Unt Ul Hayaat By Samreen Zahid readelle50029 Episode 15
Rate this Novel
Episode 15
پندرہ سال پہلے 😍😍😍
انت
انت کہاں مر گئے ہو یہاں آؤ جلدی
بلاول شاہ غصے سے دہاڑے تھے اور انکی آواز سنتے ہی وہ پندرہ سالہ بچہ دوڑتے ہوئے انکے کمرے میں گیا تھا
ججج۔۔۔۔۔جی
اس نے آتے ہی پھولی ہوئی سانسوں سے پوچھا تھا
اسے پکڑو کم بخت کہیں کی میری فائل خراب کر دی ہے اس نے
بلاول شاہ نے غصے سے کہتے ہوئے اس پانچ سالہ ننھی سی گڑیا کو دھکیلنے کے انداز میں دور کرتے ہوئے کہا تھا جسے بروقت انت نے پکڑا تھا ورنہ وہ گر جاتی
سوری بچی ہے اسے سمجھ نہیں ہے ان سب چیزوں کی میں آگے سے خیال رکھوں گا
انت نے اس ننھی سی گڑیا کو گود میں اٹھاتے ہوئے انھیں دیکھتے ہوئے کہا تھا
کیا بچی ہے جاہل انسان میری امپورٹڈ فائل خراب کی ہے اس نے سارے حساب لکھے ہوئے تھے کمپنی کے اس میں اب کل میں ملازموں کو سیلری کیسے دوں گا جب سنبھالنی نہیں آتی تو اس بوجھ کو رکھا کیوں ہے پھینک کیوں نہیں دیتے اسے کتنے دارالامان ہیں یتیم خانے ہیں
بلاول شاہ نے غصے سے انت کو دیکھتے ہوئے کہا تھا
جن کے اپنے موجود ہوں اور وہ یتیم خانوں میں رہ رہے ہوں تو لعنت ہے ایسے اپنوں پر میں ابھی زندہ ہوں اپنی بہن کا سہارہ بن سکتا ہوں مجھے کسی تیسرے کی ضرورت نہیں ہے اور انت شاہ ابھی اتنا کمزور نہیں ہوا کہ اسے اپنی بہن کے لئے یتیم خانے کا انتخاب کرنا پڑے
انت نے غصے سے کہا تھا
انت
بلاول شاہ نے غصے سے اسے پکارہ تھا
معاف کیجیے گا مسٹر بلاول شاہ مگر جب بات میری بہن مائرہ پر آئے گی تب انت شاہ خاموش نہیں رہے گا آج تو آپ نے میری بہن کو بوجھ بول دیا اگلی دفعہ خیال رکھنا ورنہ بوجھ آپ بھی بن سکتے ہیں
انت نے غصے سے کہا تھا اور مائرہ کو گود میں اٹھائے وہاں سے چلا گیا تھا جبکہ بلاول شاہ کچھ نہ بولا تھا کیونکہ اب بات مائرہ کی آئی تھی اور جہاں بات اسکی جان عزیز بہن کی ہو وہ کبھی چپ نہیں رہتا تھا اور یہ بات بلاول شاہ اچھے سے جانتا تھا
اوووو میری گڑیا کو بھوک لگی ہے
انت مائرہ کو گود میں اٹھائے نیچے اترتے ہوئے اس سے باتیں کر رہا تھا جبکہ وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی
میری گڑیا کیا کھائے گی آج جو بھائی کی جان بولے گی بھائی اسے وہ کھلائے گا بتاؤ میری گڑیا نے کیا کھانا ہے
انت نے مائرہ کو کچن میں آتے ہی سلیب پر اسے بٹھاتے ہوئے کہا تھا
بتاؤ بتاؤ
اسے یہاں وہاں نظریں گھماتے دیکھ انت نے کہا تھا
نننننن۔۔۔۔۔نڈلی
مائرہ نے ہکلاتے ہوئے کہا تھا کیونکہ اسے نام ٹھیک سے نہیں آتا تھا
اوہووو بھائی کو پتہ تھا کہ بھائی کی جان کی فرمائش کیا کرنے والی ہے اس لئے دیکھو میں نے تمہارے لئے پہلے ہی بنا کے رکھی تھی اب دونوں بہن بھائی مل کر نوڈلز کھائیں گیں
انت نے سائیڈ پر پڑا نوڈلز سے بھرا باؤل مائرہ کے آگے کرتے ہوئے کہا تھا
ممم۔۔۔۔میں تھاؤں گی
مائرہ نے اس سے باؤل لیتے ہوئے فوراً کہا تھا
یہ تو چیٹینگ ہے ماہی
انت نے منہ پھلائے کہا تھا
تھولا سا تھا لینا ( تھوڑا سا کھا لینا )
مائرہ نے اسکا پھولا منہ دیکھ کر فوراً کہا تھا
لو یو بھائی کی جان
انت نے مسکراتے ہوئے مائرہ کے گال پر کس کی تھی کیونکہ اسکی ایسی توتلی باتوں ، اسکی شرارتوں سے ہی تو انت کی زندگی میں روشنی تھی جو آج سے دو سال پہلے بجھ چکی تھی۔
بھائی دندہ اے ( بھائی گندہ ہے )
مائرہ نے اپنے گال ہاتھ کی پشت سے صاف کرتے ہوئے کہا تھا
واہ جی واہ جب بھائی سے کھانا بنوانا ہو تب بھائی اچھا ہے اور جب بھائی سے کام نکلوا لو تو بھائی گندہ ہو جاتا ہے
انت نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا جو نوڈلز کھانے کی کوشش کر رہی تھی مگر ہر بار منہ میں جانے کے بجائے نیچے گر جاتا تھا
ارے میں کھلاتا ہوں نا
انت نے اس سے باؤل لیتے ہوئے کہا تھا
تھاؤ دے تو نئی
اس نے فوراً پوچھا تھا
ارے میری ماں نہیں کھاتا میں تم کھاؤ
انت نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تو وہ مسکرا دی تھی اور اسے مسکراتا دیکھ انت نے بھی مسکراتے ہوئے اسے نوڈلز کھلانے شروع کر دئے تھے۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
بلاول شاہ جہانگیر آفندی کے آفس میں کام کرتا تھا جہاں اسے جہانگیر آفندی کی بیٹی ماہم آفندی پسند آئی تھی یا یوں کہہ لیں کہ اسکے ہاتھ ایک بہت بڑی مچھلی آئی تھی ماہم چونکہ پچیس سالہ نوجوان لڑکی تھی اور اکلوتی ہونے کے ناطے وہ اپنے باپ کے ساتھ بزنس چلا رہی تھی
اس نے بلاول شاہ کو دیکھتے ہی اسے اپنے لئے پسند کر لیا تھا اور جیسے ہی یہ بات بلاول کو پتہ چلی اس نے ایک منصوبہ بنایا اور ماہم کو اپنی جانب راغب کرنے لگا تھا
ماہم کو تو بلاول پہلی نظر میں ہی پسند آ گیا تھا اس لئے اس نے اپنے ابو سے بات کی اور انکی شادی فکس ہو گئی شادی کے چند ماہ بعد ہی جہانگیر آفندی کو بھنک پڑنی شروع ہو گئی تھی کہ بلاول ساری پراپرٹی اپنے نام کروانا چاہتا ہے جسکی وجہ سے انہوں نے ایک وصیت تیار کروائی تھی جبکہ تب ماہم امید سے تھی
اور وکیل سے انہوں نے کہا تھا کہ یہ انکے مرتے وقت ہی سب کے سامنے آنی چاہیے البتہ کچھ ہی ماہ بعد عمر کے بڑھتے ہوئے مراحل کی وجہ سے انہیں دل کا دورہ پڑا تھا جسکی وجہ سے انہیں ہاسپٹل ایڈمٹ کروایا گیا تھا اور تب انہوں نے ماہم اور بلاول کو بلایا تھا اپنے پاس جبکہ وکیل پہلے ہی روم میں موجود تھا
“مسٹر جہانگیر آفندی نے اپنی وصیت میں یہ لکھوایا ہے کہ انکے مرنے کے بعد انکی ساری جائیداد انکے ہونے والے نواسے یا نواسی کے نام ہو گی اور جب تک وہ اٹھارہ سال کا نہ ہو جائے اور اپنی مرضی سے اپنی جائیداد کسی اور کے نام نہ کر دے تب تک جہانگیر آفندی کی ساری جائیداد پر کسی کا کوئی حق نہ ہوگا “
وکیل نے فائل کھولے وصیت سنائی تھی جبکہ انکی وصیت سنتے ہی بلاول نے لب بھینچے تھے اور تب ہی کچھ گھنٹوں بعد جہانگیر آفندی کی وفات ہو چکی تھی
کچھ ہی ماہ بعد ماہم نے ایک تندرست بیٹے کو جنم دیا تھا جسکا نام اس نے انت رکھا تھا اور انت کے پیدا ہونے کے چند سال بعد مائرہ پیدا ہوئی تھی جسے ماہم نے اپنے نام سے ملتا جلتا مائرہ جیسا نام دیا تھا
لیکن اب ماہم پہلے جیسی ماہم نہیں رہی تھی آنکھوں کے نیچے ڈارک سرکلرز ، کمزور سی ، پیلی رنگت اور مرجھایا ہوا چہرہ اور یہ سب تو ہونا ہی تھا کیونکہ اس نے غلط شخص کو اپنا ہمسفر بننے کے لیے چنا تھا ۔
ایک دن راہ چلتے انت کو کسی روتے ہوئے بچے کی آواز سنائی دی جب اس نے نظریں دوڑائیں تو اسے کچرے کے ڈھیر میں ایک ننھا سا بچہ ملا تھا جو تقریباً سال بھر کا ہوگا انت کو اس پر ترس آ گیا تھا اور وہ بنا کچھ سوچے سمجھے اسے گھر اٹھا لایا تھا
ماہم کو بھی وہ بچہ پسند آیا تھا اور اس نے اسے پالنے کا سوچا تھا مگر بلاول کو یہ بات نا گوار گزری تھی جسکی وجہ سے ماہم کا جینا مشکل ہوتا جا رہا تھا
بلاول روز رات کو نشے میں دھند گھر آتا تھا اور ماہم پر تشدد کرتا تھا اور وہ اپنے بچوں کے لیے ہر تشدد برداشت کرتی تھی کیونکہ اگر وہ کچھ بھی بولتی تو بلاول انت کو مارتا تھا اور کبھی کبھی تو اپنی چند ماہ کی بچی کو بھی مارنے کے لئے آگے بڑھتا تھا جسے انت ماں کے کہنے پر اٹھا کر کمرے سے بھاگ جاتا تھا اور بلاول ماہم کو مارتا پیٹتا رہتا تھا بیچارہ انت مائرہ کو گلے لگے اپنی ماں کی آہ و پکار سنتے رو رو کر رات گزارتا تھا کیونکہ اسکے باپ کے سینے میں دل کی جگہ پتھر تھا
اور دو سال بیت گئے تھے مائرہ دو سال کی ہو چکی تھی جب اچانک ماہم کی طبیعت بگڑی تھی انت بہت مشکل سے اسے لئے ہسپتال پہنچا تھا لیکن اسکے پہنچنے میں تاخیر ہو گئی تھی اور اسکی ماں اسے مائرہ کا خیال رکھنے کا کہتے ہی اگلی دنیا کے سفر پر نکل گئی تھی
تب سے انت نے خود کو مائرہ کے حوالے سے مضبوط کیا تھا اور اس مضبوطی پر وہ آج بھی قائم تھا بلکہ دن با دن اسکی مضبوطی بڑھتی جا رہی تھی۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
کیا مصیبت ہے ایک پراپرٹی کے لئے اب اس بارہ سالہ بچی کو سنبھالیں
عارف بلگرامی نے شاہد کو دیکھتے ہوئے کہا تھا
ایک کام کرو حیا کو باہر سے منگوا لو
اسکے دوست نے اسے مشورہ دیا تھا
بات تو تیری ٹھیک ہے یہاں آنکھوں کے سامنے رہے گی تو پتہ ہو گا ورنہ اگر وہاں کسی لڑکے کے چکر میں پڑ گئی تو پراپرٹی ہاتھ سے جائے گی
عارف بلگرامی نے سوچتے ہوئے کہا تھا
ہاں اسے کیا پتہ اسکا بھائی ہے بھی یا نہیں اور اسے بھی کہاں پتہ ہیکہ اس کی بھی ایک بہن ہے کیونکہ تو نے اسے تین سال کی عمر میں ہی امریکہ بھیج دیا تھا اپنے دوست کے پاس اور اس کے بھائی کو کچرے میں پھینک دیا تھا
اسکے قریبی دوست شاہد نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا تھا
بات تو تیری سہی ہے آج ہی الطاف کو کال کرتا ہوں کہ حیا کی ٹکٹ کروائے
عارف بلگرامی نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
ویسے پراپرٹی کا کیا کرنا ہے
شاہد نے پوچھا تھا
بس اسکے بالغ ہوتے ہی پراپرٹی ہماری پھر دیکھ میں کیا کرتا ہوں اسکے ساتھ
عارف بلگرامی نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
حمزہ یہاں آؤ
انت نے ہاتھ کی مدد سے اسے اپنے پاس بلایا تھا
میں داؤں دی دھائی دے داس ( میں جاؤں گی بھائی کے پاس)
مائرہ نے فوراً حمزہ کو دیکھتے ہوئے کہا تھا
نہیں میں جاؤں گا
حمزہ نے فوراً جواب دیا تھا وہ محض دو سال چھوٹی تھی حمزہ سے مگر اس پر حکم چلاتی تھی
جو میرے پاس پہلے آئے گا اسے ملے گی چاکلیٹ
انت نے دو چاکلیٹ پیکٹ انھیں دکھاتے ہوئے کہا تھا
دائی مدے دینا ( بھائی مجھے دینا )
مائرہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے بولی تھی
نہیں بھائی مجھے دینا
حمزہ نے شرارت سے کہا تھا جبکہ اسکا کہنا تھا اور مائرہ نے غصے سے اسے دیکھا تھا وہ ایسا ہی کرتا تھا انت سے چاکلیٹ لیکر پھر مائرہ کو للچا للچا کر کھاتا تھا اور وہ اسکی منتیں کرتی رہ جاتی تھی
میں ماروں دی تدے ( میں ماروں گی تجھے )
مائرہ نے حمزہ کو دیکھتے ہوئے کہا تھا
اوو چھپکلی مجھے مارے گی مار کے دکھا
سات سالہ حمزہ اب اپنے سے چھوٹی لڑکی کو چیلینج کر رہا تھا جبکہ انت اب دونوں کو دیکھ رہا تھا
حمدی ( حمزہ )
اس نے اسے پکارہ تھا اسے سہی سے اسکا نام جو نہیں آتا تھا
بھائی
بھائی بچاؤ مجھے
حمزہ اب درد کی وجہ سے انت کو پکار رہا تھا جبکہ انت کا قہقہہ بے ساختہ تھا
بھائی ہنسے نہیں بچائیں اس جنگلی بلی سے
حمزہ نے اپنے بال چھڑوانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا تھا جو مائرہ نے مضبوطی سے پکڑے کھینچ رہی تھی
کس نے کہا تھا جنگلی بلی کے سامنے بیٹھ کر اسے للکارو
انت نے حمزہ کو دیکھتے ہوئے کہا تھا
سوری بھائی نہیں چھیڑوں گا اسے میں پلیز میرے بال بچائیں مجھے گنجا نہیں ہونا
حمزہ نے التجا کرتے ہوئے کہا تھا جب انت مسکراتے ہوئے انکی طرف بڑھا تھا
گڑیا حمزہ کے بال چھوڑ دو
انت نے مائرہ کو دیکھتے ہوئے کہا تھا
حمدی دندہ اے ( حمزہ گندہ ہے )
مائرہ نے انت کو دیکھتے ہوئے بتایا تھا
حمزہ کو میں ماروں گا بھائی بول رہا ہے نا چھوڑ دو
انت نے مائرہ کے ہاتھوں کو نیچے کرتے ہوئے کہا تھا اور مائرہ اسکی بات مانے ہاتھ نیچے کر گئی تھی
اللہ بچائے اس جنگلی بلی سے
حمزہ نے اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا تھا
دائی ( بھائی )
مائرہ نے انت کو پکارہ تھا
حمزہ بھاگ جاؤ یہاں سے ورنہ آج تم گنجے ہو کر ہی سو گے
انت نے حمزہ کو وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا اور حمزہ فوراً اپنے بالوں کی سلامتی کے لیے وہاں سے بھاگا تھا
انت نے مائرہ کو گود میں اٹھایا تھا اور حمزہ کو بھاگتے دیکھ دونوں بہن بھائی مسکرائے تھے۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
