52K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

سب سونے چلے گئے تھے چونکہ رات کے بارہ بج چکے تھے اس لئیے سب نے اپنے اپنے کمرے کی راہ لی تھی
مائرہ کو بھی سونے کے لئے اماں صاحب نے کمرہ بتا دیا تھا اور وہ اب اپنے کمرے میں بیٹھی سوچوں میں اس قدر گم تھی کہ کمرے میں کون داخل ہوا اسے علم تک نہ ہوا تھا
کیا سوچ رہی ہو چھپکلی
حمزہ نے اسکا ناک دباتے ہوئے کہا
ککک۔۔۔۔۔کچھ نہیں
وہ فوراً ہوش میں آتی بوکھلا کر بولی تھی
کچھ تو سوچ رہی تھی بتاؤ بتاؤ عمران خان نے اس پر ٹیکس نہیں لگایا جو تم بتانے سے گریز برت رہی ہو
حمزہ نے اسے نظروں کے حصار میں لئیے کہا تھا
میں کچھ نہیں سوچ رہی تھی کہا نا
مائرہ نے اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا تھا
او کے غصہ کیوں ہو رہی ہو پھر
حمزہ نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا
آپ یہاں کیوں آئے ہیں جائیں یہاں سے بھائی نے دیکھ لیا تو نا جانے کیا سوچیں گیں
مائرہ نے اسے دیکھتے ہوئے کہا
یہی کہ میں اپنی بیوی کے کمرے میں ہوں سمپل
حمزہ نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا تھا
جائیں آپ یہاں سے پلیز
مائرہ اسے ٹس سے مس نہ ہوتا دیکھ اپنی بات پر زور ڈالے بولی تھی
اف خدایا مجھے شوگر ہو جائے گی چھپکلی تمہارے منہ سے چھلکتی اتنی عزت اپنے لئیے دیکھ کر ہائےےےےےےے
حمزہ نے شرارت سے کہتا ہی بیڈ پر دراز ہوا تھا
ارے یہ کیا ہے جائیں اپنے روم وہاں سوئیں یہاں نہیں
مائرہ اسے بیڈ پر لیٹتا دیکھ فوراً بولی تھی
مجھے آج یہیں سونا ہے چھپکلی
حمزہ نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا
یہ کیا چھپکلی چھپکلی لگا رکھا ہے میں کوئی چھپکلی نہیں ہوں آئندہ ایسا مت بولئے گا مجھے اور ابھی نکلیں میرے کمرے سے ورنہ میں بھائی کو آواز دینے لگی ہوں
مائرہ نے اسے دیکھتے ہوئے غصے سے کہا تھا
ارے مائرہ ڈارلنگ اتنا غصہ کیوں ہو رہی ہو نہیں سوتا میں یہاں یار بھائی کو کیوں بلاؤ گی تم حیرت ہے اب شوہر بیوی سے ملے گا وہ بھی بھائی کی پرمیشن لیکر لوگوں کے بیچ ساس اور نند دیوار ہوتی ہیں اور یہاں بھائی
حمزہ نے منہ کے ڈیزائن بناتے ہوئے کہا تھا اور اسے بڑبڑاتے دیکھ مائرہ نے با مشکل اپنی ہنسی ضبط کی تھی
جاتے ہیں یا بلاؤں میں
بھا۔۔۔۔۔
مائرہ نے کہتے ہی جیسے انت کو آواز لگانا چاہی تھی حمزہ نے لپک کر اسکے منہ پر ہاتھ رکھا تھا
کیا ہوگیا چھپکلی پاگل واگل ہو گئی ہو بولا تو ہے جا رہا ہوں تو کیوں ڈھنڈورا پیٹ رہی ہو
حمزہ نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کہا تھا وہیں وہ اسکی قربت میں ساکت ہو گئی تھی
بہت بولنے لگی ہو کچھ دن صبر کر لو میرے پاس آؤ گی تو تمہاری زبان کو بریک میں لگاؤں گا
حمزہ نے اسکے چہرے کے قریب چہرہ کئیے کہا تھا وہیں اس نے آنکھیں بند کی تھیں اور حمزہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نے بسیرا کیا تھا
چھپکلی نروس بھی ہوتی ہے امیزنگ
حمزہ نے اسکے چہرے پر آئے بالوں کو سائیڈ پر کرتے ہوئے مسکرا کر کہا تھا
پپپ۔۔۔۔پلیز جائیں ننننن۔۔۔۔نا
مائرہ بامشکل بولی تھی اور حمزہ مسکراتے ہوئے اس سے دور ہوا تھا
ابھی جا رہا ہوں مگر رخصتی کے بعد یہ امید مت رکھنا مجھ سے یہ نروسنس مجھے مت دکھانا ابھی تو کچھ نہیں کہا ورنہ بعد میں مجھے تم پر اور پیار آئے گا اور میں کیا کیا کر جاؤں یہ مجھے خد کو نہیں پتہ
حمزہ نے دلکشی سے مسکرا کر اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا جو نظریں نیچے کئیے کھڑی تھی۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
السلام علیکم! کیسے ہو ؟
عارف بلگرامی نے موبائل کان کو لگائے کہا تھا
مجھے کس لئیے کال کی ہے
مقابل نے سنجیدگی لئیے پوچھا تھا
انت اور حمزہ
عارف بلگرامی نے شیطانی مسکراہٹ لئے نام لیا تھا
کیا مطلب؟
مقابل نے سیدھے بیٹھتے ہوئے کہا تھا
تم کوئی بچے نہیں ہو جو مطلب بھی بتاؤں سب جانتے ہو تم تمہارے وفادار لوگوں کو کالج میں مارنے والا کوئی اور نہیں حمزہ تھا وہی حمزہ جو انت کا بھائی ہے اور انت کو تو جانتے ہونگے تم
عارف بلگرامی نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
تم یہ سب مجھے کیوں بتا رہے ہو
مقابل نے سنجیدگی سے پوچھا تھا
تمہیں کیوں بتا رہا ہوں جانتے ہو تم تمہارا اور میرا ٹارگٹ ایک ہی ہے حمزہ اور انت دونوں ہمارے دشمن ہیں اور وہ کہاوت تو سنی ہوگی تم نے کہ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے تو اس لحاظ سے ہم دوست ہوئے نا
عارف بلگرامی نے مسکراتے ہوئے کہا تھا مسکراہٹ تو جیسے آج اس کے لبوں سے جدا ہونے کو تیار نہ تھی
خیر مدے کی بات پر آتے ہیں میرے پاس ایک پلین ہے جس سے ہم حمزہ کی وردی اور انت کو مروا سکتے ہیں لیکن اسکے لئیے مجھے تمہاری مدد چاہیے
عارف بلگرامی نے مقابل سے کہا تھا
کیا کرو گے تم؟
اے ڈی نے فوراً کہا تھا کیونکہ وہ تو دونوں کو ہرانا چاہتا تھا پھر چاہے وہ خود بندوق چلاتا یا کسی کے کندھے پر بندوق رکھ کے چلاتا اس نے بس حمزہ کی وردی اور انت کو مروانا تھا جس کی وجہ سے اس نے عارف بلگرامی سے ہاتھ ملانے کا سوچا تھا
تو پلین یہ ہیکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
عارف بلگرامی نے اپنے شیطانی دماغ میں بنائے گئے پلین کو شیطانی مسکراہٹ لئیے اے ڈی کو بتایا تھا اور وہ پلین سن کر خوش ہوگیا تھا کیونکہ عارف بلگرامی کا پلین بہت خطرناک اور رزقی تھا جس سے عزت اور جان جانے کا خطرہ تھا عارف بلگرامی کی نہیں بلکہ انت اور حمزہ کی
اوکے ڈن کل کام ہو جائے گا
اے ڈی نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا اور کال کاٹ دی تھی
ہاہاہاہا اب کیا کرو گے انت بیٹا اب تو تمہاری عزت اور جان دونوں کو خطرہ ہے اب بتاؤں گا اے ڈی کیا ہے سالوں کا حساب اب چکتا کروں گا مجھ پر گولی چلائی تھی نہ تم نے مجھے اپاہج کر دیا اب تمہارا باپ بتائے گا اپاہج کرتے کیسے ہیں
عزت دار لوگوں کی عزت چھین لو بس پھر وہ ایسے اپاہج ہوتے ہیں کہ نظر اٹھانے تک کے قابل نہیں رہتے اب تمہارا بھی یہی حال ہوگا میں تمہاری عزت پر وار کروں گا اب دیکھو گے تم بلاول شاہ عرف اے ڈی کا بدلہ ہاہاہاہا
بلاول شاہ نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
حیا فریش ہو کر آئینے کے سامنے کھڑی بالوں میں کنگھی کر رہی تھی جبکہ دھیان اسکا بیڈ پر لیٹے انت پر تھا جو کسی کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا
وہ اسے آئینے سے دیکھتی بالوں میں برش پھیرتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ کیسے اس نے اتنا سب سہا تھا اور وہ اسے غلط سمجھیں اسے بھی اوروں جیسا ٹائم پاس گھٹیا مرد سمجھی تھی اور اب اسے اپنی سوچ اور باتوں پر جو وہ انت کو کہتی رہتی تھی اس پر شرمندہ تھی لیکن وہ معافی کیسے مانگے اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا
کب تک بالوں میں برش پھیرو گی بال ٹوٹ جائیں گیں تمہارے اور تم گنجی ہو جاؤ گی
انت نے کتاب پر جھکے کہا تھا یا پھر اپنی ہنسی چھپانے کی کوشش کی تھی جبکہ حیا اسکی بات سنتے ہی تلملا اٹھی تھی اور ہاتھ میں پکڑا برش اس پر پھینکا تھا
آؤچ جنگلی بلی شوہر کو ایسے مارتے ہیں بھلا
انت نے بازو سہلاتے ہوئے کہا تھا
ہاں
حیا نے اسے دیکھتے ہوئے کہا اور بیڈ کے قریب آ گئی تھی تب تک انت اسکے مقابل کھڑا ہوچکا تھا
جنگلی بلی ویسے ایک بار سوچو تو
انت نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا
کیا سوچوں ؟
حیا نے حیرت سے پوچھا تھا
یہی کہ تم گنجی ہو کر کیسی لگو گی جسٹ امیجن یار سو فنی نا
انت نے شرارت سے کہتے ہوئے مسکرا کر کہا تھا
انت
حیا نے اسے غصے سے پکارا تھا
کیا بولو
انت نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا
میں چلی جاؤں گی یہاں سے اگر تم نے ایسا کہا تو
حیا نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا جبکہ اسکی بات سنتے ہی انت نے اسے کلائی سے پکڑے اپنے قریب کیا تھا اور اسکی کمر پر گرفت مضبوط کی تھی حیا تو اس اچانک افتاد پر بوکھلا ہی گئی تھی
تم میری ہی رہو گی حیا ڈارلنگ دنیا میں بھی ، آخرت میں بھی، جنت میں بھی ، جہنم میں بھی۔ حیا سے انت ہے اور انت سے حیا ۔ دونوں کبھی جدا نہیں ہو سکتے تب ہی تو کہا جاتا ہے “انت الحیاۃ” کیونکہ ہم دونوں ایک دوسرے کی زندگی ہیں اور جہاں تک رہی بات چلی جانے کی اب میں تمہیں کبھی خود سے دور نہیں جانے دوں گا سمجھی تم
انت نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے جنونی انداز اپناتے ہوئے کہا تھا کہ حیا کو ڈر کے ساتھ ساتھ اپنی قسمت پر رشک بھی ہوا تھا کہ انت کتنا چاہتا تھا اسے
سو جاؤ رات بہت ہو گئی ہے
انت نے اسے خود سے دور کرتے ہوئے کہا اور کمرے سے باہر نکل گیا تھا جبکہ حیا بیڈ پر بیٹھی اسکے متعلق سوچنے لگی تھی۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
انت باہر لان میں آیا تو وہاں اسے حمزہ بیٹھا دکھائی دیا تو وہ اسکے پاس ہی آ گیا تھا
کیا ہوا حمزہ خیریت تم یہاں
انت نے حیرت سے پوچھا تھا جبکہ حمزہ اسے دیکھ بوکھلا گیا تھا لیکن پھر سنبھلتے ہوئے بولا
یہی سوال میں بھی کر سکتا ہوں کہ آپ یہاں کیا ہوا میری بہن نے ظالم بیویوں کی طرح کمرے سے نکال دیا
حمزہ نے اسے دیکھتے ہوئے شرارت سے پوچھا تھا
ایسی کوئی بات نہیں میں تو یہاں ٹھلنے آیا تھا
انت نے اسے گھورتے ہوئے کہا تھا اور تبھی وہاں مائرہ کافی کے دو مگ لئیے نمودار ہوئی تھی
کیا ہوا گڑیا تم سوئی نہیں اور یہ کافی
انت نے مائرہ کو دیکھتے ہی فوراً کہا تھا
وہ حمزہ نے کافی مانگی تھی
مائرہ نے حمزہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا جبکہ حمزہ نے بالوں میں ہاتھ پھیرا تھا اسے ڈر تھا کہیں مائرہ اسے یہ نہ بتا دے کہ اس نے کافی کیسے بنائی ہے
کیوں تم خود نہیں بنا سکتے تھے اسے کیوں کہا تم نے
انت نے حمزہ کو دیکھتے ہوئے کہا تھا
بھائی وہ بس ویسے ہی
حمزہ نے بات ٹالتے کہا تھا جبکہ مائرہ کچھ دیر پہلے والا سین سوچتے ہوئے روہانسی کوئی تھی کیسے اس میسنے حمزہ نے اسے چھپکلی سے ڈرا کر کافی بنوائی تھی اس سے
اب جائیں آپ آپی بلا رہیں آپ کو شاید انہوں نے بھی کافی پینی ہوگی
حمزہ نے انت کو دیکھتے ہوئے کہا تو انت کچھ سوچتے ہوئے مسکرا دیا تھا
ہاں میں چلتا ہوں لیکن وہ بات نہیں بتائی تم نے مجھے حمزہ
انت نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا
کون سی بات بھائی
حمزہ نے حیرت سے پوچھا تھا جبکہ مائرہ بھی اب انکی بات کی طرف متوجہ ہو چکی تھی
وہ تم نے کہا تھا نہ کہ تمہیں ایک لڑکی سے پیار ہو گیا ہے کون تھی وہ لڑکی بتاؤ تاکہ میں بات چلاؤں آگے تمہاری مائرہ کو تم پسند نہیں کرتے نا
انت نے سنجیدگی سے کہا تھا جبکہ آنکھوں میں ناچتی شرارت صرف حمزہ کو دکھی تھی اور مائرہ تو اسے خون خوار نظروں سے دیکھ رہی تھی
اللہ اللہ کریں بھائی بچے پر الزام نہ دیں میں نہیں کرتا کسی کو پسند وسند جائیں آپ یہاں سے کیوں زندگی برباد کرنے پر تلے ہیں آپ
حمزہ نے صدمے سے کہا تھا
مجھ سے پنگا سوچ سمجھ کر لیا کرو سمجھے
انت نے اسکی طرف جھکتے ہوئے سرگوشی نما انداز میں کہا تھا
مائرہ تم پوچھ کر اس سے مجھے بت دینا کون سی لڑکی ہے وہ شاید مجھ سے شرما رہا ہے یہ
انت کو مائرہ کو دیکھتے ہوئے کہا اور خود مسکراتے ہوئے وہاں سے چلا گیا تھا جبکہ مائرہ حمزہ کو گھورے جا رہی تھی
اللہ پوچھے گا آپ سے بھائی
وہ تھوک نگلتے ہوئے بڑبڑایا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺