Unt Ul Hayaat By Samreen Zahid readelle50029 Episode 05
Rate this Novel
Episode 05
🌸🌸🌸
اماں صاحب حیا کو اپنے ساتھ نیچے لیکر آئی تھی جہاں کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے
اماں صاحب نے حیا کو انت کے پاس لا کر بٹھایا تھا
مولوی صاحب نکاح شروع کریں
انت نے مولوی صاحب کو کہا تھا
مجھے پہلے میرے بھائی کو دیکھنا ہے
حیا نے دھیمی مگر غصیلی آواز میں کہا تھا
دیکھ لینا حیا ڈارلنگ نکاح کے بعد فرصت سے دیکھنا اپنے بھائی اور باپ کو
انت نے دھیمی آواز میں کہا تو حیا نے مٹھیاں بھینچی تھی
حیا بلگرامی بنت عارف بلگرامی کیا آپ کو انت شاہ ابن حیدر شاہ کے ساتھ یہ نکاح سکہ رائج الوقت دو لاکھ روپے حق مہر کے ساتھ طے پایا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے
مولوی صاحب نے حیا سے پوچھا تھا
قق۔۔۔۔قبول ہے
حیا کی آواز میں لڑکھڑاہٹ تھی
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے
مولوی صاحب نے دوبارہ پوچھا تھا
قبول ہے
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے
مولوی صاحب نے آخری بار پوچھا
جی ققق۔۔۔۔۔۔قبول ہے
حیا نے بلآخر تیسری بار بھی قبول کہہ دیا تھا اور اپنا آپ اس شخص کے نام کر دیا تھا جس سے کبھی حیا محبت کرتی تھی
کرتی تو اب بھی ہے مگر شاید غصہ نفرت اور ٹوٹے ہوئے دل کے ٹکڑوں کی وجہ سے مار ڈالا تھا اپنی محبت کو
حیا سے اسکی رضامندی لینے کے بعد مولوی صاحب انت کی طرف متوجہ ہوئے تھے اسکی رضامندی لینے کے لیے
انت شاہ ابن حیدر شاہ کیا آپ کو حیا بلگرامی بنت عارف بلگرامی کے ساتھ دو لاکھ روپے سقہ راج الوقت نکاح طے پایا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے
مولوی صاحب نے انت سے پوچھا تھا
جی قبول ہے
انت نے خوشی سے جواب دیا تھا
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے
مولوی صاحب نے اپنی بات دہرائی تھی
قبول ہے
انت نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے
مولوی صاحب نے آخری بار پوچھا تھا
جی قبول ہے
انت نے خوشی سے آخری بار بھی قبول کہا تھا اور یوں دونوں کی رضامندی سے یہ نکاح ہو چکا تھا
نکاح کے پیپرز پر دونوں کے دستخط کے ساتھ ساتھ گواہوں کے بھی دستخط لئے گئے تھے اور اسکے بعد دعا کی گئی تھی
نکاح کے بعد حیا کو اماں صاحب انت کے کمرے میں لے گئی تھی جبکہ انت نے مہمانوں کو کھانا کھلا کے انھیں خوشی خوشی رخصت کیا تھا
واؤ بھائی مجھے تو یقین نہیں آ رہا کہ آپ کی شادی ہو گئی ہے
ہمزہ نے انت کے گلے میں بازو ڈالتے ہوئے خوشی سے کہا تھا اور انت مسکرا دیا تھا
اب تمہاری باری ہے
انت نے شرارت سے ہمزہ سے کہا تھا
کیا خاک میری باری ہے مجھے تو آج تک کوئی ملی ہی نہیں
ہمزہ نے افسردگی سے کہا تھا
ناراض نا ہو جانی مل جائے گی تجھے بھی دیکھنا
انت نے ہمزہ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے دلاسہ دیتے ہوئے کہا
اب کچھ ضروری بات کر لیں ہم اس شادی سے ہٹ کر
انت نے ہمزہ کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا تھا تو ہمزہ نے ہاں میں گردن ہلائی تھی اور دونوں اپنے سیکریٹ روم میں چلے گئے تھے۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
حیا کو اماں صاحب روم میں لے آئی تھی اور اسے بیڈ پر بٹھا کر اسکا گھونگٹ سائیڈ پر کیا تھا
بیٹا ایک بات کہوں اگر برا نا مانو تو
اماں صاحب نے حیا کے سامنے بیٹھتے ہوئے کہا تھا
جی کہیے
حیا نے بے تاثر چہرہ لئیے جواب دیا تھا
میں مانتی ہوں انت نے غلط کیا ہے مگر پلیز تم اسکی غلطی کو درگزر کر دینا اب وہ تمہارا شوہر ہے تمہارا مجازی خدا ہے اسکا حکم ماننا اسے خوش رکھنا تمہاری زمہ داری ہے میں یہ نہیں کہتی تم سب بھول جاؤ مگر اسے سمجھنے کی کوشش کرنا ماضی میں ہوئی وہ ایک غلطی تھی کوئی گناہ نہیں تھا جسکی کوئی معافی نا ہو اور خدا بھی تو بندے کو معاف کر دیتا ہے ہم تو پھر بھی انسان ہیں میری باتوں کے متعلق سوچنا ضرور
اماں صاحب حیا کو کہہ کر کمرے سے باہر نکل گئی تھی جبکہ حیا اماں صاحب کو جاتا دیکھ رہی تھی
کچھ ہی دیر بعد انت کمرے میں داخل ہوا تھا اور حیا ہنوز ویسے ہی بیٹھی تھی جیسے اماں صاحب نے اسے دلہن کے روپ میں بٹھایا تھا
انت مسکراتا ہوا کمرے میں داخل ہوا تھا اور دروازہ لوک کیا تھا اور پھر مسکراتے ہوئے حیا کی طرف قدم بڑھائے تھے
کم از کم گھونگٹ تو کرتی
انت نے بیڈ پر بیٹھتے ہی حیا سے کہا تھا
میری مرضی
حیا نے غصے سے کہا تھا جس پر انت مسکرایا تھا
چلو کوئی بات نہیں یہ لو تمہاری منہ دکھائی کا تحفہ
انت نے حیا کے سامنے کچھ پیپرز کئے تھے جس پر حیا نے بے یقینی سے انت کو دیکھا تو اور پھر پیپرز کو
کیا ہے یہ
حیا نے سوال کیا تھا
پڑھ لو ماشاءاللہ سے پڑھی لکھی ہو پڑھنا تو آتا ہی ہوگا
انت نے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا تو حیا نے انت سے پیپرز پکڑ کر اسے کھول کر پڑھنا شروع کیا تھا
وہ جیسے جیسے پڑھتی جا رہی تھی ویسے ویسے اسکے چہرے کے زاویے بدلتے جا رہے تھے جب پورا پڑھ چکی تو حیرت سے انت کو دیکھا تھا اور انت اسے مسکراتا ہوا دیکھ رہا تھا
کیا ہے یہ
حیا نے بے یقینی سے پوچھا تھا
یہی کہ میری اور تمہاری شادی ایک سال کا کنٹریکٹ ہے اگر اس ایک میں تمہیں اپنا عادی نا بنا سکا تمہیں خود سے محبت نہ کروا سکا یا تم مجھے چھوڑ کر جانا چاہو تو میں تمہیں خوشی خوشی اس رشتے سے آزاد کر دوں گا
انت نے سنجیدگی سے اسے بتایا تھا اور انت کے منہ سے یہ سننے کے بعد حیا کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا
ایک بات کہوں حیا
انت نے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا تھا
ہممم
حیا نے ایک لفظی جواب میں کہا تھا
تم آج بھلے اس شادی سے خوش نہیں ہو لیکن تمہیں بہت جلد میری چاہت میری محبت سے یہ احساس ہوگا کہ تم نے تین دفعہ قبول ہے بول کر بہت اچھا فیصلہ کیا تھا جس پر آج تم شرمندہ ہو مگر تمہیں جلد ہی فخر ہوگا اپنے اس فیصلے پر
انت نے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا تھا جس پر حیا نے کچھ نا کہا تھا کیونکہ وہ تو ان پیپرز کے بارے میں سن کر خوش تھی کہ اچانک اسے کچھ یاد آیا تھا
میرا بھائی
حیا نے فوراً کہا تھا
میں اسی بات کا انتظار کر رہا تھا چلو نیچے
انت نے کہتے ہی حیا سے کہا تھا اور کھڑا ہوگیا تھا حیا بھی انت کے ساتھ کھڑی ہوئی تھی اور دونوں کمرے سے باہر نکل گئے تھے
انت حیا کو ایک ایسے کمرے میں لایا تھا جہاں مکمل خاموشی اور اندھیرے کا راج تھا انت نے کمرے کی لائیٹ آن کی تھی
کمرے میں سوائے ایک ٹیبل اور کرسی کے اور کچھ نا تھا ٹیبل پر کچھ فائلز اور ایک لیپ ٹاپ رکھا ہوا تھا اور ایک کونے میں اسکا بھائی رسیوں میں جکڑا ہوا بیٹھا تھا
ہمزہ جاؤ عارف کو لیکر آؤ
ہمزہ جو وہیں موجود تھا اسے انت نے حکم دیا تھا اور ہمزہ گردن ہلاتا باہر نکل گیا تھا
بھائی
حیا بھرائی ہوئی آواز میں کہتی فارخ کی طرف لپکی تھی
کیسے ہیں بھائی آپ کیا حال ہوا ہے آپ کا
حیا نے بھرائی ہوئی آواز میں فارخ کو کہتی ہوئی ایک نظر انت پر ڈالی تھی جو پرسکون سا ہو کر کرسی پر جا بیٹھا تھا
بھائی آپ ٹھیک تو ہیں
حیا دولہن بنی اپنے بھائی سے بھرائی ہوئی آواز میں پوچھ رہی تھی
تتت۔۔۔۔تم نے اااا۔۔۔۔۔۔۔اس سے شششششش۔۔۔۔۔۔شادی کر للللل۔۔۔۔۔۔لی حححححء۔۔۔۔۔۔۔حیا
فارخ نے سوجے منہ سے بامشکل بولا تھا
جی بھائی
حیا نے روتے ہوئے کہا تھا
فارخ
ابھی حیا بولنے ہی والی تھی کہ عارف بلگرامی نے فارخ کو پکارا تھا اور تیزی سے اسکی طرف قدم بڑھائے تھے
ہٹو یہاں سے
فارخ کے قریب پہنچتے ہی عارف بلگرامی نے حیا کو بازو سے پکڑ کر دور کیا تھا
تت۔۔۔۔تم ٹھیک ہو نا
عارف بلگرامی نے فارخ سے پوچھا تھا جس پر فارخ نے مشکل سے سر کو ہلایا تھا
تمہاری وجہ سے ہوا ہے سب فساد کی جڑ ہو تم تمہاری وجہ سے میرا بیٹا اس حالت میں صرف تمہاری عاشقی کی وجہ سے ارے شادی کرنی تھی تو مجھے بولتی میں کروا دیتا میرے بیٹے کے ساتھ یہ سب کرنے کی کیا ضرورت تھی یو بلڈی۔۔۔۔۔۔
اے عارف گالی نہیں حیا کو تو بلکل نہیں
ابھی عارف بلگرامی غصے سے بول ہی رہا تھا جب انت نے اسکی بات کو کاٹتے ہوئے کہا تھا اور حیا نیچے زمین پر بیٹھی ڈبڈائی آنکھوں سے دونوں کو دیکھ رہی تھی
تمہارے بیٹے کی یہ حالت تمہارے بیٹے کے اپنے کارنامے کی وجہ سے ہوئی ہے نا کرواتا میری جاسوسی ارے اس پر تو اور بھی کیسس کھلتے ہیں
میں چاہوں تو اسے ابھی زندہ مار سکتا ہوں مگر نہیں حیا کی وجہ سے تم دونوں کو چھوڑ رہا ہوں اگر آج کے کچھ غلط کرتے دکھائی دئے تم تو حیا کیا لگتی ہے تمہاری یا تم لوگ حیا کے کیا لگتے ہو کچھ نہیں سوچوں گا میں
انت نے عارف بلگرامی کو دیکھتے ہوئے غصے سے کہا تھا جس پر عارف بلگرامی چپ ہو گیا تھا
یہ پیپرز ہیں ان پر سائن کرو
انت نے ایک فائل کھولتے ہوئے کہا تھا
کیا ہے ان پیپرز میں
عارف بلگرامی نے پوچھا تھا
بیٹا چاہیے یا اس سوال کا جواب
انت نے غصے سے پوچھا تھا
بب۔۔۔۔بیٹا
عارف بلگرامی نے فوراً جواب دیا تھا اور ٹیبل کے پاس آتے ہی پین پکڑ کر سائن کر دئے تھے
اب اپنی اور اپنے بیٹے کی شکل غائب کرو جلدی
انت نے فائل بند کرتے ہوئے کہا تھا جسے سنتے ہی عارف نے مٹھیاں بھینچی تھی مگر فوراً سے اپنے بیٹے کو سہارا دیتا ایک حقارت بھری نظر حیا پر ڈال کر باہر چلا گیا تھا
تم بھی جاؤ اور جو کہا ہے کل وہ کرنا ہے تمہیں
انت نے ہمزہ سے کہا تھا اور ہمزہ چپ چاپ وہاں سے چلا گیا تھا
انت نے ایک نظر زمین پر بیٹھی حیا پر ڈالی تھی جو اب تک نیچے سر کئے رو رہی تھی وہ چلتا ہوا اس تک آیا تھا
چلو اپنے کمرے میں
انت نے حیا کو کندھے سے تھامتے ہوئے کھڑا کر کے کہا حیا نے ایک نظر اسے دیکھا تھا لیکن اسکی نظروں میں ایک وارننگ تھی جسے محسوس کرتے ہی وہ چپ اس کے ساتھ چل دی تھی۔
انت حیا کو کمرے میں لایا تھا اور اسے چینج کرنے کا کہہ کر باہر چلا گیا تھا اور حیا مرے قدموں سے چینج کرنے چلی گئی تھی
حیا جب چینج کر کے باہر آئی تو اسے انت بیڈ پر بیٹھا دکھا
یہ دودھ ہے اسے پی لو جلدی
انت نے حیا کو دیکھتے ہوئے پاس پڑی ٹیبل سے دودھ کا گلاس اٹھاتے ہوئے کہا
مجھے نہیں پینا
حیا نے صاف انکار کیا تھا
میں پوچھا نہیں ہے کہ پینا ہے یا نہیں بتا رہا ہوں کہ اس دودھ کو پیئو مطلب پئیو
انت نے غصے سے کہا اور گلاس حیا کو تھمایا تھا
چپ چاپ پی لو ورنہ میں اپنے طریقے سے پلاؤں گا
انت نے حیا کو دیکھتے ہوئے دھمکی تھی اور انت کی دھمکی سن کر حیا نے گلاس فوراً منہ کو لگایا تھا
شاباش تم پئیو میں چینج کر کے آتا ہوں
انت حیا کو کہتا اپنے کپڑے لیکر واشروم میں گھس گیا تھا پیچھے حیا ٹیڈے میڈے منہ بناتی دودھ کا گلاس ختم کر چکی تھی
انت جب چینج کر کے آیا تو حیا بیڈ پر لیٹی دکھائی دی اور اسکی آنکھیں اب بند ہونا شروع ہو رہی تھی
انت مسکراتا ہوا اسکے قریب ہی جگہ بنا کر لیٹ گیا تھا اور اسکا سر اپنے سینے پر رکھے اسکے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا تھا
سوری یار لیکن تمہیں نیند کی گولیاں دینی ضروری تھی
انت نے حیا کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے کہا اور اسی طرح نا جانے کب اسکی آنکھ لگ گئی تھی اور وہ سو گیا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
ارے کہاں جا رہی ہو ناشتہ کرتی جاؤ
شانزہ بیگم نے مائرہ کو جلدی میں جاتا دیکھ کہا
نہیں امی میں کالج میں کھا لوں گی کچھ
مائرہ نے بیگ کو کندھے پر ڈالتے ہوئے کہا
مائرہ ناشتہ کر کے جاؤ بیٹا
شفاقت صاحب نے مائرہ کو دیکھتے ہوئے کہا تو مائرہ خاموشی سے آ کر ٹیبل پر آ کر کرسی کھسکا کر بیٹھ گئی تھی اور ناشتہ کرنے لگی تھی
بیٹا صبح کا ناشتہ کرنا چاہیے پتا ہے نا آپ کو
شفاقت صاحب نے محبت سے کہا تو مائرہ نے مسکراتے ہوئے ہاں میں گردن ہلائی تھی اور پھر جلدی سے اللہ حافظ کہتی کالج کے لئے نکل گئی تھی
ہر وقت ہوا کے گھوڑے پر سوار رہتی ہے یہ لڑکی
شانزہ بیگم نے مائرہ کے جلدی جلدی میں ناشتہ آدھا چھوڑ جانے پر تاسف سے سر کو ہلاتے ہوئے کہا
آپ کی بیٹی ہے آپ پرجائے گی نا
شفاقت صاحب نے شرارت سے کہا تھا
کیا مطلب میں ہوا کے گھوڑے پر سوار رہتی ہوں
شانزہ بیگم نے حیرت سے پوچھا تھا
ارے نہیں مسسز آپ تو ہم دونوں باپ بیٹی پر سوار رہتی ہیں
شفاقت صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا تو شانزہ بیگم بھی مسکرا دی تھی۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
