Unt Ul Hayaat By Samreen Zahid readelle50029 Episode 16
Rate this Novel
Episode 16
السلام علیکم ڈیڈ
کال پک کرتے ہی اس نے فوراً سلام کیا تھا
وعلیکم السلام کیسی ہو
عارف بلگرامی نے پوچھا تھا
میں ٹھیک ہوں
اس نے ہلکی سی مسکراہٹ لئے جواب دیا تھا
تمہارا چاچا کہاں ہے
عارف بلگرامی مدے پر آیا تھا
وہ یہیں ہے لیں بات کر لیں
حیا نے جنید کو اپنے پاس آتا دیکھ عارف بلگرامی سے کہا تھا اور جنید نے اس سے موبائل لے لیا تھا
ہیلو ہن بولو
جنید نے ایسے کہا تھا جیسے بات کرتے ہوئے احسان کر رہا ہو
تم آج رات کی ٹکٹ کروا دو حیا کی میں یہاں سے پک کر لوں گا اسے
عارف بلگرامی نے سنجیدگی سے کہا تھا
اچھا اچھا بہت شکریہ میرے سر سے یہ بوجھ اتارنے کے لئے
جنید نے ہلکی مسکراہٹ لئے کہا تھا جبکہ پاس کھڑی حیا کا دل ایک بار پھر ٹوٹا تھا
بکواس نہیں کرو پیسے بھیجتا ہوں میں اسکی رہائش کے
عارف بلگرامی نے غصے سے کہا تھا
تو کون سا احسان کرتے ہو میں نے بھی اسے یہاں رکھا ہوا ہے کھلا پلا رہا ہوں شکر کرو یہاں کے آوارہ لڑکوں سے بچا کے رکھا ہے میں نے ورنہ ۔۔۔۔۔۔
بس بس رات کی فلائیٹ سے اسے پاکستان بھیج دو آگے میں جانوں اور میرا کام جانے
ابھی جنید بول ہی رہا تھا جب عارف بلگرامی نے بات کاٹتے ہوئے کہا تھا اور کال ڈسکنیکٹ کر دی تھی
تم یہاں کھڑی میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو جاؤ جا کے برتن دھو
موبائل رکھتے ہی جنید نے پاس کھڑی بارہ سالہ لڑکی کو غصے سے کہا تھا اور وہ ہاں میں سر ہلاتی کچن بھاگی تھی۔
جب سے اس نے ہوش سنبھالا تھا تب سے اپنے اوپر ظلم و ستم برداشت کرتی آ رہی تھی جنید اور اسکی بیوی بچوں کی حقارت بھری نظریں اور باتیں اس معصوم کو اندر ہی اندر مار رہی تھیں
اسے محبت چاہیے تھی مگر اسے ہر بار حقارت ، نفرت ، اور بے رخی ہی ملی تھی جسے وہ چپ چاپ سہتی آ رہی تھی۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
حمزہ آج سے تم اسے اپنے ساتھ اسکول لیکر جاؤ گے میں نے ایڈمیشن کروا دیا ہے اسکا بس اسکا خیال رکھنا یہ ایسی ویسی لڑکیوں کے بیچ پلیز
انت مائرہ کو یونیفارم پہنائے حمزہ کے ساتھ بھیجتے ہوئے اسے بتا رہا تھا
آپ فکر نہ کریں بھائی میں خیال رکھوں گا اس جنگلی بلی کا
حمزہ نے شرارت سے کہا تھا جبکہ مائرہ جو یونیفارم پہن کر پھولے نہیں سما رہی تھی اسے گھور کر دیکھنے لگی تھی
دائی دیدو اسے دیا دول را اے ( بھائی دیکھو اسے کیا بول رہا ہے )
مائرہ نے فوراً شکایت لگائی تھی
حمزہ میری بہن کو جنگلی بلی نہیں بولو
انت نے مائرہ کی بات سن کر تھوڑا سختی سے حمزہ کو کہا تھا
اچھا سوری اب چلو لیٹ ہو جائیں گے
حمزہ نے گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے کہا تھا
چلو میں میری گڑیا کو پورچ تک چھوڑ آتا ہوں
انت نے مائرہ کو گود میں اٹھائے کہا تھا
بیلا جونفرم ( میرا یونیفارم )
انت کے گود میں اٹھاتے ہی مائرہ فوراً بولی تھی
او سوری
انت نے مسکراتے ہوئے کہا اور دونوں کو گھر سے باہر لے گیا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
حیا رات کی فلائیٹ سے پاکستان آ گئی تھی اور اب وہ گھر میں موجود تھی
تم آرام کرو باقی باتیں صبح ہونگی
عارف بلگرامی نے حیا سے کہا تو وہ چپ چاپ روم میں چلی گئی تھی اور تھکن کے مارے آتے ہی سو گئی تھی
صبح اسکی آنکھ فجر کی آذان کے وقت کھلی تھی وہ جلدی سے اٹھی اور واشروم میں گھس گئی کچھ دیر بعد وضو بنا کر آئی اور نماز ادا کرنے کھڑی ہو گئی تھی
امریکہ جیسے ملک میں رہتے ہوئے بھی اس نے اپنی اسلامی تعلیم حاصل کی تھی وجہ انکے گھر کے ساتھ رہ رہے مسلم گھرانے کا تھا جہاں ایک بزرگ خاتون رہتی تھیں انہوں نے ہی حیا کو اسلامی تعلیم سے روشناس کروایا تھا جسکی بدولت آج وہ اپنے رب کے حضور کھڑی تھی
وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تو کمرے سے باہر نکل آئی تھی اور کچن کی طرف رخ کیا تھا کیونکہ اسکی عادت تھی فجر کے بعد کچن میں جانے کی کیونکہ امریکہ میں گھر کا ہر کام وہ کرتی تھی
کچن میں خانسمہ ناشتہ بنا رہا تھا
تمہیں کچھ چاہیے بچی
خانسمہ نے اسے کچن میں دیکھ سوال کیا تھا
کیا بنا رہیں ہیں آپ
حیا نے انھیں دیکھتے ہوئے پوچھا تھا
صاحب کے لئے ناشتہ بنا رہا ہوں
خانسمہ نے فریج سے انڈے نکالتے ہوئے کہا تھا
لائیں آملیٹ اور چائے میں بنا دیتی ہوں
حیا نے آگے بڑھتے ہوئے کہا تھا
نہیں بچی تم جاؤ میں کر لوں گا
خانسمہ نے فوراً کہا تھا
پلیز
حیا نے معصومیت سے کہا تھا کہ خانسمہ منع نہیں کر پایا تھا
تمہیں یہ سب بنانا آتا ہے ؟
خانسمہ نے اسے انڈے پکڑاتے ہوئے پوچھا تھا
جی امریکہ میں سب کچھ میں ہی کرتی تھی
حیا نے انڈے باؤل میں ڈالتے ہوئے کہا تھا اور یوں ہی باتوں باتوں میں ناشتہ تیار ہو گیا تھا
ناشتہ لے آؤ
عارف بلگرامی نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا تھا اور خانسمہ فوراً ناشتہ لیکر حاضر ہوئے تھے اور عارف بلگرامی نے ناشتہ شروع کیا تھا
چائے کس نے بنائی ہے
عارف بلگرامی نے چائے کے سیپ لیتے ہوئے پوچھا تھا
اچھی نہیں بنی کیا ؟
خانسمہ نے پریشانی سے پوچھا تھا
میں نے بنائی ہے ڈیڈ
کچن سے باہر نکلتی حیا نے فوراً کہا تھا
بہت مزے کی ہے شاباش
عارف بلگرامی نے مسکراتے ہوئے تعریف کی تھی اور حیا بھی یہ سن کر خوش ہو گئی تھی۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
پانچ سال کی بچی ہے اور اسے بولنا تک ٹھیک سے نہیں آتا آخر کیوں جبکہ پانچ سالہ بچہ تو بلکل سہی بات کر لیتا ہے آپ جانتے ہیں جب اسکی ٹیچر نے مجھ سے پوچھا تو میرے پاس کوئی جواب نا تھا بھائی
حمزہ نے انت کو دیکھتے ہوئے کہا تھا
بچی ہے وہ حمزہ
انت نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا
بھائی اسے بولنا آنا چاہیے وہ آخر کیوں توتلی باتیں کرتی ہیں
حمزہ نے فوراً کہا تھا
جن بچوں کے اردگرد بولنے والا کوئی نا ہو ان سے باتیں کرنے والا کوئی نا ہو تو ایسے بچے دیر سے بولنا شروع کرتے ہیں اسی لئے جب گونگے لوگوں کے گھر بچہ ہوگا تو وہ گونگا ہی رہے گا جبکہ جنکے ماں باپ بچے کو بولنا سکھائیں گے انکے بچے سہی طریقے سے بولیں گے
انت نے اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا تھا
مگر آپ تو تھے نا مائرہ کے پاس
حمزہ نے فوراً سوال داغا تھا
ہاں تھا مگر مجھے وقت کہاں ملتا تھا میں ڈیڈ کا ایک پیسہ نہیں لیتا ہم پر خرچ کرنے کے لیے اس لئے مجھے کمانے جانا پڑتا تھا امی ابو سے مار کھانے کے بعد کچھ بول نہیں پاتی تھی کیونکہ انکا منہ سوجا ہوتا تھا اور تم شرارتوں میں ہوتے تھے تو کیسے بولنا سکھاتا میں اسے بتاؤ مجھے
انت نے تلخی سے کہا تھا
تمہیں پتہ ہے حمزہ زندگی ہونٹ پر بکھری ہوئی مسکراہٹ سے بہت مختلف ہوتی ہے اور مجھے زندگی کی تلخیوں نے وقت سے پہلے بڑا کر دیا ہے اور تمہیں پتہ ہے میں یہ سب اس لئے برداشت کر رہا ہوں کیونکہ خدا پر یقین کا سفر بہت خوبصورت ہوتا ہے مجھے امید ہے ایک دن میں بھی خوشگواری زندگی گزاروں گا
انت نے حمزہ کو دیکھتے ہوئے کہا تھا جبکہ حمزہ کچھ بول نا پایا تھا آخر کیا بولتا وہ اپنی جگہ انت بھی درست تھا خودار بہادر لڑکا تھا جس نے اپنی کھیلنے کودنے کی عمر کو چھوڑ کر اپنے بہن بھائی کی زندگی سنوارنے پر وقف کر دی تھی۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
