نے کہ شیر کو کبھی کمزور مت سمجھنا
بلاول شاہ نے عارف بلگرامی کے کان میں سرگوشی کی تھی
کچھ نہیں ہوگا کچھ نہیں کر پائے گا یہ
عارف بلگرامی نے قدرے سکون سے کہا تھا کہ بلال نے اسے حیرت سے دیکھا تھا
جسے اپنی جان پیاری ہے وہ یہاں سے دو منٹ کے اندر اندر غائب ہو جائے اور اگر اس بارے میں کسی کو کچھ بتایا تو وہ دوبارہ کچھ بولنے کے لائق نہیں بچے گا جانتے ہوں گے مجھے میں ہوں انت شاہ کیپٹن انت شاہ سمجھ گئے
انت نے غصے سے دہاڑتے ہوئے کہا تھا جبکہ وہاں موجود سارے نفوس کے سر خود بخود ہاں میں ہلے تھے
نکلو شاباش جلدی
انت نے گن سے باہر جانے کا اشارہ کیا تھا اور سب ایسے وہاں سے نکلے تھے جیسے بوتل کا جن غائب ہوتا ہے جبکہ عارف بلگرامی اور بلاول شاہ وہیں کھڑے تھے
کہاں ہیں میری فیملی
انت نے انکے پاس آتے ہی عارف بلگرامی کو دیکھتے ہوئے کہا تھا
ابھی بتا دوں کیا
عارف بلگرامی نے مسکراتے ہوئے کہا تھا جبکہ بلال شاہ نے سکون کا سانس لیا تھا کیونکہ اب انت کی کمزوری انکے پاس تھی
نہیں بتاؤ مجھے نہیں جاننا کہ میری فیملی کہاں ہے کیونکہ مجھے میری فیملی چاہیے نہیں
انت نے مسکراتے ہوئے کہا تھا اور اسکی بات سن کر اب بلاول شاہ اور عارف بلگرامی کو حیرت کا جھٹکا لگا تھا
کیا مطلب تمہیں اپنی فیملی پیاری نہیں ہے بڑے بے حس نکلے تم تو
اب کی بار بلاول شاہ بولا تھا
ہاں بے حس نکلا ہوں آخر بیٹا جو آپ کا ہوں کچھ نا کچھ بلکہ زیادہ تر آپ کی اچھائیاں برائیاں تو آئیں گی مجھ میں جس طرح آپ بے حس ہوئے تھے بلکل ویسے ہی آج میں بے حس ہوں
انت نے طنزیہ انداز میں کہا تھا
بکواس بند کرو
بلاول شاہ اسکی بات سن کر غصے سے بولا تھا
پتہ ہے مجھے سچ ہمیشہ کڑوا ہی لگتا تھا مثال کے طور پر ابھی خود کو ہی دیکھ لو
انت نے پھر طنز کیا تھا
مار دوں گا میں تمہاری فیملی کو
عارف بلگرامی نے غصے سے کہا تھا
مار دو
انت نے سکون سے جواب دیا تھا
چلو اب ایک گیم کھیلتے ہیں
انت نے گن کو ہاتھوں میں لئے کہا تھا اور اسکی بات سن کر وہ دونوں حیرت سے اسے دیکھنے لگے تھے اتنی سیریس سچویشن میں گیم کھیلنی ہے اسے
پتہ ہے پاگل سمجھ رہے ہو نہ مجھے ابھی بتاتا ہوں
انت نے مسکراتے ہوئے گن کو اپنی پیشانی پر رگڑتے ہوئے کہا تھا اور ایک لمحہ میں اسی گن سے گولی چلائی تھی جو سیدھا عارف کے پیر پر لگی تھی ابھی بلال شاہ کو کچھ بھی نا آیا تھا ایک اور گولی انت نے چلائی تھی جو سیدھا بلاول کے دائیں پاؤں پر لگی تھی اور دونوں کراہتے ہوئے نیچے زمین پر گرے تھے
کیسا لگا پاگل پن ارے ابھی تو کچھ دیکھا بھی نہیں ہے ایک اور سرپرائز دوں
انت نے دونوں کو دیکھ کر کہا تھا
ابھی دکھاتا ہوں
انت نے مسکراتے ہوئے کہا تھا اور دیوار پر لگی ایل ای ڈی اون کی تھی اور نیوز چینل لگایا تھا
” جی ہاں ناظرین آپ کو بتاتے چلیں کہ پاکستان کے معروف بزنس مینز عارف بلگرامی اور بلاول شاہ دراصل بزنس کی آڑ میں دوسری سرگرمیوں میں ملوث تھے جنکی ڈیٹیل ابھی ابھی ہمیں موصول ہوئیں ہیں آپ سب کو بتاتے چلیں کہ بلاول شاہ نے نا صرف دوسرے لوگوں کی زندگیاں برباد کی ہیں بلکہ اپنی فیملی تک کو مارنے کی کوشش کی ہے انکی مسسز ماہم شاہ کو ایک لمبے عرصے تک اپنا بندی بنا کر رکھا گیا تھا اور اس کے علاؤہ آپ کو بتاتے چلیں کہ ناظرین کیپٹن حمزہ اور کیپٹن انت پر جو الزام لگائے گئے تھے وہ سب جھوٹے تھے کیونکہ یہ سب عارف بلگرامی اور بلاول شاہ کی پلیننگ تھی اور یہ سب میڈیا کو عارف بلگرامی کے بیٹے شاہ رخ بلگرامی نے خود بتایا ہے وہ ان دونوں کے خلاف گواہی دیں گے۔”
ٹی وی پر نیوز اینکر بار بار اپنی لائینز دوہرا رہا تھا جبکہ عارف بلگرامی اور بلاول شاہ پر تو ساتوں آسمان ٹوٹ پڑے تھے اتنی ذلت و رسوائی عارف نے سامنے کھڑے انت کو دیکھا تھا جیسے پوچھ رہا ہوں یہ سب کیسے ہوا اسکا بیٹا اس سے کیسے ملا
مجھے پتہ ہے تم کیا پوچھنا چاہتے ہو جب مجھے پولیس پکڑنے آئی تھی تب میں نے آرمی چیف سے کچھ گھنٹوں کی مہلت مانگی تھی کہ میں یہ سب جھوٹ ثابت کر کے دکھاؤں گا اور تب ہی مجھے مجھے شاہ رخ کی کال آئی اس نے مجھے سارے ثبوتوں کے بارے میں بتایا اور میں نے سب کچھ سر عام سب کو بتا دیا اب تم دونوں اپنی خیر مناؤ اور جہاں تک میری فیملی کی بات ہے حمزہ انہیں بچا چکا ہے
تم جانتے ہو میں کیوں خاموش تھا کیونکہ مجھے میرے اللہ تعالیٰ پر یقین تھا کسی کو ذلیل کرنے سے پہلے خود ذلیل ہونے کے لئے تیار رہنا چاہئے جانتے ہو کیوں کیونکہ اللہ ربّ العزّت کا ترازو صرف انصاف تولتا ہے اور آج اسکے ترازو نے انصاف تولا ہے تیرا برا وقت تیرے روبرو آیا ہے اب تجھے کوئی نہیں بچا پائے گا
انت نے بلاول شاہ اور عارف بلگرامی کو دیکھتے ہوئے کہا تھا اور ساتھ ہی لائیٹر نکالا تھا
جانتے ہو اس سے کیا ہوگا میں بتاتا ہوں ابھی میں نے ایک آگ کی انگاری یہاں چھوڑی نہ تو پورا بلگرامی ہاؤس آگ میں لپٹ جائے گا کیونکہ میں نے پیٹرول کے بڑے کنٹینر دلوائے ہیں
انت نے مسکراتے ہوئے انہیں بتایا تھا
پلیز ہمیں چھوڑ دو معاف کر دو
بلاول اور عارف نے ہر طرف سے خود کو گھیرے میں دیکھتے ہوئے التجا کرنا شروع کی تھی
ٹھیک ہے چھوڑ دیتا ہوں
انت نے فوراً کہا تھا اور ساتھ ہی فائر کیا تھا جو سیدھا عارف کے دوسرے پاؤں پر لگی تھی وہ پھر سے کراہ اٹھا تھا وہیں دوسری گولی بلاول کے دوسرے پاؤں پر لگی تھی اور وہ بھی کراہ اٹھا تھا
اتنی آسان موت تھوڑی دوں گا میں تم دونوں کو بہت برا کیا ہے سب ک ساتھ تم دونوں نے اب تو جلنا ہے تم لوگوں نے تو تیار ہو نہ جلنے کے لئے بہت مزا آئے گا مرنے کا تم دونوں کو سو گڈ لک
انت نے طنزیہ انداز میں کہا تھا اور گھر سے باہر نکلنے لگا تھا
مت جاؤ ہمیں معاف کر دو
پیچھے سے عارف بلگرامی اور بلاول شاہ نے گھیسٹتے ہوئے اسے کہا تھا لیکن وہ سب سنے بغیر باہر نکل گیا تھا اور جو اطراف میں لوگ ہاتھوں میں آگ پکڑے تھے انہوں نے بنگلہ کو لگا تھی اور کچھ ہی دیر میں بنگلہ آگ کی لپیٹ میں آ چکا تھا اور اندر عارف بلگرامی نے بلاول شاہ چیختے ہوئے آگ کی لپیٹ میں آ گئے تھے جبکہ انت نے تسلی سے انہیں آگ میں جھلستے ہوئے دیکھا تھا اور پھر وہاں سے چلا گیا تھا ۔
حمزہ اور انت کا پرموشن کر دیا گیا تھا ساری عوام نے دونوں کی قابلیت اور محبت جو انکی اپنے وطن کے متعلق تھی اسے سراہا تھا کیونکہ نا صرف آج عارف بلگرامی اور بلاول شاہ مرے تھے بلکہ اس کے ساتھ ملک سے غدار بھی ختم ہوئے تھے جو اپنے ہی ملک کی جڑیں کھوکھلی کرتے ہیں چند روپوں کی خاطر
ہم سب کو بھی ظلم کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے اور اپنے ملک کی حفاظت کے لیے ہر قدم پر تیار رہنا چاہیے پھر وہ دشمن بھلے غیر ملکی ہوں یا اپنے ملک کے غیر ہوں یا اپنے جو وطن کا دشمن ہے وہ ہمارا دشمن ہے اور ہم اپنے ملک پر بری نظر ڈالنے والوں کی آنکھیں نوچ سکتے ہیں انہیں زندہ زمین میں دفن کر سکتے ہیں۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

کچھ مہینےبعد

امی تھوڑا سا کھا لیں بس یہ اسکے بعد نہیں کھلاؤں گا
انت نے ماہم کے سامنے نوالہ کرتے ہوئے کہا تھا
مجھے نہیں کھانا
ماہم نے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کیونکہ وہ پہلے ہی اتنا کھا چکی تھی اور کھانے کی گنجائش نہیں تھی مگر پھر بھی انت اسے کھلا رہا تھا کیونکہ ڈاکٹر نے ماہم کو کمزوری بتائی تھی
پلیز مجھے نہیں کھانا
ماہم نے رونی شکل بناتے ہوئے کہا تھا
جب وہ کہہ رہی ہے تو کیوں زبردستی کر رہے ہو انت
اماں صاحب نے انت کو دیکھتے ہوئے کہا تھا
اچھا ٹھیک ہے مت کھائیں
انت نے مسکراتے ہوئے نوالہ پلیٹ میں رکھا تھا
امی یہ لیں دودھ پی لیں
حیا دودھ کا گلاس پکڑے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہنے لگی تھی اور ماہم نے اسے دیکھا تھا
ہاہاہا
انت کا قہقہہ نکل گیا تھا ماہم کی ٹیرھی میڑھی شکل دیکھ کر جو دودھ کے گلاس کو دیکھتے ہی بن رہا تھا
کیا ہوا ہنس کیوں رہے ہو
حیا نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا
کچھ نہیں
انت نے مسکراتے ہوئے کہا تھا کہ اچانک حیا کا دل خراب ہوا تھا
کیا ہوا
انت نے فوراً اسکے ہاتھ سے گلاس پکڑتے ہوئے حیا سے پوچھا تھا لیکن حیا فوراً باتھ روم کی طرف بھاگی تھی جبکہ باہر اسکی قے آنے کی آواز آئی تھی
کیا ہوا اسے
انت نے پریشانی سے کہا تھا جبکہ اماں صاحب اور ماہم مسکرا دی تھی تبھی حیا قے کر کے باہر آئی تھی
کیا ہوا حیا تمہاری طبیعت خراب لگ رہی ہے
انت نے فوراً کہا تھا
کل سے قے ہو رہی ہے
حیا نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا تھا
واٹ کل کی بیمار ہو اور ابھی بتا رہی ہو حد ہے میں گھر سے کیا جاتا ہوں کوئی کچھ بتاتا ہی نہیں ہے
انت نے پریشانی اور غصے سے کہا تھا
کچھ نہیں ہوا انت بس اب تم مٹھائی لے آؤ
اماں صاحب نے مسکراتے ہوئے انت سے کہا تھا اور اس نے حیرت سے اماں صاحب کو دیکھا تھا
کیا ہو گیا اماں صاحب حیا کی طبیعت خراب ہے اور آپ نے مٹھائی کھانی ہے
انت نے حیرانگی سے کہا تھا
ہاں کیوں کہ بات خوشخبری کی ہے باپ بننے والے ہو
اماں صاحب نے دھماکہ کیا تھا جسے سن کر انت تو ساکت ہو گیا تھا اور یہی حال حیا کا تھا
واٹ سیریسلی اماں آپ ۔۔۔۔۔آپ مزاق تو نہیں کر رہی نہ
انت نے خوشی سے پوچھا تھا
نہیں انت عمر گزاری ہے میں نے اتنی تو سمجھ بوجھ ہے مجھ میں پھر بھی تم اسے ڈاکٹر کے پاس لے جاؤ اپنی تسلی کر لینا
اماں صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا تھا جبکہ حیا شرماتے ہوئے کمرے سے نکل گئی تھی
مم۔۔۔میں
ہاں جاؤ تم
ابھی انت کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کیا بہانہ بنا کر جائے کہ اماں فوراً بولی تھی اور وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا کمرے سے نکل گیا تھا
وہ کمرے میں داخل ہوا تو حیا بیڈ پر بیٹھی مسکرا رہی تھی وہ کمرے میں داخل ہوا اور حیا کو کلائی سے پکڑ کر اپنے مقابل کھڑا کیا تھا
آئی لو یو حیا سچ میں آج تم نے مجھے بہت بڑی خوشی ہے
انت نے حیا کو گلے لگائے خوشی سے کہا تھا
آپ خوش ہیں نہ
حیا نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا
خوش ارے بہت بہت بہت خوش ہوں میں تم سوچ بھی نہیں سکتی اتنا کل ہم ڈاکٹر کے پاس جائیں گے اور میں حمزہ اور مائرہ کو بھی بتا دیتا ہوں
انت نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا
ارے کل بتا دینا انہیں اب انہیں ڈسٹرب نہ کریں
حیا نے اسے دیکھتے ہوئے فوراً کہا تھا
کیا ہوگیا یار بتاؤں گا میں کون سا امریکہ جانے لگا ہوں
انت نے برا منہ بناتے ہوئے کہا تھا
وہ انجوائے کر رہے ہوں گے کرنے دیں انکا ہنی مون مت خراب کریں
حیا نے انت کو دیکھتے ہوئے کہا تو اس نے حیا کو پھر سے گلے لگایا تھا
کیا چاہیے تمہیں انت
حیا نے اسکے سینے سے لگے پوچھا تھا
جو بھی اللہ دے دے
انت نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
مطلب آپ کی کوئی ڈیمانڈ نہیں ہے کیا کہ آپ کو لڑکا ہی چاہیے
حیا نے نا جانے کیوں ایسا سوال کیا تھا
حیا اللہ سے بس اتنی دعا کرنی چاہیے کہ وہ ہمیں لڑکا دے یا لڑکی وہ اسکی محبت ہے بس کوئی تیسری چیز نہ دے بیٹا ہوا تو ہمارے لئے نعمت ہوگا جبکہ بیٹی ہوئی تو ہمارے لئے رحمت ہو گی
انت نے حیا کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کی پیالی میں لیتے ہوئے کہا تھا
بہت خوش قسمت ہوتے ہیں وہ جنہیں آپ جیسے شوہر ملتے ہیں میں بہت خوش قسمت ہوں اور اللہ کی بہت شکر گزار بھی
حیا نے انت کے سینے سے لگتے ہی کہا تھا اور اس نے اسکے گرد اپنے بازوؤں کا گھیرا بنایا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
کیا کر رہی ہو چھپکلی
حمزہ نے مائرہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا
دکھ نہیں رہا آپ کو میں سونے لگی ہوں
مائرہ نے غصے سے کہا تھا
اف ہماری زوجہ ناراض ہیں ہم سے
حمزہ نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
آپ جائیں یہاں سے
مائرہ نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے منہ پھلائے کہا تھا
او ہو سچ میں چلا جاؤں
حمزہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا تھا
ہاں جاؤ
مائرہ نے ہنوز منہ پھلائے کہا تھا
ٹھیک ہے
حمزہ نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا اور کمرے کے دروازے کی طرف چلا تھا مائرہ نے اسے جاتے دیکھا تھا فوراً اسکے قریب پہنچی تھی
کہاں جا رہے ہو
مائرہ نے اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے پوچھا تھا
تم نے کہا جاؤ تو جا رہا ہوں
حمزہ نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا
کیوں میں بولوں گی تو چلے جاؤ گے
مائرہ نے فوراً کہا تھا
نہیں تو
حمزہ نے اسے کمر سے پکڑ کر اپنے قریب کرتے ہوئے مسکرا کر کہا تھا
میں ناراض ہوں
مائرہ نے بتایا تھا
میں ناراضگی دور کروں گا نہ
حمزہ نے معنی خیزی سے کہا تھا
ویسے بہت پیاری لگ رہی ہو
حمزہ نے اسکے کان کے قریب سرگوشی نما انداز میں کہا تھا اور وہ شرما گئی تھی
تمہارا یہی انداز مجھے بے باک کرتا ہے
حمزہ نے کہتے ہی اسے گود میں اٹھایا تھا اور بیڈ کی طرف چل دیا تھا جبکہ وہ اسکے سینے میں سر چھپا گئی تھی
اس نے اسے بیڈ پر بٹھایا اور خود اسکے قریب بیٹھا تھا
پیار کرتی ہو مجھ سے
حمزہ نے اسے چہرا جھکائے بیٹھا دیکھ پوچھا تھا اور اس نے ہاں میں سر ہلایا تھا
منہ سے بولو
اس نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا
مجھے شرم آ رہی ہے
مائرہ نے شرماتے ہوئے کہا تھا
بتاؤ بھی
حمزہ نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
ہاں کرتی ہوں پیار آئی لو یو
مائرہ نے کہتے ہی اپنا سر اسکے سینے پر رکھا تھا اور اس نے مسکراتے ہوئے آنکھیں بند کر لی تھی اور یوں محبت کی داستان آج پھر اپنے پائے تکمیل تک پہنچی تھی آج انت الحیاۃ ایک ہوئے تھے وہیں انکی زندگی سے جڑے مائرہ اور حمزہ بھی ایک ہوئے تھے اور زندگی خوشگوار ہو گئی تھی بے شک مشکل کے بعد آسانی ہے اور آج وہ سچ ہو چکا تھا اتنی تکلیفوں کے بعد آج ان لوگوں کو خوشیاں مل گئیں تھی ۔
دور آسمان میں موجود چاند بھی آج مسکرا پڑا تھا ایسی پرخلوص اور سچی محبت دیکھ کر۔
💝💝💝💝💝💝
سنو ۔۔۔
چاند سے تھوڑی مٹی لانا
مٹی کے دو بت بنانا
ایک تیرے جیسا ایک میرے جیسا
پھر ان بتوں کو توڑ دینا
مٹی کو آپس میں ملانا
پھر اس مٹی سے دو بت بنانا
ایک تیرے جیسا ایک میرے جیسا
تاکہ۔۔۔۔۔۔۔۔
تجھ میں کچھ کچھ میں رہ جاؤں
مجھ میں کچھ کچھ تم رہ جاؤ !!!
💝💝💝💝💝💝
🌼🌼🌼🌼🌼🌼 ختم شد 🌼🌼🌼🌼🌼🌼
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺