52K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 07

🌸🌸🌸
انت حیا کو ناشتہ کروا کر اپنے سیکریٹ روم میں آیا تھا اور وہاں بیٹھا کام کر رہا تھا کیونکہ وہ ملک کے سب سے بڑے دشمن انڈر گراؤنڈ مافیا کے ڈان سیٹ اے ڈی کے خلاف ثبوت اکٹھے کر رہے تھے
اسے کسی نے نہیں دیکھا تھا سوائے اس کے خاص آدمیوں کے جو کہ صرف دو تھے ایک اسکا رائیڈ ہینڈ اور دوسرا اسکا لیفٹ ہینڈ
وہ کہاں جاتے ہیں کیا کرتے ہیں کوئی بھی کچھ خاص نہیں جانتا تھا مگر انت کا مقصد اسے ڈھونڈ کر اسکا پردہ فاش کر کے اسے کتے کی موت مارنا تھا پھر چاہے اسے کچھ بھی کیوں نا کرنا پڑے
بیٹا تم ناشتہ نہیں کرو گے کیا
اماں صاحب نے اس روم میں آتے ہوئے پوچھا
نہیں اماں میں نے حیا کے ساتھ کر لیا تھا
انت نے لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلاتے ہوئے کہا
اس روم میں سوائے اماں صاحب کے اور کسی کو آنے کی اجازت نہیں تھی صرف اماں صاحب کو انت نے یہ اجازت دی تھی کہ وہ اس روم میں آ سکتی ہیں اور کوئی نہیں
اچھا میں حیا کے پاس جاتی ہوں
اماں صاحب اسے کان میں بزی دیکھ چلی گئی تھی اور وہ بڑی غور سے لیپ ٹاپ کی سکرین پر نظریں جمائے کچھ دیکھ رہا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
حمزہ اپنی ٹیم کے ہمراہ ابھی کالج پر ریٹ ڈالنے جا ہی رہا تھا جب اسکا موبائل فون بجا تھا
حمزہ نے ایک نظر موبائل کو دیکھا تو آفیسر کی کال تھی حمزہ نے جھٹ سے کال اٹینڈ کی تھی
السلام علیکم سر !
حمزہ نے موبائل کان کو لگائے ادب سے کہا تھا
کیپٹن حمزہ ہمیں اطلاع مل رہی ہے کہ گرلز کالج میں دہشت گرد گھس آئے ہیں تم جاؤ وہاں سب سے پہلے اور وہاں کے معاملات دیکھو کیونکہ اگر ایک لڑکی کو بھی نقصان پہنچا تو بہت شرم کی بات ہو گی یہ آرمی ٹیم کے لئے
مقابل سے آفیسر کی سنجیدگی بھری آواز ابھری تھی
یس سر آئی نو بٹ وہ کالج بھی زیادہ اہم ہے کیونکہ ہماری رپورٹس کے مطابق آج ان لڑکیوں کو دوسرے ملک بھیجا جا رہا ہے اور وہ لڑکیاں بھی ہمارے ملک کی عزت ہیں انھیں بھی بچانا ہوگا خیر میں کچھ کرتا ہوں
حمزہ نے پریشانی سے کہا تھا اور کال کاٹ دی تھی
ابھی وہ پریشانی سے اپنی پیشانی مسل رہا تھا جب اسکے دماغ میں ایک خیال آیا تھا اور اسنے جھٹ سے کال ملائی تھی۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
انت ابھی بیٹھا لیپ ٹاپ کی سکرین پر کچھ پڑھ رہا تھا جب اسکا موبائل بجا تھا
اس نے سکرین پر دیکھا تو حمزہ کی کل تھی اس نے حیرت سے اسکی کال اٹینڈ کی تھی
السلام علیکم بھائی
کال پک ہوتے ہی حمزہ نے کہا تھا
وعلیکم اسلام کیا ہوا ہے
انت نے اسکی پریشانی میں ڈوبی آواز کو محسوس کرتے ہوئے پوچھا تھا
بھائی یہاں دو مسئلے ہو گئے ہیں اور مجھے آپ کی مدد چاہیے
حمزہ نے پیشانی مسلتے ہوئے کہا تھا
اچھا بتاؤ تو ہوا کیا ہے
انت نے حمزہ سے پوچھا تھا
بھائی یہاں ایک وقت میں دو کالجز میں لڑکیوں کو بچانا ہے ایک کالج میں لڑکیوں کو دوسرے ملک سمگل کیا جا رہا ہے اور دوسرے کالج میں دہشت گردوں نے حملہ کر دیا ہے ہمیں ایک وقت میں دو جگہوں سے اپنے ملک کی عزتوں کو بچانا ہے اور اوپر سے اوڈر ہیکہ سب سے پہلے دہشت گردوں سے لڑکیوں کو بچانا ہے اور مجھے وہاں جانے کا کہا ہے اور اتنے میں لڑکیاں باہر سمگل کر دی جائیں گی
حمزہ نے انت کو اپنا مسئلہ بتایا تھا
کوئی بات نہیں تم اس کالج جاؤ جہاں دہشت گردوں نے حملہ کیا ہے میں ان لڑکیوں کو سمگل ہونے سے بچا لوں گا
انت نے لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے کرسی سے اٹھتے کہا
اوکے ٹھینکس بھائی
حمزہ نے مسکراتے ہوئے کہا اور کال کاٹ دی تھی
انت سیکریٹ روم کو لاک کرتا اپنے کمرے کی طرف بڑھا تھا
کمرے میں داخل ہوتے ہی اسے حیا کوئی کتاب پڑھتی ہوئی دکھائی دی تھی
کوئی کام جو کرنے کے لئے نہیں تھا اب اپنا وقت تو گزارنا تھا تو کیوں نا کتاب پڑھ لی جائے وقت گزاری کے لیے یہی سوچتے وہ کتاب پڑھ رہی تھی اور اماں صاحب صوفے پر بیٹھی تسبیح کر رہی تھی جب انت کمرے میں داخل ہوا حیا نے ایک نظر اسے دیکھا پھر کتاب کی طرف متوجہ ہو گئی تھی
انت کمرے میں داخل ہوتے ہی وارڈروب کی طرف بڑھا تھا اور وہاں سے کپڑے نکالنے کے بعد واشروم گھس گیا تھا
کچھ ہی دیر میں وہ کالے رنگ کے تھری پیس سوٹ میں نکلا تھا اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا ہو کر بال بنانے لگا تھا لیکن نظریں اسکی حیا کے چہرے پر تھی جو کتاب میں گم تھی یا گم ہونے کا دکھاوا کر رہی تھی
کیا ہوا بیٹا کہیں جا رہے ہو
اماں صاحب نے اسے تیار ہوتے دیکھ پوچھا کیونکہ وہ ایسا تبھی کرتا تھا ایسا سوٹ تبھی پہنتا تھا جب وہ اپنے دشمنوں سے لڑنے جا رہا ہو
جی اماں ضروری کام ہے آ جاؤں گا جلد ہی
انت نے صوفے پر بیٹھ کر شوز پہنتے ہوئے کہا
اچھا میں تمہارے لئے جوس لاتی ہوں پی کے جانا
اماں صاحب کہتے ہی اٹھ کر روم سے باہر چلی گئی تھی
ضروری کام ہے جا رہا ہوں اگر قسمت میں ہوا تو آ جاؤں گا اور اگر نا آیا تو سمجھ لینا تمہاری جان چھوٹی مجھ سے
انت نے دوسرے پاؤں میں شوز پہنتے ہوئے حیا سے کہا تھا اور اسکی بات سنتے ہی حیا کے ہاتھ سے کتاب چھوٹتے چھوٹتے بچی تھی
کککک۔۔۔۔۔کیا مطلب
حیا نے ہکلاتے ہوئے پوچھا تھا
وہی مطلب ہے جو تم سمجھ رہی ہو
انت نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا جبکہ حیا کے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکل رہا تھا انت نے اسے کندھوں سے تھامتے ہوئے اپنے مقابل کھڑا کیا تھا
دیکھو میں جانتا ہوں میں نے تمہیں دکھ دئے ہیں اور میں شرمندہ بھی ہوں مگر یہ بھی جانتا ہوں کہ تمہیں مجھ سے محبت ہے اتنی جتنی مجھے تم سے اور تمہاری ناراضگی بے رخی بجا ہے
لیکن آج میں بہت ضروری کام کے لئے جا رہا ہوں ہمارے ملک کی عزتیں دوسرے ملک میں سمگل ہونے والی ہیں اور مجھے انھیں بچانا ہوگا کیونکہ وہ میری بھی عزت ہیں اس لئے کہہ رہا ہوں کیا پتا ان سے لڑتے لڑتے مجھے موت ۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی انت کہہ ہی رہا تھا جب موت کا نام سنتے ہی حیا نے تڑپ کر اسکے لبوں پر اپنے ہاتھ رکھے تھے
دعا کرنا تم اب میں چلتا ہوں
انت حیا کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف اتنا ہی کہہ پایا تھا اور آگے بڑھ کر اسکی پیشانی چوم کر وہ کمرے سے باہر نکل گیا تھا اور حیا اسکی پشت دیکھتی رہ گئی تھی
جو بھی ہو محبت تھی اسے انت سے ناراضگی نفرت کا اظہار بجا تھا مگر وہ کیسے اس سے دور رہی تھی یہ وہی جانتی تھی۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
حمزہ اپنی ٹیم کے ہمراہ اس کالج میں پہنچ چکا تھا جہاں دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا
کیا صورت حال ہے اندر کی
حمزہ نے جیب سے نکلتے ہی وہاں موجود پولیس آفسر سے پوچھا
سر وہ کچھ مطالبہ کر رہے ہیں
پولیس آفسر نے جواب دیا تھا
کیا مطالبہ کر رہے ہیں
حمزہ نے اردگرد کا جائزہ لیتے ہوئے کہا
سر انھوں نے کہا ہیکہ وہ آرمی والوں سے خود بات کریں گے
آفسر نے وجہ بتائی تھی
سب کو سائیڈ پر کرو یہاں سے صابر مائیک لا کے دو مجھے
حمزہ نے اردگرد لگی بھیڑ کو ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے مائیک منگوایا تھا
اور اسکے حکم کے مطابق پولیس والوں نے بھیڑ کو سائیڈ پر کرنا شروع کر دیا تھا جبکہ نیوز رپورٹر نیوز کاسٹ کر رہے تھے
سر آپ کا کیا کہنا ہے آخر دہشت گردوں نے کالج میں حملہ کیوں کیا ہوگا
ایک نیوز رپورٹر نے حمزہ کے منہ کے قریب مائیک کرتے ہوئے پوچھا
میں کوئی بابا تو ہوں نہیں جو اپنی طرف سے لگا کے بتا دوں ابھی پوچھنے لگا ہوں سن لینا آپ بھی کہ کیوں ان جاہلوں نے کالج کو اپنا نشانہ بنایا ہے
حمزہ اسکی بات سن کر غصے سے بولا تھا جس پر وہ نیوز رپورٹر خجل سی ہوتی پیچھے ہٹ گئی تھی
پاگل نا ہو تو پتا نہیں انھیں کون نیوز رپورٹر بنا دیتا ہے ایک بات کی چٹنی بنا دیتے ہیں یہ
حمزہ مائیک کو پکڑتے ہوئے غصے سے بولا تھا
ہیلو۔۔۔۔ہیلو کیپٹن حمزہ اسپیکنگ
حمزہ نے مائیک کو منہ پر لگائے کہا تھا
لگتا ہے آرمی آ گئی ہے باس
ان دہشت گردوں میں سے ایک نے مائیک سے ابھرتی آواز کو سنتے ہوئے کہا
ہاں تم اس لڑکی کے منہ پر کپڑا باندھو یہ لڑکی ہمارے بہت کام آئے گی
انکے باس نے پاس کھڑی مائرہ کو دیکھتے ہوئے اپنے ساتھی کو کہا تھا اور اس نے حکم پر عمل کرتے ہوئے اسکے منہ پر کپڑا باندھ دیا تھا جس سے صرف اسکی آنکھیں یعنی کے پیشانی سے ناک تک کا حصہ دکھ رہا تھا صرف منہ پر کپڑا باندھا گیا تھا
ہیلو ہاں تو کیپٹن حمزہ کیا چاہتے ہو تم
انکے باس نے مائیک کو منہ کے آگے کئے پوچھا تھا جس سے کالج کے باہر با آسانی آواز پہنچ گئی تھی
تمہاری موت چاہتا ہوں میں دے سکتے ہو کیا اپنی زندگی مجھے نہیں نا تو پھر کیوں ہانک رہے ہو جناب شرافت سے یہ بتاؤ کہ تم کیا چاہتے ہو
حمزہ نے قدرے نارمل لہجے میں کہا تھا جبکہ اسکی بات سن کر سب حیران ہوگئے تھے اندر لڑکیوں کی جان خطرے میں ہے اور اسکے ڈائیلاگ تو دیکھو
مجھے وسیم چاہیے
باس نے حیرانگی سے نکلتے ہوئے اپنا مطالبہ پیش کیا تھا
او تو تم اے ڈی کے کتے ہو صاف صاف کہتے نا تمہیں اپنا دوسرا کتا ساتھی چاہیے
حمزہ نے تمسخرانہ انداز میں کہا تھا اور اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا تھا کیونکہ وہ آتے ہوئے راستے میں ہی پلین بنا کر آیا تھا اور اپنے ساتھیوں کو انکے کام سمجھ کر بھی
زبان سنبھال کے کیپٹن
انکے باس نے غصے سے کہا تھا
او ہو برا لگ گیا پتا ہے مجھے سچ ہمیشہ برا ہی لگتا ہے اب کتے کو کتا بولو گے تو کتے کو تو غصہ آئے گا کہ مجھے کتا کیوں بولا حالانکہ جب وہ کتا ہے تو کتا کہنے پر کیسا برا ماننا وہ دراصل کتا اپنے آپ کو شیر سمجھتا ہے نا اس لئیے خود کو شیر کہلوانا چاہتا ہے جبکہ ہوتا وہ کتا ہے
حمزہ نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا تھا اور اسکی بات سن کر انکے باس کا خون خول رہا تھا اور حمزہ اسے باتوں میں لگائے اسے الجھا بھی رہا تھا اور اسکی اچھی خاصی عزت افزائی بھی کر رہا تھا
کیپٹن یہ کیا کر رہے ہیں آپ
ایک نیوز رپورٹر نے اسکے پاس آتے ہوئے حیرت سے پوچھا
رپورٹر ہو رپوٹرینگ کرو مجھے مت سکھاؤ سب پتا چل جائے گا کیا کر رہا ہوں میں
حمزہ نے مائیک سائیڈ پر کرتے ہوئے اس رپورٹر کی بھی اچھی والی عزت کی تھی جبکہ وہ بھی خجل سا ہوتا پیچھے ہو گیا تھا اور اس لمحے حمزہ کے آنے سے اب تک کی سارے نیوز رپورٹر اس جگہ کی لائیو ویڈیو اپنے چینلز پر دکھا رہے تھے کیونکہ یہ معاملہ کوئی چھوٹا نہیں تھا
گھروں میں ہوٹلوں میں غرض ہر جگہ موجود ٹی ویز پر چل رہے نیوز چینلز پر دکھائی جانے والی لائیو ویڈیو سب دیکھ رہے تھے اور حمزہ کی باتوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے تھوڑا پریشان بھی تھے کہ حمزہ کیسے بچائے گا ان لڑکیوں کو
پیچھے کے راستے سے آرمی کے جانباز سپاہی کالج میں گھس چکے تھے اور ہر جگہ پھیل کر ایک ایک دہشت گرد کو اس طرح مار رہے تھے کہ انکے ساتھیوں کو بھنک تک نہیں پڑی تھی
کیپٹن حمزہ تم وقت برباد کر رہے ہو مجھے وسیم چاہیے تم میری ڈیمانڈ پوری کرو گے یا میں مار دوں ان لڑکیوں کو
کالج کے اندر سے غصے بھری آواز آئی تھی
یار کتنے بزدل ہو تم اپنے ساتھی کو چھڑوانے کے لیے تمہیں لڑکیوں کا سہارا لینا پڑا یہ دن بھی آنے تھے بلکہ ہم نے یہ دن بھی دیکھنے تھے کیا ایک مافیا ڈان اپنے پالتو کتے کو چھڑوانے کے لیے صنف نازک کا سہارا لے گا
حمزہ نے افسوس سے کہا تھا جبکہ اسکی یہ بات اندر موجود انکے باس کو اور ٹی وی پر نیوز دیکھ رہے اے ڈی کو جھلسا گئی تھی
خیر تمہاری ڈیمانڈ کب پوری ہوتی ہے یہ میں تمہیں پانچ منٹ میں بتاتا ہوں ویٹ کرو
حمزہ نے حکمیہ لہجے میں کہا اور مائیک کو سائیڈ پر رکھ دیا تھا
ہاں بولو کتنا کام ہو گیا ہے
حمزہ نے کان میں لگائی بلیوٹوتھ کو آن کرتے ہوئے پوچھا
سر اوپر اور نیچے کا صفایا کر دیا ہے بس ہال میں موجود چار لوگ بچیں ہیں
مقابل سے اسکے ساتھی کی آواز ابھری تھی ٹھیک ہے تم ہال میں پہنچو میں بھی آتا ہوں
ہیلو سر جی جی ٹھیک ہے سر
حمزہ نے موبائل نکالا تھا اور کچھ ڈائل کرتے ہوئے کہہ کر کال کاٹ دی تھی
حمزہ نے موبائل رکھتے ہی مائیک اٹھایا تھا
مبارک ہو کتے میرا مطلب ہے مبارک ہو دہشت گرد آفیسر نے تمہاری بات مان لی ہے اور وسیم کو لایا جا رہا ہے
حمزہ نے کہا تھا
گوڈ کیپٹن گوڈ مجھے تم سے یہی امید تھی
مقابل سے خوشی سے ابھرتی ہوئی آواز نے حمزہ کے لبوں پر مسکراہٹ پھیلا دی تھی
آپ زرا دیکھیں یہاں میں آتا ہوں وہ کیا ہے نا پیٹ میں کیڑے بہت ہو گئے ہیں انھیں مارنا ضروری
حمزہ نے پولیس آفیسر کے پاس آتے ہی پیٹ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا اسکی بات سن کر سب دھیمے سے مسکرا دئے تھے اور حمزہ کہیں جانے کے لئے پلٹا تھا
آپ کہاں جا رہے ہیں کیپٹن
ایک لڑکے نے بےوقفانہ سوال کر کے اپنی عزت کروانے کا بہانہ ڈھونڈ لیا تھا
واشروم جا رہا ہوں تم چلو گے میرے ساتھ دیکھ لینا وہاں کیا کرتا ہوں میں
حمزہ نے اس لڑکے کو دیکھتے ہوئے دانت پیس کر کہا اور وہ لڑکا شرم کے مارے سر جھکا گیا تھا جبکہ حمزہ وہاں سے چلا گیا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
انت کے جاتے ہی حیا چپل پہنتی ڈوپٹہ سہی کرتی واشروم میں چلی گئی تھی اور کچھ ہی دیر میں وضو بنا کر باہر نکلی تھی اور جائے نماز اٹھاتے ہی آج پہلی بار وہ اپنے مالک کے حضور حاضر ہوئی تھی اپنے لئے نہیں اپنے شریکِ حیات اپنی زندگی کے لئے اسکی جان کی حفاظت کے لیے
وہ جس نے نماز پڑھنی چھوڑ دی تھی صرف اس لیے کہ اس نے پہلی بار اس خدا سے انت کو مانگا تھا اور اسکے اگلے دن اسکی دعا قبول ہونے کے بجائے الٹ گئی تھی انت اسکا ہونے کے بجائے اسے چھوڑ کر چلا گیا تھا
تب سے اس نے نماز پڑھنی چھوڑ دی تھی اور آج نماز پڑھنے کے لئے نفل پڑھنے کے لئے کھڑی ہوئی تو کس کے لیے جس کی وجہ سے نماز پڑھنی چھوڑ دی تھی اس نے
خدا بھی کیسے کیسے حالات پیدا کر دیتا ہے بندے کے لیے کہ وہ جس چیز کی وجہ سے اس سے رابطہ توڑ دیتا ہے وہ مالک اسی چیز کے وسیلے سے اس انسان سے رابطہ قائم کرواتا ہے اپنے ساتھ اور حیا کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا
جس چیز نے اسے خدا سے دور کیا تھا آج وہی چیز اسے خدا کے حضور کھڑا کر گئی تھی
اور اب وہ نفل ادا کر رہی تھی اپنے انت کے لئے اپنی معافی کے لئے اپنے خدا کو راضی کرنے کے لیے اور یقیناً وہ خدا مہربان ہے رحیم ہے کریم ہے غلطیوں کو معاف کرنے والا ہے اور آج بھی اس مالک نے اپنے بندے کے آنسوں نکلتا دیکھ اسے معاف کر دیا ہوگا اسکے انت کی جان کی حفاظت کرے گا
کیونکہ ممکن اور ناممکن تو ہماری سوچوں میں ہوتا ہے خدا کے لئے تو کچھ بھی ناممکن نہیں ہوتا بس سچے دل سے دعا مانگی گئی ہو پھر وہ عرش سے کن فیکون کہلوا کر ہی عرش سے واپس آتی ہے۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺