52K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 03

انت حیا کو گاڑی میں بیٹھا کر گاڑی کو اچھے سے لاک کرتا کلب میں آیا تھا جہاں اس وقت اندھیرے کا راج تھا دیکھنے سے معلوم ہوتا تھا کہ شاید کلب کی لائیٹس کا فیوز جل گیا ہے
انت کے کلب میں آنے کے ٹھیک تین سیکینڈز میں لائیٹس آن ہو گئی تھی کلب کی لائیٹس کا فیوز جلا نہیں تھا بلکہ کچھ لمحوں کے لیے فیوز اڑایا گیا تھا اور ڈیل والے لوگ بھی وہاں موجود نہیں تھے
سب کام ہو گیا
انت نے آتے ہی اپنے آدمی سے پوچھا تھا
جی سر پرانے گھر میں بھیج دیا گیا ہے سب کو
اسکے آدمی نے ادب سے کہا تھا
گوڈ
انت نے کہتے ہی کچھ پیسے اس آدمی کو دئے تھے اور کوٹ سیدھا کرتا وہ کلب سے باہر نکل آیا تھا
انت نے باہر پارکنگ ایریا میں آتے ہی کار کو ان لوک کیا تھا اور کار کا دروازہ کھول کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تھا
کار کو اسٹارٹ کرتے ہی اس نے ایک نظر اپنے برابر دنیا جہان سے غافل سوئی ہوئی حیا پر ڈالی تھی اور مسکرا دیا تھا
تمہیں تو تمہارے ہوش میں آنے کے بعد دیکھتا ہوں مائے ڈئیر فیوچر مسسز
انت نے مسکراتے ہوئے کہہ کر کار کو سڑک پر ڈال دی تھی
کچھ دیر کی مسافت کے بعد کار ایک پرانے کھنڈر نما گھر کے سامنے رکی تھی اور انت کار سے باہر نکلا تھا
اس گھر کو دیکھ نا جانے اسے کیا کچھ یاد آیا تھا جسے اس نے جھٹکتے ہوئے کار کو لاک کیا تھا اور گھر کی جانب چل دیا تھا
گھر میں داخل ہوتے ہی اسے سامنے ہال میں کچھ لوگ گرے ہوئے بے سدھ پڑے دکھے تھے اور اردگرد اسکے گارڈز کھڑے تھے
یقیناً وہ گرے ہوئے لوگ وہی لوگ تھے جو ڈیل کرنے آئے تھے اور جنھوں نے ڈیل لینی تھی وہ با مشکل کوئی 10 آدمی تھے
کتنی خاطر مدارت کی ہے مہمانوں کی
انت نے ہال میں موجود کرسی پر بیٹھتے ہوئے رعب کے ساتھ اپنے گارڈز سے پوچھا تھا
جیسے آپ نے کہی تھی سر
ان گارڈز میں سے ایک نے جواب دیا تھا
گوڈ اب زرا چہرے پر سے کپڑے ہٹاؤ انکے
انت نے ٹانگ پر ٹانگ رکھے دوسرا حکم دیا تھا جس کی اسکے گارڈز نے فوراً مانتے ہوئے کپڑے انکے چہرے پر سے ہٹا دیا تھا
کافی اچھی مہمان نوازی کی ہے تم لوگوں نے شاباش
انت نے انکے بگڑے ہوئے چہرے اور انکی بے سدھ پڑی باڈی کو دیکھ انکے کام کو سراہا تھا
کیونکہ انکے چہرے بگڑے ہوئے تھے جیسے انھیں بہت مارا گیا کو اور مارا گیا بھی تھا کیونکہ ملک سے غداری کی سزا موت ہوتی ہے بھیانک موت جسے دیکھ کوئی اور ملک سے غداری کرنے کا سوچے بھی تو اسکے رونگٹے کھڑے ہو جائیں
ہاں جی تو تم لوگوں کو زیادہ چربی چڑھی ہے پیسے کمانے کی حلال طریقے سے کمایا نہیں جاتا کیا تم لوگوں سے جو تم ملک سے غداری کر رہے ہو تم لوگ جانتے بھی ہو کہ اسلحہ دوسرے ملک کے لئے فائدہ اور ہمارے ملک کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے نہیں بلکہ ہوتا ہے
انت نے کرسی سے کھڑے ہوتے ہوئے غصے سے کہا تھا
ہم کیوں اس ملک کا سوچے جس نے ہمیں کچھ دیا ہی نہیں اگر دی بھی ہے تو غربت ، تنگ دستی اور مفلسی تو ہم کیوں دیں اس ملک کو کچھ جس نے ہمیں روٹی کے لئے ترسا کے رکھ دیا
ان آدمیوں میں سے ایک نے ہمت کرتے ہوئے انتہائی حقارت سے کہا تھا
ہممم ملک نے تمہیں کچھ نہیں دیا تو تم دے دو ملک کو کچھ اور پہلی بات تو یہ ہے کہ ملک صرف انسان کو آزادی دیتا ہے خود مختاری دیتا ہے کھل کے سانس لینے کے لیے زمین دیتا ہے
مفلسی ، غربت، تنگ دستیاں یہ سب ملک نہیں دیتا بلکہ ملک پر حکومت کرنے والے وزراء دیتے ہیں یہ سب ملک کے وزراء پر ڈیپینٹ کرتا ہیکہ وہ ملک کو کیا دیتے ہیں خوشحالی یا تنگ دستیاں قصور ملک کا نہیں ملک پر حکومت کرنے والے وزراء کا ہے
دوسری بات تم یہ اسلحہ جنہیں بیچ رہے تھے اپنے ملک سے غداری کر کے وہ کیا تم سے ہمدردی رکھتے ہیں نہیں وہ تم سے اپنا مفاد نکال کر ایسے پھینکے گے جیسے چائے میں سے مکھی نکال کر پھینکی جاتی ہے وہ جب حملہ کرتے تو تم لوگوں کو چھوڑ دیتے نہیں تم بھی مارے جاتے جاہلوں
انت نے غصے سے دہاڑتے ہوئے کہا تھا اور وہاں موجود ہر فرد اسکے غصے سے سہم کر رہ گئے تھے
تم جیسے ناسوروں کو مار دینا چاہیے کیونکہ زخم جب ناسور بن جائے تو اس جگہ کو کاٹ دیا جاتا ہے جہاں وہ نا سور زخم ہوتا ہے اینڈ ناؤ یور ٹائم سو اللہ حافظ
انت نے کہتے ہی اپنی جیب سے گن نکالی تھی اور وہاں موجود ایک ایک فرد کے جسم کو اپنی پستل سے چھلنی چھلنی کر دیا تھا
یہ باڈیز مجھے صبح تک دکھنی نہیں چاہیے
انت گارڈز کو حکم دیتا گن کو دوبارہ جیب میں رکھ چکا تھا اور گھر سے باہر نکل گیا تھا
کار کو ان لاک کر کے اس میں بیٹھا تھا اور گاڑی کو سڑک پر زن سے بھگا دیا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
کہاں ہے بابا کی جان دیکھو بابا آ گئے
شفاقت صاحب نے گھر میں داخل ہوتے ہی اپنی بیٹی کو پکارا تھا
اور اپنے بابا کی آواز سنتے ہی مائرہ بھاگتی ہوئی کمرے سے باہر نکل کر آئی تھی اور اپنے بابا کو دیکھ خوشی سے اچھل پڑی تھی
بابا
مائرہ خوشی سے کہتی شفاقت صاحب کے گلے لگی تھی
کیسی ہے میری گڑیا
شفاقت صاحب مائرہ سے الگ ہوتے محبت سے بولے تھے
آپ کی گڑیا ناراض ہے آپ سے بھلا کوئی ایسے چھوڑ کر جاتا ہے اپنی بیٹی کو
مائرہ نے منہ پھلائے کہا تھا جس پر شفاقت صاحب کے ساتھ کچن سے نکل رہی شانزہ بیگم بھی مسکرائی تھی
اچھا دیکھو گڑیا کے بابا سوری کرتے ہیں اپنی گڑیا سے
شفاقت صاحب نے کان کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا تو مائرہ نے فوراً انکے ہاتھ تھامے تھے
اچھا اچھا اب زیادہ اموشنل نا کرے مجھے بتائیں کیا کیا لائے ہیں میرے لئے
مائرہ نے شفاقت صاحب کو دیکھتے ہوئے معصومیت سے کہا تھا
ارے لڑکی باپ ابھی آیا ہے تھوڑا صبر تو کرو پانی تو پینے دو کم از کم
شانزہ بیگم نے مائرہ کو دیکھتے ہوئے کہا تھا
پانی بھی پی لیں گے بیگم پہلے میری گڑیا کو اسکی چیزیں تو دے دے ہم
شفاقت صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا اور صوفے پر بیٹھ گئے تھے اور مائرہ بھی مسکراتی ہوئی انکے برابر میں بیٹھ کر بیگ کھولنے میں مصروف ہو چکی تھی جبکہ شانزہ بیگم دونوں باپ بیٹی کو دیکھ مسکرا دی تھی۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
شفاقت صاحب اور شانزہ بیگم کی شادی کو چار سال ہو چکے تھے مگر انکے گھر کوئی اولاد نا ہوئی تھی ہر اس آدمی کے پاس وہ دونوں گئے تھے جن جن کا لوگوں نے انھیں بتایا تھا مگر پھر بھی کوئی امید کی کرن نا دکھی تھی آخر تھک ہار کر انھوں نے سب کچھ اللہ کے سپرد کر دیا تھا
کیونکہ کسے کب اور کہاں اولاد دینی ہے یہ سب اللہ سے بہتر کوئی نہیں جانتا اور پھر اللہ کو ان دونوں کا صبر پسند آیا اور ٹھیک شادی کے پانچ سال بعد انکے گھر خوشی کی نوید سنائی گئی تھی اور پھر مائرہ کی صورت انکے گھر ایک ننی پری انکے گھر رحمت کی آئی تھی
اس ننی پری نے انکے ویرانے گھر میں خوشیاں بھر دی تھی شفاقت صاحب تو بے انتہا محبت کرتے تھے مائرہ سے اور شانزہ بیگم بھی لیکن کہتے ہیں نا بیٹیاں باپ کی زیادہ ہوتی ہیں اور یہی حساب مائرہ کا تھا وہ شانزہ بیگم سے بھی محبت کرتی تھی مگر شفاقت صاحب سے کچھ زیادہ کرتی تھی
انکی بات مائرہ کے لئے پتھر کی لکیر ہوتی تھی تینوں ہنسی خوشی زندگی گزار رہے تھے
شفاقت صاحب اپنے شہر کے ایک معروف بزنس مین تھے جسکی وجہ سے وہ زیادہ تر باہر ممالک میں رہتے تھے لیکن ان سب کے باوجود وہ اپنی بیٹی اور بیوی کے لئے وقت نکالتے تھے
انکا کہنا تھا کہ مرد کی خوشی اپنی فیملی کی خوشی میں ہوتی ہے کیونکہ مرد اپنے خاندان کے لئے ہی تو کماتا ہے اور کیا فائدہ اس کمائی کا جو اپنوں کے چہرے پر مسکراہٹ نا لا پائے۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
السلام وعلیکم سر آپ نے بلایا
ہمزہ نے سیلؤٹ کرتے ہوئے پوچھا
وعلیکم السلام کیپٹن ہمزہ بیٹھئے
آفیسر نے اسے کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
جی ٹھینک یو سر
اس نے بیٹھتے ہی مسکرا کر کہا تھا
کیپٹن ہمزہ آپ کا پروموشن کر دیا گیا ہے آپ کی پوسٹنگ کراچی کر دی گئی ہے
آفیسر نے ایک لفافہ اسکی جانب بڑھاتے ہوئے مسکرا کر کہا
ہمزہ نے لفافہ پکڑ کر کھولا تھا اور مسکرا دیا تھا
ٹھینکس سر آپ کو نہیں پتا میں نے اس دن کے لئے کتنا بے چینی سے انتظار کیا ہے
ہمزہ نے خوشی سے مسکراتے ہوئے کہا تھا
ایسا بھی کیا ہے کراچی جو آپ کب سے اس دن کا بے چینی سے انتظار کر رہے تھے
آفیسر نے ہمزہ کی باتوں میں دلچسپی لیتے ہوئے پوچھا
وہاں میرا بھائی ہے سر میرا اکلوتا سہارا جسکی بدولت آج میں یہاں کھڑا ہوں میرا آرمی کیپٹن بننے کا خواب انھوں نے پورا کیا ہے میری کل کائنات میرا آئیڈیل میرا بھائی ہے جس سے ملے ہوئے مجھے ایک سال ہونے والا ہے
ہمزہ نے مسکراتے ہوئے اپنی بات کہی تھی وہی آفیسر اسکی بات سن کر خوش بھی ہوا تھا اور حیران بھی
کیا ایسے بھی بھائی ہوتے ہیں جو اپنے ہی بھائی کا آئیڈل ہوتے ہیں ورنہ آج کل تو صرف چند روپوں کے لیے ایک بھائی اپنے بھائی کا قتل کر دیتا ہے
آفیسر نے دکھ سے کہا تھا
آپ کی بات بجا ہے سر مگر سو میں سے پندرہ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو میرے بھائی جیسے ہوتے ہیں
ہمزہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تھا
اور آپ کو حیران کن بات بتاؤں سر
ہمزہ نے آفیسر کو خود کو دیکھتا دیکھ کہا تھا
جی بلکل
آفیسر نے خوشی سے کہا تھا
وہ میرا سگا بھائی نہیں نا ہی سوتیلہ بھائی ہے بلکہ میں تو انھیں کچرے کے ڈھیر سے ملا تھا
ہمزہ نے خوشی اور کرب کے ملے جلے تاثرات لئیے بتایا تھا کہ آفیسر حیران رہ گیا تھا
بہت لکی ہو تم ہمزہ
آفیسر نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
جی سر بہت لکی ہوں میں خیر اب اجازت دیں تاکہ میں یہ چل کر پیکنگ کر سکوں
ہمزہ نے کرسی سے کھڑے ہوتے ہوئے مسکرا کر کہا تو آفیسر نے بھی مسکراتے ہوئے اجازت دے دی تھی۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺