Unt Ul Hayaat By Samreen Zahid readelle50029 Episode 21
Rate this Novel
Episode 21
انت اب حقیقت عیاں کر چکا تھا جبکہ ہال میں بیٹھے سارے نفوس یوں ہی بیٹھے اسے سن رہے تھے جب اچانک حمزہ بولا تھا
اوکے بھائی میں یہ سب جانتا ہوں ہمارے ساتھ بہت برا ہوا آپ نے بہت کچھ سہا مگر ایک بات ہے جو مجھے اب بھی الجھائے رکھی ہوئی ہے وہ یہ کہ اس سب میں آپ نے یہ نہیں بتایا کہ میں حیا بھابھی کا بھائی کیسے ہوا ؟
حمزہ نے الجھی ہوئی نظریں اس پر ڈالے سوال کیا تھا جس پر انت ہلکا سا مسکرایا تھا
اف بس یہی پوچھنا تھا تم نے تو میرے بھائی تمہیں یاد ہوگا جب شاہ رخ کو اسکا باپ لینے آیا تھا تو میں نے ایک پیپر پر اسکے سائن لیے تھے
انت نے اسے دیکھتے ہوئے یاد کرایا تھا
جی بلکل لئیے تھے مگر اسکا یہاں کیا تعلق ؟
حمزہ نے حیرت سے پوچھا تھا
تمہیں آرمی کیپٹن کس نے بنایا
انت نے شرارت سے مگر سنجیدگی کے لبادے میں کہا تھا جبکہ وہ خاموش ہوگیا تھا جبکہ باقی سب ہولے سے مسکرائے تھے
بھائی پلیز بات بتائیں میری ٹانگ نہ کھینچیں
حمزہ نے خجل ہوتے ہوئے کہا تھا
جب مجھے پتہ چلا کہ حیا شاہ رخ کی بہن ہے تب میں نے عارف بلگرامی کو کال کر کے حیا سے شادی کرنے کی ڈیمانڈ رکھی تھی اور اسکے بدلے اسکے بیٹے کو چھوڑنے کا وعدہ کیا تھا تب وہ بنا کسی شور شرابے کے میری شرط مان گیا تھا اور جہاں تک مجھے علم ہے کوئی باپ اپنی بیٹی کو اس طرح اپنی دشمنی کی بھینٹ نہیں چڑھاتا اور یہی بات مجھے ٹھٹکی تھی
تبھی میں نے سارا ڈیٹا نکلوایا تھا عارف بلگرامی کا سارے کالے کرتوت اسکے عیاں ہو گئے تھے میرے سامنے اور یہ سب اسکے جان عزیز دوست نے مجھے بتایا تھا کیونکہ میں نے اسکی کمزوری پر وار کیا تھا اسکی پراپرٹی جو کہ الیگل تھی اور تب اس نے مجھے اپنی پراپرٹی کو بچانے کے چکر سارے راز بتائے تھے عارف بلگرامی کے کس طرح اس نے حیا کے ابو کو مارا اور تب حمزہ چھوٹا سا تھا اور تبھی اسے کچرے کے ڈھیر میں پھینک کر اسکی پراپرٹی ہتھیانے کے چکر میں حیا کو پالا تاکہ جیسے ہی وہ اپنے باپ کی وصیت کردہ عمر کو پہنچی اور اتفاق سے اسی دن میں نے شاہ رخ کو کیڈنیپ کیا تھا بس پھر اس نے ایک تیر سے دو نشانے کئیے گھر میں حیا سے پراپرٹی کے پیپرز میں سائن لئیے اور یہاں شاہ رخ کو چھڑوا لے گیا
انت نے ساری حقیقت تفصیل سے بیان کی تھی جسے سنتے ہی حیا کو حیرت اور دکھ کا جھٹکا لگا تھا اور اسے وہ دن یاد آیا تھا جب عارف بلگرامی نے اس سے پیپرز پر سائن کروائے تھے
او مائے گوڈ اتنا بڑا پلین وہ بھی چند گز کی زمین اور چند نوٹوں کی گھٹھیوں کے لئے
حمزہ نے سنتے ہی حیرت سے کہا تھا
ہاں حمزہ تم کیا جانوں اس ظالم دنیا میں چند چیزوں کے لئے کیا سے کیا ہو جاتا ہے اپنے خون ہی سفید ہو کر رہ گئے ہیں آج کل کے دور میں
انت نے افسوس سے کہا تھا
مگر بندے کو اتنا بھی نہیں گرنا چاہیے بھائی
حمزہ نے فوراً کہا تھا
تم جانتے ہو دنیا میں ازل سے تین چیزوں کے لئے لڑائی رہی ہے خون بہے ہیں اپنے سگے خون سفید ہو کر رہ گئے ہیں اور تینوں چیزیں بڑی خطرناک ترین ہیں جو کہ زن ، زر اور زمین ہے اور ہمارے کیس میں بھی ایسا ہی تھا ہم شروع سے ان تینوں کا شکار ہوتے آ رہے ہیں
انت نے سنجیدگی سے کہا تھا
مگر وہ کیسے بھائی
حمزہ نے حیرت سے پوچھا تھا
بچپن سے دولت کے نشے میں چور باپ کو دیکھتے آئے جسکی واحد تمنا زر تھی مائرہ کو بچاتے آئے کیونکہ یہاں لڑائی زن یعنی عورت کے لئے تھی کیونکہ وہ مائرہ کو بیچنا چاہتے تھے اور تم اور حیا ہمیشہ زمین کی زد میں رہے کیونکہ عارف بلگرامی کو تم دونوں کی زمیں چاہیے تھی جو کہ تمہارے باپ کی طرف سے لگائی گئی وصیت تھی بس ہماری زندگی ان تینوں چیزوں کے گرد گھومتی رہی
انت نے افسوس سے کہا تھا
ممم۔۔۔میں اااا۔۔۔۔۔آپ کی ۔۔۔۔۔
مائرہ جو کب سے آنسوں ضبط کئے بیٹھی تھی انت کی بات سنتے ہی روتے ہوئے بولی تھی اس سے تو بولا بھی نہیں جا رہا تھا اسکی زندگی اور عزت بچانے کی خاطر اسکے بھائی نے کتنا کچھ سہا تھا
مجھے معاف کر دو مائرہ مگر یہ سب ضروری تھا
انت نے مائرہ کے روبرو کھڑے ہوتے ہوئے کہا تھا
بھائی
مائرہ نے روتے ہوئے کہا تھا اور اسکے گلے آ لگی تھی
ششششش۔۔۔۔۔بھائی کی گڑیا روتے نہیں ہیں
انت نے اسکے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا تھا
اور دوسری جانب حیا ایک دم ساکت کھڑی ہوئی تھی جبکہ حمزہ کب سے اسے دیکھ رہا تھا آج اسے بھی اپنی بہن ملی تھی جسکی چاہ اس نے کب سے کی تھی جب سے ہوش سنبھالا تھا اسکا بھی دل کرتا تھا کوئی ہوتی جو اسے ڈانٹتی اس پر بہن ہونے کا رعب جماتی اور آج اسکی یہ چاہ بھی پوری ہو گئی تھی وہ نم آنکھوں سے اسکی جانب بڑھا تھا
آپی
حمزہ نے حیا کے مقابل کھڑا ہوتے ہوئے اسے پکارہ تھا اور وہ محبت سے محروم لڑکی اس کی بات سنتے ہی اسے نم آنکھوں سے دیکھنے لگی تھی
جو ہوا برا ہوا لیکن اس سب کو بھول کر کیا آپ مجھے اپنا بھائی نہیں مانے گیں مجھے گلے نہیں لگائے گیں
حمزہ نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا اور اسکا ضبط یہی تک کا تھا اس نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا اور گلے لگا گئی تھی
حمزہ نے آنکھیں بند کر لی تھی آج اسے اسکی بہن ملی تھی یہ احساس ہی اسے سکون بخش رہا تھا کیونکہ اس دنیا میں سوائے بہن بھائی کا کوئی دوسرا ایسا رشتہ نہیں جو دل کو وہ راحت دے سکے
جو راحت ایک بہن کو بھائی کے ساتھ اور ایک بھائی کو بہن کے ساتھ محسوس ہوتی ہے آج سب کچھ سہی ہوچکا تھا بہنوں کو اپنے بھائی مل چکے تھے شفاقت صاحب، شانزہ بیگم اور اماں صاحب چاروں کو دیکھ مسکرا رہے تھے
اللہ نظر بد سے بچائے میرے بچوں کو
اماں صاحب نے سب کی بلائیں لیتے ہوئے کہا تھا
آمین
سب نے ایک زبان کہا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
مجھے مارنا ہے انت کو مارنا ہے کسی بھی حال میں اسکی لاش دیکھنی ہے مجھے
عارف بلگرامی نے ایک اور گلاس اس حرام چیز کا اپنے اندر انڈیلتے ہوئے کہا تھا
مگر ایسا بھی کیا ہوگیا جو آپ اس کے پیچھے لگے ہو جانتے نہیں ہو ویلن ( Villan ) ہے وہ دی ویلن ( The Villan ) کس طرح ہم جیسوں کو اس نے مار گرایا ہے اور آج تک کسی پولیس والے کی ہمت نہ ہوئی اسے ہاتھ لگانے کی
شاہ رخ نے اپنے باپ کی ایک بات سے تنگ آتے ہوئے کہا تھا
بہت کمینہ ہے وہ اس نے مجھ سے جو پیپرز پر سائن لیئے تھے وہ اس حیا کی پراپرٹی کے تھے اب میرے ہاتھ سے وہ پراپرٹی بھی گئی
عارف بلگرامی نے غصے سے کہا تھا
چھوڑ دو حیا اور اسکی پراپرٹی کو اب وہ انت شاہ کی جاگیر ہے اور آپ جانتے ہو انت شاہ نے کبھی کچی گولیاں نہیں کھیلی وہ اب کی بار مار دے گا اگر ہم اسکے راستے میں آئے بھی تو اور میں نے تو سنا ہے حمزہ ارے وہی کیپٹن حمزہ وہ اسکا بھائی ہے جس نے اے ڈی کے کتوں کو کتے کی موت مار دیا
شاہ رخ نے ابھی چند دن پہلے ملی گئی اطلاع اپنے باپ کو سنائی تھی
اے ڈی کے
عارف بلگرامی نے گلاس نیچے رکھتے ہوئے کہا تھا جو ابھی وہ پینے والا تھا
ہاں اے ڈی کے
شاہ رخ نے اسکی بات کا جواب دیا تھا
ہاہاہاہا
اسکی بات سنتے ہی عارف بلگرامی نے قہقہ لگایا تھا
کیا ہوا پاگل واگل تو نہیں ہو گئے نہ جو یوں قہقہ لگا رہے ہو
شاہ رخ نے حیرت سے پوچھا تھا
کیا اطلاع دی ہے تو نے مجھے اب دیکھ کیسے اس حمزہ کی وردی اور انت کی بادشاہت کے پر کاٹتا ہوں میں اب جو میں کروں گا اس سے ان دونوں کی عزت خاک میں مل کر رہ جائے گی
عارف بلگرامی نے شیطانی مسکراہٹ سجائے قہقہ لگاتے ہوئے کہا تھا
میں کہہ رہا ہوں چھوڑ دے ان کا قصہ ورنہ مرتے وقت پانی بھی نصیب نہ ہوگا بہت خطرناک ہیں وہ دونوں میری مانو تو چھوڑ دو بدلہ ودلہ مجھے تو آج تک اسکی دھلائی یاد ہے اب بھی قمر میں درد رہتا ہے میرے
شاہ رخ نے اسکی دھلائی یاد کرتے ہوئے جھرجھری لیتے کہا تھا
ارے تم تو نا مرد ہو ایسی ہی بزدلانہ باتیں کرو گے جاؤ تم میں یہ سب اکیلے ہی کر لوں گا
عارف بلگرامی نے اسے دیکھتے ہوئے غصے سے کہا تھا
پیچھے ہٹنا نا مردانگی نہیں کبھی کبھی عقل مندی ہوتی ہے تمہیں مرنے کا شوق ہوگا مگر مجھے نہیں
شاہ رخ نے طنزیہ کہا اور اٹھ کھڑا ہوگیا تھا
ارے جاؤ جاؤ
اسے جاتا دیکھ عارف بلگرامی نے اسے کہا تھا جبکہ وہ ہال سے باہر نکل گیا تھا
اب تمہیں میں بتاؤں گا عارف بلگرامی کون سے کھیت کی مولی ہے
عارف بلگرامی نے سوچتے ہوئے قہقہ لگاتے ہوئے کہا تھا اور گٹا گٹ اس حرام چیز کو پینے لگا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
اب آگے کیا کرنا ہے
شفاف صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
اب زیادہ کچھ نہیں بس اپنی گڑیا کی دھوم دھام سے شادی کروانا چاہتا ہوں مگر اس سے پہلے ایک مشن کمپلیٹ کرنا ہے
انت نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
مشن کیسا مشن بھائی
مائرہ فوراً بولی تھی
ہاں گڑیا مشن بہت ضروری ہے اگر ان لوگوں نے امریکہ سے ہاتھ ملا لیا تو وہ لوگ لمحہ ضایع نہیں کریں گیں پاکستان پر حملہ کرنے کے لیے کیونکہ انکے پاس ہمارے ملک کے بنائے گئے ہتھیار ہونگے جو کہ اے ڈی نامی انڈر ورلڈ ڈان اسے پیسوں کی خاطر امریکہ کے دہشت گردوں کو بیچ رہا ہے
انت نے سنجیدگی سے بتایا تھا
جی اور ہمیں اس ڈیل کو ناصرف روکنا ہوگا بلکہ اس اے ڈی کو بھی ختم کرنے ہوگا کیونکہ ایسے ہی ناسور پاکستان کو کھو کھلہ کر رہے ہیں
حمزہ نے بھی کہا تھا جبکہ مائرہ خاموش ہو گئی تھی
تم یہاں رہنا چاہوں گی یا ہمارے ساتھ چلو گی
شانزہ بیگم نے ڈرتے ہوئے پوچھا تھا کیونکہ انھیں ڈر تھا جواب اگر انت کے ساتھ رہنے کا ہوا تو وہ ٹوٹ جائے گیں مگر پوچھنا بھی ضروری تھا
مائرہ پر مجھے سے پہلے آپ لوگوں کا حق ہے آنٹی کیونکہ اسکی پرورش آپ لوگوں نے کی ہے اس لئے آپ گڑیا پر مجھ سے زیادہ حق رکھتے ہیں تو اس حساب سے مائرہ آپ لوگوں کے ساتھ رہے گی جب تک ہم سارے رسم و رواج کے مطابق اسے دلہن بنا کر یہاں نہیں لے آتے
مائرہ کے کچھ بولنے سے پہلے ہی انت نے انکا خدشہ دور کیا تھا اور اسکا جواب پا کر شانزہ بیگم اور شفاقت صاحب کے دل میں اطمینان سا ہوا تھا
اچھا تو اب اجازت دیں ہم چلتے ہیں
شفاقت صاحب نے اجازت طلب انداز میں کہا تھا
ارے ایسے کیسے آج رات آپ سب یہاں ہی رہیں گیں کل بے شک چلے جائیے گا
انت نے فوراً کہا تھا
بیٹا اس تکلف کی کیا ضرورت ہے
شفاقت صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
بیٹا بھی کہہ رہے ہیں اور تکلف کا بھی ذکر رہے ہیں آپ مجھے باپ کی طرح عزیز ہیں کیونکہ ایک باپ کیسا ہوتا ہے یہ میں نے آپ سے سیکھا ہے تو پلیز میری محبت کو تکلف کا نام نہ دیں
انت نے شفاقت صاحب کو دیکھتے ہوئے کہا تھا اور وہ مسکرا دئیے تھے
اچھا ٹھیک ہے ہم یہیں رک جاتے ہیں
شفاقت صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا تھا اور وہیں حمزہ کی اٹکی ہوئی سانس بحال ہوئی تھی جو شفاقت صاحب کے جانے والی بات سے اٹک گئی تھی
اور یوں ہنستے مسکراتے ایک شام اپنے خوبصورت اختتام کے ساتھ ڈھل گئی تھی اور چاند اپنی چاندنی لئیے آسمان پر بسیرا کر چکا تھا کیونکہ آج اس نے دو خوبصورت جوڑوں کی نوک جھوک کے ساتھ انکا پیار بھی اپنی چاندنی سے اور خوبصورت بنانا تھا انکے زخموں پر آج اس چاند نے ٹھنڈک پھیلانی تھی اور آج اپنے سے نفرت محسوس کرنے والے کو محبت کا احساس دلانا تھا کہ چاند کبھی بھی نفرت کے لائق نہیں ہوتا وہ تو بس حالات ایسے ہوتے ہیں کہ انسان کو خدا کی بنائی گئی خوبصورت تخلیقات سے نفرت کروا دیتے ہیں۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
