Unt Ul Hayaat By Samreen Zahid readelle50029 Episode 17
Rate this Novel
Episode 17
بھائی چلیں نا پارک چلتے ہیں
حمزہ انت کے پاس آتے ہی بولا تھا
حمزہ تم دیکھ رہے ہو نا میں مصروف ہوں مجھے یہ سامان کل تک تیار کر کے دینا ہے تاکہ میں تم دونوں کی اسکول فیس جمع کروا سکوں
انت نے مصروف انداز میں کہا تھا
بھائی پلیز نا
حمزہ نے ضدی انداز میں کہا تھا تبھی وہاں اپنے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی مائرہ نمودار ہوئی تھی
لو چھپکلی میرا مطلب ہے ماہی آ گئی ماہی بھائی کو بولو آج پارک لے جائے ہم دونوں کو
حمزہ اب اس کو دیکھتے ہوئے بول رہا تھا جو اسے بڑے غور سے دیکھ رہی تھی
دائی دلتے ہیں ( بھائی چلتے ہیں )
مائرہ نے انت سے کہا تھا اور مائرہ بولے انت منع کر دے ایسا کبھی ہو سکتا تھا
اچھا چلتے ہیں لیٹ نائٹ کام کر یہ کمپلیٹ کر لوں گا میں
انت نے سامان سائیڈ پر رکھتے ہوئے کہا تھا
مجھے تو لگتا ہے میں ہوں ہی نہیں مطلب کوئی ویلیو ہی نہیں ہے میری مستقبل کا ہونے والا آرمی کیپٹن ہوں میں مگر مجال ہے جو تھوڑی سی بلکل تھوڑی سی بھی ویلیو ہو میری میرے ہی گھر میں اور یہ چھٹانک بھر کی بدی کی دیکھو کتنی چلتی ہے
حمزہ نے مائرہ کے ایک بار کہنے پر ہی مان جانے پر چوٹ کرتے ہوئے کہا تھا
اب ایسا بھی نہیں مسقبل کے ہونے والے آرمی کیپٹن
انت نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
بس بس سب پتہ ہے مجھے اس چھٹانک بھر کی چھپکلی کی ہی چلتی ہے
حمزہ نے مائرہ کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تھا
چھوٹی ہے یار وہ سمجھا کرو نا
انت نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا تھا
بھائی مجھے ایک بات سمجھ نہیں آتی یار
حمزہ نے حیرت سے کہا تھا
کون سی بات
انت نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا
یہ جو چھوٹے ہیں انکی گھر میں اتنی ویلیو کیوں ہوتی ہے جبکہ بڑے بچے کی ویلیو ہونی چاہیے ظاہر ہے میں اسکا خیال رکھتا ہوں تو اس سے زیادہ ویلیو میری ہونی چاہیے لیکن نہیں ماننی تو اس چھپکلی کی ہے
حمزہ نے برا منہ بناتے ہوئے کہا
یار حمزہ چھوٹے بچوں کی ویلیو اس لئے ہوتی ہیکہ انکا دل صاف ہوتا ہے کوئی کھوٹ کوئی میل نہیں ہوتی انکے دل میں جبکہ بڑوں میں حسد، کینہ اور نفرت جیسے عنصر پائے جاتے ہیں تبھی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جو بھی چیز لاؤ سب سے پہلے چھوٹے بچے کو دو اور تمہیں پتہ ہے چھوٹے بچوں کی آنکھیں چمکتی کیوں ہیں کیونکہ انکا کنکشن اللہ سے ہوتا ہے
انت نے حمزہ کو سمجھاتے ہوئے کہا تھا جبکہ حمزہ مائرہ کو بڑے غور سے دیکھ رہا تھا
اب اسے کیوں دیکھ رہے ہو تم ؟
انت نے حیرانگی سے سوال داغا تھا
بھائی میں دیکھ رہا ہوں کہیں اس چھپکلی کا بھی کنیکشن تو نہیں ہے اللہ تعالیٰ سے
حمزہ نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا تھا
دائی دیدو ( بھائی دیکھو )
حمزہ کے قہقہ لگانے پر مائرہ نے انت کو کہا تھا
او کے مجھے لگتا ہے تم دونوں کو پارک نہیں جانا مجھے لگتا ہے میں کام کر سکتا ہوں اب تم دونوں تب تک لڑ لو
انت نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا تھا
نہیں بھائی چلیں نا یار ہم تو مذاق کر رہے تھے کیوں ماہی
حمزہ نے انت کو بازو سے پکڑ کر کھڑا کرتے ہوئے مائرہ سے تائید چاہی تھی اور مائرہ نے بیل کی طرح سر ہلایا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
مائرہ حمزہ اور انت اس وقت گھر کے تھوڑے فاصلے پر بنے ایک خوبصورت پارک میں تھے جو کہ آس پاس کے بنگلوں میں گھرا ہوا تھا
چلو مائرہ فٹ بال کھیلتے ہیں
حمزہ نے فٹ بال نیچے رکھتے ہوئے کہا تھا
دھیان سے کھیلنا میں یہاں بیٹھا ہوا ہوں
انت نے سامنے بنی بیٹھنے کی جگہ پر بیٹھتے ہوئے کہا تھا اور مائرہ اور حمزہ فٹ بال کھیلنے لگ گئے تھے
اتفاق سے حیا اپنے بھائی کے ساتھ پارک آئی ہوئی تھی شاہ رخ تو دوستوں کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھا جبکہ حیا اب بور ہونے لگی تھی اس لئے پارک میں ٹہلنے لگی تھی
اب دیکھنا میں ماروں گا شارٹ اور یہ گئی بال ۔۔۔۔۔
ارے ۔۔۔۔۔
حمزہ نے بولتے ہوئے جیسے ہی فٹ بال کو کک کیا تھا فٹ بول اڑتی ہوئی دور گئی تھی
دائی ( بھائی )
مائرہ نے رونی شکل بناتے ہوئے انت کو دیکھا تھا
ارے گڑیا رو نہیں میں لاتا ہوں فٹ بال حمزہ خیال رکھنا اسکا میں آیا
انت نے مائرہ کہتے ہی حمزہ کو دیکھتے ہوئے کہا اور فٹ بال جس سمت گئی تھی اس سمت گیا تھا
ابے وہ دیکھ کیا لڑکی ہے
دو لڑکوں میں سے ایک لڑکے نے حیا کو گندی نظر سے دیکھتے ہوئے اپنے ساتھی کو کہا تھا
ہاں یار کیا پیس ہے
دوسرے لڑکے نے حیا کا اوپر سے نیچے تک جائزہ لیتے ہوئے کہا تھا جبکہ حیا اردگرد سے بیگانی پارک میں موجود لوگوں کو خاص کر بچوں کو کھیلتا دیکھ رہی تھی کیونکہ امریکہ میں تو اس نے محض چار دیواری ہی دیکھی تھی گھر کی
چل اسے سائیڈ پر لے کر آ
پہلے والے لڑکے نے خباثت سے ہنستے ہوئے کہا تھا
دکھنے میں دونوں موالی اور آوارہ لگتے تھے بے ڈھنگے کپڑے عمر بھی یہی کوئی انیس بیس کے قریب ہوگی دونوں کی ماحول کی اور اپنوں سے ملنے والی لا پرواہی غلط دوستوں کی سنگت بس یہی چند چیزیں ایک اچھے بھلے انسان کا بیڑا غرق کر دیتی ہیں اور انکے ساتھ بھی یہی مسئلہ تھا
سنو تمہیں وہاں کوئی بلا رہا ہے
اس لڑکے نے حیا کے پاس آتے ہی کہا تھا
کون بلا رہا ہے؟
حیا نے حیرانگی سے پوچھا تھا
پتہ نہیں کوئی ہے جو آپ کو اپنی بیٹی کہہ رہا ہے میرے خیال سے آپ کے ابو ہیں
اس لڑکے نے حیا کو اپنی باتوں میں پھنساتے ہوئے کہا تھا
اچھا میں دیکھتی ہوں
حیا کو جیسے ہی عارف بلگرامی کا خیال آیا تھا وہ فوراً جانے کے لیے مان گئی تھی
جی چلیں
اس لڑکے نے شیطانی مسکراہٹ سجائے ہوئے کہا تھا
انت فٹ بال کو دیکھتا ہوا پارک کے دوسرے حصے میں آیا تھا جہاں اکا دکا لوگ تھے وہ اردگرد نظریں دوڑائے فٹ بال کی تلاش میں تھا جب اسکی نظر اچانک ایک لڑکے پر پڑی تھی جو ایک لڑکی کو لے جا رہا تھا جبکہ باہر کھڑے لڑکے کو اشارہ کر رہا تھا
انت کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تھا کیونکہ وہ بھی لڑکا تھا لڑکوں کی نیت کے بارے میں اچھے سے جانتا تھا اس لیے اس نے انکا پیچھا کرنے کا سوچا تھا
کہاں ہیں وہ ؟
حیا نے باہر آتے ہی پوچھا تھا اب اسے کیا پتہ تھا کہ وہ دونوں اسے یہاں کس مقصد کے لئے لائے تھے اس نے تو اپنی ساری اب تک کی زندگی صرف چار دیواری اور اس میں بسنے والے بے حس لوگوں کی نظر کی تھی اسے تو ان مکاریوں کا علم تک نہ تھا
وہ یہ رہے ہاہاہاہاہاہاہا
دونوں لڑکوں نے قہقہ لگایا تھا جبکہ انت وہیں جھاڑیوں کے پیچھے کھڑا ہو کر انہیں دیکھنے لگا تھا
تم دونوں مجھے یہاں ۔۔۔۔۔۔
حیا انکے قہقہے سن کر بات کو سمجھنے لگی تھی کہ وہ یہاں اسے جھوٹ بول کر لائیں ہیں
بس بس ڈارلنگ اب کچھ نہیں بولنا اب ہم بولتے ہیں تم سنو بلکہ ہم کرتے ہیں تم دیکھو
ایک لڑکے نے غلاظت بھرے انداز میں کہا تھا اور اسکی جانب قدم پڑھائے تھے اور وہیں اپنی اندازہ لگائے گئی بات کو سچ ہوتے دیکھ وہ انکی جانب بڑھا تھا
پلیز میری طرف مت بڑھو مجھے جانے دو
حیا نے اسے اپنی طرف بڑھتا دیکھ بھرائی ہوئی آواز میں کہا تھا کیونکہ اسے کچھ غلط ہونے کا اندیشہ ہو رہا تھا
لو پاس آئی مٹھائی کو چھوڑ دیں ہم واہ
اس لڑکے نے بولتے ہوئے حیا کا ڈوپٹہ کھینچا تھا اور حیا نے زور سے آنکھیں میچیں تھیں
بے شرم بے حیا
انت نے آتے ہی اس لڑکے کے منہ پر مکا مارتے ہی اس سے کہا تھا اور اسکے ہاتھ سے حیا کا ڈوپٹہ لیکر ہاتھ پیچھے کر کے اسے دیتے ہوا بولا تھا
ڈوپٹہ پہنو
انت نے اسے ڈوپٹہ دیتے ہی دونوں کو مارنا شروع کیا تھا وہ عمر میں بڑے ضرور تھے اس لیے کچھ چوٹیں انت کو بھی آئی تھیں مگر وہ میدان چھوڑ کر بھاگ ضرور گئے تھے
ااااآاا۔۔۔۔آپ کو لگی تو نہیں
حیا نے ان لڑکوں کو بھاگتے دیکھ انت سے پوچھا تھا
نہیں میں ٹھیک ہوں مگر کیا تم میں ۔۔۔۔۔۔۔
انت نے کہتے ہوئے جیسے ہی اسکی جانب رخ کیا تھا اسکی بولتی بند ہوئی تھی وہ تو اسکی سرمئی آنکھوں میں کہیں کھو سا گیا تھا جبکہ حیا کا بھی یہی حال تھا
تمہیں خیال رکھنا چاہیے تھا
انت نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا
مجھے نہیں پتہ تھا کہ یہ سب ہوگا
حیا نے نظریں جھکائے کہا تھا
چلو میں تمہیں چھوڑ دوں تمہارے گھر اور آئندہ کسی اجنبی پر اتنی جلدی اعتبار نہیں کرنا
انت نے چلتے ہوئے اس سے کہا تھا
تم پر بھی نہیں کروں تم بھی اجنبی ہو کیا
حیا نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا
مجھے نہیں پتہ
انت نے الجھن سے کہا تھا کیونکہ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ جواب کیا دے
میرا گھر وہ ہے
حیا نے پارک کے پاس سے گزرتے ہوئے سامنے بنے بنگلہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا
او مطلب کہ ہمارے گھر کے تھوڑی ہی دور تمہارا گھر ہے
انت کہ ہلکی سی مسکراہٹ لئے کہا تھا
میں جاؤں
حیا نے معصومیت سے پوچھا تھا
ہممم
انت نے گردن ہلاتے ہوئے کہا اور حیا گھر کی جانب چل دی تھی انت تب تک وہاں کھڑا رہا تھا جب تک حیا گھر میں داخل نہیں ہو گئی تھی
اف خدایا فٹ بال
اچانک یاد آنے پر اس نے سر پر ہاتھ مارا تھا
سوری یار فٹ بال نہیں ملی
انت نے انکے پاس آتے ہی کہا تھا
شکر آپ تو آئے ورنہ مجھے لگا تھا آپ تو دوسرے ملک چلے گئے کیا پتہ فٹ بال اڑتی ہوئی وہاں نہ پہنچ گئی ہو
اپنی گود میں مائرہ کا سر رکھے اس نے انت کو کہا تھا
سو گئی گڑیا
انت نے مائرہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا
نہیں سوچ رہی ہیکہ ہم دودھ میں ایسا کیا ملائیں کہ دودھ گائے بن جائے اور زیادہ دودھ دے تاکہ ہم دودھ کی گائے تیار کریں
حمزہ نے انت پر پھر سے طنز کیا تھا
اچھا نا سوری
انت نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا
کیا سوری بھائی سارے کھیل کا بیڑا غرق کر دیا آپ نے
حمزہ نے خفگی سے کہا تھا
اچھا گڑیا مجھے دو اور گھر چلو
انت نے احتیاط سے مائرہ کو اٹھاتے ہوئے حمزہ سے کہا تھا اور گھر کی جانب روانہ ہوئے تھے۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
