Unt Ul Hayaat By Samreen Zahid readelle50029 Episode 04
Rate this Novel
Episode 04
انت نے گاڑی گھر کے پورچ میں روکی تھی اور احتیاط کے ساتھ حیا کی سائیڈ کا ڈور کھولا تھا اور اسے بانہوں میں اٹھائے گھر میں داخل ہوا تھا
آپ کھانا کھائے گیں بیٹا
انت کو سیڑھیوں کی طرف بڑھتا دیکھ ایک ادھیڑ عمر کی خاتون نے پوچھا تھا
نہیں اماں مجھے بھوک نہیں اور آپ ابھی تک جاگ رہی ہیں کتنی بار کہا ہے کہ آپ سو جایا کریں میرا انتظار نہیں کیا کرے
انت نے نہایت نرمی سے کہا تھا جبکہ وہ عورت انت کی بانہوں میں آنکھیں موندے لڑکی کو دیکھ رہی تھی
یہ کون ہے انت بیٹا
اس عورت نے حیرانگی سے پوچھا تھا جبکہ آج تک انہوں نے انت کو کسی لڑکی کے ساتھ نہیں دیکھا تھا
اماں اس گھر کی ہونے والی مالکن میرے دل کی شہزادی آپ کے بیٹے کی ہونے والی بیوی ہے
انت نے مسکراتے ہوئے حیا کا تعارف کروایا تھا
لیکن یہ ایسے ۔۔۔۔۔۔۔
اس سے آگے اس عورت کو سمجھ نا آیا تھا کہ کیا پوچھے
اماں پاگل لڑکی ہے یہ دوست کے کہنے پر بنا سوچے سمجھے کلب چلی گئی تھی وہاں اس نے اسے شرارت سے جوس میں وائن پلا دی تھی اور میڈم پر نشہ طاری ہو گیا تو میں اسے یہاں لے آیا کل نکاح کروں گا میں اس سے
انت نے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اماں پر بمب پھوڑا تھا اور اماں اسے جاتا دیکھ رہی تھی
بلکل باولہ لڑکا ہے یہ مجھے تو سمجھ نہیں آتی اسکی
اماں خود سے کہتی سونے چلی گئی تھی
انت نے اپنے کمرے کا دروازہ کھولا تھا اور پھر پیر کی مدد سے دروازہ بند کرتا حیا کو بیڈ پر احتیاط سے لٹایا تھا اور خود اپنے کپڑے لئیے واشروم چلا گیا تھا
کچھ دیر بعد وہ فریش ہو کر آیا تھا اور حیا کے پاس آ کر اسکے سراہنے بیٹھ گیا تھا
بہت بے وقوف ہو تم اور پاگل بھی بھلا کوئی کسی کے کہنے پر کلب جاتا ہے وہ تو اللہ کا شکر ہیکہ اس نے مجھے وہاں بھیج دیا ورنہ تمہارے ساتھ کیا ہو جاتا یہ اللہ ہی جانتا تھا
انت نے حیا کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے کہا اور وہ دنیا جہان سے غافل سوئی ہوئی تھی
ویسے تم بلکل نہیں بدلی وہی چہرہ وہی پاگل وہی قاتل ادائیں اور وہی میری حیا بلکل کوئی رد و بدل نہیں ہوئی تم میں
انت نے ماضی کے پنے کھولتے ہوئے کہا تھا
کاش کہ مجھ سے وہ غلطی نا ہوئی ہوتی تو آج تم اور میں ساتھ ہوتے بلکہ اب تو ہم ڈبل سے ٹریپل ہوئے ہوتے
انت نے مسکراتے ہوئے حیا کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے کہا
خیر ماضی کی غلطی دوبارہ نہیں دہراؤں گا کل تمہیں میرا ہونا ہوگا ہر حال میں ہر صورت میں
انت نے حیا کے پاس سے اٹھتے ہوئے کہا اور اسکا کمفرٹر درست کرتا صوفے پر آ گیا تھا اور وہی لیٹ کر اسے دیکھتے ہوئے نا جانے کب نیند کی وادیوں میں اتر گیا تھا۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
صبح انت کی آنکھ جلدی کھل گئی تھی اور سب سے پہلے اسکی نظر اپنے بیڈ پر گئی تھی جہاں وہ ابھی تک سو رہی تھی
انت حیا کو دیکھتے ہوئے مسکرا دیا اور اٹھ کر وارڈروب کی طرف بڑھا تھا اور اپنے کپڑے لئیے واشروم میں گھس گیا
کچھ دیر بعد فریش ہو کر وہ باہر آیا تھا اور حیا پر ایک نظر ڈال کر وہ کمرے سے باہر نکل گیا
اماں حیا کے لئے لیمو پانی بنا دیجئے اور کچھ کھانے کو اچھا سا بنوا لیجئے نکاح ہے آج میرا
انت نے کچن میں آتے ہی اماں صاحب کو کہا تھا
بیٹا کیا وہ تم سے شادی کرنے کے لیے تیار ہے
اماں صاحب نے اپنے دل میں آیا سوال پوچھا تھا
پتا نہیں اماں صاحب
انت نے جواب دیا تھا
اگر وہ نا مانی تو ۔۔۔۔۔
اماں صاحب نے کہتے ہوئے اپنا جملہ بیچ میں ہی چھوڑ دیا تھا
وہ مانے یا نا مانے اسکی رضا مندی ہو یا نا ہو اسے آج میرا ہونا ہوگا ہر حال میں ہر قیمت پر وہ اگر کسی کی ہوگی تو میری ہو گی ماضی کی غلطی دوبارہ نہیں دہرا سکتا میں اماں صاحب آپ جانتی ہیں
انت نے اماں صاحب کو دیکھتے ہوئے کہا تھا اور اسکی بات سن کر اماں صاحب چپ ہو گئی تھی بھلا اماں صاحب سے بڑھ کر کون اسکا جنون جان سکتا تھا پھر چاہے وہ ملک کے لئے ہو اپنے پیاروں کے لئے ہو یا پھر اپنی لائف لائن اپنی زندگی حیا کے لئے ہو
ٹھیک ہے بیٹا جیسی تمہاری مرضی مگر تم اس کے ساتھ زبردستی مت کرنا کسی بھی معاملے میں
اماں صاحب نے انت کو دیکھتے ہوئے کہا تھا جس پر انت ہاں میں گردن ہلاتا کچن سے باہر آ گیا تھا
انت نے باہر گارڈن میں آ کر اپنا موبائل نکالا تھا اور کسی کو کال ملائی تھی
ہیلو ہاں مولوی کا انتظام کرو اگلے ایک گھنٹے میں مجھے مولوی اور گواہ سمیت مجھے میرے گھر میں دکھو تم نکاح کے پیپرز بھی لیتے آنا
انت نے اپنے آدمی کو ساری ڈیٹیل دیتے ہوئے حکم دیا تھا اور پھر کال کاٹ دی تھی
کچھ دیر یوں ہی باہر گارڈن میں بیٹھے رہنے کے بعد وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا اب اسکا ارادہ حیا کے پاس جانے کا تھا وہ چلتا ہوا گھر میں داخل ہوا اور کچن میں آ گیا وہاں سے لیمو جوس لیکر وہ اپنے کمرے کی جانب چل دیا تھا
کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے دیکھا کہ حیا وہاں نہیں تھی اس نے اردگرد نظریں دوڑائیں تو اسے واشروم سے پانی گرنے کی آواز آئی وہ مسکراتا ہوا سامنے صوفے پر بیٹھ گیا تھا
کچھ ہی دیر میں حیا واشروم سے تولیہ سے بالوں کو صاف کرتی باہر نکلی تھی اور چلتے ہوئے شیشے کے سامنے کھڑی ہو گئی اس کا دھیان نہیں گیا تھا کہ کمرے میں کوئی اور بھی موجود ہے
شیشے سے سامنے موجود صوفہ اور صوفے پر بیٹھا وہ شخص بہت اچھی طرح نظر آ رہا تھا
حیا نے جوں ہی اپنی نظر آئینے پر ڈالی تھی اسکی اوپر کی سانسیں اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی تھی ٹاول ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گر گیا تھا اور وہ آنکھیں پھاڑے شیشے سے اسے دیکھ رہی تھی
تتتفت۔۔۔۔۔۔تم نہیں تم نہیں ہو سکتے میری آنکھوں کا دھوکہ ہے یہ شاید سر درد کی وجہ سے
حیا نے کہتے ہوئے اپنے منہ پر ہاتھ مارتے ہوئے خود کو جگانا چاہا تھا اسکے مطابق یہ سب نشے کا اثر تھا مگر یہ سب تو حقیقت تھی
میں کوئی آنکھوں کا دھوکہ نہیں ہوں میں حقیقت ہوں وہ حقیقت جسکے ساتھ اب سے تمہیں رہنا ہے اسی حقیقت کے ساتھ تمہیں جینا بھی ہے اور مرنا بھی ہے
انت نے مسکراتے ہوئے کھڑے ہو کر کہا تھا وہیں اسکی بات سن کر حیا کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی تھیں
تم یہاں میرے ۔۔۔۔۔۔۔
حیا نے کمرے میں جیسے ہی نظر دوڑا کر کہنا چاہا تھا اسکی بات حلق میں ہی رہ گئی تھی
تم اس وقت میرے سامنے میرے گھر میں ہو حیا ڈارلنگ اب سے نہیں رات سے ہو
انت نے حیا کو کہتے ہوئے اسکے قریب قدم بڑھانے لگا تھا
ککک۔۔۔۔۔کیا ہے تم نے میرے ساتھ رات میں
حیا نے کپکپاتے جسم کے ساتھ ہکلاتے ہوئے پوچھا
میں کوئی گرا پڑا مرد نہیں ہوں جو عورت کو دیکھتے ہی درندہ بن جاؤں اور اسکی عزت کو اس سے چھین لوں چھوٹے گھرانے کا سہی مگر عزت دار مرد ہوں عورت پر اپنی ملکیت اسے اپنا بنانے کے بعد ہی جتاتا ہوں کیونکہ میں انت شاہ ہوں سمجھی تم
انت نے حیا کو دیکھتے ہوئے سختی سے کہا تھا
کیا چاہتے ہو تم میں نے پہلے وہی کیا تھا جو تم نے کہا تھا تو اتنے سالوں بعد تمہیں کیوں میں یاد آئی کیا چاہتے ہو تم مجھ سے
حیا نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا تھا کیونکہ اسے دیکھ اسکے پرانے زخم تازہ ہو چکے تھے
میں تمہیں اپنی بیوی بنانا چاہتا ہوں پہلے بھی تم نے میری بات مانی تھی اب بھی مانو گی
انت نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تھا جبکہ حیا کو شدید جھٹکا لگا تھا
واٹ آر یو میڈ نہیں کروں گی میں تم سے شادی میں بھی کوئی گری پڑی لڑکی نہیں ہوں جو ایک بار انکار کرنے والے کے ساتھ دوبارہ بولنے پر شادی کر لوں
حیا نے انت کو دیکھتے ہوئے غصے سے کہا
جو بھی کر لو شادی تو تمہیں مجھ سے ہی کرنی پڑے گی
انت نے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا
تم مجھے یہاں نہیں رکھ سکتے میں تمہارے ساتھ نہیں رہوں گی یا تو یہاں سے بھاگ جاؤں گی یا پھر خود کشی ۔۔۔۔۔
تھڑاا
منہ پر پڑنے والے تھپڑ نے حیا کے لفظوں کا گلہ گھونٹ دیا تھا
کیا کہا تم نے مجھے چھوڑو گی انت کو چھوڑوں گی کس نے تمہیں حق دیا مجھے چھوڑنے کا یہ حق میں نے موت کو بھی نہیں دیا تو تم کون ہوتی ہو یہ فیصلہ کرنے والی ہاں
انت نے غصے سے دہاڑتے ہوئے حیا کے چبڑوں کو دبوچتے ہوئے کہا
چچچچچ۔۔۔۔۔۔چھوڑو ممممم۔۔۔۔۔مجھے دددد۔۔۔۔۔۔درد ہو۔۔۔۔۔رہا ہے
حیا نے درد کی شدت کی وجہ سے بامشکل کہا تھا
درد ہو رہا ہے نا مجھے بھی ایسا بلکہ اس سے بھی کہی گنا زیادہ درد ہوا ہے تمہاری یہ فضول بکواس سن کر
انت نے حیا کو جھٹکے سے چھوڑتے ہوئے بے بسی سے کہا تھا
تم میری ہو اور میری ہی رہو گی جو چیز انت کو پسند ہو جائے وہ انت کی ہوتی ہے پھر چاہے وہ بے جان ہو یا جیتا جاگتا انسان
انت نے گھٹنوں کے بل بیٹھتے ہوئے حیا سے کہا تھا جو منہ پر ہاتھ رکھے رو رہی تھی
تم نے دیکھا ہے کسی باپ کو اپنی بیٹی کو بیچتے ہوئے یقیناً نہیں دیکھا ہوگا لیکن آج دیکھو گی تمہارا باپ اپنے بیٹے کی سانسوں کے بدلے اپنی بیٹی کو بیچ کر جائے گا اپنی بیٹی کی سانسوں کا سودا کرے گا آج
انت نے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا تو حیا نے بے یقینی سے انت کو دیکھا تھا
ہاں تمہارا بھائی فارخ میرے قبضے میں ہے اگر تم چاہتی ہو کہ میں تمہارے بھائی کو زندہ چھوڑ دوں تو ابھی کچھ کپڑے بھیج رہا ہوں اسے چپ چاپ پہن کر تیار ہو جانا اور نکاح کے بول بنا کسی ڈرامے کے ادا کرنا ورنہ تم تو مجھے اچھی طرح جانتی ہو نا حیا ڈارلنگ
انت نے حیا کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا اور اٹھ کر وہاں سے چلا گیا پیچھے حیا روتی رہ گئی تھی۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
ہمزہ آج بہت خوش تھا کیونکہ وہ ابھی ابھی کراچی پہنچا تھا اور اب کیپ لیکر گھر کی جانب چل پڑا تھا
اسکے چہرے پر بہت ہی خوبصورت مسکراہٹ تھی کیونکہ ایک سال بعد وہ اپنے بھائی سے ملنے والا تھا انھیں سرپرائز کرنے والا تھا کیونکہ وہ کسی کو بنا بتائے کراچی آ چکا تھا آخر اپنے جان عزیز بھائی کو سرپرائز کرنا تھا
گاڑی کچھ دیر کی مسافت کے بعد ڈیفینس کے ایک نہایت خوبصورت بنے گھر کے آگے رکی تھی اور ہمزہ کیپ والے کو پیسے دیتا گھر میں داخل ہوا تھا
لیکن گھر میں داخل ہوتے ہی وہ حیران ہوا تھا
یہ کیا آج گھر میں کیا ہو رہا ہے
وہ خود سے کلامی کرتا آگے بڑھا تھا جب سامنے اسے اسکا بھائی کسی سے بات کرتا دیکھائی دیا تھا وہ بیگ کو وہی رکھتا دبے پاؤں اسکی طرف بڑھا تھا اور ٹھیک اسکے پیچھے جا کر کھڑا ہوا تھا اور اسکی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دئے تھے
کون ہے کس کی اتنی ہمت کہ میرے ساتھ مذاق کرے میں۔۔۔۔۔
انت نے اسکے ہاتھوں پر جیسے ہی ہاتھ لگائے تھے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی تھی
ہمزہ
انت نے خوشی سے اسے پکارا تھا
جی بھائی
ہمزہ نے انت کے کی آنکھوں پر سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے مسکرا کر کہا
کیسے ہو آپ
ہمزہ نے انت کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر پوچھا تھا
میں ٹھیک ہوں تو کیسا ہے کتنا کمزور ہو گیا ہے اپنا خیال نہیں رکھتا تھا کیا چہرہ دیکھ کیسے مرجھا گیا ہے اور اچانک یہاں کیسے چھٹیاں لیکر آیا ہے اگر چھٹیاں لیکر آیا ہے تو اچھا کیا ہے میں بھی تجھے بہت یاد کر رہا تھا
انت نے ہمزہ کو گلے لگاتے ہی ایک سانس میں اتنے سوال پوچھ لئے تھے اور اماں صاحب انت کو دیکھ مسکرا دی تھی
بھائی بریک لگائے یار آپ ایک سانس میں اتنے سوال پوچھ سکتے ہیں مگر میں ایک سانس میں اتنے سوالوں کا جواب نہیں دے سکتا
ہمزہ نے مسکراتے ہوئے کہا تھا جس پر انت بھی اپنی بے اختیاری پر مسکرا دیا تھا
آپ کیسی ہیں اماں صاحب بھائی نے زیادہ تنگ تو نہیں کیا آپ کو
ہمزہ نے اماں صاحب کے آگے سر کرتے ہوئے مسکرا کر کہا
نہیں بیٹا انت تو بہت خیال رکھتا ہے میرا
اماں صاحب نے ہمزہ کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھتے ہوئے جواب دیا
ویسے گھر میں تیاریاں کس چیز کی ہو رہی ہیں
ہمزہ نے اماں صاحب اور انت کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا
شادی کی آج انت کا نکاح ہے
اماں صاحب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تھا
واٹ کیا سچ میں مگر مجھے کسی نے بتایا کیوں نہیں اگر آج میں نہیں آتا تو شادی مس کر دیتا میں
ہمزہ نے خفگی سے کہا تھا
ایسے کیسے مس کر دیتا میں ایسا ہونے دیتا تب نا اپنے آدمیوں کو بھیجا تھا میں نے تجھے لینے لیکن تو پہلے ہی آگیا
انت نے مسکراتے ہوئے کہا
میں یہاں آپ کو سرپرائز دینے کے لئے آیا تھا مگر میں خود سرپرائز ہو کر رہ گیا
ہمزہ نے شرارت سے کہا تو انت مسکرا دیا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
حیا نے انت کے بھیجے گئے کپڑے چپ چاپ پہن لئے تھے کیونکہ اب سوال اسکے بھائی کی جان کا تھا
ساری تیاریاں ہو چکی تھی حیا کو بھی بیوٹیشن نے خوبصورتی سے تیار کر دیا تھا
بیٹا تیار ہو گئی ہو تم
اماں صاحب نے کمرے میں آتے ہی حیا سے پوچھا تھا
جی میم تیار ہو گئی ہیں
بیوٹیشن نے جواب دیا تھا جبکہ حیا حیرت سے اس ادھیڑ عمر کی خاتون کو دیکھ رہی تھی
ٹھیک ہے آپ جائیں
اماں صاحب نے بیوٹیشن کو کہا تو وہ وہاں سے چلی گئی تھی
چلئے بیٹا نکاح کا وقت ہو گیا ہے
اماں صاحب نے حیا کے پاس آتے ہوئے مسکرا کر کہا تھا
انت آپ کا بیٹا ہے نا
حیا نے انکی بات کو اگنور کرتے ہوئے پوچھا تھا
ہاں کیوں کیا ہوا
اماں صاحب نے مسکراتے ہوئے پوچھا تھا
ایک ماں ہو کر آپ اسے ایسا کرنے دے رہی ہیں
حیا نے کھڑے ہوتے ہوئے حیرت سے پوچھا تھا
بیٹا یہ اسکا اور تمہارا معاملہ ہے میں اسے جتنا سمجھا سکتی تھی سمجھا چکی ہوں آگے اب میں کچھ نہیں کہہ سکتی مگر ہاں وہ تمہارے ساتھ زبردستی کسی بھی معاملے میں نہیں کرے گا
اماں صاحب نے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا
زبردستی شادی کر رہا ہے اور پیچھے کیا رہ گیا زبردستی کرنے کے لئے
حیا نے غصے سے کہا تھا
گھونگھٹ اوڑھ لو
اماں صاحب نے لال چنری اسکے سر پر دیتے ہوئے کہا تو حیا نے چپ چاپ گھونگھٹ کر لیا تھا اور اماں صاحب اسے نیچے لے گئی تھی۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
