Unt Ul Hayaat By Samreen Zahid readelle50029 Episode 11
Rate this Novel
Episode 11
انت نیچے آیا تو حمزہ ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھا نظر آیا جبکہ اماں صاحب اور حیا کچن میں تھیں
کی ہوا ایسے مجنو کی طرح کیوں بیٹھے ہو
انت نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے مسکرا کر کہا تھا
جب صبح کسی معصوم بھوکے بچے کو ناشتہ نا ملے اور وہ بیچارہ ناشتے کے انتظار میں ہو تو وہ مجنو ہی لگے گا نا کے ہیرو
حمزہ نے افسردگی کی بھرپور ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا تھا
بات تو تمہاری سہی ہے حمزہ مگر جس بچے کا تم ذکر کر رہے ہو وہ بچہ ہے کہاں زرا مجھے بھی ملواؤ اس معصوم بچے سے
انت نے ہنسی دباتے ہوئے شرارت سے کہا تھا
او خدایا بھائی آپ کو میں آپ کا چھوٹا بھائی معصوم بچہ کیپٹن حمزہ شاہ نہیں دکھ رہا کیا
حمزہ نے اسے دیکھتے ہوئے صدمے سے پوچھا تھا
تم تو دکھ رہے ہو مگر وہ معصوم بھوکہ بچہ نہیں دکھ رہا جسکا تم ذکر کر رہے ہو
انت نے اسے دیکھتے ہوئے کہا
میں ہی ہوں وہ بچہ
حمزہ نے انت کو دیکھتے ہوئے بتایا تھا
او تو تم ہو وہ معصوم بچے
انت نے اسے دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہا تھا
ہاں بچہ ہی ہے اب تو رات میں کہہ رہا تھا مجھ سے ۔۔۔۔۔
امی یار
ابھی اماں صاحب انت کے سامنے ناشتہ رکھتے ہوئے کہہ ہی رہی تھی کہ حمزہ فوراً بولا تھا
آپ بتائیں اماں صاحب کیا بول رہا تھا رات کو یہ
انت نے حمزہ کو دیکھتے ہوئے اماں سے کہا تھا
میں بتا دوں گا نا بھائی
حمزہ نے فوراً کہا تھا
اچھا ٹھیک ہے
انت نے مسکراتے ہوئے کہا اور ناشتہ کرنے لگا تھا
آئیے بھابھی آئیے دیکھئے اپنے پتھر دل بے رحم شوہر کو بیوی کو سامنے بٹھائے بغیر ناشتہ کر رہا ہے
حمزہ نے حیا کو جوس پکڑے کچن سے نکلتا دیکھ انت کو دیکھتے ہوئے شرارت سے کہا تھا اور اسکی بات سن کر حیا نے اپنے ہاتھوں کی گرفت جوس کے جگ پر مضبوط کی تھی
حمزہ ایسا نہیں بولتے
اماں صاحب نے حیا کو شرماتے دیکھ حمزہ کو کہا تھا
سہی تو کہہ رہا ہوں میں اماں
حمزہ نے منہ بسورے کہا تھا
آئیے بیگم یہاں بیٹھئے تاکہ ہمارے بھائی کی شکایت دور ہو سکے
انت نے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا تو حیا چپ چاپ کرسی پر بیٹھ گئی تھی
ناشتہ کرو تم بیٹا اسکی عادت ہے فضول بولنے کی آرمی میں چلا گیا ہے مگر مجال ہے جو حرکتیں ڈھنگ کی کر لے
اماں نے حیا کو کہتے ہوئے حمزہ کو بھی جھاڑ دیا تھا
اماں ایسا تو نہیں بولو اب میں ملک کی حفاظت کرتا ہوں یہ کم ہے کیا
حمزہ نے منہ بناتے ہوئے کہا تھا
ہاں اماں سہی کہہ رہا ہے آپ نے کل ٹی وی نہیں دیکھا ہوگا کل نیوز دیکھتی تو پتا چلتا آپ کو کہ آپ کا بیٹا کیسا ہے سہی رپورٹرز کی اتار کے آیا ہے اور لڑکیوں کو بھی بچایا ہے اس نے
اماں کو دیکھتے ہوئے انت نے انھیں مسکراتے ہوئے بتایا تھا
اچھا پھر تو بہت اچھا کام کیا تھا حمزہ نے
اماں نے حمزہ کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا تھا
ہاں نا اماں
حمزہ نے فخریہ انداز میں کہا تھا
ویسے حمزہ تم نے رپورٹرز کی عزت کیوں کی سمپلی جواب بھی دے سکتے تھے تم
انت نے جوس پیتے ہوئے کہا تھا
ہاں دے سکتا تھا مگر ان لوگوں کے دماغ میں گھستی نہیں پھر کہتے یہ کیسے ہوا ایسے کیسے ہو گا وغیرہ وغیرہ
حمزہ نے ناشتہ کرتے ہوئے کہا تھا
یہ بات بھی ہے
انت نے گلاس رکھتے ہوئے کہا تھا
ویسے مجھے پرموشن مل رہی ہے
حمزہ نے ناشتہ ختم کرتے ہوئے بتایا تھا
سچ میں
انت نے خوشی سے پوچھا تھا
جی بھائی سچ میں
حمزہ نے مسکراتے ہوئے کہا تھا جبکہ اسکا ناشتہ ختم ہوتے ہی اماں برتن اٹھانے لگی تھی اور حیا بھی اٹھ کھڑی ہوئی تھی
اماں سن رہی ہو آپ کے بیٹے کو پرموشن مل رہی ہے
انت نے اماں کو دیکھتے ہوئے کہا تو اماں مسکرا دی تھی
اللہ میرے بچے کو کامیابیاں نصیب کرے
اماں نے حمزہ کے ماتھے کو چومتے ہوئے کہا تھا جس پر سب مسکرا دئے تھے
اچھا بھائی مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے
حمزہ نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا تھا
جی کیوں نہیں کیپٹن حمزہ
انت نے مسکراتے ہوئے کہا تو حمزہ مسکرا دیا تھا اور دونوں باہر گارڈن میں آ گئے تھے
ہاں بولو حمزہ
انت نے گارڈن میں ٹہلتے ہوئے کہا تھا
بھائی مجھے پیار ہو گیا ہے
انت نے ڈرتے ڈرتے بتایا تھا پتہ نہیں انت کا کیا رد عمل ہوتا
اوہو مطلب جنگل میں شیر کا شکار کرنے کے لیے شیرنی آ گئی ہے اب کیا ہوگا تمہارا ملک سنبھالو گے یا اپنی شیرنی کو
انت نے حمزہ کو دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے پوچھا تھا
کیا بھائی میں اپنے دل کی بات بتا رہا ہوں آپ کو اور آپ ایسا بول رہے ہیں
حمزہ نے منہ پھلائے کہا تھا جبکہ دل میں اطمینان ہوا تھا کہ انت نے اسے کچھ نہیں کہا تھا
بھائی جب نا ڈوبنے والا ٹائیٹینک ڈوب گیا تو میں نے کیسے سوچ لیا کہ آرمی کا شیر کسی لڑکی کے عشق میں نہیں ڈوب سکتا
انت نے حمزہ کو دیکھتے ہوئے قہقہ لگا کر شرارت سے کہا تھا اور وہ اسے دیکھتا رہ گیا تھا
کیونکہ انت آج تک کبھی اتنا نہیں ہنسا تھا خاص کر اسکی زندگی میں آنے سے لیکر اب تک اس نے انت کو سیریس دیکھا تھا لیکن آج وہ ایسے کھل کر مسکرا رہا تھا اور اسے خوش دیکھ حمزہ بھی مسکرا اٹھا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
مائرہ شفاقت صاحب کے ساتھ ہال میں بیٹھی باتوں میں مصروف تھی جب شفاقت صاحب کا موبائل رنگ ہوا تھا
ایک منٹ گڑیا
شفاقت صاحب نے موبائل اٹھاتے ہوئے کہا تو وہ چپ ہو گئی تھی
السلام علیکم! کیسے مزاج ہیں بھئی بھول ہی گئے تم تو
شفاقت صاحب نے کال پک کرتے ہی کہا تھا
جی اچھا ٹھیک ہے آ جاؤں گا میں اور کچھ
او کے اللہ حافظ !
شفاقت صاحب نے مسکراتے ہوئے کال کاٹ دی تھی
کیا ہوا بابا کس کی کال تھی
مائرہ نے تجسس سے پوچھا تھا
میرا ایک فرینڈ ہے آرمی آفیسر اسکی کال تھی اس نے ایک چھوٹی سی پارٹی رکھی ہے اپنے ایک قابل کیپٹن کی پرموشن کی اس لئے مجھے فیملی سمیت آنے کی دعوت دے رہا تھا کہ میں لازمی شمولیت اختیار کروں ورنہ وہ خفا ہو جائے گا مجھ سے
شفاقت صاحب نے مائرہ کو دیکھتے ہوئے بتایا تھا
اچھا آرمی آفیسرز کی پارٹی ہے میں بھی چلوں گی
مائرہ نے خوش ہوتے ہوئے کہا تھا
وہاں سب بڑے لوگ ہوں گے گڑیا تم وہاں بور ہو جاؤ گی
شفاقت صاحب نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا
پلیز ڈیڈ مجھے جانا ہے
مائرہ نے ضدی انداز میں کہا تھا
اچھا ٹھیک ہے تم کل شام تیار رہنا اور تمہاری مما کو میں بتا دوں گا
شفاقت صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا تو مائرہ نے خوشی سے انکے گال چوم لئے تھے۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
بھائی کال ہے
حمزہ نے انت کو دیکھتے ہوئے کہا تھا جو اس سے باتیں کر رہا تھا
ہمم
انت کے کہتے ہی حمزہ نے کال پک کی تھی
السلام علیکم سر!
حمزہ نے موبائل کان کو لگائے کہا
جی ٹھیک ہے سر ٹھینکس میں آ جاؤں گا جی جی
حمزہ نے مسکراتے ہوئے کہہ کر کال کاٹ دی تھی
کیا ہوا
انت نے حمزہ کو خوش دیکھتے ہوئے پوچھا تھا
بھائی کل شام پرموشن کے سلسلے میں سر نے پارٹی رکھی ہے اور مجھے فیملی سمیت بلایا ہے
حمزہ نے خوش ہوتے ہوئے کہا تھا
گریٹ تو چلے جانا تم
انت نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
کیا مطلب آپ نہیں جائیں گے
حمزہ نے حیرت سے پوچھا تھا
نہیں یار کل ضروری کام ہے تم ایک کام کرو حیا اور اماں کو لے جاؤ
انت نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تو وہ سر کو ہاں میں ہلا گیا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
مجھے یہ لڑکی چاہیے ہر حال میں زندہ یا مردہ
ایک آدمی نے دوسرے آدمی کی طرف ایک لڑکی کی تصویر رکھتے ہوئے کہا تھا
یہ لڑکی تمہیں مردہ ملے گی کیونکہ ہماری گینگ کام تمام کرنے کا کام کرتی ہے زندہ چھوڑنے کا نہیں
اس آدمی نے تصویر میں مسکراتی لڑکی پر نظر ڈالے کہا تھا
ٹھیک ہے ویسے بھی اسکے باپ سے بہت سے قرض پورے کرنے ہیں ایسے ہی سہی
اس آدمی نے قہقہ لگائے کہا تھا
اس لڑکی کی ڈیٹیل چاہیے مجھے یہ کب اور کہاں کہاں جاتی ہے
گینگ کے آدمی نے کہا تھا
ساری ڈیٹیل اس پیپر پر ہے
اس آدمی نے جیب سے ایک پیپر نکالے گینگ کے آدمی کے سامنے کرتے ہوئے کہا تھا
بس مجھے یہ مردہ چاہیے آخر اسکے باپ کو بھی پتا چلے کہ مجھ سے دشمنی کا نتیجہ کیا ہوتا ہے
اس آدمی نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
تمہیں یہ لڑکی جلد ہی مردہ ملے گی
گینگ کے آدمی نے پیپر اور تصویر جیب میں رکھتے ہوئے کہا تھا
مجھے پیسے جلدی چاہیے
گینگ کے آدمی نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا
مل جائیں گے پیسے کل تک تمہیں
اس آدمی نے اسے دیکھتے ہوئے کہا اور چہرے پر شیطانی مسکراہٹ سجائے وہ اس جگہ سے باہر نکل گیا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
بھابھی کیا میں اندر آ جاؤں
حمزہ نے دروازہ نوک کرتے ہوئے پوچھا تھا
آ جاؤ
حیا جو کسی کتاب کا مطالعہ کر رہی تھی کتاب کو سائیڈ پر رکھتی بولی تھی
حمزہ ہولے ہولے بیڈ کی طرف قدم بڑھاتا حیا تک پہنچا تھا
بیٹھ جاؤ حمزہ
حیا نے اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا تو وہ بیٹھ گیا تھا
بولو کوئی بات تھی کیا
حیا نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا
کل میرے پرموشن کے حوالے سے پارٹی ہے تو پلیز آپ میری بڑی بہن بن کر اس پارٹی میں شمولیت اختیار کریں گی تو مجھے اچھا لگے گا
حمزہ نے اتنی محبت سے کہا تھا کہ حیا منع کرنے کے باوجود منع نہیں کر پائی تھی پتا نہیں کیوں حمزہ میں اسے ایک کشش دکھتی تھی اسکا دل دماغ اسے کوئی پیغام دینا چاہتا تھا جسے وہ سمجھ نہیں پاتی تھی
ٹھیک ہے
حیا نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
ٹھینکس بھابھی
حمزہ نے خوش ہوتے ہوئے کہا تھا
آپ کل شام تک تیار رہیے گا
حمزہ حیا سے کہتا اٹھ کھڑا ہوا تھا
ٹھیک ہے
حیا نے اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا تھا اور وہ کمرے سے باہر نکل گیا تھا
پتا نہیں کیوں حمزہ کو احساس ہوتا تھا کہ اسکا کوئی گہرا تعلق تھا حیا سے مگر کیا یہ وہ سمجھ نہیں پاتا تھا بس وہ انت کی بیوی ہے شاید اس لئے یا وہ اسکی بھابھی کے علاؤہ بھی کچھ لگتی تھی یہ تو وقت نے بتانا تھا اور سہی وقت ابھی آیا نہیں تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
