52K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

🌸🌸🌸
انت گھر لوٹا تو رات کے بارہ بجنے کے قریب تھے وہ کام میں کچھ اس قدر الجھا ہوا تھا کہ وقت کا احساس تک نا ہوا تھا اور ہوتا بھی کیسے آخر اے ڈی کو پکڑنے کے لیے ثبوت اکٹھا کر رہا تھا وہ اس تک پہنچنے کے لئے پلان بنا رہا تھا
وہ کمرے میں آیا تو اسے حیا بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے لیٹی نظر آئی اور سائیڈ پر کھانے کی ٹرے پڑی ہوئی تھی یقیناً وہ اسکا انتظار کرتے کرتے سو گئی تھی وہ چلتا ہوا اس کے قریب آیا اور اسے اٹھانا چاہا تھا
حیا
حیا آنکھیں کھولو چلو اپنی جگہ لیٹو مجھے بھی سونا ہے
انت نے حیا کو بازو سے ہلاتے ہوئے کہا تو حیا نے آنکھیں کھولے اسے دیکھا تھا
آ گئے آپ
حیا نے نیند سے بوجھل ہوتی آنکھوں سے انت کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا
نہیں راستے میں ہوں یار تمہارے سامنے ہوں
انت نے مسکراتے ہوئے کہا تو حیا اسے گھورتی رہ گئی تھی
کھانا گرم کر کے لاتی ہوں آپ ہاتھ منہ دھو لیں
حیا نے بکھرے بالوں کا جوڑا بناتے چپل پہنتے ہوئے کہا تھا
ارے کہاں چلی تم مجھے بھوک نہیں ہے تم یہاں آؤ مجھے اب میٹھی نیند سونا ہے
انت نے حیا کو بازو سے پکڑتے ہوئے بیڈ پر بٹھاتے ہوئے کہا تھا جبکہ حیا اسے دیکھ رہی تھی
چلو لیٹ جاؤ یہاں سر رکھ کے
انت نے لیٹتے ہوئے اپنے سینے پر ہاتھ رکھے حیا سے کہا تھا اور اسکی بات سن کر حیا کا دل زورو سے دھڑکا تھا
مممم۔۔۔۔میں اپنی جگہ لیٹ جاؤں گی تم سو جاؤ
حیا نے اٹھتے ہوئے کہا تھا لیکن اگلے ہی لمحے وہ انت پر گر چکی تھی کیونکہ انت نے اسے بازو سے کھینچتے ہوئے اپنے اوپر گرایا تھا
سو جاؤ نا
انت نے معصومیت سے کہا تھا اور اسے دیکھ حیا انکار نا کر سکی تھی آخر وہ اسکی بیوی تھی جائز رشتہ تھا تو انکار کی گنجائش نہیں بچتی تھی مگر تھوڑی ہچکچاہٹ تھی اور اسے انت نے دور کر دیا تھا
حیا کے سر کو اپنے سینے پر رکھے وہ اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتے نا جانے کب نیند کی وادیوں میں اترا اسے پتہ بھی نا چلا تھا جبکہ اسے سوتا دیکھ حیا نا جانے کب تک اسے دیکھتی رہی تھی اور اپنے نصیب پر رشک کرنے لگی تھی اور یوں ہی اسکی آنکھ کب لگی اسے بھی احساس تک نا ہوا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
مما میں یہ ڈریس پہنوں یا یہ یا پھر یہ والا
مائرہ تین سوٹ پکڑے باری باری آگے کر کے پوچھ رہی تھی
یہ نہیں پہنتی ہاں ان میں سے بتاؤ یہ والا اچھا ہے یا یہ والا یا پھر یہ والا
مائرہ نے پہلے والے سوٹ بیڈ پر رکھتے ہوئے الماری سے تین اور سوٹ نکالتے ہوئے پوچھا تھا جبکہ شانزہ بیگم اسکے سوٹ اور اسکی باتیں سن کر پاگل ہونے کے قریب تھی کیونکہ وہ پچھلے دو گھنٹے سے اپنی بیٹی کے مسائل سن سن کر پاگل ہونے لگی تھی دماغ چکرانے لگا تھا مگر مجال ہے جو مائرہ بی بی تھکی ہوں
بیٹا ٹائم تو دیکھو رات کے 12 بجنے والے ہیں اور تم مجھے یہاں بٹھا کر کپڑے دکھا رہی ہو صبح دیکھیں گے اب سو جاؤ
شانزہ بیگم نے اٹھتے ہوئے کہا تھا
کیا مما صبح صبح کیا کروں گی میں شام کو پارٹی میں جانا ہے وہ بھی آرمی آفیسرز کی پارٹی میں ہائے
مائرہ نے چہرے پر ہاتھ رکھے آنکھیں مٹا کر خوشی سے کہا تھا
میری جان تمہیں صبح ڈول جیسا میں تیار کروں گی مگر پلیز اب مجھ پر رحم کھاؤ مجھے سونے کے لئے جانے دو تمہارے بابا نے تو اپنی آدھی نیند پوری بھی کر لی ہوگی
شانزہ بیگم نے مائرہ کو دیکھتے ہوئے کہا تھا تو مائرہ بھی تھوڑی شرمندہ ہوئی تھی
ٹھیک ہے آپ جائیں مگر صبح مجھے ریڈی کریں گی نا آپ بلکل باربی ڈول جیسا
مائرہ نے شانزہ بیگم کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا
بلکل میری جان پرومس
شانزہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا اور کمرے سے باہر نکل گئی تھی اور مائرہ دروازہ لوک کرتی بیڈ تک آئی تھی
ہائے آرمی آفیسرز کتنے پیارے لگتے ہیں
مائرہ نے بیڈ پر گرنے کے انداز میں لیٹتے ہوئے کہا تھا
کیا کل وہ آئے گا میں نے تو اسے دیکھا بھی نہیں تھا
سوچتے ہوئے اچانک اسے حمزہ کا خیال آیا تھا
ہائے اللہ جی پلیز کل اسے بھی لیکر آئیے گا مجھے ملنا ہے اسکا ٹھینکس بھی تو کرنا ہے اس نے میری جان بچائی تھی
مائرہ نے آنکھیں بند کرتے ہوئے دل سے دعا کی تھی اور یوں ہی وہ نیند کی وادیوں میں اتر گئی تھی۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
بھابھی کتنا ٹائم ہے جلدی کریں
حمزہ نے کمرے میں آتے ہوئے حیا سے پوچھا تھا جو شیشے کے سامنے کھڑی بال بنا رہی تھی
بس تھوڑی دیر حمزہ تم ایک کام کرو اماں سے پوچھو وہ تیار ہوئی کہ نہیں
حیا نے بال کو سنوارتے ہوئے حمزہ سے کہا تو وہ سر ہلاتا اماں کے کمرے کی جانب گیا تھا
اماں کتنی دیر ہے آپ کو
حمزہ نے اماں کے کمرے میں آتے ہی پوچھا تھا
میں تو تیار ہوں
اماں نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا
اچھا جی
حمزہ نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
ماشاء اللہ کتنا پیارا لگ رہا ہے میرا چاند
اماں نے حمزہ کی بلائیں لیتے ہوئے کہا تھا
اچھا اماں اب چلیں آپ کو پتا ہے نا آرمی والے ٹائم کے کتنے پابند ہوتے ہیں چلیں جلدی ورنہ لیٹ ہو جائیں گے
حمزہ نے اماں کو دیکھتے ہوئے کہا تو مسکراتے ہوئے اسکے ساتھ کمرے سے نکل کر حیا کے کمرے کی جانب گئے تھے
بھابھی کتنا ٹائم ہے
حمزہ نے کمرے میں آتے ہی پوچھا تھا
بس ہو گیا
حیا نے چادر لیتے ہوئے کہا تھا
ماشاءاللہ
اماں کے منہ سے بے ساختہ حیا کو دیکھ ماشاءاللہ نکلا تھا اور حیا مسکرا دی تھی
بھائی نہیں آئیں گے
حمزہ نے حیا سے پوچھا تھا
آ جائیں گے کچھ ضروری کام تھا کہہ رہے تھے پہنچ جائیں گے وہ تم پریشان نا ہو
حیا نے اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا تو وہ بھی مسکراتا ہوا دونوں کو لئے گھر سے نکلا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
کتنا ٹائم ہے مما یار
مائرہ جو کب سے ایک جگہ آنکھیں بند کئے بیٹھی ہوئی تھی بے زرایت سے بولی تھی
بس یہ پھول لگا لوں
شانزہ بیگم نے اسکے بالوں کے بیچ پھول کو سجاتے ہوئے کہا تھا
لو ہو گئی میری پرینسس تیار
شانزہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا تو مائرہ نے آنکھیں کھولے شیشے میں اپنا عکس دیکھا تھا
واؤ مما سو بیوٹیفل
مائرہ نے اپنا جائزہ لیتے ہوئے خوشی سے کہا تھا
اب چلو جلدی ورنہ تمہارے ڈیڈ ڈانٹے گیں کب سے ویٹ کر رہے ہیں وہ گاڑی میں ہمارا
شانزہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا تو مائرہ جلدی سے اپنی لانگ فراک سنبھالتے ہوئے انکے ساتھ باہر کو نکلی تھی جہاں شفاقت صاحب انکا ویٹ کر رہے تھے
کتنا ٹائم لیتے ہو آپ لوگ پتا نہیں لڑکیاں گھنٹہ گھنٹہ کیوں لگاتی ہیں تیار ہونے میں
شفاقت صاحب نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے کہا تھا
پاپا آپ لڑکی نہیں ہیں اس لئے آپ کو نہیں پتا نیکسٹ ٹائم آپ لڑکی بننا پھر پوچھوں گی میں بھی
مائرہ نے انھیں دیکھتے ہوئے شرارت سے کہا تو شفاقت صاحب مسکرا دئے تھے۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
پارٹی اپنے عروج پر تھی کوئی آرمی کے لباس میں تھا تو کوئی پینٹ شرٹ میں تھا
ماحول میں ہر طرف رونق برپا تھی ہنسی خوشی سب ایک دوسرے سے باتیں کرنے میں مصروف تھے جبکہ ویٹر سب کو جوس کے ساتھ کھانے پینے کی اشیاء بھی سرو کر رہے تھے
مسٹر حمزہ آپ نے واقعی بہت اچھا کام کیا تھا مگر ایک چیز مجھے کھٹک رہی تھی کہ آپ نے رپورٹرز کی انسلٹ کیوں کی ایک آرمی کیپٹن کو یہ بات زیب نہیں دیتی
ایک آرمی آفیسر نے حمزہ سے کہا تھا جبکہ اسکے ساتھ کھڑے دو اور آفیسر بھی اب حمزہ کی طرف متوجہ تھے
میں مانتا ہوں ایک آرمی کیپٹن کو یہ سب زیب نہیں دیتا تو ایک رپورٹرز کو یہ کیسے زیب دیتا ہیکہ وہ ایک بات کا دہی بنائیں اور ایسا دہی بنائے کہ کوئی اسکی لسی پینا بھی پسند نہ کرے
حمزہ نے مسکراتے ہوئے انھیں دیکھ جواب دیا تھا جبکہ اسکی بات سن کر باقی دو آفیسر مسکرائے تھے اور پاس کھڑے شفاقت صاحب جو کسی سے بات کر رہے تھے اسکی طرف متوجہ ہوئے تھے
سہی یہ تو انکا کام ہے مسٹر حمزہ
اس آفیسر نے پھر سے کہا تھا
انھوں نے اپنا کام کیا میں نے اپنا اور ویسے بھی ہر انسان اپنا کام اپنی مرضی سے کرنے میں آزاد ہے
حمزہ نے انھیں دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا
بات تو تمہاری ٹھیک ہے کیپٹن حمزہ
شفاقت صاحب نے اسکے پاس آتے ہوئے کہا تو مسکرا پڑا تھا
السلام علیکم!
حمزہ نے فوراً سلام کیا تھا
وعلیکم السلام!
شفاقت صاحب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تھا
لیکن آرمی آفیسر کو سنجیدہ مزاج ہونا چاہیے یہ شوخی، مزاق مستی اور ایسا ہر گز نہیں ہونا چاہیے جیسے آپ ہیں کیپٹن حمزہ
اس آفیسر نے اب سنجیدگی سے کہتے ہوئے طنز بھی کیا تھا جبکہ اب سب خاموش ہوئے تھے
یہ کہاں لکھا ہیکہ آرمی کے لوگ سیریس مزاج کے ہو سکتے ہیں نرم مزاج یا شوخی ان میں نہیں ہو سکتی کیا قرآن کریم ایسا کہتا ہے یا نبی کریم نے کسی حدیث میں ایسا کہا ہے آرمی کے لوگ بھی انسان ہوتے ہیں دل ہوتا ہے انکے سینے میں انکے بھی جزبات ہوتے ہیں مگر آپ لوگوں کو آرمی کیپٹن سے لیکر آرمی آفیسرز صرف سنجیدہ مزاج کے چاہیے ہوتے ہیں یہ نا انصافی نہیں ہے کیا انکے ساتھ اگر کوئی مزاق کر لے تو آپ جج کرنا شروع کر دیتے ہیں
حمزہ نے سنجیدگی سے جواب دیا تھا جبکہ وہ آفیسر اب نظریں جھکا گیا تھا
آئی ایم پراؤڈ آف یو کیپٹن
شفاقت صاحب جو اسے بولتا دیکھ رہے تھے مسکراتے ہوئے اسکا کندھا تھپتھپاتے ہوئے بولے تھے
پاپا کیا آرمی کی پارٹی میں گانا بجانا نہیں ہوتا
مائرہ نے شفاقت صاحب کے پاس آتے ہوئے حیرانگی سے پوچھا تھا کیونکہ وہ کبھی آرمی پارٹی میں آئی جو نہیں تھی جبکہ حمزہ بس اسے دیکھتا رہ گیا تھا
پنک کلر کی باربی لانگ فراک میں ہلکا سا میک اپ کئے چہرے پر معصومیت سجائے وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی
ہوتا ہے آپ کو سننا ہے
حمزہ نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا اور اسکی بات سن کر وہ فوراً اسکی طرف متوجہ ہوئی تھی
بلیک تھری پیس میں بالوں کو سلیقے سے سلجھائے سفید رنگت لئے وہ اپنی پوری وجاہت سے اسکے دل تک اتر گیا تھا
جج۔۔۔جی
مائرہ نے با مشکل کہا تھا کیونکہ اسے نہیں پتا تھا کہ اسکی دعا قبول ہوگی وہ پارٹی میں بھی آئے گا
اس کیوز می
حمزہ ایکسکیوز کرتا وہاں سے چل گیا تھا اور چند ہی لمحوں میں لائیٹس آف ہو گئی تھی ہر طرف سے آوازیں آنی شروع ہوئی تھی
کیسے گئی لائیٹ ؟
کیا ہوا ؟
کوئی دیکھو ؟
اچانک لائیٹس آن ہوئی تھی اور ایک روشنی حمزہ پر گئی تھی جو کہ سب کے سامنے کھڑا تھا اور میوزک پلے ہوا تھا
💖💖💖💖💖
تم کو پایا ہے تو جیسے کھویا ہوں
کہنا چاہوں بھی تو تم سے کیا کہوں
تم کو پایا ہے تو جیسے کھویا ہوں
کہنا چاہوں بھی تو تم سے کیا کہوں
کسی زبان میں وہ لفظ ہی نہیں
کہ جن میں تم ہو کیا تمہیں بتا سکوں
💖💖💖💖💖
حمزہ گانا گاتا ہوا مائرہ کے پاس آیا تھا جبکہ اب کافی کپلز کپل ڈانس کرنے لگے تھے آس پاس
💖💖💖💖💖
میں اگر کہوں تم سا حسین،
کائنات میں نہیں ہے کہیں
تعریف یہ بھی کم سچ ہے کچھ بھی نہیں 🤷
تم کو پایا ہے تو جیسے کھویا ہوں
💖💖💖💖💖
حمزہ مائرہ گرد گھومتے ہوئے اپنے بول ادا کر رہا تھا جبکہ وہ شرما کے رہ گئی تھی
حیا یہ سب دیکھتے ہوئے بہت خوش ہو رہی تھی مگر اسے انت کی کمی محسوس ہو رہی تھی کہ اگر وہ یہاں ہوتا اور گاتا تو کتنا اچھا ہوتا
💖💖💖💖💖
شوخیوں میں ڈوبی یہ ادائیں
شہد سے جھلکی ہوئی ہیں
زلف کی گھنی گھنی گھٹائیں
شان سے ڈھلکی ہوئی ہیں
لہراتا آنچل ہے جیسے بادل
بانہوں میں بھری ہے جیسے چاندنی ، روپ کی چاندنی
💖💖💖💖💖
حمزہ مائرہ کے ساتھ کپل ڈانس کرتا گا رہا تھا جبکہ اسے تو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیسا ریئکٹ کرے اور شفاقت صاحب اور شانزہ بیگم مائرہ اور حمزہ کو ساتھ دیکھ بہت کچھ سوچ بیٹھے تھے
💖💖💖💖💖
میں اگر کہوں یہ دلکشی
ہے نہیں کہیں نا ہوگی کبھی
تعریف یہ بھی کم سچ ہے کچھ بھی نہیں 🤷
تم کو پایا ہے تو جیسا کھویا ہوں
💖💖💖💖💖
حمزہ مائرہ کو گول گول گھماتا مسکراتے ہوئے یہ بول ادا کر رہا تھا جبکہ اسکے اردگرد کپلز بلکل ویسے ہی سٹیپ کر رہے تھے جیسے حمزہ اور مائرہ
ماحول بہت ہی خوبصورت بن چکا تھا سب مسمرائز ہوئے دیکھ رہے تھے بے شک مائرہ اور حمزہ ایک ساتھ بہت خوبصورت لگ رہے تھے
💖💖💖💖💖
تم ہوئے مہرباں تو ہے یہ داستاں
اب تمہارا میرا ایک ہے کارواں
تم جہاں میں وہاں
💖💖💖💖💖
مائرہ کو جیسے کالج کا سین یاد آیا تھا اس نے اپنے حصے کے بول حمزہ کے ساتھ ڈانس کرتے ہوئے ادا کئے تھے اور حمزہ اسے گاتا دیکھ مسکرا اٹھا تھا
جب اچانک لائیٹس آف ہوئی تھی سب ڈانس کرتے وجود رکے تھے اس سے پہلے کوئی کچھ کہتا لائٹس سیدھا گیٹ پر کھڑے وجود پر پڑی تھی اور وہ چلتا ہوا اپنی جان عزیز بیوی کے قریب آیا تھا اسکا ہاتھ پکڑے اسے اپنی طرف کھینچا تھا اور تبھی میوزک اسٹارٹ ہوا تھا
💖💖💖💖💖
میں اگر کہوں ہمسفر میری
اپسرا ہو تم یا کوئی پری
تعریف یہ بھی کم سچ ہے کچھ بھی نہیں
💖💖💖💖💖
انت نے حیا کو گول گھماتے ہوئے اپنے بول ادا کئے تھے اور حیا کا مرجھایا چہرا کھل اٹھا تھا
سب مسکرائے تھے اور کپل ڈانس کرنے والوں نے اپنا ڈانس کرتے ہوئے گانے کا اینڈ کیا تھا اور تالیوں کی گونج پورے ماحول میں پھیل گئی تھی۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺