52K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

ڈیڈ وٹ از دز میں منکوحہ کیا ہے یہ سب میرا نکاح ہوگیا اور مجھے پتہ بھی نہیں ہے
مائرہ نے گھر میں آتے ہی شفاقت صاحب کو گھیرے میں لیا تھا
میں تمہیں بتانا چاہتا تھا مگر مجھے انت اور حمزہ نے منع کیا تھا
شفاقت صاحب نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا تھا
آپ مجھے یہ بتائیں کہ یہ سب ہوا کب ہے
مائرہ نے شفاقت صاحب کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا تھا
وہ دراصل یہ بات تب کی ہے جب ۔۔۔۔۔۔۔۔
شفاقت صاحب ابھی بول ہی رہے تھے جب انکا موبائل بجا تھا اور انھوں نے موبائل سکرین پر دیکھا تو انت کا نام جگمگا رہا تھا انھوں نے فوراً کال ریسیو کی تھی
السلام علیکم! انکل
انت نے بالکونی میں کھڑے ہوتے ہوئے کان کو موبائل لگائے شفاقت صاحب کو کہا تھا
وعلیکم السلام! بیٹا خیریت اتنی رات گئے کال کی
شفاقت صاحب نے حیرانگی سے پوچھا تھا
کال سپیکر پر کریں
مائرہ نے دھیمی آواز میں کہا تھا جس پر شفاقت صاحب نے نفی میں سر ہلایا تھا
میں بات نہیں کروں گی آپ سے سوچ لیں
مائرہ نے کھڑے ہوتے ہوئے دھمکی دی تھی کیونکہ وہ انت کا نمبر دیکھ چکی تھی
اچھا کرتا ہوں
شفاقت صاحب نے موبائل کان سے ہٹا کر سپیکر پر کیا تھا کیونکہ وہ مائرہ کی ضد کو اچھے سے جانتے تھے
جی سب خیریت ہے مجھے پتہ ہے میری بہن آپ کو تنگ کر رہی ہوگی کہ اسے بتایا کیوں نہیں شادی کا کیوں بہن سہی کہہ رہا ہوں نا میں
انت نے مسکراتے ہوئے کہا تھا جبکہ مائرہ ایک بار پھر شوکڈ ہوئی تھی کہ وہ انت کی بہن ہے ( آپ بھی ہو گئے نا شاکڈ 🙈😂)
مممم۔۔۔۔میں آپ کی بہن ہوں
مائرہ نے بے یقینی سے پوچھا تھا اور شفاقت صاحب کو دیکھا تھا جو ہاں میں مسکراتے ہوئے سر ہلا رہے تھے
جی بلکل کوئی شک تمہارا نام مائرہ شاہ نہیں ہے کیا ؟
انت نے مسکراتے ہوئے سوال کیا تھا
ہاں ہے
مائرہ نے فوراً جواب دیا تھا
تو میرا نام بھی انت شاہ ہے ہوگئے نا بہن بھائی
انت نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
ڈیڈ مجھے سمجھ نہیں آ رہی یہ کیا کہہ رہے ہیں
مائرہ نے الجھی ہوئی نظریں شفاقت صاحب پر ڈالتے ہوئے کہا تھا
میں سب بتاؤں گا آپ سب کل میرے گھر ڈنر پر آئیے گا میں وہاں سب کو ساری حقیقت بتاؤں گا کیونکہ میں اے ڈی کو پکڑنے کے لیے جانے سے پہلے ساری سچائی بتا دینا چاہتا ہوں تاکہ اگر مجھے کچھ ہو بھی گیا تو مجھ پر کوئی بوجھ نا رہے
انت نے سنجیدگی سے کہا تھا
اللہ تمہیں لمبی زندگی عطا کرے بیٹا میں خود یہ سب بتا دینا چاہتا تھا تم نے اچھا فیصلہ کیا ہے ہم کل آ جائیں گے
شفاقت صاحب نے انت سے کہا تو انت نے الوداعی کلمات کہتے ہوئے کال کاٹ دی تھی
جاؤ سو جاؤ گڑیا تمہیں کل سب بتا دے گا تمہارا بھائی
شفاقت صاحب نے مائرہ کو دیکھتے ہوئے کہا تو وہ کمرے سے چلی گئی تھی اور شفاقت صاحب شانزہ بیگم کو دیکھتے رہ گئے تھے جو بیڈ پر خاموشی سے بیٹھی ہوئی اپنے ہاتھوں کو گھور رہی تھی۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
انت نے موبائل جیب میں رکھا اور چمکتے دمکتے چاند کو دیکھنے لگا تھا جو آج بھی ویسا ہی چمک رہا تھا جیسے آج سے کئی سال پہلے چمکتا تھا مگر تب انت کو وہ چاند بہت خوبصورت لگتا تھا کیونکہ تب اسکی زندگی میں وہ رات نہیں آئی تھی جس نے اسے اس چاند سے نفرت کروا دی تھی اپنے خدا سے بغاوت کروا دی تھی
وہ بھول گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے ، اسکی ہر چیز میں حکمت ہوتی ہے ، وہ اپنے بندے پر اسکی برداشت سے بڑھ کر دکھ نہیں ڈالتا کیونکہ ستر ماؤں سے بڑھ کر اپنے ایک بندے سے محبت کرتا ہے
وہ جو آرمی کے نام سے چڑ کھاتا تھا اسے آرمی نہیں پسند تھی بلکہ وہ تو اپنے باپ کی طرح بزنس مین بننا چاہتا تھا اپنی اکلوتی بہن مائرہ کو ہر خوشی ہر سکھ دینا چاہتا تھا جو اسکے باپ نے اسے کبھی نہیں دیا وہ اپنی بہن کو اپنی محرومیوں سے بچانا چاہتا تھا جو اس نے دیکھی تھیں
لیکن آج وہی لڑکا آرمی کیپٹن تھا اپنی جان سے عزیز بہن جس کے بغیر لمحہ نہیں گزارتا تھا اپنی بہن کو کسی اور کے حوالے کر دیا تھا حالات ، وقت اور اپنوں کی بے رخی نے اسے سنجیدہ، غصے والا اور بے حس بنا دیا تھا جسے راہ راست پر شفاقت صاحب لائے تھے
انت
وہ اس چمکتے دمکتے چاند کو دیکھتے ہوئے یہ سب سوچ رہا تھا جب اسے حیا کی آواز سنائی دی تھی اور وہ پیچھے مڑا تھا
تم سوئے نہیں
حیا نے بوجھل ہوتی آنکھوں سے پوچھا تھا
ہاں بس سونے لگا تھا تم کیوں جاگ گئی
انت نے اس سے پوچھا تھا
پانی پینے کے لئے جاگی تھی
حیا نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا
اچھا چلو پانی پیئو اور سو جاؤ
انت اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا اور خود بیڈ پر لیٹ گیا تھا حیا بھی پانی پی کر بیڈ پر سونے کے لئے دراز ہو گئی تھی۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
کیا ہوا آپ پریشان کیوں ہیں ؟
شفاقت صاحب شانزہ بیگم کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگے تھے
میں پریشان نہیں ہوں کیا شفاقت صاحب مجھے ڈر ہے جو مجھے اندر ہی اندر کھائے جا رہا ہے
شانزہ بیگم نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا تھا
کیسا ڈر ہے آپ کو
شفاقت صاحب جانتے تھے کہ انھیں کیا ڈر ستا رہا ہے پھر بھی پوچھ بیٹھے تھے حالانکہ وہ خود اس ڈر کے زیر اثر تھے
اگر مائرہ کو سچ پتہ چلا تو کیا وہ ہمارے ساتھ رہے گی
شانزہ بیگم نے شفاقت صاحب کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے بھرائی ہوئی آواز میں پوچھا تھا
پتہ نہیں شانزہ مگر سچ سننے کے بعد ہمیں اسکے فیصلے کا احترام کرنا ہوگا ہمیں اسکی بات سننی ہوگی اسکا فیصلہ ماننا ہوگا کل کا دن ہمارے لئے بہت بڑا دن ہے کل ساری سچائی سامنے آ جائے گی بس دعا کرو اللہ ہمیں پھر سے بے اولاد نا کر دے جسکی کمی انت نے مائرہ کو ہمیں دے کر پوری کی تھی
شفاقت صاحب نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا تھا سچ تو یہ تھا کہ مائرہ کی کمی انکے لئے سوہانے روح تھا مگر کیا کر سکتے تھے آخری فیصلہ مائرہ کا ہونا تھا کہ وہ شفاقت صاحب کے ساتھ رہنا چاہتی ہے یا انت کے ساتھ
اب سو جاؤ شانزہ جو قسمت میں لکھ ہوگا کل وہ ہو کر رہے گا تم ، میں یا کوئی اور اس زات کے فیصلے سے انکار نہیں کر سکتے ہاں مگر دعا کر سکتے ہیں تم دعا کرو بس
شفاقت صاحب نے اٹھتے ہوئے کہا تھا اور کمرے کی لائٹ آف کر کے سونے کے لئے لیٹ گئے تھے
شانزہ بیگم بھی نم آنکھوں کے ساتھ لیٹ گئی تھیں مگر دل میں وہ رب کے حضور دعائیں کئے جا رہی تھی نا جانے کون سا وقت قبولیت کا ہو اور انکی دعا قبول ہو جائے۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
سب ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے جب انت نیچے آیا تھا
السلام علیکم!
انت نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا تھا اور سب نے سلام کا جواب دیا تھا
حمزہ آج تم نے کہیں جانا ہے کیا
انت نے ناشتہ کر رہے حمزہ سے پوچھا تھا
جی بھائی بس ایک دو کام ہیں وہ کرنے ہیں پھر مشن پر بھی تو نکلنا ہے
حمزہ نے ناشتہ کرتے ہوئے کہا تھا
ہمم شام پانچ بجے سے پہلے آ جانا گھر
انت نے سنجیدگی سے کہا تھا
اماں شام میں شفاقت انکل اپنی فیملی کے ساتھ آ رہے ہیں تیاری کر لیجیے گا
انت نے اماں صاحب کو دیکھتے ہوئے کہا تھا
ٹھیک ہے بیٹا
اماں صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
کیا بھائی سچ میں
حمزہ نے حیرت سے پوچھا تھا
ہاں
انت نے سنجیدگی سے جواب دیا تھا اور اٹھ کر چلا گیا تھا
بھائی کو کیا ہوا ہے آج اتنے سیریس کیوں ہیں یہ
حمزہ نے حیا اور اماں صاحب کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا
پتہ نہیں رات میں تو ٹھیک تھے
حیا نے حیرانگی سے کہا تھا اور برتن سمیٹنے لگ گئی تھی۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
شام کے پانچ بج چکے تھے شفاقت صاحب اپنی فیملی سمیت آنے کے گھر میں موجود تھے
سب ہال میں بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے حیا سب کو چائے کی طرح لوازمات سرو کر رہی تھی
انت کہاں ہے
شفاقت صاحب نے اس سے پوچھا تھا
بس آتے ہی ہونگے لو آگئے
حیا ابھی جواب دے ہی رہی تھی کہ انت کو آتے دیکھ بولی تھی
السلام علیکم!
انت نے آتے ہی کہا تھا اور شفاقت صاحب کے گلے ملا تھا
وعلیکم السلام!
سب نے جواب دیا تھا جبکہ مائرہ انت کو دیکھ رہی تھی
کیا ہوا گڑیا نظر لگاؤ گی کیا مانا بہت ہینڈسم ہوں میں
انت نے مائرہ کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا تو وہ تھوڑی خجل ہوئی تھی
میں نے آپ سب کو یہاں کچھ بات کرنے کے لیے اکٹھا کیا ہے حمزہ ، حیا اور مائرہ آج میں تم سب کو وہ سب بتانا چاہتا ہوں جس سے تم سب ابھی انجان ہو اور اب تمہیں وہ سب بتانے کا وقت آ گیا ہے
انت نے بیٹھتے ہوئے کہا تھا جبکہ سب اسکی طرف متوجہ تھے
کیا بات کرنی ہے بھائی
حمزہ نے حیرانگی سے پوچھا تھا
یہی کہ حیا تمہاری جبکہ مائرہ میری سگی بہن ہے
انت نے بمب پھوڑا تھا حمزہ ، مائرہ، اور حیا شاکڈ سے اسے دیکھ رہے تھے
کیا مطلب ہے آپ کا
حیا نے فوراً کہا تھا
جو سچ ہے وہی کہہ رہا ہوں میں حمزہ تمہارا سگا بھائی ہے اور مائرہ میری سگی بہن ہے اور حمزہ اور مائرہ کا نکاح میں نے بچپن میں کر دیا تھا
انت نے سب کو دیکھتے ہوئے کہا تھا جب کہ سب کو تو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا سب بے یقینی کی حالت میں تھے کیا بولے کیا نہیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا بس یک ٹک باندھے سب انت کو دیکھ رہے تھے
مجھے معاف کرنا میں نے حقیقت چھپائی مگر مجھے سہی وقت کا انتظار تھا اور مجھے لگتا ہے کہ آج وہ سہی وقت آ گیا ہے
انت نے بات شروع کرتے ہوئے کہا تھا
پہیلیاں مت بجھاؤ جو بات ہے وہ بتاؤ
حیا نے سنجیدگی سے کہا تھا
یہ بات تب کی ہے جب میں کالج لائف میں تھا ۔۔۔۔۔۔
انت بتانا شروع ہوا تھا اور سب کی آنکھوں کے سامنے وہ سب ایک فلم کی طرح چلنا شروع ہوا تھا گو کہ سب انکی آنکھوں کے سامنے ہو رہا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺