52K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

🌸🌸🌸
انت نے ہاتھ میں پکڑی گن کا ٹریگر دبایا تھا اور دوسری جانب بلاول شاہ نے اپنی گن کا ٹریگر دبایا تھا دونوں اطراف سے گولیاں چلی تھیں اور دونوں وجود زمین پر ڈھے گئے تھے
بھائی
حمزہ چیختا ہوا گاڑی سے باہر نکلا تھا جبکہ انت خون سے لت پت زمین پر گرا تھا اور دوسری جانب بلاول شاہ بھی خون میں نہا گیا تھا
حمزہ تم مائرہ کو پکڑو میں انت کو اٹھا کر لاتا ہوں
شفاقت صاحب نے فوراً کہا تھا
نہیں ۔۔۔۔۔چھو۔۔۔۔۔۔چھوڑوں گا ۔۔۔۔میں تتتتت۔۔۔۔تمہیں انت ۔۔۔۔مممم۔۔۔۔میں واپس ۔۔۔۔۔۔آؤں ۔۔۔۔۔گگگگ۔۔۔۔گا
بلاول شاہ کہتے ہی آنکھیں موند گیا تھا جبکہ انت مسکراتے ہوئے اسکی بات سن رہا تھا اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ بھی بے ہوش ہو گیا تھا
بلاول شاہ کے پیٹ پر جبکہ انت کے سینے پر گولی لگی تھی اور اب شفاقت صاحب بلاول شاہ کو وہیں چھوڑ کر انت کو لئے ہاسپٹل کی طرف روانہ ہوئے تھے
اور بلاول شاہ کو کیوں لے جاتے آخر اس نے کام ہی ایسے کئے تھے کہ نرم دل انسان کو بھی اس پر رحم آنا مشکل تھا
شفاقت صاحب ہاسپٹل پہنچے تو صبح کی سرخی آسمانوں پر پھیلنا شروع ہوگئی تھی سورج کی کرنیں زمین پر پڑنا شروع ہو گئی تھی
انت اور مائرہ کو ہاسپٹل میں ایڈمٹ کر لیا گیا تھا مائرہ کی ٹریٹمنٹ جبکہ انت کا آپریشن جاری تھا اور دوسری جانب حیا ان سب سے بے خبر انت کے انتظار میں تھی کہ وہ آئے گا لیکن صبح سے شام ہو گئی تھی انت کو ہوش نہ آیا تھا
ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ گولی دل کے قریب لگی ہے جسکی وجہ سے رات تک اسکا ہوش میں آنا ضروری تھا اور دوسری جانب مائرہ کے سر پر لگی چوٹ اسے بھی اب تک ہوش نہ آیا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
یا اللہ جی میں آج انت کو اپنے دل کی بات بتا دوں گی پلیز اللہ جی پہلی بار کچھ مانگ مار رہی ہوں آپ سے پلیز انت مجھے چاچا چاچی کی طرح نہ دھتکار دے بچپن سے اب تک ایسی زندگی جیتی آئی ہو انت مجھے ایسی زندگی سے نجات دلائے گا اس نے وعدہ کیا تھا مجھ سے پلیز آج مجھے خالی ہاتھ نا لوٹانا
حیا نے دعا کرتے ہوئے نم آنکھوں سے کہا تھا لیکن اسے کیا پتہ تھا کہ اسکے خواب اب ٹوٹنے والے تھے اسکی دعا کی قبولیت کا ٹائم ابھی آیا نہیں تھا
وہ جائے نماز سے اٹھی تھی اسے تہہ کر کے اسکی جگہ پر رکھا تھا اور تیار ہو کر پارک کا رخ کیا تھا کیونکہ آج اس نے اپنے دل کی بات کہنی تھی اسے لیکن ایک گھنٹہ گزرا دو گھنٹے گزرے یہاں تک کے رات ہونے کو آ گئی تھی لیکن انت کو نہیں آنا تھا سو وہ نا آیا وہ ظہر کی گھر سے نکلی عشاء کے وقت گھر لوٹی تھی لیکن گھر واپس آتے اسکے چہرے سے وہ خوشی وہ مسکراہٹ کہیں دور جا سوئی تھی
چھناک سے اسکے سینے میں موجود ایک چھوٹی سی چیز ٹوٹی تھی اور وہ دن تھا جب سے اس نے سنجیدگی کا لبادہ اوڑھ لیا تھا محبت کرنا یقین کرنا سب چھوڑ دیا تھا یہاں تک کہ اللہ کے حضور کھڑا ہونا تک چھوڑ دیا تھا
لیکن اس جھلی، پاگل اور نادان سی لڑکی کو کون سمجھاتا کہ کچھ چیزیں اللہ ہماری بہتری کے لئے ہم سے دور کرتا ہے کچھ چیزیں ہمیں اس وقت نہیں ملتی جب ہم اس چیز کی تمنا کرتے ہیں کچھ چیزیں ہمیں آزمائش میں ڈالنے کے لئے ہمارے پاس آتی ہیں
اور اللہ تو شہ رگ سے زیادہ قریب ہے اپنے بندے سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرنے والا وہ کب تک اپنے بندے کو تڑپتا دیکھ سکتا تھا بس وہ اپنے بندے کو مضبوط کرنا چاہتا ہے جبھی تو اس پر آزمائش ڈالتا ہے لیکن آزمائش بھی اپنے بندے کی برداشت سے بڑھ کر نہیں ڈالتا اتنی محبت کرتا ہے وہ اپنے بندے سے مگر اسکا بندہ اسکی حکمت کو جان نہیں پاتا اور اس سے کنارہ کشی کر لیتا ہے یہ جانے بغیر کہ دنیا کا نظام ہی اس زات کی وجہ سے چل رہا ہے اس نے کچھ کیا ہے تو ظاہر ہے ہماری بہتری کے لئے کیا ہوگا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
رات کے آٹھ بج رہے تھے جب انت کو ہوش آیا تھا مگر تھوڑی دیر کے لئے اسکے بعد وہ پھر سے نیند کی وادیوں میں اتر چکا تھا
ڈاکٹر اپنی ہر طرح کی کوششیں کر رہے تھے کہ انت کو جلد از جلد ہوش آئے اور بلآخر اسے ہوش آ گیا تھا اور ڈاکٹر نے اسکی صحت یابی کی نوید سنائی تھی
حمزہ اور شفاقت صاحب فوراً روم میں داخل ہوئے تھے
بھائی ۔۔۔۔۔بھائی کیسے ہیں آپ
حمزہ نے انت کے قریب آتے ہی بھرائی ہوئی آواز میں پوچھا تھا
میں ٹھیک ہوں حمزہ
انت نے اٹھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا تھا
ارے لیٹے رہیں کیا ہوگیا ہے آپ کو ابھی ٹھیک نہیں ہوئے ہیں آپ
حمزہ نے انت کو واپس لیٹاتے ہوئے کہا تھا
مائرہ کہاں ہے ؟ کیسی ہے ؟ ٹھیک تو ہے نا میری گڑیا ؟
انت نے ایک سانس میں کتنے سارے سوال کر ڈالے تھے
بھائی ۔۔۔۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔بھائی ۔۔۔۔۔۔
حمزہ کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا اور کیسے کہے
کیا وہ بتاؤ مجھے
انت کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تھا
انت سر پر چوٹ لگنے کے باعث وہ اپنی یاداشت کھو بیٹھی ہے بچی تھی اور اس نے بہت زور سے نوک دار پتھر اسکے سر پر مارا تھا ڈاکٹر نے کہا ہے اسے کسی بھی پریشانی اور ایسی چیزوں سے دور رکھا جائے جو اسکے لئے نقصان کا سبب بن سکتی ہیں اس لیے پچھلے ایک ہفتے سے شانزہ میری بیگم اسکی دیکھ بھال کر رہی ہے
شفاقت صاحب نے تحمل سے اسے سارا ماجرا سنایا تھا جبکہ انت کرب کی وجہ سے آنکھیں موند گیا تھا
میں ایک ہفتے سے بے ہوش تھا
انت نے حیرت سے پوچھا تھا جس پر شفاقت صاحب نے اثبات میں سر ہلایا تھا
ڈاکٹر نے کہا ہے صبح تک ہم تمہیں گھر لے جا سکتے ہیں باقی باتیں گھر جا کر ہوں گی ابھی تم آرام کرو
شفاقت صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا اور حمزہ کو لیکر باہر چلے گئے تھے جبکہ انت کی آنکھوں سے آنسوں روا ہوچکے تھے اسکی جان عزیز بہن اسے بھول گئی تھی یہ سوچتے ہی اسکے دل میں تکلیف اٹھی تھی۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
انت کو ڈسچارج کر دیا گیا تھا شفاقت صاحب اسے لیکر اپنے گھر لے آئے تھے جہاں شانزہ بیگم اور اماں صاحب ( شفاقت صاحب کی ساس ) نے اسکی دیکھ بھال کی تھی حمزہ کو کافی انسیت ہو گئی تھی ان سے اور انت کو بھی اب اماں صاحب سے انسیت ہونے لگی تھی اور یہی حال اماں صاحب کا بھی تھا حمزہ اور انت انھیں عزیز ہونے لگے تھے اور یوں ایک مہینے کا گزر گیا تھا
انکل میں نے ایک فیصلہ کیا ہے
انت نے سب کی موجودگی میں کہا تھا جبکہ مائرہ تو اب اسے پہنچاتی تک نہیں تھی اس سے دور دور رہتی تھی
ہاں بولو بیٹا
شفاقت صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
میں حمزہ اور مائرہ کا آج نکاح کرنا چاہتا ہوں پھر میں اور حمزہ یہاں سے دوسرے شہر چلے جائیں گے
انت نے سنجیدگی سے کہا تھا جبکہ وہاں موجود سب نفوس حیران ہوئے تھے
اتنی جلدی کیا ہے بیٹا
اماں صاحب نے حیرت سے کہا تھا
بس اماں صاحب میں چاہتا ہوں آج نکاح ہو جائے ان کا اور پھر میں حمزہ کو لیکر دوسرے شہر چلا جاؤں گا اور وہیں سے اپنی نئی زندگی کی شروعات کروں گا مائرہ کو شفاقت انکل اور شانزہ آنٹی پالیں گے میں اسکے لئے کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتا اور اب تو یہ مجھے جانتی بھی نہیں ہے آپ لوگوں سے گھل مل گئی ہے اس لئے اب مجھے بھی کچھ سوچنا ہوگا اپنے بارے میں حمزہ اور مائرہ کے بارے میں
انت نے سنجیدگی سے کہا تھا جبکہ اسکے دل پر کیا گزر رہی تھی یہ کوئی اندازہ لگانا بھی چاہے تو نہیں لگا سکتا تھا
ٹھیک ہے بیٹا جیسی تمہاری مرضی
شفاقت صاحب کو بحث کرنا فضول لگا تھا کیونکہ انت کا لہجہ اٹل تھا اس لئے انہوں نے حامی بھر لی تھی
شام کو سادگی کے ساتھ مولوی صاحب کو بلایا گیا تھا اور مائرہ کو حمزہ کے نام کر دیا گیا تھا لیکن حمزہ کو خوشی نہیں ہوئی تھی آج وہ جسکی دل کی خواہش آج خدا نے مائرہ کو اسکے نام کر کے پوری کر دی تھی اسے خوشی نا تھی کیونکہ انت کا دکھ بڑا تھا اسکی خوشی سے زیادہ
حمزہ اب ہمیں چلنا ہوگا
نکاح ہوتے ہی انت نے سنجیدگی سے کہا تھا
میں بھی تمہارے ساتھ چلوں گی انت
اماں صاحب نے کہا تھا کیونکہ انہیں بہت دکھ تھا جو ان دونوں بلکہ تینوں کے ساتھ جو ہوا تھا اس لئے انہوں نے انت اور حمزہ کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا تھا
اماں آپ کیوں
انت نے حیرت سے پوچھا تھا
بس میں بھی چلوں گی اور تم مجھے نہیں روک سکتے
اماں صاحب نے سنجیدگی سے کہا تھا
اماں ٹھیک کہہ رہی ہیں انت تم لاہور چلے جاؤ وہاں میرا گھر ہے میں کال کر دیتا ہوں تمہارے پہنچنے تک صفائی ہو جائے گی
شفاقت صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا اور ایک آخری نظر مائرہ کو دیکھ انت اپنے دل پر پتھر رکھے گھر سے نکل گیا تھا کیونکہ اگر وہ تھوڑی دیر بھی وہاں رکتا تو لازماً اسکی آنکھیں اسکا ساتھ نہ دے پاتی اور برس پڑتی جبکہ انت اب کمزور پڑنا نہیں چاہتا تھا اسے آگے بڑھنا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺