52K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 09

حمزہ کالج سے باہر نکلا تھا اور اسے باہر نکلتے دیکھ سب رپورٹرز اسکی جانب بڑھے تھے اور اپنے اپنے مائیک اسکے سامنے کئے تھے
سر کیا ہوا اندر ؟
کیا وہ دہشت گرد مارے گئے ہیں ؟
کیا اب سب محفوظ ہیں ؟
رپورٹرز یکے بعد دیگرے اپنے اپنے سوال پوچھ رہے تھے حمزہ سے اور وہ خاموش کھڑا سب کی سن رہا تھا
سر آپ کچھ بول کیوں نہیں رہے
ایک رپورٹر نے اسے خاموش کھڑا دیکھ پوچھا تھا
آپ لوگ مجھے بولنے کا موقعہ دیں گے تو میں کچھ بولوں گا نا یہ وہ یہ وہ کر رہے ہیں آپ سب بندہ سوال کر کے تھوڑی دیر رکتا ہے کہ اگلا بندہ جواب دے سکے مگر نہیں آپ لوگ تو ایسے شروع ہوتے ہیں جیسے ریس لگی ہو
حمزہ نے انھیں دیکھتے ہوئے طنزیہ کہا تھا کہ سب تھوڑا خجل ہوئے تھے
ہاں تو اب آتے ہیں جواب کی طرف تو میرے پیارے ہم وطن بھائی بہنوں ( ایک کو ہٹا کے اس نے دل میں کہا تھا ) یقیناً آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے آنکھیں دیکھنے کے لیے اور کان سننے کے لئے دی ہیں تو آپ سب کو میرے جانباز سپاہی کالج کے عملے کو باہر لاتے ہوئے دکھے ہونگے اندر سے ایمبولینس کا عملہ لاشیں اٹھا کے لا رہا ہے اندر سے ایک نہیں دو نہیں تین گولیاں چلنے کی آوازیں آئی ہونگی باہر تو آپ سب کو یہ سب پوچھنے کی بھی ضرورت ہے کیا
سر کیا ہوا اندر ؟
کیا وہ دہشت گرد مارے گئے ہیں ؟
کیا اب سب محفوظ ہیں ؟
عجیب لوگ ہو یار ایک بات کا رائتہ کیوں بناتے ہو سیدھا بولا کرو نا
حمزہ نے سب کو دیکھتے ہوئے کہا تھا اور آگے چل دیا تھا اور ان رپورٹرز میں ہمت تک نا ہوئی تھی کہ وہ کوئی اور سوال کر سکیں
جبکہ گھروں میں غرض ہر جگہ موجود لوگ جو ٹی وی پر نیوز دیکھ رہے تھے ہنس ہنس کر پاگل ہو گئے تھے کہ پہلی بار ان رپورٹرز کو بھی ٹکر کا آدمی ملا ہے جس نے شروع سے اب تم صرف انکی عزت افزائی کی تھی اور وہ جو کسی کو بولنے لائیک نہیں رکھتے تھے آج اس چھ فٹ دو انچ کے لڑکے کے سامنے خاموش ہو کر رہ گئے تھے
وہ مسکراتے ہوئے چلتا اپنے ساتھیوں کی طرف آیا تھا
مشن کمپلیٹ سر لیکن ہمیں اسے زندہ پکڑنا تھا
اسکے ساتھی نے خوش ہوتے ہوئے کہا تھا
ہاں پکڑنا تھا میرا ارادہ بھی اسے زندہ پکڑ کر پل پل کتے کی موت مارنے کا تھا ( مگر اس نے اس لڑکی پر بندوق تان کر اچھا نہیں کیا تھا ) کہتے کہتے یہ بات وہ دل میں ہی کہہ پایا تھا
خیر سب اچھے سے ہو گیا سب بچ بھی گئے اور وطن کے دشمن اسکے انجام تک بھی پہنچ مگر اب وسیم کو کون بچائے گا مجھ سے
حمزہ نے اپنے ساتھیوں کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا تھا
جی سر
اب کی بار جابر بولا تھا اور حمزہ اسے گھورنے لگا تھا
کیا جی سر اندر تو اپنی بے عزتی کا بدلہ لیکر دل میں لڈو کیا پوری کی پوری مٹھائی کی دوکان پھوٹ رہی ہوگی تمہاری ہنا
حمزہ نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تو وہ خاموش ہو گیا تھا
سر آپ نے ہی تو بھیجا تھا مجھے
جابر نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا جبکہ اسکے باقی ساتھی اپنی ہنسی دبا رہے تھے جو کہ نا ممکن ہو رہا تھا ان سے
ہاں بھیجا تھا انھیں ٹرپ کرنے کے لئے نا کہ اپنی بے عزتی کا بدلہ لینے کے لئے تم بڑے چالاک ہو بھئی ایک تیر سے دو نشانے کر ڈالے
حمزہ نے اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا تھا کیونکہ وہ اسکی ٹانگ کھینچ رہا تھا
اب موقع تھا سر تو میں کیسے چونکا نا لگاتا آخر آپ کی ہی ٹیم کا حصہ ہوں
جابر نے اسے مسکراتا ہوا دیکھا تو ہمت کر کے بولا تھا اور اسکی بات سن کر حمزہ سمیت سب مسکرا دئے تھے۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
انت وہاں سے سیدھا گھر پہنچا تھا
آ گئے تم بیٹا کھانا لگاؤں تمہارے لئے
اماں صاحب نے اسے اوپر جاتے دیکھ پوچھا تھا
نہیں اماں میں ابھی تھکا ہوا ہوں تھوڑا ریسٹ کروں گا پھر ہی کھانا کھاؤں گا
انت نے انھیں دیکھتے ہوئے کہا تھا تو وہ سر کو ہلاتی چلی گئی تھی جبکہ انت اپنے ہاتھ کا زخم رومال سے چھپاتا ( جو اسے ان لڑکوں کو مارتے ہوئے لگ گیا تھا ) سیڑھیاں چڑھنے لگا تھا
اپنے کمرے کے باہر کھڑا ہو کر اس نے سہی طریقے سے اپنا زخم چھپایا تھا تاکہ حیا نا دیکھ سکے وہ جانتا تھا اسے زخم کے بارے میں بھنک بھی پڑی تو وہ بہت سنائے گی اسے اس لئے احتیاط لازمی تھا
وہ اپنی تسلی کرتا دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوا تھا کمرا پورا اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا اس نے دروازہ بند کرتے ہی سوئچ پر ہاتھ مار کر بٹن اون کئے تھے اور چند ہی لمحوں میں کمرا روشنی میں نہا گیا تھا
اس نے اپنی نظر حیا کو ڈھونڈنے کے لئے دوڑائی ہی تھی کہ اسے وہ سامنے بیڈ پر بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھی نظر آئی تھی
اسکی آنکھیں بند تھی ہاتھوں میں تسبیح تھی ڈوپٹہ گول باندھا ہوا تھا سر پر اور اوپر سے اسکا وہ چہرہ جس نے پہلی نظر میں ہی اسے اپنا اسیر بنا لیا تھا اسکی شرارتیں اسکا پاگل پن اسکی معصوم ادائیں غرض وہ ہر لحاظ ہر ادا سے اسکے دل پر اترتی تھی
وہ اسے دیکھ مسکرایا تھا اور پھر اسکی جانب قدم بڑھائے تھے بیڈ کے پاس آ کر اس نے اسکا جائزہ لیا تھا وہ سوئی ہوئی نہیں تھی کچھ پڑھ رہی تھی تسبیح پر لیکن وہ اس قدر اس میں ڈوبی ہوئی تھی کہ اسے احساس تک نا ہوا کہ کمرے میں کوئی آیا ہے
انت نے مسکراتے ہوئے اپنے لب اسکی پیشانی پر رکھے تھے اور اسکا لمس پاتے ہی حیا کی آنکھیں لمحوں میں کھلی تھی اور اسے اپنے سامنے دیکھ اسکے دل میں سکون اترا تھا
انت اسکی پیشانی پر محبت کی مہر ثبت کر کے واپس سیدھا کھڑا ہوگیا تھا
حیا جلدی سے کھڑی ہوئی تھی تسبیح کو سائیڈ ٹیبل پر رکھا تھا اور اسے دیکھنے لگی تھی
آ گئے تم سب ٹھیک ہے نا تمہیں کہیں چوٹ تو نہیں آئی پتا ہے میری پڑھتے پڑھتے آنکھ لگ گئی تھی اور خواب میں دیکھا میں نے تمہیں ۔۔۔۔۔۔۔
حیا بولتے بولتے چند لمحوں کے لیے رکی تھی اور بنا کچھ سوچے سمجھے نم آنکھوں سے اسے دیکھ کر اسکے سینے سے آ لگی تھی انت نے اسکے گرد بازو کا گھیرا بنایا تھا اور آنکھیں بند کر لی تھیں آج اسے بھی اپنے دل میں سکون محسوس ہوا تھا اسکی خالی زندگی میں کوئی جگہ بھری تھی اسکی اندھیری زندگی میں کہیں سے روشنی آئی تھی
اور خواب میں کیا دیکھا تھا
انت نے اسے اپنے ساتھ لگائے پوچھا تھا
خواب میں دیکھا کہ تمہیں چوٹ لگی ہے اور کوئی تمہیں مارنے والا تھا
حیا نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا تو انت کو اسکی محبت پر یقین آیا تھا اپنے نصیب پر فخر ہوا تھا کیونکہ جو اس نے خواب میں دیکھا تھا وہی اسکے ساتھ ہوا تھا اور اسے فخر اس بات پر ہوا تھا محبوب کی چھوٹی سے چھوٹی بات صرف اسے پتا چلتی ہے جسکی محبت سچی ہو جسکا اسکے ساتھ روح کا رشتہ ہو
آج انت الحیاۃ کی زندگی کی ایک نئی شروعات شروع ہونی تھی حیا کی بدگمانی اسکی نفرت سے محبت کی طرف بڑھنے کی شروعات انت کی زندگی میں اسکی حیا کی موجودگی کی شروعات
اچھا میں چینج کر کے آتا ہوں
انت نے حیا کو خود سے الگ کرتے ہوئے کہا تھا اور حیا اسے سے الگ ہوئی تھی لیکن اسے اپنے بازو پر کچھ گیلا گیلا محسوس ہوا تھا
انت کبرڈ کی طرف بڑھا تھا اپنے کپڑے لینے کے لئے جب حیا نے اپنے بازو پر ہاتھ پھیرا تھا جہاں اسے گیلا ہونے کا احساس ہوا تھا اور جیسے ہی اس نے اپنا ہاتھ دیکھا تھا اسے وہاں لال رنگ دکھائی دیا تھا جبکہ انت واشروم چلا گیا تھا
اس نے ہاتھ سے اسے مسلتے ہوئے دیکھا تھا اور تب اسکے دماغ میں آئی تھی کہ یہ لال رنگ کیا ہے اور کہاں سے اسکے بازو پر آیا
وہ غصے سے سائیڈ ڈراء کی طرف آئی تھی اور وہاں سے ڈبہ نکالا تھا اور بیڈ پر بیٹھی اسکا انتظار کرنے لگی تھی۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
شفاقت صاحب مائرہ کو گھر لیکر آئے تھے اور اسے لا کر اسکے روم میں بٹھایا تھا شانزہ بیگم اسکے لئے پانی لائی تھی
کیسی ہے یہ ٹھیک تو ہے نا
شانزہ بیگم نے فکر مندی سے شفاقت صاحب کی طرف پانی کا گلاس بڑھاتے ہوئے پوچھا تھا
ٹھیک ہے بیگم بھلا ہو اس بچے کا جس نے اسے اور باقی سب کو بچا لیا تھا
شفاقت صاحب نے گلاس تھامتے ہوئے انھیں دیکھ کر کہا تھا
گڑیا پانی پی لو
شفاقت صاحب نے مائرہ کی طرف پانی کا گلاس کرتے ہوئے کہا
مجھے نہیں پینا پاپا
اس نے شفاقت صاحب کے ساتھ لگتے ہوئے کہا تھا
لگتا ہے بہت زیادہ ڈر گئی ہے یہ اس حادثے سے
شفاقت صاحب نے گلاس سائیڈ پر رکھتے ہوئے شانزہ بیگم سے کہا تھا
بابا کی گڑیا یہاں دیکھو
شفاقت صاحب نے اسے اپنے سامنے بٹھاتے ہوئے پیار سے کہا تھا
میری جان ایسے نہیں ڈرا کرتے اچھی لڑکیاں ڈرتی نہیں ہیں بلکہ ہر مصیبت کا ڈٹ کر سامنہ کرتی ہیں اور آپ کو پتا ہے یہ دنیا ڈرنے والوں کو اور ڈراتی ہے اس دنیا میں اگر جینا ہے تو ڈر کو ایک سائیڈ پر رکھنا پڑے گا اپنے آپ میں ہمت اور بہادری پیدا کرنی پڑے گی
شفاقت صاحب نے اسے دیکھتے ہوئے سمجھاتے ہوئے کہا تھا
بابا وہ مجھے مار دیتا تو
مائرہ نے انھیں دیکھتے ہوئے پوچھا تھا
تو کیا ہم دوسری مائرہ لے آتے
شفاقت صاحب نے شرارت سے کہا تھا
بابا
مائرہ نے خفگی سے کہا تھا جبکہ اس سمیت شفاقت صاحب اور شانزہ بیگم بھی مسکرا پڑی تھی
بیٹا ڈرتے نہیں ہیں آپ نے دیکھا تھا اس لڑکے کو کیسے بہادری سے سب کا سامنہ کیا تھا اس بچے نے
شفاقت صاحب نے اسے گلے سے لگاتے ہوئے کہا تھا
اتنی ڈری ہوئی تھی دیکھنے کا موقع نہیں ملا
وہ صرف یہ سوچ سکی تھی جبکہ اسے خوشی بھی تھی کیونکہ اسکی جان ایک آرمی والے نے بچائی تھی
چلو کھانا کھاتے ہیں آپ کی ماما نے آپ کی فیورٹ ڈش بنائی ہے
شفاقت صاحب نے اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا تو اس نے شانزہ بیگم کی طرف دیکھا تھا جو مسکرا رہی تھی
تو پھر آپ کس کا انتظار کر رہے ہیں چلو نا چل کر کھانا کھاتے ہیں میرے پیٹ میں چوہے ریس لگا رہے ہیں
اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ دونوں اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور نیچے کی جانب بڑھنے لگے تھے
شکر ہے اس کو زیادہ صدمہ نہیں لگا
شانزہ بیگم نے سیڑھیاں اترتے ہوئے کہا تو شفاقت صاحب مسکرا دئے تھے۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
حمزہ ابھی اپنے کیبن پہنچا ہی تھا کہ اسکے پاس پیون آیا تھا
سر آپ کو بڑے سر بلا رہے ہیں
اس نے احترام سے سر جھکائے کہا تھا
جی اچھا میں آتا ہوں
حمزہ نے انھیں مسکراتے ہوئے دیکھ جواب دیا تو وہ باہر چلا گیا تھا اور اسکے پیچھے ہی حمزہ بھی باہر نکال تھا اور سیدھا آفیسر کے روم کی جانب گیا تھا
سر مے آئی کم ان
اس نے دروازے پر کھڑے اجازت مانگی تھی
یس کیپٹن حمزہ
اندر سے اجازت ملتے ہی وہ اندر داخل ہوا تھا
السلام علیکم سر! آپ نے بلایا
حمزہ نے سیلیوٹ کرتے ہوئے پوچھا
جی بلکل بیٹھیں یہاں
آفیسر نے مسکراتے ہوئے کرسی کی طرف اشارہ کر کے کہا تو وہ کرسی پر بیٹھ گیا تھا
آئی ایم پراؤڈ اوف یو کیپٹن حمزہ تم نے آج بہت اچھا کارنامہ سر انجام دیا ہے
آفیسر نے اسکی تعریف کرتے ہوئے کہا تو وہ مسکرا دیا تھا
سر یہ تو میری ڈیوٹی اور میرا فرض تھا اور یہ کام میں نے اکیلے نہیں بلکہ میری پوری ٹیم نے کیا ہے لیڈر میں تھا مگر میرے پیچھے وہ لوگ بھی تھے ہم اکثر لیڈر کو یاد رکھتے ہیں اسکے ساتھ کام کرنے والوں کو نہیں جبکہ ایک انسان اکیلے کچھ نہیں کر پاتا
حمزہ نے آفیسر کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا تھا
گوڈ کیپٹن حمزہ آئی ایم ایمپریسڈ
آفیسر نے اسے مسکرا کر دیکھتے ہوئے کہا تو وہ مسکرا دیا تھا
تمہارے آج کے کام کو سب نے بہت سراہا ہے اور سب آفیسرز نے تمہیں اس کام کے بدلے بونس دینے کا فیصلہ کیا ہے
آفیسر نے اسے دیکھتے ہوئے کہا
لیکن سر ہمارے گھر تو صرف ایکسل یوز ہوتا ہے میں بونس کا کیا کروں گا آپ مجھے سرف ایکسل دے دیں
حمزہ نے اپنی عادت سے مجبور شرارت سے کہا تو آفیسر کا قہقہ بے ساختہ تھا
کیپٹن حمزہ تم نہیں سدھرو گے
آفیسر نے مسکراتے ہوئے کہا تو حمزہ مسکرا دیا تھا
اچھا سر اجازت دیں
حمزہ نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا تو آفیسر نے مسکرا کر گردن ہاں میں ہلا دی تھی اور وہ سیلیوٹ کرتا باہر چلا گیا تھا جبکہ آفیسر ابھی تک اسکی سرف ایکسل والی بات پر مسکرا رہے تھے۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺