52K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

سر آپ کیا کہنا چاہیں گے یہ جو الزام آپ پر لگا ہے وہ درست ہے یہ کوئی چال چلی جا رہی ہے
ابھی وہ لوگ آرمی چیف کے پاس جانے ہی والے تھے کہ راستے میں ہی رپورٹرز نے انکو گھیرے میں لئیے بولنا شروع کیا تھا
دیکھئیے سائیڈ ہو جائیں ابھی کچھ بھی کہا نہیں جا سکتا ایک آرمی آفیسر کبھی بھی اپنے ملک کے ساتھ غداری نہیں کر سکتا تھوڑا صبر رکھیں سب کلئیر ہو جائے گا جلد ہی
کیپٹن منیب نے رپورٹرز کو دیکھتے ہوئے کہا اور راستہ بناتے ہوئے حمزہ اور انت کو لے جانے لگا تھا جبکہ انت اور حمزہ دونوں خاموش تھے
پولیس حمزہ اور انت کو لئیے آرمی چیف کے سامنے حاضر ہوئی تھی اور انہوں نے پولیس کے اہلکاروں کو جانے کا کہا تھا
واٹ از دز حمزہ یہ سب کیا ہوا ہے
آرمی چیف نے حمزہ کو دیکھتے ہوئے غصے سے پوچھا تھا
سر آئی ڈونٹ نو یہ سب کیسے ہوا
حمزہ نے حیرانگی سے کہا تھا
تمہارے اکاؤنٹ میں کوئی اتنی بڑی رقم بھیج رہا ہے اور تمہیں علم تک نہیں ہاؤ اٹس پاسیبل ( How it’s possible ؟ )
آرمی چیف نے کاٹ دار لہجے میں کہا تھا
سر آپ ہم دونوں بھائیوں کو اچھی طرح جانتے ہیں ہم مرنا قبول کریں گے حرام کے پیسے لینے کی جگہ آپ ہم پر یقین کریں ہمارے خلاف سازش ہے یہ
انت فوراً سنجیدگی سے بولا تھا
سر پلیز ایک موقعہ دیں ہمیں بس ایک موقع ہر چیز کو بے نقاب کر کے آرمی کپٹن پر الزام لگانے والے کا وہ حال کروں گا کہ دوبارہ وطن کے بیٹوں پر کسی قسم کا کوئی الزام لگانے سے پہلے ہزار بار سوچے گا
انت نے آرمی چیف کو خاموش کھڑا دیکھ دوبارہ کہا تھا اور پھر آرمی چیف کچھ منٹوں بعد حمزہ اور انت کے ساتھ باہر آئے تھے جہاں نیوز چینلز کے نمائندے کھڑے انکا ہی انتظار کر رہے تھے انکے ساتھ پولیس اور آرمی کیپٹن بھی تھے
کیا فیصلہ کیا ہے آرمی آفیسر نے کیپٹن حمزہ اور انت پر لگائے گئے الزام سچ ہیں یا جھوٹ
رپورٹرز نے بولنا شروع کر دیا تھا جبکہ وہ سب خاموش کھڑے تھے
سر آپ کچھ نہیں کہیں گے
رپورٹرز مسلسل بولتے جا رہے تھے کہ ایک نے آرمی چیف اور حمزہ کو دیکھتے ہوئے کہا تھا
آپ بولنے کا موقع تو دیں
حمزہ نے طنزیہ انداز میں کہا تھا کہ وہ خجل سا ہوا تھا
آرمی آفیسرز نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ کیپٹن حمزہ سے انکی وردی سمیت انکا عہدہ چھینا جا رہا ہے اور انھیں جسمانی ریمانڈ پر دیا جائے گا تاکہ یہ اپنی کی گئی ساری خطاؤں کو مان جائے اور اپنے جرم کا اعتراف کر لیں اور انت کو بھی جسمانی ریمانڈ پر بھیجا جا رہا ہے پولیس اور آرمی ٹیم اپنی تفتیش شروع کر دے اور ان دونوں کو جیل لے جایا جائے
آرمی چیف نے سپاٹ چہرے کے ساتھ سنجیدگی کو اپنائے ایک ایسا فیصلہ سنایا تھا کہ نیوز دیکھنے والی کئی آنکھیں نم ہوئی تھی جبکہ دو چار آنکھوں میں خوشی کی لہر دوڑی تھی ہونٹوں پر شیطانی مسکراہٹ رینگ گئی تھی اور قہقہے بے ساختے اٹھے تھے
پولیس حمزہ اور انت کو لیکر جانے ہی والی تھی کہ کیپٹن منیب انکے سامنے نمودار ہوا تھا
آہم آہم انکا ریمانڈ ہمیں دیا گیا ہے کیونکہ یہ لوگ آرمی کے جوان تھے اسی لئیے انکی تفتیش کے سارے مراحل ہم حل کریں گے
منیب نے سنجیدگی سے کہا تھا اور حمزہ اور انت کو پولیس آفیسر نے اسکے حوالے کیا تھا اور وہ ان دونوں کو لیکر گاڑی میں بیٹھ کر لے گیا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
نیوز دیکھتے ہی اماں صاحب کی آنکھیں برس پڑی تھیں سب کے چہرے حیرانگی لئیے ہوئے تھے کل تک سب ٹھیک تھا یوں اچانک اتنی بڑی آزمائش نے سب کو ہلا کر رکھ دیا تھا سب کی آنکھیں نم تھیں
اماں رونے سے کچھ نہیں ہوگا آپ اللہ کے حضور دعا کریں کہ وہ ہم سب کو اس آزمائش میں ثابت قدم رہنے کی ہمت دے اور ظالم کو اسکے انجام تک پہنچائے
شفاقت صاحب نے اماں صاحب کو دیکھتے ہوئے کہا تھا
ٹھیک کہتے ہیں آپ شفاقت ہمیں اس وقت اللہ سے مدد مانگنی چاہیے کیونکہ ایک وہی زات ہے جو اندھیرے سے روشنی کی طرف لے کر جا سکتی ہے
شانزہ بیگم بھی انکی بات کی تائید کرتی ہوئی بولی تھیں
مائرہ اور حیا تم دونوں بھی اپنے شوہر کے لئیے دعا کرو اللہ بیوی کی دعا ضرور سنتا ہے جب وہ شوہر کی سلامتی کے لئیے دعا کرتی ہے اور خاص کر تب جب شوہر ایک آرمی کیپٹن ہو اللہ کی راہ پر چلنے والا ہو
شانزہ بیگم نے ان دونوں کو دیکھتے ہوئے کہا تھا اور وہ دونوں سر کو ہلاتی کمرے میں چلی گئی تھی
تھوڑی دیر کے بعد مائرہ اور حیا نے وضو بنایا تھا اور جائے نماز بچھائے آج وہ اپنے رب کے حضور صرف اور صرف اپنے شریکِ حیات اپنے شوہر کی زندگی اور انکے مقصد میں کامیابی کے حصول کے لیے کھڑی ہوئی تھیں
دوسری جانب اماں صاحب اور شانزہ بیگم بھی اپنے رب کے حضور دعا گو تھیں اور شفاقت صاحب اپنی طرف سے ہر طرح کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ اپنے بچوں کو بچا سکیں بھلے وہ انکی سگی اولاد نہ تھی مگر سگی اولاد سے بڑھ کر تھی
کتنے خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جنکے پیچھے انکی حفاظت کی دعا کرنے والے لوگ موجود ہوتے ہیں جو اپنے نہیں ہوتے لیکن اپنوں سے بڑھ کر ہوتے ہیں جنہیں رشتوں کو نبھانا اور انسانوں کی قدر کا پتہ ہوتا ہے اور اللہ ایسے مخلص لوگوں سے ہر کسی کو نہیں نوازتا چند ایک ہی ایسے لوگوں کے حقدار ہوتے ہیں کیونکہ ہیرے کی پرکھ صرف ایک جوہری کر سکتا ہے اسی طرح مخلص لوگوں کی پرکھ بھی جوہری کی آنکھ رکھنے والے ہی کر سکتے ہیں۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
نیوز سنتے ہی اے ڈی اور عارف بلگرامی کا تو مانو خوشی سے برا حال تھا عارف بلگرامی نے اسی خوشی میں گھر میں پارٹی رکھی تھی جس میں خصوصی طور پر اس نے اے ڈی عرف بلاول شاہ کو مدعو کیا تھا اور اس نے اسکا دعوت نامہ قبول کر لیا تھا اور آج شام انکے گھر پارٹی کا انعقاد کیا گیا تھا
بلاول شاہ بھی دبئی سے پاکستان آ چکا تھا اور اب وہ عارف بلگرامی کے گھر بیٹھا اسکے پلین کو سراہ رہا تھا
کمال کر دیا تم نے جو میں اتنے ٹائم سے نہ کر سکا تم نے چند گھنٹوں میں کر دکھایا
بلاول شاہ نے مسکراتے ہوئے اسکی تعریف کی تھی
ہاہاہاہا میں یہ سب نہ کرتا اگر وہ انت میرے معاملے میں ٹانگ نہ اڑاتا مگر اس نے ٹانگ اڑا کر بہت بڑی غلطی کی تھی اور آج وہ اپنی غلطی کی سزا جسمانی ریمانڈ کی صورت بھگت رہا ہوگا اور جو عزت کی دھجیاں اڑی وہ الگ
عارف بلگرامی نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا تھا جسکے ساتھ بلاول شاہ کا قہقہہ بھی شامل تھا
یہ کون ہے ڈیڈ
شاہ رخ جو گھر میں داخل ہوا تھا ایک انجان آدمی کو گھر میں بیٹھا دیکھ پوچھا تھا
بلاول شاہ ہے یہ
عارف بلگرامی نے اسے دیکھتے ہوئے بتایا تھا
مطلب کہ ۔۔۔۔۔۔ اے ۔۔۔۔۔ڈی
شاہ رخ نے ہکلاتے ہوئے پوچھا تھا
ہاں اے ڈی
عارف بلگرامی نے مسکراتے ہوئے کہا تھا جبکہ شاہ رخ جو نیوز سنتے ہوئے آ رہا تھا اب سارا ماجرا سمجھ چکا تھا
ڈیڈ سانپ کی بل میں ہاتھ ڈال رہے ہو آپ
شاہ رخ نے سمجھانا چاہا تھا
سانپ کو ہم نے اسکی بل سے ہی نکال دیا ہے اور اس طرح نکالا ہے کہ لاٹھی بھی نہیں ٹوٹی اور سانپ بھی مر گیا ہاہاہا
عارف بلگرامی نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا تھا اور اسکی بات سن کر بلاول شاہ بھی مسکرا اٹھا تھا
اگر اسے پتہ چل گیا تو
شاہ رخ نے خدشہ ظاہر کیا تھا
جسمانی ریمانڈ پر ہے وہ وردی اور عزت دونوں چھینی جا چکی ہے اب کیا کر لے گا وہ
عارف نے لاپرواہی سے کہا تھا
جو کرنا ہے کرو مگر میں اس واقعے سے بہت دور ہوں مجھے نہیں پڑنا ان سب میں
شاہ رخ فوراً سے کہتا وہاں سے چلا گیا تھا
یہ تمہارا ہی بیٹا ہے نہ
بلاول شاہ نے حیرانگی سے پوچھا تھا
ہاں میرا ہی ہے مگر پتہ نہیں کس پر گیا ہے بزدل کہیں کا ایک بار اس انت نے مارا تھا اسے اور تب سے نا مرد بن گیا ہے اس سے اتنا ڈرتا ہے مردانگی نام کی چیز تو جیسے کہاں چھوڑ دی ہے اس نے
عارف بلگرامی نے غصے سے کہا تھا
کچھ نہیں ہوتا اب بس ان دونوں کی موت کا انتظار ہے
بلاول شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا تھا اور اسکے جواب میں عارف بلگرامی نے مسکراتے ہوئے اس حرام چیز سے بھرے گلاس کو اسکی طرف بڑھایا تھا
چیوس
ان دونوں نے اپنے گلاس ایک دوسرے کے گلاس سے ہلکا سا ٹکراتے ہوئے کہا تھا
یہ گلاس ہماری کامیابی کے نام
عارف بلگرامی نے مسکراتے ہوئے کہا اور گلاس منہ کو لگایا تھا اور بلاول شاہ نے بھی گلاس منہ سے لگائے اس حرام چیز کو پینے لگا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺