52K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

ڈیل تو پکی ہوگی لیکن میری ایک شرط ہے یا یوں کہہ لو تمہارے لئے ایک بمپر آفر تم اس لڑکی کو مجھے بیچ دو میں اس لڑکی کی تمہیں منہ مانگی قیمت دوں گا کیونکہ مستقبل میں وہ میرے بہت کام آئے گی
جینیفر لارنس نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا
ممم۔۔۔۔۔مائرہ کو
بلاول شاہ نے اٹکتے ہوئے کہا تھا اور ساتھ ہی اسکا حیرت کے مارے منہ کھلے کا کھلا رہ گیا تھا
یس مائے ڈئیر
جینیفر لارنس نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
ٹھیک ہے میں تیار ہوں مگر پیسے مجھے کیش میں چاہیے
بلاول شاہ نے کچھ سوچتے ہوئے مسکرا کر کہا تھا
اف کورس میں کال کرتا ہوں اگلے ایک گھنٹے میں پیسے آ جائیں گیں
جینیفر لارنس نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا
آپ پارٹی انجوائے کریں میں آتا ہوں
بلاول شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
چھپکلی تمہیں منع کیا تھا نا کہ کمرے سے باہر نہیں نکلنا کیوں گئی تم
حمزہ نے مائرہ کو کمرے میں لاتے ہی اس سے کہا تھا
دودھ لدی اے ( بھوک لگی ہے )
مائرہ نے معصومیت سے کہا تھا
تو مجھے کہتی میں لا دیتا
حمزہ نے اب کی بار نرمی سے کہا تھا
دم دا داتے دو ( تم کھا جاتے تو )
مائرہ نے اپنا خدشہ اسے بتایا تھا
میں موٹے لوگوں کے کھانے نہیں کھاتا دا داتے دو ( کھا جاتے تو )
حمزہ نے اسے دیکھتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی اسکی نقل اتاری تھی جبکہ مائرہ اب منہ جھکا کر بیٹھ چکی تھی
اچھا اب ناراض نہیں ہو میں لاتا ہوں کھانا
اسے منہ بناتا دیکھ وہ تیزی سے بولا تھا
مگر تم کمرے سے باہر نہیں آؤ گی پرومس
جاتے ہوئے حمزہ اچانک رکتے ہوئے پیچھے مڑ کر اسے بولا تھا جس پر اس نے مسکراتے ہوئے سر کو ہاں میں جنبش دی تھی اور وہ مسکراتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
انت کو بلاول شاہ کسی کام کے سلسلے میں باہر بھیج چکا تھا اور اب وہ اپنے آدمیوں کے پاس آیا تھا
مائرہ کو بے ہوش کر کے پارٹی کے بعد اسے پیچھے کی طرف لے آنا تم لوگ
بلاول شاہ نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا تھا جبکہ مائرہ کے لئے کھانا لینے آئے حمزہ نے سیڑھیاں اترتے ہوئے اسکی آواز سنی تو وہیں رک کر اسکی بات سننے لگا تھا
لیکن باس ایسا کرنا کیوں ہے
اسکے ایک آدمی نے اس سے پوچھا تھا
جیسا کہا ہے ویسا کرو تم لوگوں کو پیسے مل جائیں گیں
بلاول شاہ نے سنجیدگی سے کہا اور وہاں سے چلا گیا تھا جبکہ حمزہ تھوڑا پیچھے کو ہو کر چھپ ہو گیا تھا تاکہ اسے وہ دیکھ نہ سکے
بلاول شاہ اب جینیفر لارنس کے پاس آیا تھا اور اسکے پیچھے پیچھے حمزہ بھی آیا تھا لیکن اس طرح کہ کسی کو علم تک نہ ہونے دیا تھا
تو بیچ رہے ہو نہ اسے
جینیفر لارنس نے اپنی بات کی تصدیق چاہی تھی
جی جی بلکل جب منہ مانگی قیمت مل رہی ہو تو کون کافر منع کرے گا
بلاول شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
تم اتنے گر جاؤ گے سوچا نہ تھا اپنی ہی بیٹی کو پیسوں کی خاطر بیچ رہے ہو
حمزہ نے افسوس سے سوچا تھا
مجھے انت بھائی کو بتانا ہوگا لیکن وہ ہیں کہاں
حمزہ نے اردگرد نظریں دوڑاتے ہوئے انت کو تلاش کرنا چاہا تھا لیکن انت اسے کہیں نہیں دکھا تھا اور پھر کچھ سوچتے ہوئے وہ بلاول شاہ کے پاس آیا تھا
انکل آپ نے انت بھائی کو دیکھا ہے
حمزہ نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا
ہاں وہ کسی کام سے باہر گیا ہے
بلاول شاہ نے مصروف انداز میں کہا تھا اور حمزہ وہاں سے چلا گیا تھا
بھائی کو کال کرتا ہوں
حمزہ نے موبائل پر نمبر ملاتے ہوئے کہا تھا لیکن بے سودھ کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا کیونکہ موبائل بند جا رہا تھا
اب کیا کروں
حمزہ نے کئی دفعہ کال کی تھی لیکن ہر بار ایک ہی جواب ملتا کہ
” آپ کا ملایا ہوا نمبر فلحال بند ہے “
پارٹی اپنے اختتام کو پہنچ چکی تھی اور دوسری جانب انت کو وہ چیزیں نہیں ملی تھی جو بلاول شاہ نے اس سے کہی تھیں آخر وہ تھک ہار کر گھر کی طرف لوٹا تھا اور حمزہ مائرہ کو لیکر پریشان ہو چکا تھا
اور آخر اس نے گھر سے بھاگنے کا منصوبہ بنایا تھا وہ مائرہ کو لئے گھر کے پچھلے دروازے سے باہر نکلا تھا
ام دا دا دارے ایں ( ہم کہاں جا رہے ہیں)
حمزہ کو تیز تیز چلتے دیکھ مائرہ نے پوچھا تھا
شششششش ۔۔۔۔۔۔ بولنا نہیں تمہیں پکڑم پکڑائی پسند ہیں نا ہم وہیں کھیل رہے ہیں اور جو بولے گا وہ آؤٹ اور ہمیں تیز تیز چلنا ہے اگر انکل نے ہمیں پکڑ لیا تو ہم آؤٹ ہو جائیں گے مائرہ کو گیم جیتنی ہے نہ
حمزہ نے اسے بہلاتے ہوئے کہا تھا جس پر اس نے گردن کو زور سے ہاں میں ہلائی تھی
چلو پھر جلدی
حمزہ نے اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا اور گھر سے باہر نکل گیا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
جاؤ لڑکی کو لیکر آؤ
بلاول شاہ نے اپنے آدمیوں سے کہا تھا اور دو آدمی مائرہ کو لینے کے لیے چل دیئے تھے
یہ لو پیسے
جینیفر لارنس نے پیسوں سے بھرا بیگ اسکی جانب بڑھاتے ہوئے کہا تھا اور بلاول شاہ نے بیگ پکڑتے ہی اسے کھولا تھا
ہممم
بلاول شاہ نے پیسوں کو سونگھتے ہوئے خوشی سے کہا تھا جیسے نا جانے کون سا خزانہ مل گیا ہو
باس لڑکی نہیں ہے
آدمیوں نے آ کر بلاول شاہ کی خوشی کو آگ لگائی تھی
کہاں گئی حمزہ کہاں ہے
بلاول شاہ نے فوراً پوچھا تھا
وہ بھی نہیں ہے
اسکے آدمیوں نے جواب دیا تھا
تو یہاں کھڑے کھڑے میرا منہ کیا دیکھ رہے جاؤ پکڑو اسے زیادہ دور نہیں گیا ہوگا مائرہ کو لیکر جاؤ
بلاول شاہ نے غصے سے کہا تھا اور خود اپنی گن نکالی تھی
میں بھی دیکھتا ہوں کہاں جاؤ گے آخر بچ کر
بلاول شاہ نے گن کو ہاتھ میں پکڑتے ہوئے کہا تھا
آپ فکر نہیں کریں میں لاتا ہوں اس لڑکی کو
بلاول شاہ نے جینیفر لارنس سے کہا اور خود گھر سے باہر نکل گیا تھا اپنے ساتھیوں کے ساتھ۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
انت جو گھر کی طرف لوٹ رہا تھا کہ اچانک گاڑی خراب ہوگئی تھی اور وہ گاڑی سے اتر کر اسکا معائنہ کر رہا تھا لیکن نا جانے کیا خرابی ہوئی تھی کہ گاڑی یوں خراب ہو گئی اوپر سے سنسان سڑک کوئی بندہ بشر وہاں نہ تھا اکا دکا گاڑی گزر جاتی تھی بس
آدھا گھنٹہ ہو گیا تھا اور وہ نا جانے کتنی گاڑیوں کو روکنے کی کوشش کر چکا تھا مگر بے سودھ ابھی وہ یہاں وہاں نظریں دوڑا رہا تھا کہ دور سے ایک گاڑی آتی ہوئی اسے دکھائی داس نے ایک آخری کوشش کرنی چاہی تھی اور ہاتھ بڑھا کر گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا تھا
خوش قسمتی سے وہ واحد گاڑی تھی جو رک گئی تھی اور اس میں سے ایک خوبصورت جسامت کا آدمی نکلا تھا
کیا ہوا بچے
انہوں نے انت سے پوچھا تھا
انکل گاڑی کو پتہ نہیں کیا مسئلہ ہو گیا ہے آپ پلیز مجھے گھر تک ڈراپ کر دیں
انت نے انہیں دیکھتے ہوئے کہا تھا
کوئی بات نہیں آؤ میں چھوڑ دیتا ہوں
انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا تھا اور گاڑی میں بیٹھ گئے تھے اور انت بھی انکے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گیا تھا اور گاڑی سڑک پر گامزن ہو چکی تھی
ٹھینکس میں کب سے لفٹ کے لئے اشارہ کر رہا تھا لیکن کسی نے لفٹ نہیں دی آپ نے دی میں بہت شکر گزار ہوں آپ کا
انت نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
کوئی بات نہیں بچے ہوتا ہے بس اللہ جسے توفیق دے دے اپنے بندے کی مدد کرنے کے لیے
انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
میں آپ کا مشکور ہوں کیا آپ کا نام جان سکتا ہوں
انت نے انہیں دیکھتے ہوئے پوچھا تھا
مجھ خدا کے بندے کو لوگ شفاقت علی کہتے ہیں اور ہماری بیگم شفاقت صاحب تم مجھے انکل کہہ سکتے ہو
انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا تھا اور انکی بات سن کر انت مسکرا دیا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
حمزہ مائرہ کو لئے سڑک پر قدم بڑھائے جا رہا تھا جب اسے پیچھے سے آوازیں سنائی دی تھیں
باس وہ رہا حمزہ
ایک آدمی نے بلاول کو آواز دیتے ہوئے کہا تھا
مائرہ پلیز بھاگو
حمزہ نے مائرہ کو دیکھتے ہوئے کہا تھا
مے دد دئی ( میں تھک گئی )
مائرہ نے فوراً کہا تھا
پلیز مائرہ ہمیں بھاگنا ہوگا ورنہ وہ ہمیں پکڑ لیں گے
حمزہ نے پریشانی سے کہا تھا جبکہ مائرہ نے نفی میں سر ہلایا تھا وہ ننھی سی جان بھلا کتنا چل سکتی تھی
اچھا تم بھاگ نہیں سکتی میں تو بھاگ سکتا ہوں نہ
حمزہ نے مائرہ کو دیکھتے ہوئے کہا تھا
ابھی وہ کہہ ہی رہا تھا کہ پیچھے سے ایک پتھر اڑتا ہوا آیا تھا جو سیدھا مائرہ کے سر پر لگا تھا اور خون پانی کی طرح نکلا تھا
مائرہ
حمزہ نے اسے پکارہ تھا مگر وہ ننھی سی جان بے ہوش ہوگئی تھی اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو پتھر بلاول شاہ نے پھینکا تھا اس نے فوراً اسے گود میں اٹھا لیا تھا اور سڑک پر بھاگنا شروع کیا تھا جبکہ بلاول کے آدمی اسکا پیچھا کرنے لگا تھے
وہ بھاگتے ہوئے کہاں جا رہا تھا اسے خود علم نہ تھا لیکن اپنی جان سے زیادہ وہ بھاگ رہا تھا کیونکہ بات اسکی نہیں مائرہ کی عزت کی تھی
وہ بھاگتے بھاگتے اب تھک چکا تھا جبکہ پیچھے سے اب وہ لوگ بھی قریب آنے لگے تھے کہ اچانک سامنے سے آتی ایک گاڑی دکھی تھی اسے اور اس نے مدد کے لئے ہاتھ ہلایا تھا
گاڑی روکیں پلیز
انت نے فوراً کہا تھا اور گاڑی رک گئی تھی
حمزہ مائرہ
اس سے پہلے شفاقت صاحب کچھ پوچھتے انت فوراً سے کہتا گاڑی سے نکلا تھا
بھائی
حمزہ نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا تھا کیونکہ مائرہ کی حالت اس سے دیکھی نہیں جا رہی تھی
کیا ہوا مائرہ کو
انت نے مائرہ کو دیکھتے ہی تکلیف سے پوچھا تھا
بھائی۔ ۔۔۔۔۔۔۔ بھائی
حمزہ سے تو بولا بھی نہیں جا رہا تھا
بولو حمزہ
انت نے مائرہ کو حمزہ سے لیتے ہوئے چیخ کر کہا تھا جبکہ شفاقت صاحب کھڑے دونوں کو دیکھ رہے تھے
بھائی انکل مائرہ کو ۔۔۔۔۔۔۔۔ مائرہ کو بیچنا چاہ رہے تھے میں اسے لیکر بھاگ آیا لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انکل نے مائرہ کے ۔۔۔۔۔۔۔۔ مائرہ کے سر پر پتھر سے پیچھے سے وار کر دیا بھائی
حمزہ نے روتے ہوئے کہا تھا وہ جو ہنستا کھیلتا لڑکا تھا جو کبھی رویا نہ تھا آج مائرہ کو اس حالت میں دیکھ رو بیٹھا تھا
اسے ہسپتال لیکر جانا ہوگا
شفاقت صاحب مائرہ کے خون کو نکلتا دیکھ فوراً بولی تھے
کہاں جانے کی تیاریاں ہیں بھائی
بلاول شاہ اپنے آدمیوں سمیت وہاں آتے ہی بولا تھا
تم ۔۔۔۔۔۔
انت
انت ابھی بولتے ہوئے بلاول شاہ کی طرف بڑھنے ہی لگا تھا کہ شفاقت صاحب نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے روکا تھا
یہ کہاں سے اٹھا لائے ہو
بلاول شاہ نے شفاقت صاحب پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا
انکل آپ اسے لیکر گاڑی میں بیٹھئے
انت نے مائرہ کو شفاقت صاحب کے حوالے کرتے ہوئے کہا تھا اور وہ مائرہ اور حمزہ کو لئے گاڑی کی طرف بڑھے تھے
ٹھااااا
اچانک فضا میں گولی کی آواز گونجی تھی
وہ مجھے دے دو وہ میرا کھلونا ہے میری بیٹی ہے میں تمہیں اسکے ساتھ کھیلنے نہیں دوں گا اور انت ابھی گولی ہوا میں چلی ہے اگلی بار تم پر چلے گی
بلاول شاہ نے غصے سے کہا تھا
بیٹیاں کوئی کھلونا نہیں ہوتیں کہ جب دل چاہا انکے ساتھ کھیلا جائے یہ آپکی بیٹی نہیں انت شاہ کی بہن ہے اور میں اپنی بہن کی حفاظت آخری سانس تک کروں گا اور خبردار جو آج کے بعد میری بہن کو کھلونا کہا تو
انت نے غصے سے دہاڑتے ہوئے کہا تھا جبکہ شفاقت صاحب مائرہ اور حمزہ کو لئے گاڑی میں بیٹھ چکے تھے
وہ مجھے دے دو انت
بلاول شاہ نے غصے سے کہا تھا
ہر گز نہیں
انت نے اٹل لہجے میں کہا تھا
تم ایسے نہیں مانو گے نا
بلاول شاہ نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا
گاڑی سٹارٹ کریں آپ
انت نے شفاقت صاحب سے کہا تول انہوں نے گاڑی فوراً سٹارٹ کی تھی
انت
بلاول شاہ غصے میں بولے تھے اور اسکی جانب گن کی تھی انت نے نیچے سے پتھر اٹھاتے ہی بلاول شاہ کے ہاتھ پر مارا تھا جسکی وجہ سے گن دور جا گری تھی اور بلاول کے آدمی انت پر حملہ کر چکے تھے
مرتے مراتے انت نے آخر اسکے آدمیوں کو ڈھیر کر دیا تھا جبکہ بلاول اب اسے غصے سے دیکھ رہا تھا اور لڑائی کے دوران حمزہ کے ہاتھ بھی گن آ چکی تھی
چلیں انکل
انت نے شفاقت صاحب سے کہا اور گاڑی کی طرف بڑھا تھا انت
بلاول شاہ نے گن اس پر تانے اسے پکارہ تھا اور وہ اسکی جانب دیکھنے لگا تھا
بھولئے مت میرے ہاتھ میں بھی گن ہے
انت نے بھی اس پر گن تانے کہا تھا
دیکھتے ہیں پھر آج کون بچتا ہے
بلاول شاہ نے ٹریگر پر دباؤ بڑھاتے ہوئے کہا تھا
او فضا میں دو فائر کرنے کی آواز گونجی تھی شفاقت صاحب اور حمزہ حیرت میں ڈوب گئے تھے کہ پل بھر میں کیا ہوگیا
بلاول شاہ پیسوں کے لئے اندھا ہو گیا تھا جبکہ انت اپنی بہن کو بچانے کے لئے اب قسمت کسے موقع دیتی یہ تو خدا جانتا تھا یا پھر اس وقت وہاں موجود نفوس جنہوں نے اپنی آنکھوں سے سب ہوتا دیکھا تھا (
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺