52K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

ڈانس ختم ہو چکا تھا اور ہال میں لائیٹس بھی آن ہو چکی تھی جبکہ سب انت کو حیرت سے دیکھ رہے تھے خاص کر آرمی کے آفیسرز اور آپس میں چہ مگوئیاں بھی کر رہے تھے
حمزہ مائیک لیکر آیا تھا اور مائیک کو آن کیا تھا
السلام علیکم! آل پرسنز
آئی نو آپ کے دماغوں میں بہت سے سوالات ہوں گے میرے متعلق اینڈ سپیشلی میرے بھئی مسٹر انت شاہ کے متعلق
حمزہ نے سب کو دیکھتے ہوئے کہا تھا جبکہ اسکی بات سن کر سب آرمی آفیسرز نے ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھا تھا
انت تمہارا بھائی ہے
ایک آفیسر نے بے یقینی سے پوچھا تھا
جی سر میں تفصیل سے بتاتا ہوں نا سب
حمزہ نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
سب سے پہلے تو میں شفاقت انکل سے معزرت خواہ ہوں کہ میں نے انکے سامنے انکی بیٹی سے کپل ڈانس کیا جو کہ ہمارے دستور کے خلاف ہے مگر اپنی منکوحہ کے ساتھ تو ڈانس کر سکتے ہیں نا انکل
حمزہ نے شفاقت صاحب کو دیکھتے ہوئے کہا تھا جبکہ مائرہ تو سن کر ہی شاکڈ ہو گئی تھی ( جیسے ابھی آپ سب ہوئے ہیں 😂 ) اور شفاقت صاحب مسکرائے تھے حمزہ مائرہ کا شوکڈ چہرا دیکھ ہولے سے مسکرایا تھا
دوسری طرف میں معزرت خواہ ہوں اپنے آفیسرز سے میں جانتا ہوں آرمی پارٹی میں ڈانس نہیں ہوتا اینڈ ڈانس ہمارے کلچر میں بھی نہیں ہے اور مجھے پتا ہے کافی آفیسرز خفا بھی ہوئے ہونگے بٹ سب جانتے ہیں یہ ماڈرن دور ہے اور یہاں ڈانس وغیرہ کو عام سمجھا جاتا ہے آج کل ٹک ٹاک ، یوٹیوب وغیرہ بہت فیمس ہے
سب ان کے خلاف باتیں تو کرتے ہیں بٹ سب سے زیادہ یہ ایپ یوز بھی وہی لوگ کرتے ہیں میرے ڈانس سے بھی اعتراض ہوگا کافی لوگوں کو مگر انھوں نے انجوائے بھی کیا اینڈ اب دیکھ کے سن کے تنقید بھی کریں گے مجھ پر بلکہ انت بھائی پر بھی کہ وہ سارے رولز جانتے ہوئے بھی ڈانس کا حصہ بنے تھے تو میں بتاتا چلوں کہ انت بھائی نے میرے کہنے پر یہ سب کیا تھا وہ تو ایگری ہی نہیں تھے لیکن وہ کیا ہے نا بھائی کی ضد کے آگے ہارنا پڑا آخر ضد بھی تو میں نے حمزہ شاہ نے کی تھی
میرے ڈانس کرنے کا مقصد صرف ایک میسیج دینا تھا اور وہ یہ کہ اگر ہم کسی چیز پر ناگواریت کا اظہار کرتے ہیں تو ہمیں اسے دیکھنا اور سننا بھی نہیں چاہیے میرے ڈانس سے جس کو اعتراض تھا وہ پارٹی چھوڑ کر بھی جا سکتا تھا مگر نہیں گیا کیوں ؟ کیونکہ انھیں مزا آ رہا تھا اینڈ ڈانس ختم ہونے کے بعد انھیں یاد آیا کہ ہمیں تو یہ چیزیں پسند ہی نہیں تھی ہائے
اگر سب ہال سے چلے جاتے تو ہم اپنا ڈانس آدھا ہی چھوڑ دیتے کیونکہ جب کوئی دیکھنے والا نہیں تھا تو ہمارے ڈانس کا کیا فائدہ ہوتا
حمزہ نے سب کو دیکھتے ہوئے طنزیہ کہا تھا جبکہ سب نظریں جھکا گئے تھے اور جھکاتے کیوں نا اسکی بات بجا تھی ہمارے معاشرے کا المیہ ہی یہ ہے ہم جس چیز سے انکار کرتے ہیں پہلے تو اس چیز کو دیکھتے ہیں مزا لیتے ہیں اینڈ پھر جب وہ چیز ( اے ٹو ذی ) ختم ہو جائے تو ہمیں تنقید یاد آتی ہے کہ ہم نے وہ بھی تو کرنی ہے
بلکل اسی طرح آج کل میں نے ٹک ٹاک کے خلاف بھی کافی سنا تھا زیادہ تر لوگ اس پر تنقید کر رہے تھے اگر اس ایپ کے خلاف میجورٹی ( Majority ) زیادہ تھی تو اس ایپ کو تو بند ہو جانا چاہیے پھر کیوں یہ چل رہی ہے حالانکہ بیچ میں بند ہوئی تھی تو اسی میجورٹی کی جان نکلنے کے قریب تھی
دل ناولز کی ہیروئنز کی طرح اچھل کر حلق میں آ گیا تھا کہ ہائے اللہ یہ کیا ہوگیا ؟ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا اف اب کیا ہوگا؟
ایسا ہی تھا نا بتائیں جواب دیں
حمزہ نے سنجیدگی سے پوچھا تھا مگر ماحول میں خاموشی تھی صرف حمزہ کی آواز ٹکرا کر واپس آ جاتی کسی کے پاس کوئی جواب نا تھا
ہر انسان پرفیکٹ نہیں ہوتا ہم انسان ہیں کوئی فرشتے نہیں اور انسانوں سے ہی غلطیاں ہوتی ہیں مجھ سے آپ سے ہر کسی سے غلطیاں ہوتی ہیں بس کوئی معافی مانگ لیتا ہے اور کوئی اپنی غلطی نہیں مانتا اور میرا ماننا ہے کہ غلطی ہونے کا احساس اور اس احساس کے تحت معافی مانگ لینا زیادہ بہتر ہوتا ہے بانسبت اپنی غلطی نا ماننے سے
اس لئے آئی ایم سوری اگر میری کوئی بات آپ سب کو بری لگی ہو مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہو مگر ہمیں اس بات کی طرف بھی دھیان دینا چاہیے ہے ہمارے ملک کی عزتیں جو ٹک ٹاک پر ناچتی پھر رہی ہیں ہماری بدولت ہی کر رہی ہیں یہ سب اگر ہم ٹک ٹاک نا دیکھیں تو انکی ویڈیوز پر ویوز نہیں آئیں گیں تو وہ خود ہی تھک ہار کر بیٹھ جائیں گی کہ کوئی دیکھنے والا نہیں ہے تو ہم بنائے کیوں
حمزہ نے سب کو دیکھتے ہوئے کہا تھا
چلیں چھوڑیں اس بات کو میں جانتا ہوں اب کسی کے پاس جواب نہیں ہے آخر سوال جو حمزہ شاہ نے کیا ہے تو سب تو لاجواب ہونگے ہی
حمزہ نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
ان سے ملئے انت شاہ پہچانتے تو ہونگے آپ سب
حمزہ نے ماحول سے اپنی باتوں کا اثر اور لوگوں کی جھکی نظروں کو سیدھی کرنے کے لیے بات کا رخ بدلا تھا اور سب نے انت پر نظریں مرکوز کی تھی
کیپٹن انت
کچھ آفیسرز کے منہ سے بے ساختہ نکلا تھا جبکہ انکی بات سن کر حمزہ اور انت دونوں مسکرائے تھے اور اب کی بار حیا شاکڈ ہوئی تھی ( جیسے ابھی آپ دو بار ہوئے 😂)
جی بلکل کیپٹن انت شاہ جو تقریبا ایک سال پہلے دنیا کے لئے مر چکا تھا
حمزہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تھا
مگر یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ زندہ ہے یہ تو ۔۔۔۔۔۔
کیسے کب اور کہاں یہ سب تو آپ کو بہت جلد پتہ چل جائے گا میرے دل عزیز آفیسرز لیکن ابھی جو مقصد تھا ان کو ملوانے کا وہ یہ تھا کہ ہم نے کچھ معاملات اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک فیصلہ کیا تھا جو کہ ہمارے آفیسرز کی پرمیشن کے بغیر ہم نہیں کر سکتے تھے اس لئے میں آج اپنے بھائی کے ساتھ یہاں آیا تھا
حمزہ نے آفیسرز کو دیکھتے ہوئے کہا تھا
او کے
سب آفیسرز بات کی نوعیت کو سمجھتے ہوئے فقط اتنا ہی کہہ پائے تھے چونکہ یہ پارٹی خاص آرمی کی تھی اس لئے کسی دشمن کا یہاں آنا مشکل تھا حمزہ اور انت نے اپنی نگرانی میں یہ سب کروایا تھا اس لئے سب بے فکر تھے
چلیں اب پارٹی انجوائے کرتے ہیں
حمزہ نے مسکراتے ہوئے کہا تو سب مسکرا دئے تھے اور ایک لڑکے نے حمزہ سے مائیک لے لیا تھا
مما یہ ۔۔۔۔یہ کیا کہہ رہے تھے میں منکوحہ یہ سب کیا ہے
مائرہ شاکڈ کی کیفیت سے نکلتے ہوئے شانزہ بیگم کے پاس آتے ہی بول پڑی تھی
گڑیا ہم گھر جا کر یہ باتیں کریں گے
شانزہ بیگم نے اردگرد دیکھتے ہوئے مسکرا کر مائرہ کو کہا تو وہ خاموش ہو گئی تھی
اسلام علیکم ! کیپٹن انت ویلکم بک اینڈ بہت خوشی ہوئی آپ سے ملکر آپ بہت ہی اچھے اور قابل جان باز ہیں پاکستان کے
ایک آفیسر نے انت کے پاس آتے ہوئے مسکرا کر کہا تھا
وعلیکم السلام! سر جب ملک سے محبت ہو تو جاں بازی اور قابلیت اپنے آپ آ جاتی ہے
انت نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تھا
ویسے کیپٹن حمزہ آپ کے بھائی نہیں لگتے ہم ساتھ میں کافی کر چکے ہیں مگر جو چیزیں حمزہ میں ہیں وہ آپ میں نہیں ہے مطلب آپ بہت ڈیسینٹ اینڈ میچور تھے جبکہ حمزہ شرارتی ،شوخ اور لاجواب کر دینے والا ہے
آفیسر نے حیرانگی سے کہا تھا
سب حالات اور قسمت کا کھیل ہوتا ہے سر کوئی ماضی کی تلخی سے مسکرانا بھول جاتا ہے تو کوئی دنیا کی رنگینیوں کو دیکھ کے مسکرانے لگے جاتا ہے میں نے کبھی بھی حمزہ پر خراش تک نہیں آنے دی پھر چاہے وہ ماضی کی ہو یا حالات کی میں نے اسے بلکل ماں کی طرح پالا ہے ہر دکھ خود پر سہے ہیں اسے ہر دکھ ہر درد سے دور رکھا
کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا میری محرومیاں اسے بھی ملیں جو چیزیں میں انجوائے نہیں کر پایا وہ حمزہ بھی نا کر سکے اس لئے وہ مختلف نیچر کا مجھ سے مگر دل ہم دونوں کے ایک جیسے ہیں اپنے ملک سے محبت ، وفاداری ، خلوص ، چاہت غرض ہر چیز سیم ہے ملک کے لئے جان دے بھی سکتے ہیں اور جان لے بھی سکتے ہیں ہم
انت نے مسکراتے ہوئے بتایا تھا اور آفیسر اسکی بات سن کر بہت خوش ہوا تھا کہ آج کل بھائی بھی ایسے ہوتے ہیں۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
پارٹی ختم ہو چکی تھی وقفے وقفے سے لوگ جانے لگے تھے جب حمزہ اور انت شفاقت صاحب کے پاس آئے تھے
اچھا انکل اب اجازت دیں ہم چلتے ہیں
انت نے شفاقت صاحب کو دیکھتے ہوئے کہا تھا
جی بیٹا ہم بھی بس جانے والے ہیں شکیلہ بی بی ( اماں صاحب ) سے ملنا ہے بس
شفاقت صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
اچھا میں لیکر آتا ہوں انکو
انت نے مسکراتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا تھا اور کچھ ہی دیر بعد اماں صاحب اور حیا کو لیکر آیا تھا تبھی شانزہ بیگم بھی مائرہ کو لیکر شفاقت صاحب کے پاس آ گئی تھیں
السلام علیکم شکیلہ بی بی
شفاقت صاحب نے مسکراتے ہوئے اماں صاحب سے کہا تھا
وعلیکم السلام شفاقت کیسے ہو
اماں صاحب نے مسکراتے ہوئے پوچھا تھا
میں ٹھیک ہوں آپ کی دعاؤں سے
شفاقت صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
یہ مائرہ ہے
اماں صاحب نے مائرہ کو دیکھتے ہوئے شفاقت صاحب سے پوچھا تھا جس پر انھوں نے ہاں میں سر ہلایا تھا
ماشاءاللہ کتنی بڑی ہو گئی ہے آخری بار تو دیکھا تھا تو چھوٹی سی تھی
اماں صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
اماں انسان کی بچی تھی بڑی تو ہونا ہی تھا اب یہ ڈوری مون تو تھی نہیں کہ اتنی کی اتنی رہتی
حمزہ نے شرارت سے کہا تھا اور سب اسکی بات سن کر مسکرا دئے تھے جبکہ مائرہ نے اسے گھورا تھا
خیر شفاقت اب بتاؤ ہم کب آئیں اپنی امانت کو لینے
اماں صاحب نے حمزہ کے دل کی بات کی تھی اور حمزہ تو انکی بات سن کر ہی سرشار ہو گیا تھا اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اماں کو خوشی سے گلے لگا لے لیکن پبلک پلیس کا خیال کرتے ہوئے اپنے دل کے ارمانوں پر تھوڑی دیر کے لیے مٹی ڈالی تھی
جب آپ کا دل چاہے شکیلہ آپا
شفاقت صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
ٹھیک ہے ہم گھر جا کر مشورہ کر کے بتائیں گے
اماں صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ بھی مسکرا دئے تھے
یہ کون ہے انت کی بیوی
شانزہ بیگم نے حیا کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا
جی آنٹی یہ میری بیوی ہیں
اب کی بار انت نے جواب دیا تھا
ماشااللہ بہت پیاری ہے بلکل تمہاری طرح
شانزہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
آنٹی خدا کا خوف کریں آپ میری چاند سی بھابھی کو ان سے ملا رہی ہیں کہاں یہ اور کہاں یہ
حمزہ نے شرارت سے کہا تھا جبکہ انت اسے گھورتا رہا گیا تھا اب حیا کو مکھن لگانا بھی ضروری تھا شادی کا معاملہ تھا یار
تم گھر چلو پھر بتاتا ہوں کون کہاں اور کون کہاں ہے
انت نے حمزہ کے کان میں سرگوشی نما انداز میں کہا تو حمزہ مسکرا اٹھا تھا
اچھا اب ہم چلتے ہیں
انت نے اجازت طلب انداز میں کہا اور سب ہال سے باہر نکل آئے تھے۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
گھر پہنچتے ہی اماں سونے چلی گئی تھی جبکہ حمزہ بھی بہت تھکا ہوا تھا تو اس نے بھی اپنے کمرے کی راہ لی تھی
حیا ڈریس چینج کر کے بیڈ پر بیٹھی ہوئی اپنے ہاتھوں پر نائٹ کریم لگا رہی تھی اور انت چینج کر کے ابھی باہر آیا تھا
حیا
انت نے شیشے کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے اسے پکارہ تھا
ہمم
حیا نے مصروف انداز میں کہا تھا
ناراض ہو ؟
انت نے بال بناتے ہوئے شیشے سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا مگر اب حیا کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا تھا
بتاؤ تو ناراض ہو
انت نے بیڈ کے پاس آتے ہوئے دوبارہ پوچھا تھا
آپ کو بہتر پتہ ہے
حیا نے کریم سائیڈ پر رکھتے ہوئے خفگی سے کہا تھا
یار سوری
انت نے اسکے پاس بیٹھتے ہوئے کہا تھا
مجھے سونا ہے
حیا نے لیٹتے ہوئے کہا تھا
سوری یار میں اپنا مشن کمپلیٹ ہونے کے بعد بتانا چاہتا تھا تمہیں مگر مشن کمپلیٹ کرنے کے لیے ایک کام کے لئے پرمیشن چاہیے تھی جس کے لئے مجھے آفیسرز کے سامنے آنا پڑا کیونکہ یہ مشن بہت ضروری ہے اگر میں پرمیشن کے بغیر کام کرتا تو یہ الیگل ہوتا جو کہ میں نہیں چاہتا تھا پلیز سوری یار
انت نے اسے لیٹا دیکھ بے بسی سے کہا تھا
لائیٹس آف کر دیں مجھے سونا ہے
حیا نے سنجیدگی سے جواب دیا تھا جبکہ انت بیچارہ چہرا لٹکا کر رہ گیا تھا اور اٹھ کر لائیٹس آف کرتا اپنی جگہ لیٹ گیا تھا
کتنا ناراض ہو گئی مجھے بتا دینا چاہیے تھا اسے لیکن جب اسے حمزہ کے بارے میں پتہ چلا تب تو شاید میرا قتل کر دے گی یہ بھی نہیں سوچے گی کہ سامنے اسکا شوہر ہے ہائے اللہ کہاں پھس گیا میں
انت نے بے بسی سے سوچا تھا
اتنی جلدی تو معاف نہیں کروں گی سارے حساب پورے کروں گی میں
حیا نے سوچتے ہوئے خود کلامی کی تھی
پہلے چھوڑ کر چلا گیا پھر زبردستی شادی کی اور اپنے کام کے بارے میں بھی نہیں بتایا ہونہہ میسنا کہیں کا
حیا نے سوچتے ہوئے ناک چڑھائی تھی
یا اللہ بس مجھے حوصلہ دینا ملک کے دشمنوں سے لڑنے کا نہیں بلکہ اس آفت کی پڑیا اور اس ڈائی ناسور سے نپٹنے کا
انت نے دل سے دعا کی تھی کیونکہ وہ جانتا تھا ملک کے دشمنوں کے علاؤہ اب اسے دو گھر کے عزیز اور سب سے خطرناک لوگوں کو بھی ہینڈل کرنا تھا کیونکہ حقیقیت چھپائے نہیں چھپتی ہے وہ کبھی نا کبھی کہیں نا کہیں تو سامنے آ کر رہتی ہے اس سے پہلے دوسروں سے اسے پتہ چلے وہ خود بتا دینا چاہتا تھا اب خدا جانتا تھا کہ حقیقت کب اور کیسے سامنے آتی ہے اور اسکا کیا ردعمل ہوگا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺