Unt Ul Hayaat By Samreen Zahid readelle50029 Episode 10
Rate this Novel
Episode 10
انت کپڑے چینج کر کے باہر نکلا تو اس نے اپنا سیدھا ٹاول میں چھپایا ہوا تھا اور ایسے محسوس کروا رہا تھا جیسے بال خشک کر رہا ہو
وہ واش روم سے نکل کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا ہوا بال بنانے کی کوشش کرنے لگا تھا جبکہ حیا اس کی ایک ایک حرکت کو دیکھ رہی تھی اور وہ شیشے سے اسے خود کو گھورتا ہوا دیکھ رہا تھا
اسے پتا تو نہیں چل گیا
انت نے خود کلامی کرتے ہوئے اسے شیشے سے دیکھ رہا تھا جبکہ اب وہ بیڈ سے اٹھ کر اسکے پاس آئی تھی
کیا ہوا تم ایسے کیا کب سے دیکھ رہی ہو مجھے پتا ہے مجھے کہ میں بہت ہینڈسم ہوں
انت نے اسے اپنے سامنے کھڑا ہوتے دیکھ شرارت سے کہا تھا یا پھر اسکا دھیان خود پر سے ہٹانا چاہا تھا
تم سو جاؤ میں بھی سونے لگا ہوں
انت سے جب بال نا بن سکے تو اس نے کنگھا ٹیبل پر رکھتے ہوئے اس سے کہا تھا
جاؤ نا
انت نے اسے ہنوز ویسے ہی کھڑا خود کو گھورتے دیکھا تو اس سے بے بسی سے کہا تھا کیونکہ اسکے ہاتھ کا زخم بہت گہرا تھا اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ حیا اسکی وجہ سے ڈسٹرب ہو
زبردستی شادی کر کے اس نے پہلے ہی اسے بہت تکلیف دی تھی مگر ایسا کرنا بھی ضروری تھا جب اسے یہ پتا چلا کہ وہ اسکے اتنے قریب ہے تو اس نے اس سے زبردستی نکاح کیا کیونکہ ماضی کی غلطی اب کی بار وہ دہراتا تو شاید اسکی جدائی سے اس بار وہ خود کو مار دیتا
آؤچ۔۔۔۔۔۔۔
حیا نے بنا اس سے کچھ کہے اسکے ہاتھ سے ٹاول کھینچا تھا اور ٹاول وہ غصے سے کچھ زیادہ زور سے کھینچ چکی تھی جسکی وجہ سے انت کو تکلیف ہوئی تھی اور وہ کراہیا تھا
کککک۔۔۔۔۔کیا ہوا زیادہ زور سے لگی ہے
حیا نے ٹاول اور پھر اسکے ہاتھ کو دیکھ ہکلاتے ہوئے پوچھا تھا کیونکہ سفید رنگ کا ٹاول پر سرخ ہونے لگا تھا انت کا ہاتھ خون سے لت پت ہو رہا تھا اور اوپر سے اسکی چیخ حیا کو سہما گئی تھی
نہیں میں ٹھیک ہوں
انت نے اپنی تکلیف کو ضبط کرتے ہوئے کہا تھا
کیا سہی ہے ہاں کچھ زیادہ ہی ہیرو بننے لگے ہو انسان ہو تو انسان رہو فرضی کرداروں کے رول پلے مت کرو مسٹر انت شاہ
وہ اسکی بات پر بھڑک ہی اٹھی تھی اتنا گہرا زخم خون پانی کی طرح بہنے لگا تھا اور موصوف کہہ رہے تھے کہ میں ٹھیک ہوں
چلو
حیا انت کے دوسرے بازو سے پکڑ کر اسے بیڈ پر لائی تھی اور اسے بیڈ پر بٹھایا تھا خود فرسٹ ایڈ باکس لئے وہ انت کے سامنے بیٹھی تھی اور اسکا زخمی ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا تھا
حیا نے فرسٹ ایڈ باکس کھولا اور روئی پر ڈیٹول لگا کر اسکے ہاتھ کے زخم کو صاف کرنے لگی تھی وہ اتنی احتیاط اور محبت سے اسکا ہاتھ صاف کر رہی تھی کہ انت اسے دیکھتا جا رہا تھا
آاااا۔۔۔۔۔
انت کی ہلکی سی سسکی نکلی تھی کیونکہ زخم گہرا ہونے کی وجہ سے ڈیٹول زیادہ لگ رہا تھا زخم پر
اسکے سسکی سنتے ہی حیا نے فوراً اسکی جانب دیکھا تھا
درد ہو رہا ہے
حیا نے اس سے معصومیت سے پوچھا تھا کہ انت کو اس پر بے حساب پیار آیا تھا
ہاں
انت نے ہولے سے گردن ہلائی تھی کیونکہ اب وہ یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ نہیں کیونکہ وہ جانتا تھا حیا کو اب کی بار تو وہ اسے کچا کھا جائے گی
حیا نے اس طرح اسکا زخم صاف کیا تھا جیسے زخم اسکے ہاتھ پر تھا پھر اس پر آرام سے احتیاط کے ساتھ اس نے ٹیوب لگا کر پٹی کر دی تھی اور فرسٹ ایڈ باکس بند کر کے اسے ڈراء میں رکھنے چلی گئی تھی
اب تم آرام کرو میں آتی ہوں
حیا اس سے کہہ کر بنا اسکی بات سنے کمرے سے نکل گئی تھی اور وہ مسکراتا ہوا بیڈ پر نیم دراز ہو گیا تھا کیونکہ تھک تو وہ بھی بہت گیا تھا اوپر سے زخم کی تکلیف
حیا کچھ دیر بعد کمرے میں آئی تو اسکے ہاتھ میں کھانے کی ٹرے اور ہلدی والا دودھ تھا
وہ کمرے میں آئی اور ٹرے کو سائیڈ والے ٹیبل پر رکھا تھا اب اسکا ارادہ انت کو اٹھانے کا تھا کیونکہ وہ آنکھیں بند کیے لیٹا ہوا تھا شاید لیٹتے ہی اسکی آنکھ لگ گئی تھی
انت
انت اٹھو کھانا کھا لو
انت
حیا نے دور سے ہی اسے آواز دی تھی مگر وہ سویا ہوا تھا کیسے آواز دیتا اسکو
لگتا ہے سو گیا صبح سے کچھ کھایا بھی نہیں ہوگا اس نے ہاتھ میں زخم بھی ہے اسے کھانا کھلا کے ہی سلاؤں گی ورنہ نا کھانے سے کمزوری ہو گی اس نمونے کو
حیا نے خود کلامی کرتے ہوئے اسے دوبارہ اٹھانا چاہا تھا
انت
انت اٹھ جاؤ میں کھانا لائی ہوں کھا کے دوبارہ سو جانا
انت پلیز اٹھ جاؤ
انت
حیا اب بیڈ پر بیٹھ کر اسکا کندھا ہلاتے ہوئے اسے اٹھا رہی تھی جس میں وہ کامیاب بھی ہو گئی تھی
ہاں بولو کیا ہوا
انت نے نیند سے بوجھل ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا
میں کھانا لائی ہوں کھا لو دودھ بھی لائی ہوں پی کے سو جانا کچھ فرق پڑے گا زخم کے درد میں
حیا نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا
مجھے نہیں کھانا مجھے سونے دو
انت نے کروٹ لیتے ہوئے کہا تھا
کیا نہیں کھانا میں نے پوچھا نہیں ہے بتا رہی ہوں اٹھو جلدی
حیا نے اسے کندھے سے دوبارہ سیدھا کرتے ہوئے غصے سے کہا تھا
میں کیسے کھاؤں گا حیا کھانا میرے ہاتھ میں چوٹ لگی ہے اور ہاتھ درد بھی کر رہا ہے
انت نے بند ہوتی آنکھوں سے اس سے کہا تھا
ابھی تھوڑی دیر پہلے تو ہیرو بن رہے تھے میں ٹھیک ہوں اب کیا ہوا ہے اٹھو جلدی کھانا کھاؤ ہاتھ میں درد ہے تو میں کھلا دیتی ہوں مگر کھانا تو تمہیں کھانا ہوگا
حیا نے کچھ دیر سوچنے کے بعد اسے اٹھاتے ہوئے کہا تھا اور اسے ہاتھ سے پکڑ کر زبردستی اٹھا کے بٹھا بھی دیا تھا اب وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بند ہوتی آنکھوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا
حیا جلدی سے اٹھی تھی اور کھانے کی ٹرے لیکر دوبارہ اسکے سامنے بیٹھ کر اسکے منہ میں نوالے بنا بنا کر ڈالنے لگی تھی جسے وہ نیند سے بند ہو رہی آنکھوں کے ساتھ کھاتا جا رہا تھا
اب یہ میڈیسن کھاؤ چلو منہ کھولو
حیا نے کھانا کھلانے کے بعد پین کلر اسکی طرف بڑھاتے ہوئے کہا تو انت نے منہ کھول لیا تھا اور حیا نے پین کلر اسکے منہ میں ڈالی تھی
اب پانی پیئو
وہ اسے پانی کا گلاس پکڑاتے ہوئے کہنے لگی تھی مگر یاد آنے پر کہ وہ ہاتھ استعمال نہیں کر سکتا خود ہی اسے پانی پلایا تھا
اب سو جاؤں میں
انت نے معصومیت سے پوچھا تھا
نہیں بس یہ دودھ کا گلاس ختم کرو جلدی سے پھر سو جانا
حیا نے دودھ کا گلاس اسکے منہ سے لگاتے ہوئے کہا تو وہ دودھ پینے لگا تھا لیکن اگلے ہی لمحے وہ دودھ کا گلاس دوسرے ہاتھ سے دور کر چکا تھا
کیا ہوا
دودھ کا گلاس حیا کے ہاتھ سے دور کرتے اس نے حیرت سے پوچھا تھا
کڑوا ہے یہ
انت نے منہ بناتے ہوئے کہا تھا
تو کیا ہوا کڑوا ہے کڑوی چیزیں ہی انسان کو ٹھیک کرتی ہیں
حیا نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا
جیسے تمہارا کڑوا لہجہ ہاں مجھے تمہارا کڑوا لہجہ ٹھیک نہیں بیمار کر رہا ہے میں گھٹ گھٹ کے مر جاؤں گا اس طرح کیا مجھے میری پہلے والی حیا نہیں مل سکتی مجھ سے اسی طرح محبت کرنے والی میرا خیال رکھنے والی جیسے ابھی تم رکھ رہی ہو کسی دل عزیز بچے کی طرح
انت نے اسے دیکھتے ہوئے اپنے دل کی بات کہی تھی جبکہ حیا اسے دیکھتی رہ گئی تھی
دودھ پیئو جلدی
اس نے دودھ کا گلاس اسکے منہ کے قریب کرتے ہوئے کہا تو اس نے بنا چوں چراں کئے دودھ پی لیا تھا
اب سو جاؤ
وہ بیڈ سے اٹھتی ہوئی اس سے بولی تھی
کیا میں آج تمہاری گود میں سر رکھ کے سو جاؤں میری تکلیف میں زیادہ نا سہی تھوڑی کمی ہو جائے گی
انت نے اسے دیکھتے ہوئے معصومیت سے کہا تھا
اچھا میں برتن رکھ کے آتی ہوں
حیا اسے کہہ کر برتن اٹھائے کمرے سے نکل گئی تھی
وہ کچھ ہی دیر میں کمرے میں داخل ہوئی تھی دروازہ بند کرتی وہ بیڈ پر آئی تھی جہاں وہ آنکھیں موندے لیٹا ہوا تھا
انت
اس نے بیڈ کے پاس آتے ہی اسے پکارہ تھا لیکن انت نیند میں تھا شاید
وہ بیڈ پر بیٹھی انت کو سیدھا کر کے لٹایا اور اپنی گود میں سرہانا رکھے اسکا سر اپنی گود میں رکھا تھا اور اسکا زخمی ہاتھ احتیاط سے سائیڈ پر رکھا تھا
وہ اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے مسلسل اسکی باتوں کے بارے میں سوچ رہی تھی مگر وہ کیا کرتی اس نے بھی تو اسکا دل دکھایا تھا اسے چھوڑ کر گیا تھا وہ کتنا روئی تھی اپنے خدا تک کو چھوڑ دیا تھا اس نے
مگر خدا نے اسے نہیں چھوڑا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا اسکا بندہ غلطی پر ہے اور جو غلطی پر ہو اسے سمجھایا جاتا ہے نا کہ اسے اسکے حال پر چھوڑا جاتا ہے انسان غلطیوں کی پوٹلی ہے وہ غلطیاں کرتا ہے مگر خدا وہ تو رحمان و رحیم ہے غلطیوں کو معاف کرنے والا
اس پاک زات نے ہمیشہ اسکی حفاظت کی تھی اسکی عزت بچائی تھی اسی کے سائبان کے ہاتھوں اور کسے کب کس کی قسمت میں شامل کرنا ہے یہ سوائے اسکے کوئی اور تو نہیں جانتا
اور حیا بھی بے خبر تھی اس بات سے انت کا اس وقت جانا ضروری تھا اسے چھوڑنا ضروری تھا حیا کو توڑنا ضروری تھا کیونکہ جب وہ ٹوٹی تھی تبھی وہ مضبوط ہوئی تھی بے شک خدا اپنے بندے سے بڑھ کر اسکی بھلائی کے بارے میں جانتا ہے اور ہم کبھی بھی اتنی عقل نہیں رکھ سکتے کہ اس زات کی باتوں کو اسکے فیصلوں کو سمجھ سکیں ہم تبھی اسکے فیصلوں کو اسکی باتوں کو سمجھتے ہیں جب وہ ہمیں سمجھانا چاہے کیونکہ اسکے حکم کے بنا تو ایک پتہ تک نہیں ہل سکتا تو یہاں تو سوچنے سمجھنے کی بات تھی۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
حمزہ رات کے نو بجے گھر میں داخل ہوا تھا گھر میں سناٹا تھا وہ سیدھا اماں صاحب کے کمرے میں گیا تھا
السلام علیکم اماں !
اس نے کمرے میں داخل ہوتے ہی کہا تھا
وعلیکم السلام بیٹا
اماں صاحب نے قرآن کریم کو بند کرتے ہوئے کہا کیونکہ انکی عادت تھی روز رات کو وہ قرآن پڑھا کرتی تھی
کھانا لگاؤں تمہارے لئے
اماں صاحب نے قرآن مجید کو اسکی جگہ پر رکھتے ہوئے اس سے پوچھا تھا
جی اماں بہت بھوک لگی ہے مجھے تو لگتا ہے دس بارہ چوہے کچھ نا ملنے پر خود کشی بھی کر چکے ہونگے میرے پیٹ میں
حمزہ نے انھیں دیکھتے ہوئے شرارت سے کہا تھا
حمزہ
اماں صاحب نے اسے دیکھتے ہوئے اسے پکارہ تھا
ہاں نا اماں دیکھو آپ کو کچھ سن رہا ہے کیا
حمزہ نے راز داری سے پوچھا تھا
نہیں تو
اماں صاحب نے سنجیدگی سے جواب دیا تھا
نہیں سن رہا اف اماں دھیان سے سنو غور سے مرے ہوئے چوہوں کی بیویاں وین پا پا کے رو رہی ہیں مجھے بد دعائیں دے رہی ہیں اور آپ یہاں مجھے باتوں میں الجھا کے رکھ رہی ہیں جلدی سے کھانا لگائیں اماں نہیں تو انکے بچے اگر مر گئے تو انکی بیوہ بیویوں نے اندر کہرام مچا دینا ہے پھر ڈھونڈتی رہنا اپنے حمزہ کو
حمزہ نے انھیں دیکھتے ہوئے شرارت سے ایک آنکھ دبا کر کہا تھا
حمزہ تم کب سدھرو گے اتنے بڑے ہو گئے ہو لیکن حرکتیں بچوں والی ہیں تمہاری
اماں صاحب نے اسکے کندھے پر چپیت لگاتے ہوئے کہا تھا
اماں اپنے حمزہ کو سدھارنا ہے تو اسے سدھارنے والی لے آئیں نا آپ تو اب بوڑھی ہو گئی ہیں اب کہاں آپ سے ایک نوجوان شرارتی بچہ سنبھلے گا اب تو کوئی دو شیزہ ہی آپ کے حمزہ کو سنبھال سکتی ہے سدھار سکتی ہے
حمزہ نے انھیں دیکھتے ہوئے کہا تو اسکی آنکھوں کے سامنے وہی کالج والی لڑکی کا سراپا گھوم گیا تھا
کھانا لگا رہی ہوں آ کے کھا کے لڑکی تو اب تیرے لئے انت ڈھونڈے گا میں بتاتی ہوں اسے کہ تجھے بھی شادی کا بھوت چڑھ رہا ہے
اماں صاحب نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا تھا
ارے اماں شادی کا بھوت نہیں چڑ رہا ہے چڑیل چڑھ رہی ہے چڑیل
حمزہ نے شرارت سے کہا تو وہ ہنستے ہوئے کمرے سے نکل گئی تھی جبکہ وہ اسے سوچتے ہوئے مسکرا دیا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
صبح کے آٹھ بجے انت کی آنکھ کھلی تھی اس نے اردگرد کا جائزہ لیا تھا تب اس نے دیکھا تھا کہ اسکا سر حیا کہ گود میں تھا اور وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے سوئی ہوئی تھی
اسے رات کا سب یاد آیا تو وہ مسکرا دیا تھا اور اٹھ بیٹھا تھا
حیا آٹھ جاؤ سہی سے لیٹ کے سو جاؤ
اس نے حیا کو اٹھاتے ہوئے کہا تھا کیونکہ رات بھر وہ بھی اسکے درد کی وجہ سے سو نہیں پائی تھی
نہیں میں ٹھیک ہوں
حیا نے آنکھیں کھولتے ہی اسے کہا تھا اور بیڈ سے نیچے اتری تھی
میں فریش ہو کر آتی ہوں پھر تم فریش ہو جانا
حیا کبرڈ کی طرف بڑھتے ہوئے اسے کہنے لگی تھی اور وہ وہی بیٹھا اسے دیکھتا رہ گیا تھا
کچھ ہی دیر میں حیا فریش ہو کر آئی تو انت کپڑے لئے واشروم جانے لگا تھا اور حیا نے اپنے بال بنائے تھے
انت فریش ہو کر آیا تو اسکی پٹی گیلی ہو چکی تھی وہ نہایا بھی بہت مشکل سے تھا کیونکہ زخم جو سیدھے ہاتھ میں تھا
وہ گیلے بالوں کے ساتھ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا ہوا تھا اور بال بنانے کے لئے کنگھا اٹھایا تھا مگر کنگھا ہاتھ سے گر گیا تھا
میں ہوں کر دیتی ہوں
حیا جو اسے دیکھ رہی تھی بول پڑی تھی
یہاں دیکھو
حیا نے کنگھا اٹھاتے ہی اسے اپنی طرف کیا تھا اور اسکے بال بنانے لگی تھی جبکہ انت اسے پیار بھری نظروں سے دیکھے جا رہا تھا
اب چلو میں پٹی کر دوں
اسکے بال بنانے کے بعد وہ اس سے بولی تھی تو انت اسکے ساتھ بیڈ پر آ گیا تھا
وہ اس بیڈ پر بٹھا کے فرسٹ ایڈ باکس نکالے اسکی پٹی کرنے لگی تھی
ہممم اب ناشتہ کرو اور خبردار جو اب تم کام پر گئے تو جب تک زخم ٹھیک نہیں ہو جاتا تم کام پر نہیں جاؤ گے
وہ بیڈ سے اٹھتی ہوئی اسے وارن کرنے لگی تھی
جو حکم ملکہ عالیہ
انت نے کھڑے ہوتے ہوئے محبت سے کہا تھا
ااا۔۔۔۔۔۔اچھا میں ناشتہ لگواتی ہوں
وہ اسکی نظروں سے کنفیوز ہوتی بولی تھی اور باہر جانے کے لئے پلٹی تھی جب انت نے دائیں ہاتھ سے اسکے ہاتھ کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا اور وہ کسی ٹوٹی ہوئی شاخ کی طرح اسکے سینے سے آ لگی تھی
انت نے اسکے چہرے پر آئے بالوں کو سائیڈ پر کیا تھا
اپنا انعام تو لیتی جاؤ
انت نے اسے دیکھتے ہوئے ذو معنی انداز میں کہا تھا
ممم۔۔۔۔۔مجھے دیر ہو رہی ہے
اس نے ہکلاتے ہوئے کہا تھا کیونکہ اب اسکے دل کی دھڑکنیں انت کی قربت اور اسکی باتوں سے بہت تیز چل رہی تھیں
شوہر ہوں تمہارا کوئی غیر نہیں ہوں
انت نے کہتے ہی اسکے گال پر اپنا دایاں ہاتھ رکھا تھا حیا نے آنکھیں بند کر لیں تھی
انت اسے دیکھ کر مسکرایا تھا اور اپنے لب اسکی پیشانی پر رکھے تھے حیا نے اسکا لمس اپنی پیشانی پر محسوس کرتے ہی فوراً اپنی آنکھیں کھولیں تھیں
وہ اسکی پیشانی چوم کر پیچھے ہٹا تھا جبکہ حیا اسے دیکھ رہی تھی
فکر نہیں کرو اپنا حق تمہاری اجازت کے بغیر وصول نہیں کروں گا میں محبت کرتا ہوں تم سے
انت نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تو وہ نظریں جھکا گئی تھی
مممم۔۔۔۔میں چلتی ہوں
حیا کہتے ہی کمرے سے باہر نکلی تھی جبکہ انت مسکراتا رہ گیا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
